وقت کا فاتح
وقت کا فاتح
بڑے بڑوں کا یہ عذر ہوتا ہے کہ وقت ساتھ نہیں دیتا اور سر و سامان اور اسباب کار فراہم نہیں۔ لیکن وقت کا عازم و فاتح اٹھتا ہے او ر کہتا ہے کہ اگر وقت ساتھ نہیں دیتا، تو میں اس کو ساتھ لوں گا۔اگر سروسامان نہیں ، تو اپنے ہاتھوں سے تیار کروں گا۔ اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیے۔ اگر آدمی نہیں ملتے ، تو فرشتوں کو ساتھ دینا چاہیے۔ اگر انسانوں کی زبان گونگی ہوگئی ہیں ، تو پتھروں کو چیخنا چاہیے۔ اگر ساتھ چلنے والے نہیں تو کیا مضائقہ ، درختوں کو دوڑنا چاہیے۔ اگر دشمن بے شمار ہیں ، تو آسمان کی بجلیوں کی بھی کوئی گنتی نہیں۔ اگر رکاوٹیں اور مشکلیں بہت ہیں ، تو پہاڑوں اور طوفانوں کو کیا ہوگیا کہ راہ صاف نہیں کرتے!
وہ زمانے کی مخلوق نہیں ہوتا کہ زمانہ اس سے اپنی چاکری کرائے۔ وہ وقت کا خالق اور عہد کا پالنے والا ہوتا ہے، اور زمانے کے حکموں پر نہیں چلتا، بلکہ زمانہ آتا ہے، تاکہ اس کی جنبش لب کا انتظار کرے۔ وہ دنیا پر اس لیے نظر نہیں ڈالتا کہ کیا کیا ہے جس سے دامن بھرلوں! وہ یہ دیکھنے کے لیے آتا ہے کہ کیا کیا نہیں ہے ، جس کو پورا کردوں۔
ابوالکلام آزاد
Comments
Post a Comment