Posts
Showing posts from August, 2021
دعوت اسلامی کیا ہے؟
- Get link
- X
- Other Apps
اسی طرح جب یہ یقین دل میں اچھی طرح بیٹھ جائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور مالک اور معبود نہیں ہے تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش کرے، کسی اور کے سامنے نذرانے اور نیازیں پیش کرے، کسی اور کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو، سرجھکائے اور سجد کرے یا کسی کی کوئی ایسی تعظیم کرے جیسی تعظیم مشرک اپنے بتوں اور دیوتاؤں کی کرتے ہیں۔ اس اقرار اور یقین کے بعد وہ اللہ کے سوا نہ کسی سے دعا مانگے گا، نہ کسی کی پناہ ڈھونڈے گا اور نہ کسی کو مدد کے لیے پکارے گا کیوں کہ اس کی نظر میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا ایسا ہے ہی نہیں، جس کاحکم چلتا ہو، جو دعائیں سنتا ہو، جو پناہ دے سکتا ہو یا آڑے وقت میں کام آسکتا ہو۔( ایک انسان دوسرے انسان کی جو مدد کرتا ہے، اس کی مصیبت میں جو کام آتا ہے اور اس کے ساتھ جو ہمدردی کرتا ہے، وہ بالکل الگ چیز ہے۔ یہاں جس قسم کی مدد یا پنا ہ کا ذکر ہے وہ دنیوی اسباب سے بالاتر اور غیبی مدد ہے۔) (کتاب دعوت اسلامی کیا ہے؟ سے ماخوذ
کتاب دعوت اسلامی کیا ہے؟
- Get link
- X
- Other Apps
بنیادی عقیدہ ہر وہ شخص جو سچے دل سے کلمہ "لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ" کا اقرار کرتا ہے، مسلمان ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہوتا ہے۔پہلا شخص اللہ کا محبوب اور اس کی رحمتوں کا مستحق ہوتا ہے اور اس کے لیے جنت دروازے کھلیں گے۔ جب کہ دوسرا شخص اللہ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی میں اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ یہ ہے وہ اصولی بات جو قرآن کریم نے فرمائی ہے۔ سوچیے، جب سارے ہی انسان اللہ کے بندے ہیں، اسی نے سب کو پیدا کیا ہے اور وہی سب کو پال رہا ہے تو پھر یہ کیا بات ہے کہ صرف " لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ" اور " مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ" کے دو جملوں کے اقرار سے آدمی اور آدمی میں اتنا فرق ہوجاتا ہے۔ (دعوت اسلامی کیا ہے؟ کتاب سے ایک اقتباس) یہ تو کوئی بھی نہیں مان سکتا کہ ان دونوں جملوں کے الفاظ کو صرف منہ سے نکال دینے میں کوئی ایسا جادو ہے، جس سے آدمی اور آدمی اتنا بڑا فرق واقع ہوجاتا ہے۔ واضح طور پر یہ فرق صرف ان باتوں کے ماننے اور نہ ماننے ہی کی وجہ سے پیدا ہوسکتا ہے، جو ا...
అప్పుడు అనుచరులు ఇలా అంటారు: ‘‘మాకు (ప్రపంచానికి మళ్ళీ తిరిగిపోయే) మరొక అవకాశం లభిస్తే, వారు ఈ రోజు మమ్మల్ని త్యజిస్తున్న విధంగానే మేమూ వారిని అప్పుడు త్యజిస్తాము.’’ఈవిధంగా ప్రపచంలో వారు చేసిన కర్మలను అల్లాహ్ వారిముందు ఉంచుతాడు. వారు అప్పుడు నిస్పృహతో, తీవ్ర అవమాన భారంతో క్రుంగిపోతారు. అయినప్పటికీ నరకాగ్ని నుండి బయటపడటం వారికి సాధ్యపడదు. Quran 2 167
- Get link
- X
- Other Apps
Iqaamat e Deen awr Daur e Jadeed ke Itrazaat Dr Mohammad Rafat
- Get link
- X
- Other Apps
ناسمجھ ملا اور افغانستان
- Get link
- X
- Other Apps
نا سمجھ ملا اور افغانستان عمر فراہی افغانستان کے ملاؤں کو تو پہلے یونیورسٹی اور کالج کھول کر اپنے بچوں کو سائنسداں بنانا چاہئیے تھا تاکہ ان کے بچے اسی ٹینک اور میزائل سے اپنے ملک کو سویت روس سے آزاد کرواتے ۔اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تھے تو وہ روسی فوجیوں کو اسلام کی دعوت پیش کرتے تاکہ وہ ایمان میں داخل ہو جاتے مگر ان بیوقوف ملاؤں نے اپنے بچوں , نوجوانوں اور بوڑھوں کے ہاتھ میں کراۓ کی بندوقیں تھما دیں ۔ایک دوسرا لبرل مسلم دانشور طبقہ کہہ رہا تھا کہ یہ نا سمجھ ملا کہاں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ۔مگر یہ ملا اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور چھپ چھپ کر روسی ٹینکوں پر حملہ کرتے رہے ۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ وسیع و عریض طریقے سے بنائی گئی موٹی چادروں اور درختوں کی شاخوں سے انہوں نے چند ٹینکوں کو ناکارہ بھی بنادیا اور پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر جشن بھی منانے لگے ۔کچھ پاکستانی صحافیوں نے ٹوٹے ہوۓ روسی ٹینک اور پھٹے ہوۓ کپڑوں اور ٹوٹی پھوٹی چپلوں میں ملبوس جشن مناتے ہوۓ ان اڑیل ملاؤں کی تصویر بھی کھینچ کر اخبارات میں شائع کر دی ۔اس وقت اتفاق سے پاکستانی اقتدار پر ...
