Posts
Showing posts from October, 2022
Janab Muhammad Ishaq Sb Addressing the Students of Global High School
- Get link
- X
- Other Apps
*మీతో రెండు నిముషాలు.. కష్టాల్లో కడగండ్ల లో సృష్టిప్రభువు ను మాత్రమే వేడ...
- Get link
- X
- Other Apps
Janab Muhammad Ishaq Sb Addressing the Students of Global High School
- Get link
- X
- Other Apps
Janab Saleh Ahmed Al Amoodi Sb Addressing The Students of Telangana Scho...
- Get link
- X
- Other Apps
Janab Muhammad Ishaq Sb Addressing the Students of Global High School
- Get link
- X
- Other Apps
Poem: Ruju Ilal Quran || نظم: رجوع الیٰ القرآن || Mr. Intizar Naeem || ...
- Get link
- X
- Other Apps
Maulana Abdul Fattah Adil Sabeeli Sb Addressing the Students of Zahra Sc...
- Get link
- X
- Other Apps
Janab Saleh Ahmed Al Amoodi sb Addressing 8th class Students of St. Lawr...
- Get link
- X
- Other Apps
Janab Saleh Ahmed Al Amoodi sb Addressing The Students of St. Lawrence S...
- Get link
- X
- Other Apps
Maulana Abdul Fattah Adil Sabeeli Sb Addressing The Students of Mahboob ...
- Get link
- X
- Other Apps
Jana Saleh Ahmed Al Amoodi sb Addressing Students of St Lawrence School ...
- Get link
- X
- Other Apps
Muhammad Ishaq sb Addressing Students of Hyderabad Talent School part 2
- Get link
- X
- Other Apps
Muhammad Ishaq sb Addressing Students of Hyderabad Talent School on 18 O...
- Get link
- X
- Other Apps
*جھاگ اُڑ جائے گا اور نفع بخش چیز باقی رہے گی _*(تفہیم القرآن کی مخالفت کے پس منظر میں) ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ان دنوں 'رجوع الی القرآن ' کے عنوان سے دس روزہ مہم (14-23 اکتوبر 2022) منائی جارہی ہے _ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو قرآن مجید پڑھنے ، سمجھنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کے لیے آمادہ کیا جائے _ یہ کام اور یہ ذمے داری ہر مسلمان کی ہے ، اس لیے خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ اس کے تحت منعقد کیے جانے والے پروگرام صرف جماعت کے ذمے داروں کے ذریعے اور جماعت کے وابستگان کے لیے نہ ہوں ، بلکہ ملّت کے تمام مسالک ، مدارس ، تنظیموں اور جماعتوں کی نمائندہ شخصیات سے خطابات کرائے جائیں اور مسلمانوں کے تمام طبقات کو مخاطب بنایا جائے _ الحمد للہ انہی خطوط پر یہ مہم جاری ہے اور پورے ملک سے موصول ہونے والی رپورٹس بہت امید افزا ہیں _ مہم کے دوران طلبہ اور طالبات کے درمیان ، چاہے وہ دینی مدارس کے ہوں یا عصری تعلیم گاہوں کے ، اسی طرف نوجوانوں ، مردوں اور خواتین کے درمیان 'قصص القرآن' کے موضوع پر کوئز مقابلہ کروانے کی ہدایت کی گئی _ مرکز سے سوالات تیار کرکے بھیجے گئے ہیں اور ریاستوں کے ذمے داروں کو بھی اپنے طور پر سوالات تیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے _ کہا گیا ہے کہ سوالات تیار کرنے میں کسی مخصوص کتاب یا تفسیر کو بنیاد نہ بنایا جائے ، بلکہ براہ راست قرآن مجید سے سوالات تیار کیے جائیں _ کوئز مقابلے کے معاملے میں بھی جوش و خروش پایا جارہا ہے _ ریاستوں کی طرف سے ان مقابلوں میں کام یاب ہونے والے طلبہ و طالبات کے لیے نقدی اور اسلامیات اور قرآنیات سے متعلق قیمتی کتب پر مشتمل پُر کشش انعامات کے اعلانات کیے گئے ہیں _ چنانچہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ان مقابلوں کے لیے اپنا رجسٹریشن کرا رہے ہیں _ اس ضمن میں بعض ریاستوں میں اعلان کیا گیا کہ مقابلے میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے بعض افراد کو مولانا سید ابو الاعلی مودودی کی مشہور تفسیر 'تفہیم القرآن' کا تحفہ پیش کیا جائے گا _ بس پھر کیا تھا ، جماعت کی مخالفت کرنے والے بعض لوگ سرگرم ہوگئے _ انھوں نے کتبِ فتاویٰ کو کھنگالنا شروع کردیا ، جن میں کبھی مولانا مودودی کو ضالّ و مضلّ کہا گیا تھا اور ان کی کتب اور خاص طور پر تفسیر تفہیم القرآن میں خورد بین لگاکر گم راہیاں تلاش کی گئی تھیں اور ان کا حوالہ دے کر طلبہ کو ان مقابلوں میں حصے لینے سے روکنے لگے کہ ایسا کرنے سے وہ گم راہی کا شکار ہوجائیں گے _ اس موقع پر میں جماعت اسلامی ہند کے ریاستی ذمے داروں اور ارکان و کارکنان سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ منافرت پھیلانے والی ان کوششوں سے دل برداشتہ نہ ہوں اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں _ ان حضرات کی فتنہ سامانیاں جھاگ کی طرح اُڑ جائیں گی اور اصلاح معاشرہ کے لیے آپ کی جدّو جہد ان شاء اللہ رنگ لائے گی _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءً ۚ وَاَمَّا مَا يَنۡفَعُ النَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِى الۡاَرۡضِؕ (الرعد :17)” جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نفع بخش ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے ۔ “ مولانا مودودی کی تحریروں اور تصنیفات سے لاکھوں کروڑوں انسانوں اور خاص طور پر نوجوانوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور الحاد اور بے دینی سے توبہ کرکے دین کی طرف پلٹے ہیں _ جیسے مولانا مودودی فرشتہ نہیں ہیں ، اسی طرح ان کے خلاف گم راہی کے فتوے جاری کرنے والے بھی فرشتے نہیں ہیں _ جیسے مولانا کی بہت سی تحریروں سے کھینچ تان کرکے گم راہی کشید کی گئی ہے ، اسی طرح اُن کے خلاف فتویٰ بازی کرنے والوں کی تحریریں ، تشریحات اور استنباطات بھی وحی کے درجے میں نہیں ہیں _ ان فتنہ پرور لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور امّت کے مختلف گروہوں کے درمیان انتشار ، تفرقہ اور منافرت پھیلانے کے بجائے الفت و محبّت ، تعاونِ باہمی اور قدر افزائی کو فروغ دینا چاہیے کہ یہی وقت کا تقاضا ہے _
- Get link
- X
- Other Apps
بیسویں صدی کی منفرد تفسیر تفہیم القرآن
- Get link
- X
- Other Apps
http://www.zindgienau.com/Issues/2015/july2015/images/unicode_files/heading6.htm عظمیٰ خاتون * بیسویں صدی کی منفرد تفسیر تفہیم القرآن مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ(۱۹۰۳-۱۹۷۹ء)موجودہ صدی کے عظیم مفسر،مفکر اورکارِ تجدید انجام دینے والی شخصیت ہیں۔انہوں نے احیائے اسلام کی جد وجہد میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔جب انھوں نے رسالہ ترجمان القرآن ازسرِنو جاری کیا(۱۹۳۲ء) تو ان کی صدا یہ تھی کہ ’’اے اسلام کا نام لینے والو!قرآن کی دعوت لے کر اٹھو اور دنیا پر چھا جاؤ۔‘‘ وہ عصر حاضر کی ایک اہم اسلامی تحریک کے علمبردار تھے ۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اسلام کا آفاقی پیغام پوری نوع انسانی کے لئے ہے۔یوں تو مولانا کی تصانیف کی تعداد بہت ہے اور ہر تصنیف اپنے موضوع پر مستند ہے لیکن ان میں’’ تفہیم القرآن ‘‘ کو خاص مقام حاصل ہے ،یہ تفسیر مولانا کی زندگی کے مشاہدہ،مطالعہ اورغور وفکر کا نچوڑ ہے جس کی تکمیل میں مولانا نے عمر عزیز کے تیس سال صرف کئے۔یہ تفسیر بڑے سائز کی چھ ضخیم جلدوں اور چار ہزارسے زائدصفحات پر محیط ہے۔ ...
مسلکی عناد کی تباہ کاریاں
- Get link
- X
- Other Apps
مسلکی عناد کی تباہ کاریاں تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپوری سہارنپور موبائل نمبر 8860931450 اسلام پسندوں میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ معاشرے اور دنیا دونوں میں ”فکر اسلامی“ غالب رہے شادی بیاہ کی محفلوں سے لیکر قومی اور بین الاقوامی تک تمام امور میں اسلامیت نظر آئے ، مگر کونسا اسلام ؟ ایک اسلام تو وہ ہے جو مسالک اور شخصیات میں گم ہے دوسرا اسلام وہ ہے جس میں صرف اور صرف سیاست ہے ، تیسرا اسلام وہ ہے جو قرآن اور صحیح احادیث میں ہے ۔ بدقسمتی دیکھیے ہمارے تمام ادارے و مسالک پہلے اور دوسرے اسلام کے ترجمان ہیں ناکہ قرآن اور صحیح احادیث والے دین اسلام کے ۔ دیوبندی چاہتے ہیں کہ تمام دنیا ہمارے اکابر کی تشریح و تعبیر کو مانے خواہ وہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے ، بریلوی بھی یہ ہی چاہتے ہیں ، أہل الحدیث بھی یہ ہی چاہتے ہیں اور شیعہ و سنی بھی ، سیاسی اسلام کے حامی حضرات سیاست و حکومت کے علاوہ دیگر تمام ”حرکات و سکنات“ کو بے معنیٰ سمجھتے ہیں ، ہر کوئی اپنی تشریح ...