سب کا پیارا معصوم نعمان حسیب
*سب کا پیارا معصوم نعمان حسیب*
*بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی*
*ہمیں کیا خبر تھی کہ چلا جائے گا*
✍️ *حافظ محمد شاھد*
تین سالہ معصوم خوبصورت نعمان کے بچھڑنے پر پورا چمن اداس ہے۔ پورا حیدرآباد جیسے اس کا گھر تھا اور اہل وطن سب اس کے حقیقی رشتہ دار تھے۔جس نے بھی سنا اس نے اس دکھ کو اپنا دکھ سمجھا۔ ہر آنکھ اشک بار ہوئی اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس شہر کے ہزاروں لاکھوں مرد عورتیں بچے بچیاں اس سے خونی رشتہ نہیں رکھتے، نہ انہوں نے اسے قریب سے دیکھا نہ اس سے ملے مگر یوں لگتا ہے کہ وہ ہر گھرانے کا اکلوتا بچہ تھا جو والدین اور بہن بھائیوں کو غمزدہ کر کے دنیا سے کوچ کر گیا۔
*بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی*
*اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا*
نعمان میرے خاص دوست حافظ حسام کا بھتیجا تھا، اس لڑکے کے والد حسیب (اور احتشام) بھی میرے اچھے دوست ہے بلکہ میں ان کے گھرانے سے اور یہ لوگ میرے گھرانے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ نعمان میرے بھتیجے جیسا ہی تھا۔اس کا نام نعمان ان کے دادی نے رکھا تھا۔ نبیﷺ کے ایک صحابی کے نام پر سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ۔
آنکھ نم ہے، دل غمزدہ ہے اور گھر ویران ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کا وقت مقرر ہے۔ ہم اللہ کی تقدیر سے راضی ہے اور سوائے صبر والے کلمات کے ہم اپنی زبانوں سے کچھ اور ادا نہیں کریں گے اور اس بچے کے لیے اور ان کے والدین کے لیے دعائیں کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔
2 مارچ 2021, بروز منگل، رجب 1442ھ قریب صبح 10:30 بجے عیدی بازار،حیدرآباد میں ایک بے رہم اور درندہ صفت چاچی نے اپنے ہی شوہر کے بڑے بھائی کے لڑکے کو گھر کی دوسری منزل کے چھت پر سے نیچے پھینک دیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
ایسا بے رحمانہ اور گنہونا واقعہ ہم لوگوں نے زندگی میں نہیں سنا۔ وہ بھی ایک مسلمان کے ہاتھوں ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بڑے بڑے قاتلوں اور ظالموں کی زندگیوں میں ایسا واقعہ نہیں ملے گا کہ انہونے حسد میں اپنے دشمن کے معصوم بچوں کو بے رحمانہ قتل کردیا ہو۔
انسان کے بچے تو دور کی بات ہے، ہم کسی جانور یا اس کے بچوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے والوں کو بے رحم ظالم سمجھتے ہیں۔ اب اس وحشی چاچی کے لیے ظالمہ، قاتلہ، بے رحم اور پتھر دل جیسے القابات بھی چھوٹے پڑھ رہے ہیں۔
اس گنہونے جرم کرنے پر اس لڑکی کو درندہ بننے پر حسد نے آمدہ کیا۔ نعمان گھر کا اکلیوتا کھلونا اور پھول تھا جس سے پورا گھر کھیلا کرتا تھا۔اس وحشی لڑکی کی شادی ہوکر ایک سال سے زائد کچھ عرصہ ہوا تھا اور اسے اولاد ابھی نہیں ہوئی تھی۔ جب گھر کے لوگ اس پھول سے محبت کرتے تھے تو اس وحشی کا دل حسد سے جلتا رہتا تھا۔ اس وحشی کے شوہر جو وہ بھی میرے دوست ہے اسے سمجھاتے رہتے اور یہ ہمیشہ اپنے شوہر کو کہتی کہ نعمان کو تم کیوں گود میں لیتے ہو۔ بس اسی حسد کی بنا پر اس نے یہ گنہونا قدم اٹھایا۔
