ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مغربی۔ محمد اسعد فلاحی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مربی
محمد اسعد فلاحی
مفکر اسلام اور فکرِمودودیؒ کے شارح ڈاکٹرمحمد رفعت 8؍ جنوری 2021ء کو اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ گئے۔ ان کی وفات سے عالم اسلام، خصوصا تحریک اسلامی کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا احساس وابستگانِ تحریک نے جس شدت کے ساتھ کیا ہے، اس کا اظہار الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔علم و تقویٰ، سادگی اور انکساری کا ایسا چلتا پھرتا قابلِ تقلید نمونہ اپنی آنکھوں سے پہلے کہیں نہیں دیکھا۔ مسکرانا تو جیسے ان کی فطرت میں شامل تھا۔وسائل کی فراوانی کے باوجود ان کی زندگی تصنع، آرائش و زیبائش، زینب و زینت اور دنیا کی چمک دھمک سے بالکل پاک تھی۔ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے،ان کو دیکھنے اور جاننے والا ہر شخص اس کا شاہد ہے۔ معمولی سی چپل،سادہ سے کپڑے اور چہرے پر مسکراہٹ ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔
ڈاکٹر محمد رفعت 26؍ جولائی 1956ء خورجہ، ضلع بلند شہر، یوپی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام بندو خان ہے۔ وہ تحصیل دار تھے۔1965ء میں ان کا تبادلہ علی گڑھ میں ہوا تھا، اس کے بعد سے وہ وہیں سکونت پذیر ہو گئے۔ ڈاکٹر رفعت صاحب کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے ہوئی۔ انھوں نے منٹو سرکل سے1971ء میں انٹرکیا۔ اس کے بعدعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے1974ء میں بی ایس سی (آنرز)،1976ء میں ایم ایس سی( فزکس) اور1984ء میں آئی آئی ٹی کان پور سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی۔
ڈاکٹر صاحب ایس آئی ایم کے پہلے باقاعدہ صدر ہیں۔ جس وقت انھوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی اس وقت ان کی عمر صرف اکیس سال برس تھی۔ وہ 1977ء میں جماعت اسلامی ہند کے رکن بنے۔ جس وقت جماعت اسلامی ہند پر پابندی عائد ہوئی اس وقت ان کو بھی سنت یوسفی ادا کرنے کی توفیق ملی۔1981ء میں مجلس نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔1985ء میں معروف یونی ورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آپ کا بحیثیت لیکچرر تقرر ہوا۔ڈاکٹر صاحب مصروفیات کے باوجود تحریکی سرگرمیوں میں برابر شریک رہے۔وہ1995ء سے 2011ء تک(چار [4] میقات) امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند دہلی و ہریانہ رہے۔ آپ1999ء میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ہوئے اور تا حیات اس کے رکن رہے۔ تحریک اسلامی کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نوکے مدیر کی حیثیت سے تقریباً دس سال (10) اپنی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر محمد رفعت صاحب میرے استاد بھی تھے اور مربی بھی۔ اس تعلق سے میں اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتا ہوں کہ پہلے اسلامی اکیڈمی نئی دہلی میں تقریباً دو(2) برس بحیثیت طالب علم ان سے بھر پور استفادہ، اس کے بعد ایک میقات (چار سال۔2015ء تا2019ء) تصنیفی اکیڈمی جماعت اسلامی ہند میں ان کے زیر ِتربیت رہنے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ان کے علم کی گہرائی اور فکر کی پختگی سے اس درجہ تو فائدہ نہیں اٹھا سکا جتنا اس کا حق تھا، البتہ بہت ساری باتیں ان سے ویسے ہی سیکھ اور جان لیں جیسے عطر کے قریب رہنے سے موجود شخص اس کی خوشبو سے معطر ہوجاتاہے۔