گاؤں کی باتیں
- Get link
- X
- Other Apps
گاؤں کی باتیں ا ب خالص دودھ ،دہی اور گھی کہاں سے لائیں؟ حمزہ فضل اصلاحی گاؤں میں صبح صبح نکلئے ، کوئی نہ کوئی دودھ کابرتن لئے ہوئے نظر آہی جاتاہے ،ان میں سے کچھ دودھ لانے والے ہوتے ہیں اور کچھ دودھ پہنچانے والے ۔ان کے برتن میں دودھ ضروررہتا ہے مگربہت کم میں دودھ جیسا دودھ رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دودھ ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتا ہے ۔ شہروں کی طرح آمدنی کے حساب سے سب کی اپنی اپنی ضرورت ہے۔کچھ چائے بناتے ہیں ، بچوں کوپلا تے ہیں ، ایک آدھ گلا س خود بھی پی لیتے تھے۔ کچھ کے ہاں ان میں سےدودھ کاکوئی ایک ہی استعمال ہے۔ بتاتے ہیں کہ پہلے صبح کا منظر کچھ اور ہی ہوتا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے برتن نہیں نکلتے تھے ، اکثریت کے ہاتھوں میں دودھ کی بالٹیاں ہوتی تھیں۔ لوگ اپنی بھینس یا گائے کا دودھ دو ہنے کے بعد سار ( باڑے) سے گھر جاتے تھے...دودھ کو چھلکنے سے بچانے کیلئے سنبھل سنبھل کرچلتے تھے ۔ یہ اس وقت ہوتاتھا جب سب کے پاس اپنی اپنی بھینسیں اور گائیں تھیں، سب کے گھر دودھ تھا۔ اس وقت خالص دودھ ، دہی، مکھن اور گھی کی کثرت تھی ۔ مہمانوں کی ضیافت موٹی ملائی( بالائی) ...
مولانا عامر عثمانی کا سفر حج
- Get link
- X
- Other Apps
[08/08, 2:15 pm] 😍: مولانا عامر عثمانی ؒ مدیر تجلی کا سفر حج (۱) پیشکش: عبد المتین منیری۔ بھٹکل http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/ *مضمون کی پہلی قسط کی اشاعت کے بعد بعض پرچوں نے اس کی اشاعت کی خواہش ظاہر کی، لہذا سوشل میڈیا پر اورویب سائٹس سے اس قسط کو ہٹا یا گیا تھا، اب دوبارہ اسے معمولی اضافے کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے* (( کورونا کی مصبیت تو آسمان پر اڑتے ہوئے بادل جیسی ہے،اس کا سایہ کبھی بھی سروں پر سے ہٹ سکتاہے، اسے دھیان میں رکھے بغیر آج کے زمانے میں دستیاب سفر حج کی سہولتوں اور آسانیوں کو دیکھیں،تو محسوس کریں گے کہ اس کا انداز ہ ۱۹۷۰ ء کی دہائی اور اس سے پہلے کے اس زمانے سے قبل کے اسفار حج سے نہیں کیا جاسکتا، جب کہ عازمین حج بیت اللہ کوٹہ سسٹم کے تحت قرعہ میں نام آنے کے بعد سفر کے قابل بن سکتے تھے ، اس کے لئے ایک علحدہ حج پاسپورٹ ہوا کرتا تھا، اورقرعہ میں نام نکلنے کے باوجود لوگ ہفتوں ممبئی کے حاجی صابو صدیق مسافر خانے میں ڈیرہ ٹکٹ کے انتظار میں پڑے رہتے تھے۔ ان مشکل ...
دینی تحریک
- Get link
- X
- Other Apps
د ینی تحریک کب اور کیسے ایک عام دنیاوی انجمن بن جاتی ہے.. ------------------------------------------------------------- ⬅️ جب وابستگان تحریک میں اپنے مقصد حیات اور مقصد تحریک کا شعور مقفود ہونے لگے ⬅️ جب ان میں اللہ سے تعلق اور خوف آخرت میں کمی آجاے ⬅️ عبادات سے شغف، قرآن سے تعلق اور ذکر الہی میں کمی آنے لگے ⬅️ دین صرف تقاریر اور ریاکاری تک محدود ہوجاے ، اور اخلاص ،للہیت، اور خدا خوفی میں کمی آنے لگے ⬅️ ذمہ داریاں عہدے بن جائیں ، اور عہدوں کے حصول کی تگ و دو ہونے لگے . ⬅️ کفاف پر کام کرنے والوں کی کثرت ہوجاے، اور کفاف ضرورت سے زیادہ لی جانے لگے ⬅️ ایسے افراد قیادت کے مناصب پر لاے جائیں ، جن کا تقوی، تجربہ، اور تحریک کے تئیں قربانیاں قابل لحاظ نہیں اور اہل، تجربہ کار اور قابل افراد کو پیچھے ڈھکیلا جانے لگے.. ⬅️ وابستگان اپنے حلال مال سے انفاق کے ذریعہ تحریک کو مضبوط کرنے کے بجائے، دوسروں سے چندے وصول کرکے کام چلایا جانے لگے ⬅️ جب قائدین خود کو افسر اور دیگر کو نوکر سمجھنے لگیں اور تحریک ...