Holi abeer

 ہولی   تیہوار  اور  ابیر کی تاریخی  سچائ 

  جسے  پچھڑے سماج سے چھپاکر رکھاجاتاہے ۔۔۔۔۔ !




اشتیاق احمد ربانی

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ




ہولی کا تیہوار  ایک ایسا  تیہوار ہے , جسکی ابتداء    " ہولیکا "  نامی ایک  پچھڑے سماج کی  کنواری لڑکی کی عزت کو برہمنوں کے ذریعہ تار تار کرنے سے ہوتی ہے ۔


 جسکی تفصیل اور تاریخی حقیقت اگر پچھڑے سماج کے لوگ  جان لیں تو  ان کی اس موقع پر راتوں کی نیند اڑجائے ۔


 در اصل    اس تیہوار کی  حقیقت یہ ہیکہ   ہردوئ کے راجہ  ( یہ جگہ اب یوپی میں ایک ضلع کے طور پر جانی جاتی  ہے )

  ہردوئ کے راجہ  ,


  " ہیرا کشیپ "   اپنے علاقے میں برہمنوں کی چلنے نہیں دیتے تھے  , چنانچہ  برہمن لوگ ناراض ہوکر ان کے خلاف ایک چال چل گئے , کہ راجہ ہیرا کشیپ جو کہ پچھڑے سماج سے تعلق رکھتے  تھے ,   ان کے اکلوتے بیٹے " پرہلاد "   کو بہلا پھسلاکر  شرابی  , نشیڑی اور جواڑی بناڈالا  یعنی راجہ  ہیرا کشیپ کے اکلوتے  بیٹے  "   پرہلاد  " کو پوری طرح  بگاڑ دیا ,   اس بگڑے پن کی وجہ سے وہ کبھی کسی کی بہو بیٹی کے  ساتھ چھیڑ کھانی کرتا  تو کبھی دوسری شرمناک حرکتیں کرتا رہتا تھا ,  لوگوں کے بار بار راجہ سے شکایت کرنے پر  , راجہ ہیرا کشیپ  عاجز  آکر اپنی  سلطنت سے نکال دیتاہے  اور کہتا ہے آج سے ہمارا اسکا کوئ تعلق نہی۔۔۔۔۔


   پرہلاد  نکل جاتا ہے اور برہمن اسے   اور بھی زیادہ  بگاڑ دیتے ہیں  , 

 

 اسی درمیان  راجہ کی ایک  کنواری بہن  " ہولیکا "  کی شادی طے ہوجاتی ہے ,  شادی کی پوری تیاری دھوم دھام سے چلتی ہے , شادی سے  ٹھیک ایک دن پہلے  "   راجہ کی بہن  ہولیکا " اپنی  بھابھی (  راجہ کی بیوی سے )  کہتی ہے  , کہ بھابھی ہمارے یہاں  طرح طرح کے پکوان بنے ہیں اور ہم سب خوشی منارہے ہیں لیکن  ہمارا بھتیجہ جسے ہم نے بڑے پیار سے پالا ہے  وہ اس خوشی اور پکوان سے محروم ہے  , مجھے اچھا نہیں  لگ رہا ہے  ,  میں خود سے بھائی سے چھپ کر اس کیلئے پکوان لیکر جانا چاہتی ہوں  تاکہ میں اسکو اپنے ہاتھوں سے یہ عمدہ قسم کا پکوان کھلا سکوں ,

  ماں کا دل بھی پسیج جاتاہے اور اپنی نند  ہولیکا  کو   اپنے شوہر سے پوچھے بغیر اجازت دے  دیتی ہے ۔