ڈاکٹر صاحب مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور اعتماد بھی، اس حد تک کہ گویا میں ان کے گھر کا ایک فرد ہوں۔ وہ بہت کم مجھے اپنے نام سے پکارتے تھے۔ ان کا عمومی انداز مجھے ’جناب والا‘کہہ کر مخاطب کرنے کا تھا۔ اتنی بڑی شخصیت کا مجھ جیسے طالب کے ساتھ اس طرح محبت اور احترام کے ساتھ سے پیش آنا میرے لیے کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔عموماً لوگ دنیاوی عہدوں کی بلندیوں کوپالینے کے بعد اپنے سے نیچے والوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اسے اپنی’ پوسٹ‘ کی توہین گردانتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کا معاملہ اس کے بر عکس تھا۔ وہ ’چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کا احترام‘ والے اصول پر شدت کے ساتھ عمل کرتے تھے۔لوگوں سے اس طرح محبت سے پیش آتے تھے کہ ایک مرتبہ ملاقات کے بعد عموماً انسان ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔
میں ان سے بہت بے تکلف تھا اور وہ مجھ سے۔ کوئی کام بتانے میں تکلف محسوس نہیں کرتے تھے، بلکہ مرکز سے متعلق ان کے بہت سے کام میرے ذریعے انجام پاتے تھے۔ وابستگانِ تحریک کو کتابیں، رفقاء کو ڈائریاں اور کلینڈر بھیجنے ہوں یا کسی سے کوئی چیز حاصل کرنی ہو یا پہنچانا ہو، یہ کام میرے ذمے تھے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو بلا ناغہ گھر بُلا کر اعانت کی رقم مالیات میں جمع کرنے کے لیے دیتے تھے۔ ان کے اس عمل میں میں نے کبھی تاخیر نہیں دیکھی۔
ڈاکٹر رفعت صاحب کی زندگی میں پروٹوکول نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جو چاہتا بلا تکلف دربانوں اورا پائنمنٹ کے بغیر ملاقات کر سکتا تھا۔ انھوں نے اخلاص سے پُر اور سادگی بھری زندگی گزاری۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ کسی کے لیے زحمت کا باعث نہ بنیں۔ اسی شانِ نیازی کے ساتھ انھوں نے زندگی کے پینسٹھ (65) برس گزار دیے۔ جس وقت وہ تصنیفی اکیڈمی کے چیرمین تھے، آفس کی صفائی کا اہتمام معمول کے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔ بسا اوقات ہفتے گزر جاتے تھے، ٹیبل پر زیادہ دھول دیکھتے تو خود صاف کر لیتے تھے،لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتے تھے۔ آفس میں جب کبھی وابستگان تحریک ملاقات کے لیے یا کسی اور کام سے آتے تو ان کی خاطر مدارت کے لیے کسی کارکن کا سہارا نہیں لیتے تھے۔ بلکہ خود ان کی تواضع کرتے، خود سے پانی بھر کے پلا دیتے تھے۔ دفتر میں آنے والے مہمانوں کو عموماً لیمن ٹی پلاتے تھے۔شاید اس وجہ سے کہ وہ اس کومالیات پر بوجھ ڈالنا مناسب نہیں گردانتے تھے۔ البتہ گھر پر ضیافت کرتے تو ان کی فراخ دلی قابلِ دید ہوتی تھی۔
ڈاکٹر صاحب ذکر و اذکار کے بہت پابند تھے۔ جب کبھی دفتری اوقات کے علاوہ مرکز اپنے آفس میں تشریف لاتے تو زور زور سے تکبیرات کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوتے اور دیر تک کرتے رہتے۔ کبھی جہراً قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔
ڈاکٹر خالد حامدی کی نگرانی میں شائع ہونے والا رسالے ’اللہ کی پُکار‘ سے اہلِ علم واقف ہیں۔ اس کا شاید ہی کوئی شمارہ ایسا ہو جس میں تحریک اسلامی پر تنقید نہ کی گئی ہو۔ اس بے جا تنقید کی وجہ سے وابستگانِ تحریک اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر رفعت صاحب کی محبت تحریکی حد بندیوں تک محدود نہیں تھی اور نہ انھوں نے کبھی تحریکی حد بندیوں اور فکری اختلافات کو حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے دیا۔ان کی محبت صرف تحریکی حلقے تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ اپنے درد منددل میں امت واحد کو سموئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر خالد حامدی کے ساتھ بھی ان کا یہی معاملہ تھا۔ ایک دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا:’’آپ ذرا مسجد (اشاعت اسلام) کے پاس آجائیے۔‘‘ میں نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔پہنچا تو دیکھا کہ وہ مسجد کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ راستے میں انھوں نے پوچھا: ’’کیا آپ خالد حامدی صاحب کو جانتے ہیں ؟‘‘ میں نے مثبت میں جواب دیا اورسوال کیا: ’’کیا اللہ کی پُکار والے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب مسکرانے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ خالد حامدی صاحب کی طبیعت بہت علیل ہے۔ وہ کچھ دیر قبل الشفاء ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں داخل ہوئے تھے۔ فی الحال ٹھیک ہیں اور گھر پر آگئے ہیں۔ ہم انہی کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں۔ مزید کہا کہ ان کے پاس فی الحال دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں ہے، جب تک ان کی طبیعت بہتر نہیں جاتی، آپ روزانہ ان سے ملتے رہیے اور ممکنہ ضروریات پوری کرتے رہیے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہاں پہنچ کر ڈاکٹرصاحب نے ان کی خیریت پوچھی۔ چلتے وقت میرا تعارف کراتے ہوئے انھیں میرا نمبر دیا اور اس بات کا تذکرہ کر دیا جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی علمی گہرائی اور فکری پختگی کا احاطہ کرنا مجھ جیسے طالب علم کے لیے ممکن ہے نہ مجھے پر زیب دیتا ہے۔ یہ کام اہلِ علم و دانش کا ہے۔ البتہ ان کے قریب رہ کر مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوا کہ ان کی فکر تمام تر کج رویوں سے پاک تھی۔ اس میں کسی طرح کا تزلزل نہیں تھا۔ وہ مولانا مودودیؒ کی فکر کو خالص انداز میں پیش کرتے تھے، اسے توڑنے مروڑنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے وہ تحریکی حلقوں میں شارح مودودیؒ کے نام سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر رفعت صاحب بیک وقت اردو اورانگریزی دونوں زبان کے ماہر تھے۔ لیکن انگریزی زبان کے بے محل اور غیر ضروری استعمال سے گریز کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں اور تقریروں میں غیر ضروری علمیت کا شائبہ تک نہیں ملتا۔جنوب کے لوگ، خصوصاً کیرلا والے اردو زبان سے کم واقفیت رکھتے ہیں، ابتدا میں ان کے لیے اس کو سمجھنا بھی دشوار ہوتا ہے، لیکن ایک قلیل مدت میں وہ اس پر قابو پالیتے ہیں۔ ایس آئی او کے کسی پروگرام میں جب کبھی حلقۂ کیرلا کے ساتھی شریک ہوتے تو ڈاکٹر رفعت صاحب اس وقت اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں تقریر کرتے تھے۔ ان کا انداز اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے اردو میں ایک مکمل بات کہہ دیتے تھے، اس کے بعد اس کا ترجمہ انگریزی میں بھی بیان کرتے تھے،تاکہ وہ ساتھی بھی سمجھ جائیں جو اردو زبان سے واقف نہیں ہیں۔ لیکن انگریزی میں ان کا انداز بیاں اتنا سلیس اور سادا ہوتا تھا کہ اس زبان سے بہت کم واقفیت رکھنے والا بھی اس کو آسانی سے سمجھ سکتا تھا۔ وہ غیر ضروری اور بھاری بھرکم انگریزی الفاظ کے استعمال سے گریز کرتے تھے۔
رفعت صاحب کی سادگی کا چرچا زد خاص و عام ہے۔ ان کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ اتنی بڑی پوسٹ پر ہونے کے باوجود کی پیڈ موبائل استعمال کرتے تھے اور آخر وقت تک اسی کا استعمال کرتے رہے۔کسی بھی طرح کی فوٹو گرافی سے اجتناب کرتے تھے۔ البتہ واضح الفاظ میں اس کی روک تھام کے لیے تنبیہ نہیں کرتے تھے، البتہ ذاتی طور پرجس درجہ تک بھی ہو سکے، اس سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ میں نے کئی مرتبہ ان کو دیکھا کہ جب کبھی کتابوں کے رسم اجرا، یا اس طرح کے دیگرپروگراموں میں وہ فوٹو سیشن کے دوران کتاب یا کسی دوسری چیزسے اپنا چہرہ اس طرح چھپاتے تھے کہ وہ کیمرے میں نہ آسکے۔ جب منتظمین یا ذمہ داران اس بات کو محسوس کر لیتے تھے تو وہ چیز اُن کے چہرے سے ہٹوا دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بادلِ ناخواستہ مسکراتے ہوئے ان کی بات پر عمل کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کم گو اور حاضر جواب تھے۔ بڑے بڑے سوالات اور اشکالات کا جواب چند جملوں، بسا اوقات چند لفظوں میں دے دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے، ایک علمی محفل میں بھائی مصدق مبین نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا: ’’اگر کوئی شخص ’غیب‘ کا ترجمہ ’اندھ وشواس‘ سے کرے تو ہم کیا کریں ؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے برجستہ جواب دیا : ’’تو ہمیں اس کا ترجمہ کسی اور اسے کروانا چاہیے۔ ‘‘ اس طرح محفل میں مسکراہٹ کی ایک لہر دوڑ گئی اور حاضرین خوب محظوظ ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب نوجوانوں کی تربیت کے تعلق سے بہت فکر مند رہتے تھے، خصوصاً ان کی فکر کے حوالے سے۔ ان کی اسی محبت اور تڑپ کی وجہ سے وہ ایس آئی او کے چھوٹے چھوٹے پروگراموں میں بلا تکلف شریک ہوجاتے تھے اور نوجوانوں کی رہ نمائی کرتے تھے۔جس وقت ابو الفضل انکلیو یونٹ کی ذمہ داری مجھ پر تھی، میں نے ان سے بھر پور استفادہ کی کوشش کی۔ اسی دوران ایک اہم پروگرام ا’سٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ‘ کے عنوان سے منعقد کیا۔ اس پروگرام کے مقرر جناب ڈاکٹر رفعت صاحب تھے۔ انھوں نے بہت جامع انداز میں اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کے تنقیدی جائزے کے ساتھ اٹھارہویں، انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی کی سائنس اور فلسفۂ سائنس کا بہت علمی انداز میں تعارف کرایا۔ الحمد للہ پروگرام بہت کام یاب رہا۔ ڈاکٹر صاحب کی اس تقریر کی ریکارڈنگ اور تحریر میرے پاس موجود ہے۔ اس کے علاوہ ان کی بعض فکری اور اہم تقاریر بھی ہیں میرے پاس محفوظ ہیں۔ ان شاء اللہ ان کو مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈاکٹر رفعت صاحب ایک مشفق استاد اور مہربان مربی تھے۔ انھوں نے اپنے رفقاء کی تربیت تقریروں کے ذریعہ کم اور عملی زندگی سے زیادہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انھوں نے جو علمی ورثہ چھوڑا ہے، ہمیں اس سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
٭٭٭بسم اللہ الرحمن الرحیم
ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مربی
محمد اسعد فلاحی
مفکر اسلام اور فکرِمودودیؒ کے شارح ڈاکٹرمحمد رفعت 8؍ جنوری 2021ء کو اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ گئے۔ ان کی وفات سے عالم اسلام، خصوصا تحریک اسلامی کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا احساس وابستگانِ تحریک نے جس شدت کے ساتھ کیا ہے، اس کا اظہار الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔علم و تقویٰ، سادگی اور انکساری کا ایسا چلتا پھرتا قابلِ تقلید نمونہ اپنی آنکھوں سے پہلے کہیں نہیں دیکھا۔ مسکرانا تو جیسے ان کی فطرت میں شامل تھا۔وسائل کی فراوانی کے باوجود ان کی زندگی تصنع، آرائش و زیبائش، زینب و زینت اور دنیا کی چمک دھمک سے بالکل پاک تھی۔ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے،ان کو دیکھنے اور جاننے والا ہر شخص اس کا شاہد ہے۔ معمولی سی چپل،سادہ سے کپڑے اور چہرے پر مسکراہٹ ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔
ڈاکٹر محمد رفعت 26؍ جولائی 1956ء خورجہ، ضلع بلند شہر، یوپی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام بندو خان ہے۔ وہ تحصیل دار تھے۔1965ء میں ان کا تبادلہ علی گڑھ میں ہوا تھا، اس کے بعد سے وہ وہیں سکونت پذیر ہو گئے۔ ڈاکٹر رفعت صاحب کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے ہوئی۔ انھوں نے منٹو سرکل سے1971ء میں انٹرکیا۔ اس کے بعدعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے1974ء میں بی ایس سی (آنرز)،1976ء میں ایم ایس سی( فزکس) اور1984ء میں آئی آئی ٹی کان پور سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی۔
