کتاب دعوت اسلامی کیا ہے؟
بنیادی عقیدہ
ہر وہ شخص جو سچے دل سے کلمہ "لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ" کا اقرار کرتا ہے، مسلمان ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہوتا ہے۔پہلا شخص اللہ کا محبوب اور اس کی رحمتوں کا مستحق ہوتا ہے اور اس کے لیے جنت دروازے کھلیں گے۔ جب کہ دوسرا شخص اللہ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی میں اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔
یہ ہے وہ اصولی بات جو قرآن کریم نے فرمائی ہے۔
سوچیے، جب سارے ہی انسان اللہ کے بندے ہیں، اسی نے سب کو پیدا کیا ہے اور وہی سب کو پال رہا ہے تو پھر یہ کیا بات ہے کہ صرف " لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ" اور " مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ" کے دو جملوں کے اقرار سے آدمی اور آدمی میں اتنا فرق ہوجاتا ہے۔ (دعوت اسلامی کیا ہے؟ کتاب سے ایک اقتباس)
یہ تو کوئی بھی نہیں مان سکتا کہ ان دونوں جملوں کے الفاظ کو صرف منہ سے نکال دینے میں کوئی ایسا جادو ہے، جس سے آدمی اور آدمی اتنا بڑا فرق واقع ہوجاتا ہے۔ واضح طور پر یہ فرق صرف ان باتوں کے ماننے اور نہ ماننے ہی کی وجہ سے پیدا ہوسکتا ہے، جو ان دونوں جملوں میں بیان کی گئی ہیں۔ جو شخص ان جملوں کا سچے دل سے اقرار کرتا ہے وہ دراصل دو بڑی اہم باتوں کا اقرار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ دونوں باتیں میرے دل میں بیٹھ گئی ہیں اور یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ جب کوئی بات آدمی کے دل میں بیٹھ جاتی ہے تو اس کا طور طریقہ بھی اسی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ایسے شخص کو لیجئے، جس کے دل میں روپے پیسے کی محبت بیٹھی ہوئی ہو۔ اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی گفتگو سے، اس کے معاملات سے، اس کے تعلقات سے، غرض اس کی ہر بات سے آپ یہ محسوس کریں گے کہ یہ مال و دولت کا طلب گار ہے۔ صبح سے شام تک وہ جو دوڑ دھوپ کرے گا، جس طرح اپنا وقت صرف کرے گا، جس طرح کے کاموں میں دل چسپی لے گا، ان سب سے یہی بات ظاہر ہوگی کہ وہ صرف روپے چاہتا ہے۔روپے کے مقابلے میں نہ اسے تعلقات عزیز ہیں، نہ رشتے داری کا خیال ہے اور نہ دوستی کا کوئی پاس ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کے دلوں میں وطن کی محبت بیٹھ گئی ہو یا جنھوں سے عہدوں اور گدیوں کا حاصل کرنا اپنا مقصد بنالیا ہو یا جن کی نظریں کچھ علمی کارنامے انجام دینے پر جم گئی ہوں، آپ دیکھیں گے کہ ان کی ساری زندگی اس کے رنگ میں رنگی ہوئی ہوگی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا سب کچھ اسی مقصد کے لیے وقف ہوتاہے، جسے انھوں نے اختیار کررکھا ہے۔ ("دعوت اسلامی کیاہے؟" کتاب سے ماخوذ)
اب آئیے ان دونوں جملوں کا مطلب اور ان کے اندر بیان کی جانے والی دونوں اہم باتوں کو سمجھئے، جن کا اقرار آدمی کو کافر سے مومن، ناپاک سے پاک اور جہنّمی سے جنّتی بنا دیتا ہے۔ ان جملوں کے ذریعے انسان، جن دو باتوں کا اقرار کرتا ہے ان میں سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کو خدا اور معبود نہیں مانتا اور دوسری بات یہ ہے کہ "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔"جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو خدا نہیں مانتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور ایسا نہیں ، جس نے کسی کو پیدا کیا ہو یا پیدا کرسکتا ہو۔ وہی سب کا مالک، پروردگار اور اصل حاکم ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا مالک نہیں، کوئی دوسرا حاکم نہیں، کوئی دوسرا روزی دینے والا نہیں، کوئی دوسرا دعاؤں کا سننے والا، قبول کرنے والا نہیں اور کوئی دوسرا ایسا نہیں کہ انسان اس کی بندگی کرے۔یہ دنیا نہ تو آپ سے آپ بنی ہے اور نہ اس کے بنانے والے بہت سے ہیں۔ اس کا بنانے والا ایک اللہ ہےوہی سارے جہان کا مالک ہے، یہاں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔موت اور زندگی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ مصیبت ہو یا آرام، سب کچھ اسی کی طرف سے ہوتا ہے۔ وہ دینا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا، وہ نہ دے تو کوئی دلا نہیں سکتا۔ وہی اس قابل ہے کہ انسان اس سے ڈرے اور اس کی ناراضی سے بچے، اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے، اس کے آگے سر جھکائے، اس کی بندگی کرے، کیوں کہ وہ اس کے سوا کسی اور کا بندہ نہیں ہے، اس ایک ہستی کے سوا کوئی اس کا مالک اور آقا نہیں۔ اس لیے انسان کا اصلی کام یہ ہے کہ اس کا اور صرف اسی کا حکم مانے اور اس کے بتائے ہوئی قانون پر چلے۔ "دعوت اسلامی کیا ہے؟" کتاب سے ماخوذ
Comments
Post a Comment