راہ شوق کا مسافر
*رہِ شوق کا مسافر*
بس تین ہفتے پرانی بات ہے ۔ دن کے تیسرے پہر موبائل بج اٹھا ۔ڈسپلے پر وہ نام جھلک رہا تھا جن سے گفتگو طبیعت کی تازگی اور دن کا حاصل ٹھہرتی ۔
*حامد حسین !*
حامد بھائی سے یہی آخری گفتگو تھی ۔ ہمیشہ کی طرح ہنستے مسکراتے انھوں نے گفتگو کا آغاز کیا ۔ اور بتدریج یک نکاتی موضوع سخن پر چلے آئے ۔ اپنے ایک نہایت باصلاحیت رفیق کے بارے میں انکی شدید تڑپ تھی کہ وہ کسی صورت تحریک کے دھارے کا جز بن جائیں اور بالآخر تحریک و رفیق ، دونوں کا بھلا ہوجائے ۔ یہ کام انھوں نے مجھے تفویض کیا اور میں فوراً اس حکم کی پابجائی کے لیے جٹ گیا ۔ آج یاد کرتا ہوں تو بے شمار خوبیوں کے ساتھ حامد بھائی کی اس نمایاں ترین خوبی پر رشک آتا ہے جس کا ذکر امیر جماعت نے بتفصیل کیا ۔ یہ تڑپ کہ اقامت دین کی مبارک کوششوں سے نہ کوئی فرد محروم رہے اور نہ کسی فرد کی صلاحیت سے اجتماعیت محروم رہے ۔ دوسروں کے لیئے جینے کا نایاب ہنر حامد بھائی کی وہ صفت تھی جسکے بارے میں امیر جماعت نے بہت سچ کہا کہ اگراس کیفیت سے ارکان کا دسواں حصہ بھی سیراب ہوجائے تو نجانے تحریک کس مقام پر پہنچ جائے ۔
حامد بھائی کو میں اپنے اسکولی ایام سے جانتا ہوں ۔ ایس آئی اوکے صدر مقامی کی حیثیت سے انھوں نے ہمیں چلڈرن سرکلز سے جوڑا ۔ بحیثیت امیر مقامی ہماری تنظیمی یونٹ کی سرپرستی فرمائی ۔ پھر راست امیر ومامور کی نسبت رہی ۔ مزید قرابت قائم ہوئی جب آپ کے بھائی ( جناب ماجد حسین) میرے بہنوئی قرار پائے ۔ ہم نے ایک ہی سال (2017) حج کی سعادت پائی ۔ہماری رہائش دو مختلف کناروں پر تھیں ۔ بس فون پر مستقل بات ہوتی تھی اور اندازہ ہوتا تھا کہ حامد بھائی کیسی تیاری کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور کس سنجیدگی اور وارفتگی کے ساتھ حج کی سعادتیں سمیٹنے میں منہمک ہیں ۔
رفاقت کا ہر مرحلہ کئی سبق سکھاتا رہا ۔ قائدین ، دانشوروں اور علماء سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں ، آئیے یہ بھی جانتے ہیں کہ اسٹیج سے پرے میدان عمل میں تحریک کاایک بے لوث خادم بھی نہایت خاموشی سے پیغام عمل کے کیسے کیسے زرین موتی لٹاتا ہے ۔
*گھر کی فکر*
بات جب" گھر کی فکر "کی ہو تو صارفیت زدہ کلچر سے شکست کھائی ذہنیت زمینداری اور مکانداری کے 'مستقبل ساز ' سپنوں میں کھوجاتی ہے ۔ لیکن حامد بھائی کے لیے گھر اینٹ گارے کا مکان نہیں صالح مکینوں کا نام تھا ۔ آپ نے ایک معمولی مکان میں مصروف عمل زندگی کا بیشتر حصہ بتایا لیکن اپنے بچوں کی تربیت سے کبھی مفاہمت نہ کی ۔ میتھمیٹکس کے مقبول ٹیچر تھے ۔ وہ دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی تھے ۔کوئی شخص "گھر کی فکر " ، بچوں کی پڑھائی کے متوقع اخراجات اور مستقبل کے موہوم معاشی خطرات کی جانب توجہ دلاتا تو وہ مسکرادیتے ۔ رب نے بھی اس اٹوٹ توکل کا انھیں بھرپور انعام دیا ۔ تینوں ہونہار فرزندان نے بھی اپنے متوکل باپ کی جوابی مسکراہٹوں کا عملی ثبوت دیا ۔ اپنی ذہانت و قابلیت کے بل پر اعلیٰ رینکس حاصل کیے ۔ ملک کے معیاری گورنمنٹ اداروں میں فیس کے بوجھ سے والد ین کو بوجھل کیے بغیر تعلیم پائی ۔ اپنے والد کے نقش قد م پر چلتے ہوئے ایس آئی او کا فعال حصہ بنے ۔ اًنیس نے ایک معیاری بزنس اسکول سے مینیجمنٹ کی سند پائی ۔ وہ ایک قابل پروفیشنل ہیں اورایس آئی او ٹولی چوکی یونٹ (حیدرآباد) کے پریسیڈنٹ ہیں۔ ۔
اویس ا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور گورنمنٹ ہاسپٹل ناندیڑ میں اپنی انتھک خدمات کی وجہ سے کوویڈ واریرکی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔اس نوجوان ڈاکٹر کو اللہ تعالی ٰ نے مہارت و ذہانت کے ساتھ ساتھ محنت و خدمت کے جذبات سے خوب سرشار کررکھا ہے ۔ اپنی بھرپور طبی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے اویس نے آداب فرزندی کی اعلیٰ مثال بھی قائم کی لیکن بارگاہ حق میں فیصلہ ہوچکا تھا ۔ ناندیڑ شہر کے کئی شفایاب لوگ اویسی صفات کے گواہ ہیں ۔ اسید بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج ، ہسپتال میں زیر تعلیم ہیں اور مریضوں کی خدمت انجام دیتے ہیں ۔ دونوں ہونہار نوجوان مقامی ایس آئی او یونٹ کے فعال ممبران ہیں ۔ ان صالح نوجوانوں کی مربی والدہ بھی حلقہ خواتین کا فعال حصہ اور ناظمہ ضلع ہیں ۔ حامد بھائی کی انتھک کاوشوں میں آپ کی قربانیاں اور تعاون قدم قدم پر شامل رہا ۔
*یہ نصیب کیا کم ہے*
تین ماہ قبل آپ اپنی مشفق والدہ کے سایہ شفقت سے محروم ہوگئے ۔ ابھی اس صدمے سے خاندان سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ ایک اور صدمہ جانکاہ سے گذرنا پڑا ۔
حامد بھائی کم عمری میں صحت کی پیچیدہ آزمائشوں سے دو چار رہے ۔ ایک نیورولوجیکل مسئلے کی وجہ سے انکا جسم کبھی کبھی اچانک بے قابو ہوجاتا تھا ۔ اور یہ حملہ اتنا شدید ہوتا کہ ہڈیاں بھی چٹخ جاتیں ۔ ایک دفعہ ناگپور سفر کے دوران اچانک یہ مسئلہ درپیش ہوا ۔ گھر سے چار سو کلومیٹردور انجانے مقام پر سخت آزمائش درپیش تھی ۔ شہر اجنبی سہی ، لیکن انکی فیض رساں شخصیت کا کمال تھا کہ اجنبی شہر میں بھی محبین کا ایک جمگھٹا فوراً حاضر تھا ۔ ان مخلص دوستوں نے 24 گھنٹے نگہداشت کا آپسی شیڈول بنا کرمکمل علاج یقینی بنوایا اور لمبے علاج کے بعد بالاآخر وہ صحتیاب ہوکر گھر لوٹے ۔ اسکے بعد بھی دو مرتبہ وہ اس آزمائش سے دوچار ہوئے جسکے سبب ہاتھ اور سینے کی ہڈیاں متاثر ہوئیں ۔ وہ عملاً اس بات کے قائل تھے کہ صحتیابی ، آرام دہ بستر کی نہیں میدان عمل کی محتاج ہوتی ہے ۔ پلستر چڑھائے میدان عمل میں انھیں متحرک دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہوتے ۔
ایک مرتبہ ڈینگو کے سخت حملے نے انھیں ایک نئے امتحان سے دو چار کردیا ۔ پلیٹلیٹ کی سطح کریٹیکل حدوں کو چھورہی تھیں ۔ لیکن اللہ تعالی نے شفا یابی عطا فرمائی۔حامد بھائی نے ہنستے ہنستے ان سخت آزمائشوں کا صبر اور استقامت کے ساتھ کا میاب مقابلہ کیا تھا ۔ اسی حوالے سے سبھی کو امید تھی کہ اس بار بھی وہ صحتیاب ہوکر لوٹیں گے ، لیکن اس مرتبہ رب کا فیصلہ امیدوں کے برعکس تھا ۔ اپنے آخری سفر سے کچھ دن پہلے آئی سی یو میں جب ڈاکٹرس آکسیجن سپلائی کو مسلسل کنٹرول کرتے ہوئے علاج کی پوری کوشش کررہے تھے ، عین اسی وقت دوبارہ ہاتھ کی ہڈیاں چٹخ کر مزید ڈسلوکیٹ ہوگئیں ۔ آکسیجن سیچوریشن تشویشناک حد تک کم ہوگیا تھا ۔ بغیر بے ہوش کیے ہڈی کو جوڑنے کا پریشان کن مسئلہ درپیش تھا ۔ ڈاکٹر اویس نے یہ مرحلہ بھی کامیابی سے انجام دیا۔ لیکن اس تکلیف دہ صورتحال کو دیکھ کر ڈاکٹر اویس آبدیدہ ہوگئے ۔ ہسپتال نے یہ عجیب منظر بھی دیکھا کہ بیمار خود چارہ گر کی ڈھارس بندھا رہا ہے ۔ گویا کہہ رہا ہو :
آزمائشیں ائے دل سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے
*میرا قائیدمیری پہچاں*
جوہر ناشناسی اور ہمسرانہ چشمک کا دور دورہ ہو تو ایسی اجتماعیت میں نہ قائد ین میں جرءت و حوصلہ برقرار رہ سکتا ہے نہ مامورین میں اعتماد اور بے لوثی۔ ہر دو جانب صلاحیتوں اور وسائل کا خاموش قتل عام جاری رہتا ہے جسکے احساس زیاں سے بھی ذہن عاری ہوجاتے ہیں ۔لیکن جب معاملہ باہمی اعتماد اور تعاون کا ہو،
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
پردوں کے پرے چھپے گوہر کو ڈھونڈھ نکالنا حامد بھائی کا خاص وصف تھا ۔ حامد بھائی کی سیمابی طبیعت نے امیر جماعت کے بشمول کئی سطحوں پر صلاحیتوں کے قیمتی تحفے تحریک کو دئیے ۔ ہمارے دوست زبیر احمد خان بھی اسی سلسلے کی ایک قیمتی کڑی ہیں ۔ وہ انکے رفیق خاص رہے انھوں نے ذاتی مشاہدات شیئر کیے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حامد بھائی کے زیر اثر میری تربیت کا سفر چلڈرن سرکل سے شروع ہوا ۔ بعد میں ایک طویل عرصہ میں نے امیر مقامی کے سکریٹری کی حیثیت سے حامد بھائی کی معاونت کی ۔ اسکے بعد مجھے حلقہ مہارشٹر میں جوائنٹ سیکریٹری کی حیثیت سے طلب کیا گیا ۔میری ذمہ داریوںمیں نظماءضلع سے رپورٹنگ لینا بھی شامل تھا۔ میرے لیے حامد بھائی اب بھی مربی تھے لیکن وہ وقت میرے لیے بڑا کٹھن ہوتا جب وہ مجھے حلقے کے فرد کی حیثیت سے احتراماً مخاطب کرتے ۔ عمر کا فرق ، اورانکے مربیانہ احسانات انکے طرز تخاطب پر کبھی اثر انداز نہیں ہوئے ۔ زبیر خان کے مشاہدات بھی بڑے ہمہ گیر ہیں ۔ اگلی چند باتیں انھیں کے حوالے سے جو انھیں کی زبانی مجھ تک پہنچیں ۔ میں موصوف کا ممنون ہوں کہ انھوں نے انھیں قلمبند کرنے کی اجازت دے کر ہم سب کی تذکیر کا بیش بہا سامان فراہم کیا ۔