 ہولیکا  جیسے ہی اپنے بھتیجہ کو ڈھونڈھنے  نکلتی ہے  , لوگوں سے پرہلاد کے بارے میں پوچھتی ہے  تو برہمن  اسے بتلاتے ہیں وہ دیکھو فلاں جگہ  پرہلاد ہے , جب وہ وہاں جاتی ہے تو وہاں اسے نہیں پاتی ہے  پھر وہ لوگوں سے پوچھتی ہے اسی طرح برہمن لوگ اسے پریشان کرتے  ہیں کہ یہاں ہے  وہاں ہے  فلاں کھیت کے کنارے ہے , اور اس طرح سے وہ  پانچ یا سات  برہمن ملکر  اجتماعی طور پر راجہ کی بہن کی عزت لوٹ لیتے ہیں ,  ہولیکا  بیچاری کا Rape   ریپ کردیا جاتاہے جس سے  ہولیکا  خون میں لت پت ہوجاتی ہے ۔


 اور پھر اسے بدنامی کے خوف سے لکڑیاں  ڈال کر  جلا دیا جاتاہے , ہولیکا کا دہن ہوجاتاہے ۔۔۔۔ !!


 ادھر راجہ  ہولیکا کو تلاش کررہے ہوتے ہیں  کیوں کہ  صبح  ہولیکا  کی بارات آنے والی ہوتی ہے ,  راجہ بہت پریشان ہوتاہے , بیوی کے بتانے پر , راجہ اپنے خفیہ  جانچ پڑتال کرنے والوں کو جانچ کیلئے بھیج دیتا ہے ,   


  ملزمین کا پتہ چلنے پر راجہ ہیراکشیپ  اپنی  تلوار کی نوک سے ان کمینوں اور rapists   ریپسٹوں کے ماتھے پر نشان نما ایک چیرا لگادیتا ہے  اور  گدھا پر بٹھاکر پوری بستی میں گھماتاہے ۔ سارے لوگ  اسے کہتے ہیں ابیر ابیر  یعنی   " ابیر  " کا مطلب  اس  کے اندر  بیرتا نہی  یہ کائیر ہے , اس نے دھوکہ سے  ہماری بہن کو مارا ہے , اس نے دھوکہ دیا ہے ,  ابیر   کا مطلب  ( ابیر  جو ہندو لوگ اپنے ماتھے پر لگاتے ہیں  اسکی ابتداء  اسی واقعہ سے ہوئ )   اس نے دھوکہ سے ہماری  بہن بیٹی کی عزت لوٹی اور دھوکہ سے مارڈالا   , اس  دھوکہ دھڑی کو بتلانے کیلئے " اسے  ابیر ابیر کہ کر بلاتے تھے " ,  اور وہ پانچوں برہمن جہاں کہیں بھی جاتے لوگ ان  پر کیچڑ , گوبر اور  گندگی پھینکتے تھے , جوکہ آج بھی ایسا ہی کیا جاتاہے ۔


 صبح صبح کو ہندو عورتیں  جو  ہولیکا گاتی ہیں وہ در اصل  ہولیکا کی دردناک موت کی غم میں روتی ہیں ,  عورتیں مہیلائیں   اسکے راکھ کو ٹٹولتی ہیں  یعنی وہ علامتی طور پر یہ ڈھونتی ہیں کہ  ہولیکا  کی کچھ ہڈی وغیرہ باقی ہے یانہی ۔۔۔۔ !


 اس طرح سے ہولی تیہوار  اور  ابیر کی حقیقت   جوکہ اب مسلمان اور پچھڑے سماج کے لوگ بھی  ابیر لگاکر بہت بڑا سیکولر بننے  اور کٹر ہندو بننے   گویا ابیر لگاکر  برہمنوں سے بھی زیادہ پیور  اور بڑھیا  ہندو بننے  کی فراق میں رہتے ہیں  , انہیں  ان تاریخی  حقائق پر نظر ڈالناچاہئے تاکہ اور بھی زیادہ وہ سیکولر اور pure ہندو بن سکیں ۔۔۔۔




اشتیاق احمد ربانی

 علی گڈھ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ


Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں