راہ شوق کا مسافر
*رہِ شوق کا مسافر* بس تین ہفتے پرانی بات ہے ۔ دن کے تیسرے پہر موبائل بج اٹھا ۔ڈسپلے پر وہ نام جھلک رہا تھا جن سے گفتگو طبیعت کی تازگی اور دن کا حاصل ٹھہرتی ۔ *حامد حسین !* حامد بھائی سے یہی آخری گفتگو تھی ۔ ہمیشہ کی طرح ہنستے مسکراتے انھوں نے گفتگو کا آغاز کیا ۔ اور بتدریج یک نکاتی موضوع سخن پر چلے آئے ۔ اپنے ایک نہایت باصلاحیت رفیق کے بارے میں انکی شدید تڑپ تھی کہ وہ کسی صورت تحریک کے دھارے کا جز بن جائیں اور بالآخر تحریک و رفیق ، دونوں کا بھلا ہوجائے ۔ یہ کام انھوں نے مجھے تفویض کیا اور میں فوراً اس حکم کی پابجائی کے لیے جٹ گیا ۔ آج یاد کرتا ہوں تو بے شمار خوبیوں کے ساتھ حامد بھائی کی اس نمایاں ترین خوبی پر رشک آتا ہے جس کا ذکر امیر جماعت نے بتفصیل کیا ۔ یہ تڑپ کہ اقامت دین کی مبارک کوششوں سے نہ کوئی فرد محروم رہے اور نہ کسی فرد کی صلاحیت سے اجتماعیت محروم رہے ۔ دوسروں کے لیئے جینے کا نایاب ہنر حامد بھ...