مسلکی عناد کی تباہ کاریاں

مسلکی عناد کی تباہ کاریاں 


     
      
      تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپوری سہارنپور موبائل نمبر 8860931450  



  
     اسلام پسندوں میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ معاشرے  اور دنیا دونوں میں ”فکر اسلامی“ غالب رہے شادی بیاہ کی محفلوں سے لیکر قومی اور بین الاقوامی تک تمام امور میں اسلامیت نظر آئے ، مگر کونسا اسلام ؟ ایک اسلام تو وہ ہے جو مسالک اور شخصیات میں گم ہے دوسرا اسلام وہ ہے جس میں صرف اور صرف سیاست ہے ، تیسرا اسلام وہ ہے جو قرآن اور صحیح احادیث میں ہے ۔ بدقسمتی دیکھیے ہمارے تمام ادارے و مسالک پہلے اور دوسرے اسلام کے ترجمان ہیں ناکہ قرآن اور صحیح احادیث والے دین اسلام کے ۔ دیوبندی چاہتے ہیں کہ تمام دنیا ہمارے اکابر کی تشریح و تعبیر کو مانے خواہ وہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے ، بریلوی بھی یہ ہی چاہتے ہیں ، أہل الحدیث بھی یہ ہی چاہتے ہیں اور شیعہ و سنی بھی ، سیاسی اسلام کے حامی حضرات سیاست و حکومت کے علاوہ دیگر تمام ”حرکات و سکنات“ کو بے معنیٰ سمجھتے ہیں ، ہر کوئی اپنی تشریح پر بضد ہے کہ وہ ہی صحیح ہے دوسرا نہ صرف یہ کہ صحیح نہیں ہے بلکہ وہ انگریزوں کا ایجنٹ ہے ۔ ہم‌ نے جن مدارس میں تعلیم حاصل کی ہے وہاں ”رد فرق باطلہ“ کے عنوان سے حرام سرگرمی ہوتی ہے جس میں اپنے علاوہ ہر مسلک و شخصیات کے ڈانڈے یہودیوں سے ملانے کا ہنر سکھایا جاتا ہے ، ابوالاعلی مودودی سے لیکر ڈاکٹر ذاکر نائیک تک تمام مردان حر کو یہودیوں کا ایجنٹ بتلایا گیا ہے ، حسن البناء شہید سے لیکر ڈاکٹر یوسف القرضاوی تک تمام مجددین اسلام کو عرب علماء نے نہ صرف ”فتنه“ قرار دیا ہے بلکہ ”الارھابیون“ بھی کہا ہے ، خیال رہے کہ حال ہی میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی (م ، 26/ ستمبر 2022) کا انتقال ہؤا تو بغض سلفی علماء کرام خوشی میں جھوم اٹھے ، یوسف القرضاوی ایک ایسے عالم دین تھے جنہوں نے مغربی نظریات پر نہ صرف زبردست تنقید کی بلکہ صحیح اسلامی نظریہ بھی پیش کیا ۔ 
  ہم اپنے اپنے نظریات پر نہ صرف اڑتے اور لڑتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اسی ہٹ دھرمی میں صریح اسلامی احکام کی مخالفت بھی کر بیٹھتے ہیں اور ہم کو احساس تک نہیں ہوتا ، اس مرض میں ہم سب مبتلا ہیں کسی کا کوئی استثناء نہیں ، راقم چونکہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہے تو کیوں نہ ہم اپنا ہی احتساب کریں ؟ بڑھے بوڑھے کہتے ہیں پہلے آپ اپنی دس  غلطی مانیے پھر سامنے والا اپنی ایک غلطی مانے گا ۔ دارالعلوم دیوبند میں قیام کے دوران استاد محترم مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب نے شمائل ترمذی پڑھاتے ہوئے بتلایا تھا کہ چونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو پسند تھا اس لیے ہم کو زیب نہیں دیتا ہم یوں کہیں ”کہ مجھے کدو پسند نہیں“ ایسا کہنے سے رسول کی مخالفت لازم آئے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی ہوجائے گی ، ایک طرف تو ادب کی یہ انتہاء ۔ دوسری طرف صریح حکم رسول کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور ہم کو احساس تک نہیں ، اسی دارالعلوم کی جامع رشید میں عورتوں کے داخلے پر پابندی ہے جو کہ صراحتاً مخالفت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ”لا تمنعوا إماء الله مساجد الله“ کی ، یعنی اللہ کی  بندیوں کو مسجدوں سے مت روکو ، یہ ہی حال ہمارے تمام اسلام پسندوں کا ہے ۔ عام سیکولر مسلمان بھی اسلام کو چاہتے ہیں مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ سماج کے تمام ادارے اور شخصیات مسلکی نظریات میں بندھے ہوئے ہیں اور وہ اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے تو انکے ردعمل میں مزید سختی اور سرکشی آجاتی ہے ، نتیجتاً سب کچھ ہوتے ہوئے بھی امت کا شیرازہ منتشر ہوجاتا ہے ۔ خیال رہے کہ متشدد سیکولر یعنی منکر مسلمانوں میں بہت کم ہیں ۔ 
    جب تک ہماری یہ ہی حالت رہے گی غلبہ اسلام ہرگز نہیں ہوسکتا ، پاکستان افغانستان عراق اور شام میں جو تباہی پہیلی ہوئی ہے وہ سب مسلکی اسلام کی بدولت ہے ، افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد داعش کے لگاتار تباہ کن خودکش حملوں کے پیچھے یہ ہی مسلکی اسلام ہے ، اللہ نہ چاہے اور ہرگز نہ چاہے کہ پاکستان میں کوئی مسلکی طاقت برسراقتدار آئے ! اگر ایسا ہوتا ہے تو خون کی وہ ندیاں بہہ پڑیں گی کہ اللہ کی پناہ  ، میری تو یہ ہی سوچ ان تمام ممالک کے بارے میں بھی ہے جہاں اسلام پسند حضرات اقتدار کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ بہت ضروری ہے کہ ہم سب اپنی انا اور ضد کو ختم کرکے قرآن وسنت کی طرف لوٹ آئیں اور شخصیات کی تشریح و تعبیر کو ایک حد تک ہی مانیں ۔ جہاں ”دین خالص“ انسانیت کے لیے انتہائی مفید ہے ، وہیں ”دین مسلکی“ سیکولرازم سے ہزار درجہ زیادہ خطرناک ہے ۔  




      

         16/ اکتوبر 2022

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں