Posts

Showing posts from June, 2023

آخرت پر آفاقی استدلال

         آخرت پر آفاقی استدلال فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت صفحہ 110تا113 سورہ ق آیت 6 اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنٰهَا وَ زَيَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ ۰۰۶ اچھا، تو کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم   نے اسے بنایا اور آراستہ کیا،   اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اچھا سورۃ ق حاشیہ نمبر ۶ اوپر کی پانچ آیتوں میں کفار   مکہ کے موقف کی نا معقولیت واضح کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ آخرت کی جو خبر محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے اس کی صحت کے دلائل کیا ہیں۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کفار جن دو باتوں پر تعجب کا اظہار کر رہے تھے ان میں سے ایک، یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے بر حق ہونے کی دو دلیلیں ابتدا ہی میں دی جاچکی ہیں۔ اول یہ کہ وہ تمہارے سامنے قرآن مجید پیش کر رہے ہیں جو ان کے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ دوم یہ کہ وہ تمہاری اپنی   ہی جنس اور قوم اور برادری کے آدمی ہیں۔ اچانک آسمان سے یا کسی دوسری س...

آخرت پر آفاقی استدلال

Image

آخرت پر اخلاقی استدلال

  آخرت پر اخلاقی استدلال فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت صفحہ 115 سورہ ق آیات 12تا14 كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ ۰۰۱۲ وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ ۰۰۱۳ وَّ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيْدِ ۰۰۱۴ ان سے پہلے نوحؑ کی قوم ، اور اصحاب الرّس،   اور ثمُود، اور عاد، اور فرعون،   اور لوُط کے بھائی اور ایکہ والے، اور تُبَّع کی قوم   کے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں۔   ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا،   اور آخر   کار میری وعید اُن پرچسپاں ہوگئی۔ وعید اُن پرچسپاں ہوگئی۔ یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ اس سے پہلے کی 6 آیتوں میں امکان آخرت کے دلائل دیے گئے تھے، اور اب ان آیات میں عرب اور اس کے گرد و پیش کی قوموں کے تاریخی انجام کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا جو عقیدہ تمام انبیاء علیہم السلام پیش کرتے رہے ہیں وہی حقیقت کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا انکار جس قوم نے بھی کیا وہ شدید اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو کر رہی اور آخر کار خ...

آخرت پر اخلاقی استدلال

Image

آخرت کے حق میں عقلی استدلال-۱

  آخرت کے حق میں عقلی استدلال-۱ فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنچم-آخرت صفحہ 113 سورہ ق آیات 9 تا 11 وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِۙ ۰۰۹ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌۙ ۰۰۱۰ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ ۰۰۱۱ اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا، پھر اس سے باغ اور فصل کے غلّے اور بلندو بالا کھجور کے درخت پیدا کر دیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بر تہ لگتے ہیں۔ یہ انتظام ہے بندوں کی رزق دینے کا۔ اس پانی سے ہم ایک مُردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں۔   (مَرے ہوئے انسانوں کا زمین سے) نکلنا بھی اسی طرح ہوگا۔ سورۃ ق حاشیہ نمبر۱۱ استدلال یہ ہے کہ جس خدا نے زمین کے اس کرے کو زندہ مخلوقات کی سکونت کے لیے موزوں مقام بنا یا، اور جس نے زمین کی بے جان مٹی کو آسمان کے بے جان پانی کے ساتھ ملا کر اتنی اعلیٰ درجے کی نباتی زندگی پیدا کر دی جسے تم اپنے باغوں اور کھیتوں کی شکل میں لہلہاتے دیکھ رہے ہو، اور جس نے اس نباتات کو انسان و حیوان س...