Posts

Showing posts from November, 2014

سوآء السبیل

وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا  ۭوَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ۭلَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ  وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ     12؀ اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا۔ اور ان میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ’’ میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری بُرائیاں تم سے زائل کردوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اُس نے سواء السبیل گم کر دی۔‘‘ (12) یعنی اُس نے”سَوَا ء السّبیل“ کو پا کر پھر کھو...

عارض روشن دکھا کر جگمگا دے خلق کو

ایک پر مشقّت سفر کے بعد لاہور اسٹیشن پر اترے تو مینار پاکستا ن تک جانے کے لیے مختصرسے فاصلے کے لیے بس میں بیٹھنا پڑا! یہ رو داد ہے ایک سفر کی! اسے پکنک بھی کہہ سکتے ہیں اور کیمپنگ بھی۔۔۔ وہا ں پہنچ کر سیکورٹی کے مراحل سے گزر کر آگے بڑہے تو پختہ روش کے دونوں اطراف میں مختلف صوبہ جات کے بینر لگے ہوئے تھے۔ ہم اپنے صوبے کے کیمپ میں داخل ہوئے تو اضلاع کے نام چمکتے نظر آئے۔ اپنے ضلع کی طرف بڑھے تواگلی تقسیم زونز کی تھی۔ اور یہ ہی ہمارا ٹھکانہ تھا۔ مناسب جگہ دیکھ کر سامان رکھا۔ گھاس پر بستر بچھا کر بیٹھے تو منہ سے بے اختیار نکلا ’’ کتنے آسانی سے آکر اپنے پلاٹ پر بیٹھ گئے جیسے کہ ایڈریس پر آتے ہیں۔ کیا حسن انتظا م ہے! یہ تھا پہلا تاثر ! ذرا سستانے کے بعد کیمپ سے باہر آکر مینار پاکستان کا نظارہ کیا تو چمکدار سورج کی روشنی میں کچھ میلا میلا نظر آیا۔ کسی نے رائے زنی کی ’’ اس کو بھی دھو ھلادیا جاتا۔۔۔‘‘ مگر اس رائے کا فوری جواب منتظمین کی طرف سے ہونے والے پانی کے باکفایت استعمال کی ہدایت نے دے دیا۔ ظہر کا وقت تھا۔ وضو کے لیے باہر نکلے تو ہر طرف کھانے کی دیگیں اتررہی تھیں اور طعام کے ن...

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ۭ

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ       54؀ اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اِس کی اِطاعت کی ، درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔(54) ا س مختصر سے فقرے میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے ۔ جب کوئی شخص کسی ملک میں اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے کھلم کھلا ہر طرح کی چالیں چلتا ہے ، ہر فریب اور مکر و دغا سے کام لیتا ہے ، کھلے بازار میں ضمیروں کی خرید و فروخت کا کاروبار چلاتا ہے ، اور جو بکتے نہیں انہیں بے دریغ کچلتا اور روندتا ہے ، تو خواہ زبان سے وہ یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل اور اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے ، اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بے وقوف ، بے ضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کر لے جا سکتا ہوں۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہو جاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کر دیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا یا، واقعی وہ وہی ک...

وہ ہانک پکار کی صدا

وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً  ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ   ١٧١؁ یہ لوگ جنہوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے ، ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اورکے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔(171) البقرۃ اس تمثیل کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ ان لوگوں کی حالت اُن بے عقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلّے اپنے اپنے چرواہوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں اور بغیر سمجھے بُوجھے ان کی صدا ؤ ں پر حرکت کرتے ہیں۔ اور دُوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ کرتے وقت ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ گویا جانوروں کو پکارا جا رہا ہے جو فقط آواز سُنتے ہیں ، مگر کچھ نہیں سمجھتے کہ کہنے والا اُن سے کیا کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے الفاظ ایسے جامع استعمال فرمائے ہیں کہ یہ دونوں پہلو  اِن کے تحت آجاتے ہیں۔

زمین سے اچک لئے جانے کا خوف

وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا  ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ        57؀ وہ کہتے ہیں : ’’ اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ ‘‘ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ۔ ہم نے ایک پُر امن حرم کو اِن کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر ؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔(57) القصص یہ وہ بات ہے  جو کفارِ قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لیے عذر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کفر و انکار کا سب سے اہم بنیادی سبب یہی تھا۔ اس بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ تاریخی طور پر اُس زمانے میں قریش کی پوزیشن کیا تھی جس پر ضرب پڑنے کا انہیں اندیشہ تھا۔ They say: "If we were to follow this guidance with yo...

احساس کے انداذ

سنو، کبھی ایسا ہوا ہے کہ تمہاری زبان بات کرنے کو ترس گئی ہو؟؟ میں نے خلامیں تکتے ہوئے سوال بہر حال اس سے ہی کیا تھا، جی نہیں ہمارے یہاں ایسا کوئی دستورِ زباں بندی نہیں ہے، علامہ کے شعر کی ترکیب کا استعمال کرتے ہوئے اس نے لا پرواہی سے سر کو جھٹکا اور سامنے رکھا چائے کا کپ اٹھا لیا، ویسے محترمہ آج اتنی یاسیت کا شکار کیوں ہو آج؟ وہ میری خاموشی سے شاید تنگ آ گئی تھی، ارے نہیں یاسیت نہیں بس ایک مشکل کا شکار ہوں میں نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی، افوہ، تمہاری اونگی بونگی مشکلات کو نا میں اچھی طرح جانتی ہوں، پھر پال لیا ہو گا کسی کی بے اعتنائی، یا لاپرواہی کا روگ وہ شاید میرے مسائل سے چڑ سی گئی تھی جن کو وہ صاف صاف خود ساختہ گردانتی تھی، حنا آج تین دن ہو گئے ہیں پاپا کی میں نے شکل بھی نہیں دیکھی، میری آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا اور آواز رندھ گئی تھی، اسد الگ اپنے کاموں میں مصروف ہے اسکی پینٹنگس کی نمائش جو ہونے والی ہے، بس آتے جاتے ایک مسکراہٹ میری طرف اچھال دیتا ہے، مجھے ماما بہت یاد آتی ہیں حنا بہت زیادہ، اس سے آگے میں بات کر ہی نہیں سکتی تھی حلق میں آنسووں کا گولہ سا اٹک گیا تھا، اچھا ا...