نان قلیہ

 *نان قلیہ*


مرحبا یہ ہے انیسؔ الدین کا اورنگ آباد

نان قلیہ کی ہے دعوت آپ کا دل ہوگا شاد



خوبصورت اور دلکش ہے بہت منڈپ یہاں 

دور تک پھیلی ہوی ہے روشنی کی کہکشاں 



بزم میں احباب سب بیٹھے ہوے ہیں با ادب

کیا نشاط انگیز ہے دیکھو یہاں بزمِ طرب



نان قلیہ سے تواضع اس نگر کی شان ہے

سرخ دسترخوان اس کا حسن ہے اور جان ہے



 مسندِ دلہن کی صورت سرخ دسترخوان ہے

منتظر انواع نعمت کا ہر اک مہمان ہے



اشتہا یونہی فقط بڑھتی نہیں ہے بے سبب

بڑھ رہی ہے بھینی بھینی بوئے قلیہ بھی تو اب

 

 

گوشت کی خوشبو کا نشّہ پیاز و ادرک کا خمار

کوفتہ شاہی بھی ہو اس کے مقابل شرمسار



تیکھا تیکھا ہے سفوفِ لال مرچ اس میں چُھپا 

جانتا ہے اس کی اہمیّت کو لذّت آ شنا

 


شاہ زیرہ لونگ دھنیا اور نمک بھی کم نہیں 

کوئ ایسی شہ نہیں اس میں کہ جس میں دم نہیں 


 

دارچینی لہسن و دھنیا مسالہ شاندار 

 کچھ سیہ مرچیں ہری مرچیں بھی اس میں جاندار 



کھوپرا خشخاش الائچی اور ہیں کچھ مغزیات 

کیا بتاؤں کیا بھلاویں کی چرونجی کی ہے بات



جیسے ہوں زر اور جواہر بیش قیمت سب نبات  

مشک و عنبر کی مہک رکھتے ہیں کچھ دھنیا کے پات



اس کے اجزاء اور بھی ہیں گھی دہی آب حیات 

سونگھ لے خوشبو جو اس کی جھوم اٹھّے کائنات 



مست و بے خود کر رہی ہے نان کی خوشبو مجھے 

مضطرب رکھتا ہے ہلدی نان کا جادو مجھے



جاں نچھاور کیجئےگا اس سنہری نان پر

سرخرو ہو جائیے گا سرخ دسترخوان پر



شکریہ نایابؔ انیسؔ الدین کا کیجے ادا

نان قلیہ کا قطر میں رہ کے بھی لیجیے مزہ

 

مظفر نایابؔ

دوحہ قطر

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں