Posts

Showing posts from November, 2023

آدم علیہ السلام

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آدم علیہ السلام فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – آدم علیہ السلام – صفحہ ۱۷ پہلے ناظر کو قرآن کی اصل سے واقف ہو جانا چاہیے۔ وہ خواہ اس پر ایمان لائے یا نہ لائے، مگر اس کتاب کو سمجھنے کے لیے اسے نقطہء آغاز کے طور پر اس کی وہی اصل قبول کرنی ہوگی جو خود اس نے اور اس کے پیش کرنے والے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان کی ہے۔ اور وہ یہ ہے: ۱ ۔ خدا وندِ عالم نے ، جو ساری کائنات کا خالق اور مالک اور فرمانروا ہے، اپنی بے پایاں مملکت کے اِس حصّے میں ، جسے زمین کہتے ہیں، انسان کو پیدا کیا۔ اُسے جاننے اور سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں دیں۔ بَھلائی اور بُرائی کی تمیز دی۔ انتخاب اور ارادے کی آزادی عطا کی۔ تصرّف کے اختیارات بخشے۔ اور فی الجُملہ ایک طرح کی خود اختیاری ( autonomy ) دے کر اسے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا۔ ۲ ۔ اس منصب پر انسان کو مقرر کرتے وقت خداوندِ عالم نے اچھی طرح اس کے کان کھول کر یہ بات اس کے ذہن نشین کر دی تھی کہ تمہارا اور تمام جہان کا مالک ، معبُود اور حاکم میں ہوں۔ میری اس سلطنت میں نہ تم خود مختار ہو، نہ کسی دُوسرے کے بندے ...

آدم علیہ السلام

Image

حج میں اسلامی اخلاقیات کی تربیت

    حج میں اسلامی اخلاقیات کی تربیت فہرست موضوعات – تفہیم القران جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۱۵۵ سورہ بقرہ آیت ۱۹۷ اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ١ٞ وَ اتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ ۰۰۱۹۷ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو ۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو   ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو فَلَا رَفَثَ کوئی شہوانی فعل احرام کی حالت میں میاں اور بیوی کے درمیان نہ صرف   تعلقِ زن و شو ممنوع ہے، بلکہ اُن کے درمیان کوئی ایسی گفتگو بھی نہ ہونی چاہیے ، جو رغبتِ شہوانی پر مبنی ہو۔ وَ لَا فُسُوْقَ کو...

حج میں اسلامی اخلاقیات کی تربیت

Image

ایسے کاموں کی تعریف چاہنے والوں کی مذمت جو کئے ہی نہیں گئے

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ایسے کاموں کی تعریف چاہنے والوں کی مذمت جو کئے ہی نہیں گئے فہرست موضوعات –تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ   310 لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۰۰۱۸۸ تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ   ایسے کاموں کی تعریف   انھیں حاصل ہو جوفی الواقع انہوں نےنہیں کیے ہیں۔ حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے۔ . مثلاً وہ اپنی تعریف میں یہ سُننا چاہتے ہیں کہ حضرت بڑے متقی ہیں، دیندار اور پارسا ہیں، خادمِ دین ہیں، حامیِ شرع متین ہیں، مُصلح و مزکّی ہیں، حالانکہ حضرت کچھ بھی نہیں۔ یا اپنے حق میں یہ ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے ایثار پیشہ اور مخلص اور دیانت دار رہنما ہیں اور انہوں نے مِلّت کی بڑی خدمت کی ہے، حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے۔    

ایسے کاموں کی تعریف چاہنے والوں کی مذمت جو کئے ہی نہیں گئے

Image

اگرچہ کسی کا حق نہ بھی ہوتو بھی اسے کچھ ضرور دو

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اگرچہ کسی کا حق نہ بھی ہوتو بھی اسے کچھ ضرور دو فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلقی تعلیمات – صفحہ ۳۲۵ سورہ نساء آیت ۸ وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ۰۰۸ اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو خطاب میّت کے وارثوں سے ہے اور انہیں ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ میراث کی تقسیم کے موقع پر جو دُور نزدیک کے رشتہ دار اور کنبہ کے غریب و مسکین لوگ اور یتیم بچّے آجائیں ان کے ساتھ تنگ دلی نہ برتو۔ میراث میں ازرُوئے شرع اُن کا حصّہ نہیں ہے تو نہ سہی، وُسعتِ قلب سے کام لے کر ترکہ   میں سے اُن کو بھی کچھ نہ کچھ دے دو، اور ان   کے ساتھ وہ دل شکن باتیں نہ کرو جو ایسے مواقع پر بالعمُوم چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ کیا کرتے ہیں۔ کسی بھی شخص کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اس کی جگہ خود کو تصور کرو فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخ...

اگرچہ کسی کا حق نہ بھی ہوتو بھی اسے کچھ ضرور دو

Image

اللہ نے جو فضل کسی کوتم سے زائد دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اللہ نے جو فضل کسی کوتم سے زائد دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ   ۳۴۷   سورہ نساء آیت ۳۲ وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْـَٔلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ۰۰۳۲ اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنّا نہ کرو۔ جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصّہ ہے اور جو کچھ عورتوں   نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصّہ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے اس آیت میں بڑی اہم اخلاقی ہدایت دی گئی ہے جسے اگر ملحوظ رکھا جائے تو اجتماعی   زندگی میں   انسان کو بڑا امن نصیب ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یکساں نہیں بنایا ہے بلکہ ان کے درمیان بے شمار حیثیتوں سے فرق رکھے ہیں ۔کوئی خوبصُورت ہے اور ک...

اللہ نے جو فضل کسی کوتم سے زائد دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو

Image

باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین 3

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۹۳ سورہ نساء آیت ۱۰۴ وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًاؒ ۰۰۱۰۴ اِس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاوٴ۔ اگر تم تکلیف اُٹھارہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اُٹھارہے ہیں۔ اور تم اللہ سے اُس چیز کے اُمّیدوار ہو جس کے وہ اُمّیدوار نہیں ہیں۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکیم و دانا ہے۔   وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاوٴ یعنی گروہِ کفار جو اُس وقت اسلام کی دعوت اور نظامِ اسلامی کے قیام کی راہ میں مانع و مزاحم بن کر کھڑا ہوا تھا۔ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ اور تم اللہ سے اُس چیز کے اُمّیدوار ہو جس کے وہ اُمّیدوار نہیں ہیں یعنی تعجب کا مقام ہے کہ اگر اہلِ ایمان حق کی خاطر اُتنی تکلیفیں ب...

باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین 3

Image

باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین 2

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۱۴ سورہ آل عمران آیت ۲۰۰ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَؒ ۰۰۲۰۰ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو،   اور   اللہ   سے   ڈرتے   رہو ،   امید ہے   کہ   فلاح   پاؤ گے وَ صَابِرُوْا باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اصل عربی متن میں   صَابِرُوْا    کا لفظ آیا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں ۔ ایک یہ کہ کفار اپنے   کفر پر   جو مضبوطی دکھا رہے ہیں اور اس کو سربلند رکھنے کے لیے جو زحمتیں اُٹھارہے ہیں تم ان کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر   پامردی دکھا ؤ ۔ دوسرے یہ کہ ان کے مقابلہ میں ایک دُوسرے سے بڑھ کر پامردی دکھا ؤ ۔

باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین 2

Image

باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین

  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ   ۲۹۳ سورہ آل عمران آیت ۱۴۶ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ ۰۰۱۴۶ اس سے پہلے کتنے   ہی نبی ایسے گز ر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وہ (باطل   کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ وَ مَا اسْتَكَانُوْا وہ (باطل   کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے۔ یعنی اپنی قلتِ تعداد اور بے سروسامانی ، اور کفار کی کثرت اور زور آوری دیکھ کر اُنھوں نے باطل پرستوں کے آگے سَپر نہیں ڈالی۔

باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین 1

Image

اسلامی اخلاقیات کا فیصلہ کن سوال

  اسلامی اخلاقیات کا فیصلہ کن سوال فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۹۲ سورہ آل عمران آیت ۱۴۵ وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِي الشّٰكِرِيْنَ ۰۰۱۴۵ کوئی ذی رُوح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا   ہوا ہے ۔ جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کا م کر ے گا اس کو ہم   دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے   والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا   کریں گے كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ موت کا وقت تو لکھا   ہوا ہے اس سے یہ بات مسلمانوں کے ذہن نشین کرنا مقصُود ہے کہ موت کے خوف سے تمہارا بھاگنا فضُول ہے۔ کوئی شخص نہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے   وقت سے پہلے مر سکتا ہے اور نہ اس کے بعد جی سکتاہے۔لہٰذا تم کو فکر موت سے   بچنے کی نہیں بلکہ اس بات کی ہونی چاہیے کہ زندگی کی جو مُہلت بھی تمہیں حاصل...