ڈاکٹر صاحب ایس آئی ایم کے پہلے باقاعدہ صدر ہیں۔ جس وقت انھوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی اس وقت ان کی عمر صرف اکیس سال برس تھی۔ وہ 1977ء میں جماعت اسلامی ہند کے رکن بنے۔ جس وقت جماعت اسلامی ہند پر پابندی عائد ہوئی اس وقت ان کو بھی سنت یوسفی ادا کرنے کی توفیق ملی۔1981ء میں مجلس نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔1985ء میں معروف یونی ورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آپ کا بحیثیت لیکچرر تقرر ہوا۔ڈاکٹر صاحب مصروفیات کے باوجود تحریکی سرگرمیوں میں برابر شریک رہے۔وہ1995ء سے 2011ء تک(چار [4] میقات) امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند دہلی و ہریانہ رہے۔ آپ1999ء میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ہوئے اور تا حیات اس کے رکن رہے۔ تحریک اسلامی کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نوکے مدیر کی حیثیت سے تقریباً دس سال (10) اپنی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر محمد رفعت صاحب میرے استاد بھی تھے اور مربی بھی۔ اس تعلق سے میں اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتا ہوں کہ پہلے اسلامی اکیڈمی نئی دہلی میں تقریباً دو(2) برس بحیثیت طالب علم ان سے بھر پور استفادہ، اس کے بعد ایک میقات (چار سال۔2015ء تا2019ء) تصنیفی اکیڈمی جماعت اسلامی ہند میں ان کے زیر ِتربیت رہنے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ان کے علم کی گہرائی اور فکر کی پختگی سے اس درجہ تو فائدہ نہیں اٹھا سکا جتنا اس کا حق تھا، البتہ بہت ساری باتیں ان سے ویسے ہی سیکھ اور جان لیں جیسے عطر کے قریب رہنے سے موجود شخص اس کی خوشبو سے معطر ہوجاتاہے۔
ڈاکٹر صاحب مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور اعتماد بھی، اس حد تک کہ گویا میں ان کے گھر کا ایک فرد ہوں۔ وہ بہت کم مجھے اپنے نام سے پکارتے تھے۔ ان کا عمومی انداز مجھے ’جناب والا‘کہہ کر مخاطب کرنے کا تھا۔ اتنی بڑی شخصیت کا مجھ جیسے طالب کے ساتھ اس طرح محبت اور احترام کے ساتھ سے پیش آنا میرے لیے کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔عموماً لوگ دنیاوی عہدوں کی بلندیوں کوپالینے کے بعد اپنے سے نیچے والوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اسے اپنی’ پوسٹ‘ کی توہین گردانتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کا معاملہ اس کے بر عکس تھا۔ وہ ’چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کا احترام‘ والے اصول پر شدت کے ساتھ عمل کرتے تھے۔لوگوں سے اس طرح محبت سے پیش آتے تھے کہ ایک مرتبہ ملاقات کے بعد عموماً انسان ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔
میں ان سے بہت بے تکلف تھا اور وہ مجھ سے۔ کوئی کام بتانے میں تکلف محسوس نہیں کرتے تھے، بلکہ مرکز سے متعلق ان کے بہت سے کام میرے ذریعے انجام پاتے تھے۔ وابستگانِ تحریک کو کتابیں، رفقاء کو ڈائریاں اور کلینڈر بھیجنے ہوں یا کسی سے کوئی چیز حاصل کرنی ہو یا پہنچانا ہو، یہ کام میرے ذمے تھے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو بلا ناغہ گھر بُلا کر اعانت کی رقم مالیات میں جمع کرنے کے لیے دیتے تھے۔ ان کے اس عمل میں میں نے کبھی تاخیر نہیں دیکھی۔
ڈاکٹر رفعت صاحب کی زندگی میں پروٹوکول نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جو چاہتا بلا تکلف دربانوں اورا پائنمنٹ کے بغیر ملاقات کر سکتا تھا۔ انھوں نے اخلاص سے پُر اور سادگی بھری زندگی گزاری۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ کسی کے لیے زحمت کا باعث نہ بنیں۔ اسی شانِ نیازی کے ساتھ انھوں نے زندگی کے پینسٹھ (65) برس گزار دیے۔ جس وقت وہ تصنیفی اکیڈمی کے چیرمین تھے، آفس کی صفائی کا اہتمام معمول کے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔ بسا اوقات ہفتے گزر جاتے تھے، ٹیبل پر زیادہ دھول دیکھتے تو خود صاف کر لیتے تھے،لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتے تھے۔ آفس میں جب کبھی وابستگان تحریک ملاقات کے لیے یا کسی اور کام سے آتے تو ان کی خاطر مدارت کے لیے کسی کارکن کا سہارا نہیں لیتے تھے۔ بلکہ خود ان کی تواضع کرتے، خود سے پانی بھر کے پلا دیتے تھے۔ دفتر میں آنے والے مہمانوں کو عموماً لیمن ٹی پلاتے تھے۔شاید اس وجہ سے کہ وہ اس کومالیات پر بوجھ ڈالنا مناسب نہیں گردانتے تھے۔ البتہ گھر پر ضیافت کرتے تو ان کی فراخ دلی قابلِ دید ہوتی تھی۔
ڈاکٹر صاحب ذکر و اذکار کے بہت پابند تھے۔ جب کبھی دفتری اوقات کے علاوہ مرکز اپنے آفس میں تشریف لاتے تو زور زور سے تکبیرات کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوتے اور دیر تک کرتے رہتے۔ کبھی جہراً قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔
ڈاکٹر خالد حامدی کی نگرانی میں شائع ہونے والا رسالے ’اللہ کی پُکار‘ سے اہلِ علم واقف ہیں۔ اس کا شاید ہی کوئی شمارہ ایسا ہو جس میں تحریک اسلامی پر تنقید نہ کی گئی ہو۔ اس بے جا تنقید کی وجہ سے وابستگانِ تحریک اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر رفعت صاحب کی محبت تحریکی حد بندیوں تک محدود نہیں تھی اور نہ انھوں نے کبھی تحریکی حد بندیوں اور فکری اختلافات کو حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے دیا۔ان کی محبت صرف تحریکی حلقے تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ اپنے درد منددل میں امت واحد کو سموئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر خالد حامدی کے ساتھ بھی ان کا یہی معاملہ تھا۔ ایک دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا:’’آپ ذرا مسجد (اشاعت اسلام) کے پاس آجائیے۔‘‘ میں نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔پہنچا تو دیکھا کہ وہ مسجد کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ راستے میں انھوں نے پوچھا: ’’کیا آپ خالد حامدی صاحب کو جانتے ہیں ؟‘‘ میں نے مثبت میں جواب دیا اورسوال کیا: ’’کیا اللہ کی پُکار والے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب مسکرانے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ خالد حامدی صاحب کی طبیعت بہت علیل ہے۔ وہ کچھ دیر قبل الشفاء ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں داخل ہوئے تھے۔ فی الحال ٹھیک ہیں اور گھر پر آگئے ہیں۔ ہم انہی کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں۔ مزید کہا کہ ان کے پاس فی الحال دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں ہے، جب تک ان کی طبیعت بہتر نہیں جاتی، آپ روزانہ ان سے ملتے رہیے اور ممکنہ ضروریات پوری کرتے رہیے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہاں پہنچ کر ڈاکٹرصاحب نے ان کی خیریت پوچھی۔ چلتے وقت میرا تعارف کراتے ہوئے انھیں میرا نمبر دیا اور اس بات کا تذکرہ کر دیا جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی علمی گہرائی اور فکری پختگی کا احاطہ کرنا مجھ جیسے طالب علم کے لیے ممکن ہے نہ مجھے پر زیب دیتا ہے۔ یہ کام اہلِ علم و دانش کا ہے۔ البتہ ان کے قریب رہ کر مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوا کہ ان کی فکر تمام تر کج رویوں سے پاک تھی۔ اس میں کسی طرح کا تزلزل نہیں تھا۔ وہ مولانا مودودیؒ کی فکر کو خالص انداز میں پیش کرتے تھے، اسے توڑنے مروڑنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے وہ تحریکی حلقوں میں شارح مودودیؒ کے نام سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر رفعت صاحب بیک وقت اردو اورانگریزی دونوں زبان کے ماہر تھے۔ لیکن انگریزی زبان کے بے محل اور غیر ضروری استعمال سے گریز کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں اور تقریروں میں غیر ضروری علمیت کا شائبہ تک نہیں ملتا۔جنوب کے لوگ، خصوصاً کیرلا والے اردو زبان سے کم واقفیت رکھتے ہیں، ابتدا میں ان کے لیے اس کو سمجھنا بھی دشوار ہوتا ہے، لیکن ایک قلیل مدت میں وہ اس پر قابو پالیتے ہیں۔ ایس آئی او کے کسی پروگرام میں جب کبھی حلقۂ کیرلا کے ساتھی شریک ہوتے تو ڈاکٹر رفعت صاحب اس وقت اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں تقریر کرتے تھے۔ ان کا انداز اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے اردو میں ایک مکمل بات کہہ دیتے تھے، اس کے بعد اس کا ترجمہ انگریزی میں بھی بیان کرتے تھے،تاکہ وہ ساتھی بھی سمجھ جائیں جو اردو زبان سے واقف نہیں ہیں۔ لیکن انگریزی میں ان کا انداز بیاں اتنا سلیس اور سادا ہوتا تھا کہ اس زبان سے بہت کم واقفیت رکھنے والا بھی اس کو آسانی سے سمجھ سکتا تھا۔ وہ غیر ضروری اور بھاری بھرکم انگریزی الفاظ کے استعمال سے گریز کرتے تھے۔
رفعت صاحب کی سادگی کا چرچا زد خاص و عام ہے۔ ان کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ اتنی بڑی پوسٹ پر ہونے کے باوجود کی پیڈ موبائل استعمال کرتے تھے اور آخر وقت تک اسی کا استعمال کرتے رہے۔کسی بھی طرح کی فوٹو گرافی سے اجتناب کرتے تھے۔ البتہ واضح الفاظ میں اس کی روک تھام کے لیے تنبیہ نہیں کرتے تھے، البتہ ذاتی طور پرجس درجہ تک بھی ہو سکے، اس سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ میں نے کئی مرتبہ ان کو دیکھا کہ جب کبھی کتابوں کے رسم اجرا، یا اس طرح کے دیگرپروگراموں میں وہ فوٹو سیشن کے دوران کتاب یا کسی دوسری چیزسے اپنا چہرہ اس طرح چھپاتے تھے کہ وہ کیمرے میں نہ آسکے۔ جب منتظمین یا ذمہ داران اس بات کو محسوس کر لیتے تھے تو وہ چیز اُن کے چہرے سے ہٹوا دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بادلِ ناخواستہ مسکراتے ہوئے ان کی بات پر عمل کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کم گو اور حاضر جواب تھے۔ بڑے بڑے سوالات اور اشکالات کا جواب چند جملوں، بسا اوقات چند لفظوں میں دے دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے، ایک علمی محفل میں بھائی مصدق مبین نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا: ’’اگر کوئی شخص ’غیب‘ کا ترجمہ ’اندھ وشواس‘ سے کرے تو ہم کیا کریں ؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے برجستہ جواب دیا : ’’تو ہمیں اس کا ترجمہ کسی اور اسے کروانا چاہیے۔ ‘‘ اس طرح محفل میں مسکراہٹ کی ایک لہر دوڑ گئی اور حاضرین خوب محظوظ ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب نوجوانوں کی تربیت کے تعلق سے بہت فکر مند رہتے تھے، خصوصاً ان کی فکر کے حوالے سے۔ ان کی اسی محبت اور تڑپ کی وجہ سے وہ ایس آئی او کے چھوٹے چھوٹے پروگراموں میں بلا تکلف شریک ہوجاتے تھے اور نوجوانوں کی رہ نمائی کرتے تھے۔جس وقت ابو الفضل انکلیو یونٹ کی ذمہ داری مجھ پر تھی، میں نے ان سے بھر پور استفادہ کی کوشش کی۔ اسی دوران ایک اہم پروگرام ا’سٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ‘ کے عنوان سے منعقد کیا۔ اس پروگرام کے مقرر جناب ڈاکٹر رفعت صاحب تھے۔ انھوں نے بہت جامع انداز میں اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کے تنقیدی جائزے کے ساتھ اٹھارہویں، انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی کی سائنس اور فلسفۂ سائنس کا بہت علمی انداز میں تعارف کرایا۔ الحمد للہ پروگرام بہت کام یاب رہا۔ ڈاکٹر صاحب کی اس تقریر کی ریکارڈنگ اور تحریر میرے پاس موجود ہے۔ اس کے علاوہ ان کی بعض فکری اور اہم تقاریر بھی ہیں میرے پاس محفوظ ہیں۔ ان شاء اللہ ان کو مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈاکٹر رفعت صاحب ایک مشفق استاد اور مہربان مربی تھے۔ انھوں نے اپنے رفقاء کی تربیت تقریروں کے ذریعہ کم اور عملی زندگی سے زیادہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انھوں نے جو علمی ورثہ چھوڑا ہے، ہمیں اس سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
٭٭٭
Comments
Post a Comment