خلافت کے خاتمے کو ایک صدی ہونے
*خلافت کے خاتمے کو ایک صدی ہجری مکمل ہونے پر۔۔۔ اے مسلمانو، اسے قائم کرو!*
اللہ کے نام سے جو بہت ہی رحمدل، مہربان اور قابل ستائش ہے، دنیا کا مالک، کائنات کا مالک، آسمانوں و زمین اور انسانیت کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے پیغمبروں اور رسولوں کو بھیجا، اپنی کتابوں کے ذریعے قوموں کو خبردار کرنے والا، حساب کتاب کے دن اور جنت و جہنم کا مالک، جو تمام مخلوقات پر حاوی ہے۔ امت مسلمہ کی شفاعت کرنے والے اور اس امت کی گواہی دینے والے کہ اس نے انسانیت کو ہدایت سے روشناس کرایا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سب سے عظیم تخلیق محمدﷺ، ان کے گھر والوں اور ان کے صحابہ ؓ پر درود و سلام ۔
آج خلافت کے انہدام کی برسی ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے، لیکن اس بار اس نے اپنا سوواں سال پورا کر لیا ہے، اسی لیے ہم پر لازم ہے کہ اس پوری صدی کا ہم جائزہ لیں اور دیکھیں کہ خلافت کی عدم موجودگی کے بعد کیا ہوا ہے۔
اس 100 سال کے دو پہلو ہیں۔ ایک تاریک اور افسردہ پہلو، اور دوسرا روشن اور پُرجوش پہلو جو حوصلہ دلاتا ہے کہ جدوجہد اور کام کرتے رہیں۔
اس کے تاریک پہلو کے دو اہم ترین رخ ہیں۔
پہلا تاریک پہلو یہ ہے کہ اسلام کی حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا، عھد رسول صلعم سے امت مسلمہ اور اس کے علاقوں پر کبھی ایسا وقت نہیں آیا تھا کہ ان پر ایک ساتھ اسلام کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا ہو، جیسا کہ اب سے ایک سو سال پہلے ہوا ہے۔ آج دنیا میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں اسلام کی حکمرانی قائم ہو جبکہ امت کی آبادی تقریباً دو ارب ہے! بلکہ، مسلمان اس دور میں خود پر کافر مغرب کی سخت گرفت کی وجہ سے، اپنے آپ پر کفر حکمرانی کے تجربات کر رہے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ یہ مغرب وہی کافر استعمار ہے جس نے ان کے خلاف اتحاد کیا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ اللہ کے دین سے دور رہنے کی وجہ سے صورتحال اس قدر خراب ہو گئی کہ خلافت کے خاتمے کے چالیس سال بعد معاشرہ اسلامی احکامات سے اس قدر دور ہو گیا کہ گویا اسلامی احکامات اور ان کا فہم ناپید ہونے کے قریب پہنچ گیا۔
دوسرا تاریک پہلو وہ سانحات ہیں جن کا سامنا امت خلافت کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسلسل کر رہی ہے۔ اگرچہ امت نے خلافت کے تقریباً تیرہ سو سال کے دور میں بھی کئی سانحات کا سامنا کیا تھا لیکن پچھلے سو سال کے دوران خلافت کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس امت نے پہلے کے دور سے کہیں زیادہ سانحات دیکھے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،
«يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا»
"قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔"
اور سانحات کا سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ جاری و ساری ہے جیسا کہ مقدس الاقصیٰ کی یہودیوں کے ہاتھوں بے حرمتی، عراق کے معزز لوگوں کا خون کئی دہائیوں سے بہہ رہا ہے، شام کے شہر برباد کر دیے گئے اور اس کے لوگ بے گھر بلکہ ہجرت پر مجبور ہوگئے، یمن تباہ کر دیا گیا اور لوگ بیماریوں اور شدید بھوک کا سامنا کررہے ہیں، مصر میں مسجدیں گرا دی گئیں اور اس کے لوگ جبر اور غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، لیبیا ایجنٹوں اور غداروں کے لڑائی میں ٹکڑے ہو رہا ہے، قدرتی وسائل کے باوجود سوڈان غربت کا شکار ہے، برما دنیا کے سامنے کھلم کھلا مسلمانوں کو عذاب دے رہا ہے، روس اور روس کے ہاتھوں بٹھائے گئے وسطی ایشیا کے حکمران اسلام کے خلاف لڑ رہے ہیں اور مسلمانوں پر مظالم دھا رہے ہیں، کشمیر میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ہو رہے ہیں، بھارت اپنے حدود کے اندر موجود مسلمانوں کی بدترین تذلیل کر رہا ہے جو کہ اسی ملک کے شہری ہیں، اور کمیونسٹ چین ایغور مسلمانوں کے دل و ماغ سے اسلام کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کر رہا ہے اور انہیں حرام اعمال انجام دینے پر مجبور کرتا ہے۔ افغانستان پر مذاکرات کی ذلت مسلط کر دی گئی ہے۔ مالی کو فرانس نے برباد کر دیا۔ اور اس کے علاوہ جب سے خلافت تباہ ہوئی ہے فلپائین، الجزائر، بوسنیا، چیچنیا، فلسطین، لبنان، ایریٹیریا، صومالیہ، ازبکستان، پاکستان، آزربائیجان، وسطی افریقہ، سری لنکا، بنگلادیش، انڈونیشیا، بھارت، لائبیریا، تھائی لینڈ، ایتھوپیا اور دیگر کئی علاقوں میں مسلمان برابر سانحات کا سامنا کر رہے ہیں۔مسلمانوں کے اہل الحل والعقد اور طاقتور طبقوں کی جانب سے اپنی امت کو بےیار و مددگار چھوڑ دینے کی وجہ سے امت پر ان سانحات کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ترکی، پاکستان، مصر، الجزائر، عراق، انڈونیشیا، ایران، شام اور دیگر مسلم ممالک نے امت مسلمہ کو ناکام کر دیا۔ ان سب نے مشکل ترین صورتحال میں امت کو ناکام کیا، بلکہ اسکے برعکس اپنے ہتھیاروں، ساز و سامان اور تربیت صرف مسلمانوں پر ظلم کرنے کے لئے استعمال کیے۔
جہاں تک اخلاقی سانحات کا تعلق ہے، تو ابھی کافر استعماریوں کا ایک حربہ پوری طرح استعمال نہیں ہوتا کہ وہ دوسرا حربہ لے آتے ہیں اور ایک نیا سانحہ ڈھا دیتے ہیں۔ اورینٹل ازم کی دھوکہ دہی سے لے کر اسلامی قانون کی توہین تک، دہشت گردی کا الزام لگانے سے لے کر لبرل اسلام کا تصور پیش کرنے تک، جمہوری اسلام کے منصوبے سے اسلامو فوبیا کے مظہر تک، کافر استعماریوں کے حربے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد، ان کے قوانین اور ان کے رسولﷺ پر اتنے حملے کیے گئے کہ یہ عمل مشرق سے لے کر مغرب تک سیکولر معاشروں میں مقبول عام بات بن گئی۔ نیوزی لینڈ جہاں قتل عام کے بعد بھی مسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، عرب ممالک جہاں مسلمانوں پر مغربی تہذیب کی اقدار کو مسلط کیا جاتا ہے اور یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل کوئی آخری عمل نہیں ہے۔ دوسری طرف کافر استعماری مغربی ممالک ہیں جہاں اسلام اور رسول اللہﷺ کی توہین پر مبنی مہم کی قیادت فرانس کرتا ہے اور وہ مسلمانوں کو اپنے روزگار کے حوالے سے پریشان کرنے کے لیے پالیسیاں بناتا ہے- عالمی انٹرنیٹ کی جگہ کو نہیں بھولنا چاہیے جس کو سرمایہ دار کمپنیاں کنٹرول کرتی ہیں، جو خود اپنی مرضی سے یا مغربی کافر استعماری حکومتوں کے کہنے پر ہر اس اکاؤنٹ کو بند کردیتی ہیں جن کے ذریعے اسلامی فکری قیادت امت کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ اسی طرح جب اسلامی امت کو اپنے علماء کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان کے لیے اس حق و سچ کی راہ کو اس وقت روشن کر کے واضح کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب مغرب اپنے زہر اور دھوکے کو پھیلا رہا ہے، تو ان مشکل لمحات میں، سرکاری درباری علماء، خصوصاً وہ جو میڈیا کے پلیٹ فارم پر متحرک ہیں یا علماء کے گروہوں کے سربراہ ہیں، انہوں نے امت کو مایوس کیا۔ ایسے علماء نے سود، کفار کی فوج کے ہمراہ لڑنے، سکارف اتارنے، مغربی تہذیب میں جذب ہو جانےاور کفر کی حکومت کا حصہ بننے کو جائز قرار دیا۔ ان میں سے کچھ علماء نے تو ان لوگوں کے خلاف لڑائی لڑی جو اسلام کی حکمرانی کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیں، لہٰذا درباری علماء کے اس کردار نے اخلاقی سانحہ کی شدت میں اضافہ کر دیا۔
*لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا*
جہاں تک روشن پہلو کی بات ہے تو گذشتہ 100 سال میں اسلام کو زندہ ہونے سے روکنے کے لئے کافر مغرب نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تمام طاقت جمع کی، لیکن اس کے باوجود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کو رسوا کیا اور امت میں مخلص لوگوں کو کھڑا کیا اور اس بات کی جانب انکی رہنمائی کی جو اسے (سبحانہ و تعالیٰ) راضی کرتی ہے۔ اسلام کے داعی استعماری ممالک کے ظلم سے زیادہ عزم رکھتے ہیں، ان کا ایمان اسلام کے دشمنوں اور ظالموں سے زیادہ مضبوط ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے دل بیمار ہیں۔ ان داعیوں نے امت کو اپنے ہاتھوں سے نہیں نکلنے دیا اور وہ اس کی ہدایت اور رہنمائی کرتے رہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ ان داعیوں میں سے کئی شہید ہوئے تو کئی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور کئی داعیوں کو ویسے ہی اپنے گھروں سے نکال دیا گیا جیسا کہ پہلے دور کے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تھا۔
چونکہ اللہ کی رضا کا حصول ان کا ہدف تھا اور امت کا شاندار جواب ان کی حوصلہ افزائی اور سکون کا باعث تھا، تو وہ خود بھی ڈٹے رہے اور اپنے ساتھ امت کو استقامت کے ساتھ کھڑا کیئے رکھا۔ آج ہم ایک ایسی امت کے سامنے کھڑے ہیں جو زندگی سے بھر پور ہے اور جس میں مخلص لوگ موجود ہیں جو اپنے دین کو حق سمجھتے ہیں اور اس امت کو یکجا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ قرآن اور سنت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس امت کے عزت و وقار کو بحال کرے گا، اس کے لیے نئے علاقے کھول دے گا اور اس کی تہذیب کو وسعت دے گا۔
*مغربی تہذیب کا زوال شروع ہوچکا ہے*
جہاں تک استعماری کافر مغرب کا تعلق ہے تو اس کا زوال شروع ہوچکا ہے بالکل ویسے ہی جیسا کہ اس سے پہلے مشرق میں سوشل ازم کا زوال ہوا تھا۔ فرانس نے اپنے دماغ کا مردہ ہونا تسلیم کر لیا جب اس نے اسلام کے خلاف قوانین بنانے کے لیے اپنی ہی سیاسی آیڈیالوجی سے انحراف کیا۔ یورپی یونین کا گروہ اس وقت بے نقاب ہوگیا جب اس نے یورپی پارلیمنٹ میں برطانیہ کی یورپی یونین کی علیحدگی پر خوشی کے شادیانے بجائے۔ امریکا نے مغربی ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو مزید بھڑکایا جب اس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا اور اپنا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لے آیا، اس نے اپنے لیے ایک ایسا صدر منتخب کیا جو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے امریکا کے ذاتی مفادات کا اعلان کرتا تھا اور اپنے ہی اتحادیوں کے خلاف انتہائی برا رویہ اپناتا تھا۔ اس طرح مغرب کے سب سے بڑے ملک نے اخلاقی رہنما کے کردار سے دستبرداری اختیار کر لی بلکہ امریکا معاشی تنازعات کو جنم دینے والا ملک بن گیا۔
پھر اللہ نے اس دنیا میں کورونا وائرس بھیجا اور مغربی تہذیب جس چیز کو سب سے زیادہ مقدم رکھتی ہے، یعنی معیشت، اس وائرس نے ٹھیک اسے ہی نشانہ بنایا۔ کورونا وباء نے انسانی جسم سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام کی معیشت کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔ وائرس نے گلوبلائزیشن کو اپنے قابو میں کرلیا۔ وہ لالچی معاشی مشین جس کو سرمایہ دارانہ حکومتوں نے عالمی مارکیٹوں کو تسخیر کرنے کے لیے تعمیر کیا تھا۔ گلوبلائزیشن کی مشین نے وائرس کو قابو کرنے کی کوشش کو مشکل کردیا۔ کورونا وائرس کے آغاز میں کئی ہفتوں تک مغربی ممالک اپنی سرحدوں کو بند کرنے سے ہچکچاتے رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے سرحدیں بند کیں تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ اور جب انہوں نے اس وباء سے نمٹنا شروع کیا، تو اللہ نے درست راہ کی جانب ان کی رہنمائی نہیں کی، اور وہ خود اپنے قدموں پر چلتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتے گئے۔ لہٰذا، کورونا وباء مغرب کے زوال اور تقسیم کی ایک اور وجہ بن گئی۔ اس وباء کی وجہ سے یورپی یونین کے ممالک نے کچھ تجارتی قافلوں کی سمت تبدیل کردی تا کہ طبی مواد و آلات پر قبضہ کر لیا جائے۔ اور اسی وباء کی وجہ سے ہی امریکا کے سرمایہ دار کمپنیوں کے درمیان معیشت کو بند کرنے یا کھلا رکھنے کے حوالے سے زبردست تنازع پیدا ہوا، یہاں تک کہ یہ تنازع صدارتی انتخابات تک پہنچ گیا جس نے معاشرے میں شدید نفرت انگیز تقسیم پیدا کردی اور صورتحال اس سطح پر پہنچ گئی کہ ٹرمپ کے حمایتیوں نے دارالحکومت میں کیپیٹل ہل، دنیا میں جمہوریت کے سب سے مضبوط گڑھ، پر حملہ کردیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى﴾
"تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ (کفار) اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل (ایک دوسرے سے) جدا جدا ہیں" (الحشر، 59:14)۔
*100 ویں برسی کی اہمیت*
اس بار خلافت کے خاتمے کی برسی کی دو وجوہات کی وجہ سے اہمیت ہے، پہلی وجہ تشویشناک اور پریشان کن ہے کیونکہ اگر خلافت کے خاتمے کو سو سال مکمل ہوگئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری ایک صدی اسلام کی حکمرانی کے بغیر گزر گئی، لہٰذا ہم پریشان ہیں کہ اسلامی امت کی موجودہ نسل کی نسبت سابق ان نسلوں سے ہو جاتی ہے جن کی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس وجہ سے مذمت کی کہ وہ کئی صدیوں تک اللہ کے حکم کو نافذ نہیں کر سکے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿فَلَوْلاَ كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا أُتْرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجْرِمِينَ﴾
"تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے نجات دی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے"(ہود:11:116)۔
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ﴾
"اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کر چکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں" (یونس،10:13)۔
جہاں تک دوسری وجہ کی بات ہے وہ یہ ہے کہ امت مسلمہ نے پچھلے سو سال کے دوران ہر قسم کی طرز حکمرانی کا تجربہ کر لیا ہے۔ امت نے سوشل ازم، بادشاہت، آمریت، قوم پرستی، بعث ازم، وطن پرستی، پارلیمانی و صدارتی جمہوریت، وفاقی نظام اور فرقہ واریت کو آزما کر دیکھ لیا ہے۔ امت نے ان تمام طرز حکمرانی کو خالص سیکولر ازم اور اسلام کے لبادے دونوں صورتوں میں آزمایا۔ ان تمام طرز حکمرانی کو آزمانے کے بعد یہ سب ایک کے بعد ایک ناکام ثابت ہوتے گئے۔ عرب بہار وہ سب سے بڑا موقع تھا جب امت مسلمہ نے ان نظاموں کو سڑک پر اٹھا کر پھینک دیا تھا یہاں تک کہ لوگوں کا یہ نعرہ، "لوگ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں"، کئی حکومتوں اور ریاستوں کے لیے ایک ڈرونا خواب بن گیا۔
جی ہاں، امت نے ہر طرح کے طرز حکمرانی کو آزما کر دیکھ لیا سوائے ایک اُس نظام کے جوکہ رسول اللہ ﷺ لائے اور جو خالص اسلام کا طرز حکمرانی ہے اور جسے رسول اللہ ﷺ کے معزز صحابہ کرام ؓ نے بغیر کسی کمی بیشی کے نافذ کیا۔
مذکورہ بالا دونوں وجوہات اور خلافت کے خاتمے کے سو سال پورے ہونے کی وجہ سے، ہم امت مسلمہ کے تمام گروہوں، جماعتوں، شخصیات اور اہل قوت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ "اسلام ایک مکمل نظام حیات" کے معنی و مفہوم کو اچھی طرح سمجھیں اور یہ جان لیں کہ امت مسلمہ کی زندگی اور نجات اس نظام کو برپا کرنے میں ہے جو نہ صرف اسے زندگی بخشتا ہے بلکہ اسلام کے پیغام کو دنیا کے تمام ممالک اور علاقوں میں پہنچانے کا ذمہ دار ہے- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»
"اور پھر نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم ہوگی"۔
انجینئر صالح الدین
Comments
Post a Comment