دینی تحریک
دینی تحریک کب اور کیسے ایک عام دنیاوی انجمن بن جاتی ہے..
-------------------------------------------------------------
⬅️ جب وابستگان تحریک میں اپنے مقصد حیات اور مقصد تحریک کا شعور مقفود ہونے لگے
⬅️ جب ان میں اللہ سے تعلق اور خوف آخرت میں کمی آجاے
⬅️ عبادات سے شغف، قرآن سے تعلق اور ذکر الہی میں کمی آنے لگے
⬅️ دین صرف تقاریر اور ریاکاری تک محدود ہوجاے ، اور اخلاص ،للہیت، اور خدا خوفی میں کمی آنے لگے
⬅️ ذمہ داریاں عہدے بن جائیں ، اور عہدوں کے حصول کی تگ و دو ہونے لگے .
⬅️ کفاف پر کام کرنے والوں کی کثرت ہوجاے، اور کفاف ضرورت سے زیادہ لی جانے لگے
⬅️ ایسے افراد قیادت کے مناصب پر لاے جائیں ، جن کا تقوی، تجربہ، اور تحریک کے تئیں قربانیاں قابل لحاظ نہیں اور اہل، تجربہ کار اور قابل افراد کو پیچھے ڈھکیلا جانے لگے..
⬅️ وابستگان اپنے حلال مال سے انفاق کے ذریعہ تحریک کو مضبوط کرنے کے بجائے، دوسروں سے چندے وصول کرکے کام چلایا جانے لگے
⬅️ جب قائدین خود کو افسر اور دیگر کو نوکر سمجھنے لگیں اور تحریک میں افسر شاہی جیسا ماحول پنپنے لگے
⬅️ جب فیلڈ ورک سے زیادہ عالی شان مساجد ، عمارتیں، اور دفاتر کی تعمیرات میں دلچسپی لی جانے لگے، افراد کے مال سے شاندار فرنیچر اور قیمتی گاڑیاں خریدی جانے لگیں..
⬅️ جب محلوں اور مقامی مسجدوں کے بجائے وابستگان اور قائدین دفتروں اور اپنی علیحدہ مسجدوں میں وقت دینے لگیں
⬅️ جب دعوت دین اور اصلاح معاشرہ کی جاں گسل محنت کے بجائے نمائشی کام اور اجتماعات و تقاریر سے غلبہ دین کے خواب دیکھے جانے لگیں
⬅️ جب اجتماعات اور مشاورت کی مجلسوں میں مرد و خواتین کا اختلاط ہونے لگے اور عورتیں اسٹیجوں کی زینت بننے لگیں
⬅️ جب لوگ دین کا کام محض جزوقتی سمجھنے لگیں اور تعطیل کے دن سوشل میٹ کی طرح جمع ہونے کو کافی سمجھیں ...
........ تو سمجھ جائیے کہ یہ ایک انبیائ تحریک نہیں بلکہ تنظیم اور انجمن بن گئی ہے اور اس پر سے اللہ کا ہاتھ آٹھ چکا ہے...........
( اسے پھر سے تحریک بنا سکو تو بنائیے، ورنہ انتظار کیجیے کہ اللہ کسی اور کو اٹھاے گا اور اپنا کام لے گا)
Comments
Post a Comment