Posts

گم شدہ متاع کی تلاش میں

 گم شدہ متاع کی تلاش میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ ترجمان القرآن : مارچ 2019ء شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ[پ:۱۸۵۱ء] ۱۲مارچ ۱۹۲۰ء کو طویل قید اور جلاوطنی گزار کر اپنے قیدی ساتھیوں کے ہمراہ بحری جہاز سے سرکاری نگرانی میں مالٹا سے ہند روانہ ہوئے۔ راستے میں تقریباً تین ماہ کی مزید پابندیاںگزار کر ۲۰رمضان ۱۳۳۸ھ (۸جون ۱۹۲۰ء) کو بمبئی بندرگاہ پرپہنچے ہی تھے کہ ایک سرکاری مولوی صاحب رحیم بخش نے  ملاقات کرکے مشورہ دیا: ’آپ سیاسی جھگڑوں میں پڑنے کے بجاے عمر کا باقی حصہ دیوبند میں گزار یے‘‘ (نقشِ حیات، دوم، ص ۲۳۵)۔تاہم، مولانا محمود حسن نے جہاز سے اُتر کر آزاد ہوتے ہی خلافت کمیٹی سے ملاقات کی (ایضاً، اوّل ، ص ۲۴۸)۔۱۳جون دہلی پہنچے اور ۱۴جون کو دیوبند۔ آپ کی رہائی اور وطن واپسی درحقیقت مرض الوفات کا آغاز تھی اور تپ دق لاحق تھا۔ اسی زمانے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے طلبہ نے مولانا محمدعلی جوہر کے ایما پر بائیکاٹ کرکے دوسری درس گاہ ’مسلم نیشنل یونی ورسٹی‘ قائم کرنے کی مہم شروع کر رکھی تھی، اور وہ حضرت محمود حسن کو صدارت کی زحمت دینے دیوبند پہنچ گئے تھے۔ بیماری کی شدت کے سبب مولانا س...

خوشی

 خوشی ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔  دوستوں سے ملکر،  عزیز رشتہ داروں سے ملکر،  نیکی کرکے،  کسی کا راستہ صاف کرکے،  کسی کی مدد کرکے۔  خربوزہ میٹھا نکل آیا،  تربوز لال نکل آیا،  آم لیک نہیں ھوا،  ٹافی کھا لی،  سموسے لے آئے،  جلیبیاں کھا لیں،  باتھ روم میں پانی گرم مل گیا، داخلہ مل گیا،  پاس ھوگئے،  میٹرک کرلیا،  بی اے کر لیا،  کھانا کھالیا،  دعوت کرلی،  شادی کرلی،  عمرہ اور حج کرلیا،  چھوٹا سا گھر بنا لیا،   امی ابا کیلئے سوٹ لے لیا،  بہن کیلئے جیولری لے لی،  بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے،  اولاد آگئی اولاد بڑی ھوگئی، انکی شادیاں کردیں-  نانے نانیاں بن گئے - دادے دادیاں بن گئے - سب کچھ آسان تھا  اور سب خوش تھے. پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی،  بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے،  پوزیشن کیا آئے،  نمبر کتنے ہیں،  جی پی اے کیا ھے،  لڑکا کرتا کیا ہے،  گاڑی کونسی ہے،  کتنے کی ہے،  تنخواہ کیا ہے،...

Strong family strong society

 خوش رہو خوش رکھو محی الدین غازی مسجد کے امام صاحب کی اس کے دل میں بہت قدر تھی، وہ نماز میں پُر سوز تلاوت کرتے اور جمعہ کے خطبے میں زندگی کے عملی مسائل پر بات کیا کرتے۔ قرآن و سنت پر ان کی گہری نظر تھی، اور ان کی کوشش یہ ہوتی کہ جمعہ کے ہر خطبے میں زندگی کے کسی ایک مسئلے کے بارے میں دین کی تعلیمات کھول کھول کر بتادیں۔ ان کا خطبہ سننے دور دور سے لوگ آتے، وہ بھی بڑی توجہ سے ان کا خطبہ سنتا۔ آج خطبے میں انھوں نے ایک حدیث سنائی اور اس حدیث کے عملی تقاضے بتائے۔ حدیث کا مفہوم یہ تھا کہ تم میں سے ہر ایک ذمے دار ہے اور ہر ایک اپنی رعایا کے سلسلے میں جواب دہ ہے۔ مرد اپنے گھر والوں کا ذمے دار ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے۔ آج کا خطبہ اس نے کچھ زیادہ ہی توجہ سے سنا کیوں کہ اسی مہینے اس کی شادی ہونے والی تھی۔ نماز کے بعد وہ امام صاحب کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور سلام کیا۔ امام صاحب کا معمول تھا کہ وہ نماز بعد کچھ دیر بیٹھتے اور کسی کے ذہن میں خطبے سے متعلق کوئی سوال ہوتا تو اس کا جواب دیتے۔ اس نے امام صاحب سے کہا، حضرت اس ماہ میری شادی ہونے والی ہے، آپ کے خطبے سے معلوم ہوا کہ شادی کے...

ڈاکٹر حمید اللہ

 ‏ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ *میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب  نہ کریں.* ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی نیشنیلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن‏ سے محبت ہے. ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر 40000 غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا. ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی. ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے. ‏ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے. ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ‏ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا. ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھ...

مومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم مفلحون

 وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌ سورۃ الحشر آیت نمبر ۹ ان لوگوں کے لئے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے دار کو اور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا، جو شخص ان کی طرف ہجرت کر کے آئے اس سے محبت کرتے ہیں اور اپنے سینوں میں اس مال کی وجہ سے کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے جو مہاجرین کو دیا جائے، اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انہیں حاجت ہو، اور جو شخص اپنے نفس کی کنجوسی سے بچا دیا گیا سو یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں حضرات انصار رضی اللہ عنہم کے اوصاف جمیلہ   صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اکثر علماء فرماتے ہیں کہ ﴿ وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ ﴾ مہاجرین پر عطف ہے اور ان سے حضرات انصار مدینہ مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ فئی کے جو اموال ہیں انصار بھی اس کے مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے. انصار کی تعری...

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں

 مسلمان‘جائیں تو جائیں کہاں؟ معصوم مرادآبادی بہار اوربنگال کے مسلم حلقوں میں اپنی حاضری درج کرانے کے بعد اب بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں قدم رکھ دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان تمام اندیشوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے جو مسلمانوں کی علیحدہ سیاست سے وابستہ ہیں اور جن کی تان بی جے پی کو فائدہ پہنچانے طعنہ پر جاکر ٹوٹتی ہے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اترپردیش کی تقریباً 22 کروڑ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 18 فیصد ہے اوروہ 400 اسمبلی نشستوں میں100سے زیادہ حلقوں پرفیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیکولر سیاست کے ٹھیکیدار ہر الیکشن میں مسلمانوں کی حاشیہ برداری کرتے ہیں مگر ان کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یوپی میں مسلمانوں کی پسماندگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ سیاسی طور پر یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔2012کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دینے کا خوش کن وعدہ کیا تھا ۔ اس کے فریب میں آکر مسلمانوں نے سارے ووٹ سماجوادی پارٹی کو منتقل کردیئے۔ پارٹی سربراہ ملائم سنگ...

ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مغربی۔ محمد اسعد فلاحی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مربی محمد اسعد فلاحی   مفکر اسلام اور فکرِمودودیؒ کے شارح ڈاکٹرمحمد رفعت 8؍ جنوری 2021ء کو اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ گئے۔ ان کی وفات سے عالم اسلام، خصوصا تحریک اسلامی کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا احساس وابستگانِ تحریک نے جس شدت کے ساتھ کیا ہے، اس کا اظہار الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔علم و تقویٰ، سادگی اور انکساری کا ایسا چلتا پھرتا قابلِ تقلید نمونہ اپنی آنکھوں سے پہلے کہیں نہیں دیکھا۔ مسکرانا تو جیسے ان کی فطرت میں شامل تھا۔وسائل کی فراوانی کے باوجود ان کی زندگی تصنع، آرائش و زیبائش، زینب و زینت اور دنیا کی چمک دھمک سے بالکل پاک تھی۔ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے،ان کو دیکھنے اور جاننے والا ہر شخص اس کا شاہد ہے۔ معمولی سی چپل،سادہ سے کپڑے اور چہرے پر مسکراہٹ ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔   ڈاکٹر محمد رفعت 26؍ جولائی 1956ء خورجہ، ضلع بلند شہر، یوپی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام بندو خان ہے۔ وہ تحصیل دار تھے۔1965ء میں ان کا تبادلہ علی گڑھ میں ہوا تھا، اس کے بعد سے وہ وہیں سکونت پذیر ہو گئے۔ ڈاکٹر رفعت صاح...