گذشتہ ماہ امیرحلقہ رضوان الرحمان خان صاحب کا تنظیمی دور ہ طئے تھا ۔ رضوان بھائی سرجری کے پیچیدہ مراحل سے گذر کر صحیتیاب ہوئے ہیں ۔صحت کے حوالے سے انکی حساس طبیعت کے متعلق حامد بھائی کی فکر مندی اور کوششیں بے مثل تھی ۔ سوشل ڈسٹنسنگ اور جملہ طبی اصولوں کا انھوں نے اپنی راست نگرانی میں اہتمام فرمایا ۔ تب جاکر امیر حلقہ کی آمد کےتئیں مطمئن ہوئے ۔
امیر جماعت کے لیے انکی محبت بے لوث تھی ۔ انکی طبیعت کے حوالے سے معمولی نزلہ زکام کی خبر بھی ملتی تو ادھر وہ پریشان ہوجاتے ۔ اپنے آخری ایام میں انکی شدید خواہش تھی کہ امیر جماعت سے گفتگو کروائی جائے ۔ آئی سی یو بیڈ سے انھوں نے ویڈیو کال کی ۔ بولنا محال تھا ۔ بس دیکھتے ، سنتے اور خوش ہوتے ۔
جی آئی او کے ریجنل سطح کے ایک بڑے پروگرام کے انعقاد کی ذمہ داری حامد بھائی کے سپرد تھی ۔ ریاست کے مختلف مقامات سے ہزاروں لڑکیوں کی شمولیت متوقع تھی ۔ لڑکیوں کا اس سطح کا پروگرام بڑا چیلنجنگ تھا ۔ سیکوریٹی ، نظم وضبط ، سہولیات کی فراہمی جیسے امور بڑے کٹھن تھے ۔ حامد بھائی نے دن رات محنت کی اور شاندار ٓکامیابی درج فرمائی ۔ پروگرام کے بعد امیر حلقہ محترم نذر مدعو صاحب کی روانگی تھی ۔ انتظامات سمیٹ کر وہ تیزی سے انھیں ملنے راست اسٹیشن پہنچے ۔ امیر حلقہ انکی تڑپ اور حسن انتظام سے اتنے مسرور تھے کہ فوری گلے لگالیا اور کہا کہ بھائی حامد میں چاہتا ہوں کہ کوئی تحفہ آپ کو دوں لیکن اس وقت کچھ موجود بھی نہیں ۔ پھر بیگ ٹٹولا اس میں ان کا ایک پسندیدہ پین موجود تھا ۔ اسی پین کو حامد بھائی کی جیب پر اپنے ہاتھوں سے سجایا اور اپنی ٹوپی اتار کر تحفتاً انکے سر پر رکھ دی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ قائدین کی جانب سے ایسی بےلوث ستائش کے سامنے وقت کے نوبیل بھی ہیچ ہوتے ہیں ۔حامد بھائی وہ "نوبیل لاریٹ "تھے جنھوں نے تاحیات اس ٹوپی کو ٹرافیوں جیسا مقام بخشا ۔
محترم نذر مدعو صاحب چند اسباب کی بنا پر جب مستعفی ہوئے تو حامد بھائی کی افسردگی اور بے چینی قابل دید تھی ۔ استعفیٰ کے اسباب فکری تھے ۔اور فکری مباحث انکا میدان نہیں تھا لیکن انھیں قطعاً یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ ایک دمکتا ستارہ ، کہکشاں سےٹوٹ چلے ۔اسی تڑپ نے انھیں سفر کے لیے مجبور کیا ۔ لمبے سفر کے بعد وہ انکے گھر پہنچے ۔ اور اختلافی مباحث کو چھوئے بغیر وہ بہ دیدہ نم یہی درخواست کرتے رہے کہ بس استعفیٰ واپس لے لیجیے ۔ نذر صاحب کی حامد بھائی سے محبت بھی بڑی مثل تھی ۔ خرابی صحت کے بعد وہ روزانہ مجھ سے ان کی کیفیت معلوم کرتے ۔ پل پل دعا کرتے ۔ انتقال کے بعد انھوں نے مجھے جو میسج کیا وہ یہ تھا”الحمدللہ، کل مع اہل خانہ، انکےلیے غائبانہ نمازِجنازہ کی سعادت نصیب ہوئی" ۔ خدا غریق رحمت فرمائے ۔
*خوشی حاجت روائی کی*
اپنی محدودآمدنی سے اوروں کے لیے خوشیاں خریدنا ان کا خاص وصف تھا ۔وہ ایک مشفق استاد تھے اور غریب طلباء کا درد خوب سمجھتے ہیں ۔ مستحق طلباء کے لیے بالخصوص انکی عنایتیں انکے جیب کی وسعتوں سے کہیں زیادہ تھیں ۔ کسی طالبعلم کو سائیکل خرید کر دی ، کسی کو جوتے ، اسکول بیگ اور کتابوں کا سیٹ عنایت کیا ۔ معاشی طور پر کمزور رفقاء کے گھر پہنچ کر خبر گیری کرنا ، انھیں تحائف اور انکے بچوں کو بھرپور عیدی دینا انکا معمول تھا ۔
اسکول کے قریب غریب بستیوں کی کچھ مستحق خواتین کے لیے وہ ایک مستقل سہار ا تھے ۔ان سے تعاون طلب کرنے وہ سیدھے اسکول چلی آتیں اور خالی ہاتھ نہ لوٹتیں ۔ ساتھی اساتذہ انھیں حامد بھائی کی بہنیں کہا کرتے ۔ اس دوستانہ بے تکلفی میں مزاح اور احترام کا خوبصورت امتزاج صاف نظرآتا ہے ۔
ایک رفیق کے بارے میں معلوم ہوا کہ 12 گھنٹے کی سخت جاب نے انھیں باندھ رکھا ہے اور وہ خواہش کے باوجود کسی اور کام کے لیے وقت فارغ نہیں کرپارہے ہیں ۔ ایک اور ساتھی کے بارے میں انھیں معلوم ہوا کہ انکی تجارت میں قدرے مشکوک آمدنی کا عنصر شامل ہے اس سے وہ جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن کوئی حل نہیں سوجھتا ۔ ایک اور رفیق کے بارے میں یہ خبر ملی کہ معاشی مسائل کی سنگینی انکے فارغ اوقات پر بتدریج قبضہ جمارہی ہے ۔ ایسے تمام مسائل کو وہ اپنی ذاتی ترجیحات میں شامل رکھتے ۔ ان تمام مسائل کو کچھ اپنی تگ ودو ، کچھ اپنی طبیعت کی فیاضی اور کچھ وسیع تعلقات کے نیٹ ورک کے سہارے حل کیا ۔ ایک دفعہ کسی طالبعلم کی فیس کا مسئلہ درپیش تھا ۔ اس معقول رقم کو خاموشی سے اپنی جیب سے ادا کردیا ۔ کچھ بہی خواہوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے انکی فیاض مزاجی کی قدر کرتے ہوئے اشارۃ ً یہ بات کہی کہ اس گراں باری کے آپ مکلف نہیں ۔ اچھا ہوتا آپ دیگر احباب کو بھی شامل کرلیتے ۔ حامد بھائی نے یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ وقت کی کمی اس با ت کی اجازت نہیں دے رہی تھی وقت گذرجاتا تو بڑا نقصان ہوتا ۔ اوریہ کہ کیا میرا چوتھا بیٹا ہوتا تو میں اسے جاہل چھوڑدیتا ۔ بس یہی سوچ کر میں وہ کر گذرا جس کی اجازت رب کی عنایتیں دے رہی تھیں ۔ انکی موثر دلیل ایک خاموش سوال کھڑا کردیتی جسکا جواب مشکل تھا ۔ بقول میر ۔
اتنے منعم جہان میں گزرے
وقت رحلت کے کس کنے زر تھا
*سفر، خوب تر*
حامد بھائی کے بے داغ تحریکی سفر کی روداد ہر اس فرد کے لیے سوغات ہے جو دنیاوآخرت میں حسنات کا طلبگار ہو ۔ ذاتی کام سے پہلے سرکاری چراغ گل کردینے کا سبق اسلاف کی تاریخ سکھاتی ہے ۔ اسی احتیاط کو عملاً حامد بھائی نےاس دور میں ثابت کردکھایا جہاں مالی فراڈ بھی قابل التفات اسی وقت ٹھہرتا ہے جب حجم ہزار کروڑ کی اکائی میں بیان کیا جاسکے ۔ وہ نہ آفس کا پین استعمال کرتے نہ مہمان خانے کی چپل ۔ ناندیڑ یونٹ میں بڑی تعمیرات بھی ہوئیں ، ارحم اسپتال کے بشمول کئی ادارے بھی قائم ہوئے لیکن امیر مقامی آڈٹ کے معاملے میں تمام طے شدہ اصولوں کو مقدم رکھتے ۔ کوئی چھوٹا واچر بھی بل سے محروم ہوتا اسے پھاڑ کر رقم ادا کردیتے ۔
آئی سی یو میں ایک مرحلہ وہ آیا جب سیچوریشن لیول میں نسبتاً بہتری کے آثار نمودار ہوئے اور سانس قدرے بحال ہوئی ، زبان و ذہن کا رشتہ مستحکم ہوا ۔ اور بات چیت ممکن ہوسکی ۔ اپنی ممکنہ صحتیابی پر مطمئن ہوجانے کے بجائے ، حامد بھائی نےبرادرم زبیر خان کو آئی سی یو بیڈ سے فوراً فون کیا ۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ کچھ دنوں قبل میں نے جماعت کی ایک اہم ضرورت کے لیے پچاس ہزار روپیے ڈونیشن کا ارادہ کیا تھا اس کی ادائیگی باقی ہے ، آپ فوراً اسے حاصل کرکے بیت المال میں جمع کردیں ۔ اسپتال کے بلس کے بوجھ کے بیچ انھیں جس چیز نے بیچین کررکھا تھا وہ اس ارادے کی تکمیل تھی جو یقینا انکے وسائل کے حوالے سے ایک بڑی رقم تھی ۔ دوسرا مطالبہ عبدالجلیل صاحب سے یہ تھا کہ اسکول مینیجمنٹ کی میٹنگ فوری طلب کرکے اس بات کا اطمینان کرلیا جائے کہ کوئی روپیہ کسی صورت کہیں قابل ادائیگی تو نہیں ۔ اگر ہاں تو حالیہ سیلیری سے اسکوادا کردیا جائے ( عبدالجلیل صاحب نے اسی دن اولین فرصت میں اس کام کی تکمیل کی اور اطمینان کیا کہ پوری شفافیت کے ساتھ لین دین کے جملہ معاملات بالکل صفر ہیں ) ۔ تیسری چیز یہ کہ کچھ ضروری فدیہ ادا کیاجائے ۔ اور چوتھی چیز اپنے افراد خاندان کے نام فرداً فرداً وصیت ۔ اس میں اپنی دوسری نسل کےاس اولین مہمان کے لیے ضروری نصیحت بھی شامل تھی جسکی متوقع آمد کے وہ منتظر تھے ۔حامد بھائی نے عملاً یہ پیغام دیا کہ زندگی وہی کامیاب ہے جو بعد ازموت مراحل کی تیاری سے آراستہ ہو ۔
موت، تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
*روشنی بن جائیے*
حامد بھائی کے قلبی روابط سے برداران وطن بھی محروم نہ تھے ۔ بالخصوص مراٹھا طبقات اور انکے قائدین سے بڑے دوستانہ دعوتی تعلقات تھے ۔ بحیثیت امیر مقامی اس محاذ پر انھوں نے خوب توجہ دی ۔ اپنے معاون عبد القدیر صاحب کو بالخصوص یہی کام تفویض کردیا کہ خوب تعلقات استوار کیجیے اور خاموشی سے حق کی روشنی بکھیرتے جائیے ۔ اس ایکٹیوزم کے بہت خوشگوار نتائج بھی سامنے آئے۔ آج انکے سانحہ ارتحال پر مراٹھا برادری بھی سوگوار ہے ۔ مقامی مراٹھی اخبارات کی خبریں اور تعزیتی بیانات کا سلسلہ اس بات کا گواہ ہے ۔ یہی نہیں سیاسی ایکٹیوزم اور ملی مسائل پر آپ کی تڑپ دل دردمند اور فکر ارجمند کی آئینہ دار ہے ۔ اور ہم تمام خادمین دین کے لیے ایک خاموش پیغام عمل بھی کہ ۔۔ روشنی بن جائیے !
مثلِ ایوانِ سحرمرقد فرُوزاں ہو ترا
نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
تحریر : شجاعت حسینی
بشکریہ : زبیراحمد خان
Comments
Post a Comment