نعمان صبح جب بھی اٹھتا تو سب سے پہلے اپنی دادی کے کمرے میں جاکر سلام عرض کرتا، یہ نیک دادی کی تربیت تھی۔اس دن صبح کا واقعہ کچھ اس طرح ہوا کہ نعمان روزانہ کی طرح سب سے پہلے اپنی دادی کو سلام عرض کرنے جارہا تھا۔اس وحشی چاچی نے اسے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے چھت پر لے جانے لگی۔ اتنے میں نیچے کی منزل کے بچے سیڑھیوں کے قریب تھے کہ ان بچوں نے اس وحشی کو دیکھ لیا اور ان بچوں نے کہا کہ نعمان وحشی کو کہہ رہا تھا کہ پہلے مجھے دادی کو سلام کرنا ہے پر وحشیی نے اس کی ذرا نہ سنی اور چھت پر لے جاکر دو پیر پکڑ کر نیچے لٹکایا، اتنے میں سب سے نیچے سے پڑوسیوں میں سے ایک خاتون نے ننھے پھول کو لٹکاتے ہوئے دیکھا تو چیخیں مارنے لگ گئی تو اس وحشی نے فوری اس پھول کے پیروں کو اوپر سے نیچے کی طرف چھوڑ دیا۔اور وہ خاتون بس یہ دیکھ کر ہی بے ہوش ہوگئی۔
حسد انسان کو قاتل، وحشی اور درندہ بنادیتا ہے، ابلیس نے حسد و تکبر کی بنا پر اللہ کی نافرمانی کی اور آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا۔یہودیوں کا بھی حسد ہی تھا جس کی بنا پر وہ آپ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے، دعویٰ یہ کیا کہ اسحاق کی آل میں سے کیوں نہیں آئے؟
ابو جہل اور اس جیسے کفار نے بھی حسد کی وجہ سے اسلام کو قبول نہیں کیا۔
برادرانِ یوسف کا یوسف علیہ السلام سے حسد ایسا تھا جس کی بنا پر انھونے قتل کی سازش کی۔ کہا آپس میں: اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ وَتَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ.﴾
"یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی (نامعلوم ) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے ۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا۔"(سورة یوسف:9) اس حسد کی آگ میں آج اس معصوم خوبصورت پھول کو جلنا پڑھا۔
کتاب و سنت میں بے گناہ کو قتل کرنے کی سزا بہت بڑی ہے۔ چند احادیث اس پر ملاحظہ فرمائیں:
*مسلمان کو قتل کرنے والے پر اللہ کی لعنت، اس کا غضب ہے اور بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے:*
اللہ نے ارشاد فرمایا: (وَمَن یَّقْتُلْ مُؤمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَآاؤُہ جَهنَّمُ خَالِداً فِيه وَغَضِبَ الله عَلَيه وَلَعَنه وَاَعَدَّ له عَذَاباً عَظيماً) "اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔" (سورۃ النساء:93)
*مسلمان بے گناہ کا قتل، ساری دنیا کی تباہی سے بڑھ کر ہے:*
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ۔)) "کسی مسلمان کے (بے گناہ) قتل سے اللہ کے نزدیک ساری دنیا کا خاتمہ اور تباہی کم تر ہے۔(سنن ترمذی:1395)
*مقتول، قاتل کو پیشانی اور سر سے پکڑ کر اللہ کے پاس لائے گا:*
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مقتول (جسے قتل کیا گیا) قیامت کے دن قاتل کو پیشانی اور سر سے پکڑے ہوئے (اللہ تعالیٰ کے پاس) آئے گا اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ وہ کہےگا: ائے میرے رب! اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا؟ حتیٰ کے وہ اسے پکڑے ہوئے عرش کے قریب لے جائے گا۔ (سنن ترمذی: 3029,وقال ھذا حدیث حسن)
ہمارے یہاں اکثر انصاف نہیں ملتا۔آئے دن قتل کرنے والے جیل سے چھوٹ کر آجاتے ہیں۔عدالتوں میں جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ آنکھوں سے دیکھنے والے گواہیوں کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا یا ان کو ڈرا دیا جاتا ہے۔ اب نعمان کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ جھوٹ بولا جارہا ہے کہ وہ بچہ خود گرگیا وغیرہ۔ لیکن اگر یہاں سزا نہ بھی ملے تو ایک اور عدالت قائم ہونے والی ہے۔جہاں نعمان کا ہاتھ اور قاتلہ اور اس کی تائید کرنے والوں کا گریبان ہوگا اور وہ بچہ بولے گا۔
*قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں*
*اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے*
معصوم نعمان کی قاتلہ کے خلاف پورا شہر ٹھہرا ہوا ہے تو اس کے برعکس اس کے ساتھ بعض لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں۔اور بعض ایسے بھی ہیں جو خاموشی کے ساتھ قاتلوں کی صف میں ہے۔
*شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی*
*زندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیئے*
*میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ*
*تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ*
وہ واقعہ تو یاد ہوگا کہ عہد نبویﷺ میں کہ ایک عورت نے چوری کر لی۔ اس کی قوم کے لوگ گھبرا کر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس آئے کہ وہ اس کی سفارش فرما دیں۔کیونکہ اسامہ سے نبی علیہ السلام بے پناہ محبت کرتے تھے۔جب حضرت اسامہ نے آپ سے اس کی بابت بات چیت کی تو رسول اللہﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا ۔ آپ نے فرمایا:((أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ.)) ’’ کیا تو اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے؟‘‘ اسامہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار فرمائیں۔ اس کے بعد آپنے خطبہ دیا اور کہا:
( اے لوگو!) تم سے پہلے لوگ اس بنا پر تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی طاقت ور شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے ۔ اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے ۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر (بالفرض ) فاطمہ بنت محمد چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔‘‘ پھر رسول اللہﷺ نے اس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ (صحیح بخاری:3475,سنن نسائی)
*کفر اور جان بوجھ کر مومن کے قتل کو اللہ معاف نہیں فرمائے گا:*
رسول اللہﷺ نے فرمایا: «كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ، إِلَّا الرَّجُلُ يَقْتُلُ الْمُؤْمِنَ مُتَعَمِّدًا، أَوِ الرَّجُلُ يَمُوتُ كَافِرًا» "قریب ہے کہ اللہ ہر گناہ معاف کردے سوائے اس آدمی کے جس نے جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کیا یا وہ آدمی جو کافر مرتا ہے۔" (سنن النسائی:3989،وسندہ صحیح)
سورةالمائدہ میں ہے کہ ایک بے گناہ کو قتل کرنا گویا پوری انسانیت کو قتل کرنا ہے۔ اور آخرت میں سب سے پہلے لوگوں کے مابین خون کے بارے مین فیصلہ کیا جائے گا۔(صحیح مسلم:4381)
*اولاد کی وفات پر صبر کی فضیلت:*
آخر میں معصوم نعمان کے والدین اور ان کے گھروالوں کی تسلی اور سکون کے لیے بعض احادیث پیش کررہا ہوں۔ کیونکہ بے شک یہ صدمہ بڑا گہرا صدمہ ہے جن کا غم ہمیشہ تازہ رہتا ہے اور خاص ان کے والدین پر۔ کچھ مہینوں پہلے ہی نعمان کی ایک چھوٹی ننہی بہن جو آٹھ دن کی تھی انتقال ہوگیا۔ اس صدمے سے یہ لوگ ابھی باہر نہیں نکلے تھے کہ ایک اور صدمہ وہ بھی بے رحمانہ قتل کی صورت میں سامنے آیا۔ صدمہ بہت گہرا ہے لیکن اس آزمائش اور مصیبت پر صبر کرنے والوں اور ماتم،نوحہ اور چیخ و پکار نہ کرکے اللہ کی رضا و تقدیر پر راضی ہوکر اللہ سے ثواب کی امید رکھنے والوں کے لیے اللہ نے جنت سے کم نعمت نہیں رکھی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے مومن بندے کی اہلِ دنیا سے کسی محبوب چیز کو اٹھاتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کی میرے ہاں جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ۔‘‘ (صحیح البخاری، مشکاة:1731)
