مفسدین کی پیروی کی مخالفت
مفسدین کی پیروی کی مخالفت –اخلاق
اور اخلاقی تعلیمات – فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۷۷
سورہ الاعراف آیت ۱۴۲
وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِيْهِ
هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ
الْمُفْسِدِيْنَ۰۰۱۴۲
موسیٰ نے چلتے ہوئے
اپنے بھائی سے کہا کہ ” میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور
ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔
عمل قوم لوط کی شناعت -- اخلاق اور
اخلاقی تعلیمات – فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ۵۱ ، ۵۲
سورہ اعراف آیات ۸۰، ۸۱
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ
اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۸۰اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ
شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۰۰۸۱
اور لوطؑ کو
ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے
بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟
تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو، حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل
ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔
تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی
خواہش پوری کرتے ہو
یہ قابل نفرت فعل جس کی بدولت اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی ہے،
اس کے ارتکاب سے تو بد کردار انسان کبھی باز نہیں آئے، لیکن یہ فخر صرف یونان کو
حاصل ہے کہ اس کے فلاسفہ نے اس گھناؤنے
جرم کو اخلاقی خوبی کے مرتبے تک اٹھا نے کی کوشش کی اور اس کے بعد جو کسر باقی رہ
گئی تھی اسے جدید مغربی تہذیب نے پورا کیا کہ علانیہ اس کے حق میں زبر دست پروپیگنڈا
کیا گیا، یہاں تک کہ بعض ملکوں کی مجالسِ قانون سازنے اسے باقاعدہ جائزٹھیرا دیا۔
حالانکہ یہ بالکل ایک صریح حقیقت ہے کہ مبا شرتِ ہم جنس قطعی طور پر وضِع فطرت کےخلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ذی حیات
انواع میں نرومادہ کا فرق محض تناسُل اور بقائے نوع کے لیے رکھا ہے اور نوع انسانی
کے اندر اس کی مزید غرض یہ بھی ہے کہ دونوں صنفوں کے افراد مل کر ایک خاندان وجود
میں لائیں اور اُس سے تمدن کی بنیاد پڑے۔ اسی مقصد کے لیے مرد اور عورت کی دو الگ
صنفیں بنا ئی گئی ہیں، ان میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پیدا کی
گئی ہے، ان کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کے جواب میں مقاصد
زوجیت کے لیے عین مناسب بنائی گئی ہے اور
ان کے جذب و انجذاب میں وہ لذت رکھی گئی ہے جو فطرت کے منشاء کو پورا کرنے کے
لیے بیک وقت داعی ومحرک بھی ہے اور اس خدمت کا صلہ بھی ۔ مگر جو شخص فطرت کی اس
اسکیم کے خلاف عمل کر کے اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں
متعدد جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اوّلاً وہ
اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خللِ عظیم بر
پا کردیتا ہے جس سے دونوں کے جسم ،نفس اور اخلاق پر نہایت بُرے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔
۲ ثانیاً وہ
فطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکا ب
کرتا ہے، کیونکہ فطرت نے جس لذت کو نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس
کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق
کے ساتھ وابستہ کیا تھا وہ اسے کسی خدمت کی
بجاآوری اور کسی فرض اور حق کی ادائیگی
اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چُرا لیتا ہے۔ ۳ ثالثاً وہ انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بد دیا نتی کرتا
ہے کہ جماعت کے قائم کیے ہوئے تمدنی
اداروں سے فائدہ تو اُٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور
فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے
بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو
اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور
خاندان کی خدمت کے لیے نا اہل بنا تا ہے، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی
زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے، اور کم از کم
دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بے راہ
روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
تکبر کی مذمت -- اخلاق
اور اخلاقی تعلیمات – فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۱۷
سورہ اعراف آیت ۲۳
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ
اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ
الْخٰسِرِيْنَ۰۰۲۳
دونوں بول اُٹھے”اے ربّ! ہم نے
اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تُو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً
ہم تباہ ہو جائیں گے۔
شیطان کی راہ
اور وہ راہ جو انسان کے لائق ہے ،دونوں ایک دوسرے سے بالکل ممیّز ہو گئیں۔ خالص شیطانی
راہ یہ ہے کہ بندگی سے منہ موڑے، خدا کےمقابلہ میں سرکشی اختیار کرے، متنبہ کیے
جانے باوجود پورے استکبار کے ساتھ اپنے باغیانہ طرزِ عمل پر اصراف کیے چلا جائے اور
جو لوگ طاعت کی راہ چل رہے ہو ں ان کو بھی بہکائے اور معصیّت کی راہ پر لانے کی
کوشش کرے۔ بخلاف اس کے جو راہ انسان
کےلائق ہے وہ یہ ہے کہ اوّل تو وہ شیطانی اغوا کی مزاحمت کرے اور اپنے اِس دشمن کی
چالوں کو سمجھنے اور اُن سے بچنے کے لیے ہر وقت چوکنّا رہے،لیکن اگر کبھی اس کا
قدم بندگی وطاعت کی راہ سے ہٹ بھی جائےتو اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی ندامت و
شرمساری کے ساتھ فورًا اپنے رب کی طرف پلٹے اور اُس قصور کی تلافی کر دے جو اس سے
سرزد ہوگیا ہے۔ یہی وہ اصل سبق ہے جو اللہ
تعالیٰ اس قصے سے یہاں دینا چاہتا ہے۔ذہن نشین یہ کرنا مقصود ہے کہ جس راہ پر تم
لوگ جا رہے ہو یہ شیطان کی راہ ہے۔ یہ تمہارا خدائی ہدایت سے بے نیا ز
ہوکر شیاطینِ جن و انس کو اپنا ولی و سرپرست بنانا،اور یہ تمہارا پے در پےتنبیہات
کے باوجود اپنی غلطی پر اصرار کیے چلے جانا، یہ دراصل خالص شیطانی رویّہ ہے۔ تم
اپنے ازلی دشمن کے دام میں گرفتار ہوگئے ہو اور اس سے مکمل شکست کھا رہے ہو۔ اس کا انجام پھر وہی ہے جس سے شیطان خو ددوچار
ہونے والا ہے۔اگر تم حقیقت میں خود اپنے دشمن نہیں ہوگئے ہو اور کچھ بھی ہوش تم میں
باقی ہے تو سنبھلو اور وہ راہ اختیار کرو جو آخر کار تمہارے باپ اور تمہاری ماں
آدم وحوّا نے اختیار کی تھی۔
تکبر کی مذمت -- اخلاق اور اخلاقی
تعلیمات – فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۷۸
سورہ اعراف آیت ۱۴۶
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ
الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ١ؕ
میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی
نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کِسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں
یعنی میرا قانونِ فطرت یہی ہے کہ ایسے لوگ کسی عبرت
ناک چیز سے عبرت اور کسی سبق آموز شے سے سبق حاصل نہیں کر سکتے۔
”بڑا بننا“یا ”تکبّر کرنا“ قرآن مجید اس معنی میں
استعمال کرتا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالا تر سمجھنے لگے اور خدا
کے احکام کی کچھ پروا نہ کرے، اور ایسا طرزِ عمل اختیار کرے گویا کہ وہ نہ خدا کا
بندہ ہے اور نہ خدا اس کا رب ہے۔ اس خود سری کی کوئی حقیقت ایک پندار غلط کے سوا
نہیں ہے ، کیونکہ خدا کی زمین میں رہتے
ہوئے ایک بندے کو کسی طرح یہ حق پہنچتا ہی نہیں
کہ غیرکا بندہ بن کر رہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ”وہ بغیر کسی حق کے زمین میں
بڑے بنتے ہیں۔“
تکبر کی مذمت -- اخلاق اور اخلاقی
تعلیمات – فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۵۳۴
سورہ نحل آیات ۲۲، ۲۳
اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ
فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ
مُّسْتَكْبِرُوْنَ۰۰۲۲لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ
مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِيْنَ۰۰۲۳
تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں
مانتے اُن کےدلوںمیں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں۔ اللہ یقیناً
اِن کے سب کرتُوت جانتا ہے چھُپے ہوئے بھی اور کھُلے ہوئے بھی۔ وہ اُن لوگوں کو ہر
گز پسند نہیں کرتا جو غرورِ نفس میں مبتلا ہوں۔
گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں
یعنی آخرت کے انکار نے اُن کو اس
قدر غیر ذمہ دار، بے فکر، اور دنیا کی زندگی میں مست بنا دیا ہےکہ اب انہیں کسی حقیقت کا انکار کردینے میں باک نہیں
رہا، کسی صداقت کی ان کے دل میں قدر باقی نہیں رہی، کسی اخلاقی بندش کو اپنے نفس
پر برداشت کرنے کے لیے وہ تیار نہیں رہے، اور انہیں یہ تحقیق کرنے کے پروا ہی نہیں
رہی کہ جس طریقے پر وہ چل رہے ہیں وہ حق
ہے بھی یا نہیں۔
تکبر کی مذمت -- اخلاق اور اخلاقی
تعلیمات – فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۶۱۶
سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۷
وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ
مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا۰۰۳۷
زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین
کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو
مطلب یہ ہے کہ جباروں اور متکبروں کی روش سے بچو ۔ یہ ہدایت بھی
انفرادی طرز عمل اور قومی رویے
دونوں پر یکساں حاوی ہے ۔ اور یہ اسی ہدایت کا فیض تھا کہ مدینہ طیبہ میں جو حکومت
اس منشور پر قائم ہوئی ااس کے فرماں رواؤں، گورنروں اور سپہ سالاروں کی زندگی میں
جباری اور کبریائی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ حتیٰ کہ عین حالتِ جنگ میں بھی کبھی
ان کی زبان سے فخر و غحرور کی کوئی بات نہ
نکلی ۔ ان کی نشست و بر خاست ، چال ڈھال ، لباس، مکان ، سواری اور عام برتاؤ میں
انکسار و تواضع، بلکہ فقیری ودرویشی کی شان پائی جاتی تھی، اور جب وہ فاتح کی حیثیت
سے کسی شہر میں داخل ہوتے تھے اس وقت بھی اکڑ اور تَبَخْتُر سے کبھی اپنا رعب بٹھانے کی کوشش نہ کرتے تھے۔

Comments
Post a Comment