آئیے جن کے تین چار بچے یا دو بچے یا ایک بچہ انتقال ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان کے والدین کو کیا نعمتیں عطا کریگا اور یہ بچے جنت میں کیسے عیش کرتے ہیں وہ احادیث دیکھتے ہیں۔
*نابالغ بچے فوت ہونے والے ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں:*
بچپن میں فوت ہونے والے بچے فوت ہوتے ہی جنت میں منتقل کر دیے جاتے ہیں، اور انکی روحیں جنت میں ہمارے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کی نگرانی میں مکمل عیش کے ساتھ ہوتی ہیں، اس بارے میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک صبح فرمایا کہ: "آج کی رات میرے پاس دو آنے والے آئے، اور انہوں نے مجھے اٹھایا، اور کہا: چلو، پھر میں انکے ہمراہ چل پڑا۔۔۔ آپ نے جن چیزوں کا مشاہدہ فرمایا وہ بیان فرمایا پھر آپ نے فرمایا: ہم چلتے گئے، ہم ایک ہرے بھرے باغ میں پہنچے، جہاں موسم بہار کے سارے رنگ بکھرے ہوئے تھے، اور اس باغ کے عین درمیان میں قد آور آدمی تھا، جس کا سر فلک بوسی کی وجہ سے صاف نظر نہیں آ رہا تھا، اور اس آدمی کے ارد گرد اتنے بچے تھے کہ پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ پھر آپکو اس کی فرشتوں نے جو تعبیر بیان کی اس میں یہ تھا کہ: "اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو (بچپن ہی میں) فطرت پر مر گئے ہیں۔" (صحیح البخاری:7047)
*چھوٹی عمر میں فوت ہونے والے ںچے جنت میں ایک نہر میں عیش کریں گے اور اپنے والد (اور والدہ) کو پکڑ لیں گے یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل نہ کردے:*
ابوحسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : "میرے دو بچے فوت ہو گئے ہیں ، آپ ہمیں رسول اللہﷺ کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں۔ ( آپﷺ نے فرمایا:) "چھوٹے بچے جنت کے دعامیص ہیں۔(دعامیص کی تفصیل آگے آرہی ہے) (وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں) ان میں سے کوئی اپنے باپ یا فرمایا: اپنے ماں باپ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا ۔ یا کہا : اس کے ہاتھ سے، جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا." (صحیح مسلم، نسخہ دارالسلام:6701)
حافظ ان اثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "دعامیص" اصل میں دعموص کی جمع ہے، یہ حقیقت میں ایک کیڑے پر بولا جاتا ہے جو کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پایا جاتا ہے، اسی طرح "دعموص" کسی بھی جگہ گھس جانے والے کو بھی کہتے ہیں، یعنی یہ بچے جنت میں بلا روک ٹوک گھومتے پھرتے رہیں گے، گھروں میں داخل ہونگے، اور ان کیلئے کہیں پر جانا منع نہیں ہوگا، جیسے دنیا میں بھی بچوں کو غیر محرم عورتوں کے پاس جانے سے کوئی نہیں روکتا، اور نہ ہی کوئی ان سے پردہ کرواتا ہے۔ انتہی النهاية (2/279)
امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ گزشتہ احادیث دلیل ہیں کہ مسلمانوں کے فوت شدہ بچے جنتی ہیں اور علماء کی ایک جماعت نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔(شرح النووی:16/183)
*جس کا ایک بچہ بھی فوت ہوجائے اور وہ صبر کرے تو وہ اپنے بچے کو قیامت کے دن جنت میں انتظار کرتا ہوا پائے گا:*
قرة بن إياس المزني رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ، (ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اپنے بیٹے سے محبت کرتے ہو؟ اس نے عرض کی جی ہاں اور (دعا بھی دی) کہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت فرمائے کہ جس طرح میں اس سے محبت کرتا ہوں (پھر کچھ عرصہ تک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان (دونوں) کو (حاضر) نہ دیکھا ، تو صحابہ کرام سے پوچھا کہ فلاں شخص کے بیٹے کو کیا ہوا ؟عرض کیا گیا: یا رسول اللہﷺ ، اس کی تو وفات ہو گئی ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے (ملنے پر) ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم (بروز قیامت) جنت کے دروازے پر جاؤ اور اپنے بیٹے کو اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ ؟ (سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وہ بچہ بھاگتا ہوا تیرے لیے جنت کا دروازہ کھولے؟‘‘) (یہ سن کر) ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ خوشخبری صرف اِسی (والد) کے لئے خاص ہے یا ہم سب (مسلمانوں) کے لئے ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (خوشخبری) سب (مسلمانوں) کے لئے ہے۔(مسند احمد:5/25، سنن نسائی:1871،وصححہ ابن حبان والحاکم ووافقہ الذھبی،تخريج مشكاة المصابيح للألباني : 1697 (إسناده صحيح))
*تین یا دو بچوں کی وفات پر صبر کرنے والوں کے لیے یہ بچے جہنم سے ڈھال بن جاتے ہیں:*
ابو النضر السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر مسلمانوں میں سے جس کے بھی تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کی امید رکھے تو یہ بچے اس کے لیے جہنم سے ڈھال یعنی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ایک عورت جو رسول اللہﷺ کے پاس تھی، کہنے لگی: یا رسول اللہ! یا دو(بچے فوت ہوجائیں)؟ تو آپ نے فرمایا: یا دو (بچے فوت ہوجائیں تو وہ بھی جہنم سے ڈھال بن جاتے ہیں)۔ (الموطأ 1/235ح558،صحیح بخاری:101،صحیح مسلم: 2633)
*نعمان کا آخری سفر:*
نعمان کو غسل میں نے ہی دیا۔ میں نے بڑوں کو غسل کافی مرتبہ دیا ہوں لیکن اتنے چھوٹے بچے کو پہلی مرتبہ دیا ہوں اور وہ بھی اس معصوم کو جسے میں نے دیکھا اور گود میں لیکر کھیلا بھی ہوں۔ اور یہ پہلا غسل تھا میرا جو دیتے وقت میرے پیر کانپ رہے تھے اور عجیب اتفاق بھی دیکھیے کہ نعمان کی چھوٹی بہن کے انتقال پر میرے گھر میں ایک سفید کپڑا تھا اسی سے اس کو کفن دیا گیا تھا اور اب نعمان کو بھی میرے ہی کپڑے سے دوبارہ کفن دیا گیا۔ یہ میں نے سونچا بھی نہ تھا کہ دوبارہ ایسی ضرورت پڑیگی۔اور مسجد ھاجرہ میں اس کے چاچا حافظ حسام نے نماز جنازہ پڑھائی اور قریب کے قبرستان ہی میں دفن کیا گیا۔ *اللهم أعذه من عذاب القبر.*
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان احادیث کا مصداق نعمان اور ان کے والدین اور دادی کو بنادے جس کا ذکر ہم نے ابھی اوپر کیا ہے بلکہ نعمان کے تمام رشتہ داروں کو جنت میں نعمان سے ملادے اور جس نے یہ ظلم کیا ہے اس قاتلہ کو اور جو اس کی مدد کررہے ہیں تو ہی اس جرم کا بدلہ دے دے۔ اور نعمان کے تمام رشتہ داروں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب!
*اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا*
*جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں*
Comments
Post a Comment