ازدواجی زندگی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
ازدواجی زندگی
انسانی تمدن میں
ازدواجی زندگی اہمیت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– ازدواجی زندگی – صفحہ ۹۹
سورہ بقرہ آیت ۱۰۲
فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا
مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ
پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز
سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی
ڈال دیں
مطلب یہ ہے کہ اس منڈی میں سب سے زیادہ
جس چیز کی مانگ تھی وہ یہ تھی کہ کوئی ایسا عمل یا تعویذ مِل جائے جس سے ایک آدمی
دُوسرے کی بیوی کو اس سے توڑ کر اپنے اوپر عاشق کر لے۔ یہ اخلاقی زوال کا وہ
انتہائی درجہ تھا، جس میں وہ لوگ مبتلا ہو چکے تھے۔ پست اخلاقی کا اس سے زیادہ نیچا
مرتبہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ایک قوم کے افراد کا سب سے زیادہ دلچسپ مشغلہ پرائی
عورتوں سے آنکھ لڑانا ہو جائے اور کسی منکوحہ عورت کو اس کے شوہر سے توڑ کر اپنا
کر لینے کو وہ اپنی سب سے بڑی فتح سمجھنے لگیں۔
ازدواجی تعلق در حقیقت انسانی
تمدّن کی جڑ ہے۔ عورت اور مرد کے تعلق کی درستی پر پورے انسانی تمدّن کی درستی
کا اور اس کی خرابی پر پورے انسانی تمدّن
کی خرابی کا مدا ر ہے۔ لہٰذا وہ شخص بدترین مُفْسِد ہے جو اُس درخت کی جڑ پر تیشہ چلاتا ہو جس کے قیام پر خود
اُس کا اور پوری سوسائٹی کا قیام منحصر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ابلیس اپنے مرکز سے
زمین کے ہر گوشے میں اپنے ایجنٹ روانہ کرتا ہے ۔ پھر وہ ایجنٹ واپس آکر اپنی اپنی
کارروائیاں سُناتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے : میں نے فلاں شر کھڑا کیا۔ مگر ابلیس ہر ایک
سے کہتا جاتا ہے کہ تُو نے کچھ نہ کیا۔ پھر ایک آتا ہے اور اطلاع دیتا ہے کہ میں ایک
عورت اور اس کے شوہر میں جُدائی ڈال آیا ہوں۔ یہ سُن کر ابلیس اس کو گلے لگا لیتا
ہے اور کہتا ہے کہ تُو کام کر کے آیا ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح
سمجھ میں آجاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی آزمائش کو جو فرشتے بھیجے گئے تھے، انہیں کیوں
حکم دیا گیا کہ عورت اور مرد کے درمیان جدائی ڈالنے کا ”عمل“ ان کے سامنے پیش کریں۔
دراصل یہی ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے ان کے اخلاقی زوال کو ٹھیک ٹھیک ناپا جا سکتا
تھا۔
ازدواجی زندگی کے آداب
فہرست موضوعات --تفہیم القرآن جلد اول – ازدواجی زندگی –
صفحہ ۱۶۹، ۱۷۰
سورہ بقرہ آیات ۲۲۲، ۲۲۳
وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ
الْمَحِيْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى ١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ١ۙ وَ
لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ
حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ
الْمُتَطَهِّرِيْنَ۰۰۲۲۲نِسَآؤُكُمْ
حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١ٞ وَ قَدِّمُوْا
لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ
بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۲۲۳
پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی
حالت ہے۔اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔پھر جب وہ پاک ہو
جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔اللہ ان لوگوں
کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں
اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ
کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبیؐ ! جو
تمہاری ہدایت کو مان لیں انہیں فلاح وسعادت کا مژدہ سنادو۔
وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ
الْمَحِيْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى
پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی
حالت ہے۔
اصل میں اَذ یٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے
، جس کے معنی گندگی کے بھی ہیں اور بیماری کے بھی۔ حیض صرف ایک گندگی ہی نہیں ہے ،
بلکہ طبی حیثیت سے وہ ایک ایسی حالت ہے ،
جس میں عورت تندرستی کی بہ نسبت بیماری سے قریب تر ہوتی ہے۔
فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ
فِي الْمَحِيْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ
اس میں عورتوں سے الگ رہو
اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک
صاف نہ ہو جائیں
قرآن مجید اس قسم کے معاملات کو
استعاروں اور کنایوں میں بیان کرتا ہے ۔ اس لیے اس نے ”الگ رہو“ اور ”قریب نہ جا ؤ
“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک
فرش پر بیٹھنے یا ایک جگہ کھانا کھانے سے بھی احتراز کیا جائے اور اسے بالکل اچھُوت بنا کر رکھ دیا جائے، جیسا کہ
یہُود اور ہنُود اور بعض دُوسری قوموں کا دستور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
حکم کی جو توضیح فرما دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حالت میں صرف فعلِ مباشرت
سے پرہیز کرنا چاہیے، باقی تمام تعلقات بدستور برقرار رکھے جائیں۔
فَاِذَا تَطَهَّرْنَ
فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ
پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو
ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے
یہاں حکم سے مراد حکم ِ شرعی نہیں ہے،
بلکہ وہ فطری حکم مراد ہے، جو انسان اور حیوان ، سب کی جبلّت میں ودیعت کر دیا گیا
ہے اور جس سے ہر متنفس بالطبع واقف ہے۔
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ
لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ
تمہاری عورتیں تمہاری
کھیتیاں ہیں ،تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ
یعنی فطرۃ اللہ نے عورتوں کو مَردوں
کے لیے سیر گاہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان دونوں کے درمیان کھیت اور کسان کا سا تعلق
ہے۔ کھیت میں کسان محض تفریح کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس لیے جاتا ہے کہ اس سے پیداوار
حاصل کرے۔ نسلِ انسانی کے کسان کو بھی انسانیت کی کھیتی میں اس لیے جانا چاہیے کہ
وہ اس سے نسل کی پیداوار حاصل کرے۔ خدا کی شریعت کو اِس سے بحث نہیں کہ تم اس کھیت
میں کاشت کس طرح کرتے ہو، البتہ اس کا مطالبہ تم سے یہ ہے کہ جا ؤ کھیت ہی میں، اور اس غرض کے لیے جا
ؤ کہ اس سے پیداوار حاصل کرنی ہے۔
وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ
مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو
جامع الفاظ ہیں، جن سے دو مطلب نکلتے
ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے۔ ایک یہ کہ اپنی نسل برقرار رکھنے کی کوشش کرو
تاکہ تمہارے دُنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دُوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں۔
دُوسرے یہ کہ جس آنے والی نسل کو تم اپنی جگہ چھوڑنے والے ہو، اس کو دین، اخلاق
اور آدمیّت کے جوہروں سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو۔ بعد کے فقرے میں اس بات پر بھی
تنبیہ فرما دی ہے کہ اگر ان دونوں فرائض کے ادا کرنے میں تم نے قصداً کوتاہی کی،
تو اللہ تم سے باز پرس کرے گا۔
ازدواجی زندگی کو صبر
سے نباہنا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– ازدواجی زندگی – صفحہ ۳۳۴
سورہ نساء آیت ۱۹
وَ عَاشِرُوْهُنَّ
بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا
وَّ يَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا۰۰۱۹
ان کے ساتھ بھلے طریقے سے
زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو
مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بَھلائی رکھ دی ہو
یعنی اگر عورت خوبصورت نہ ہو، یا اس میں کوئی ایسا نقص ہو جس کی بنا پر شوہر کو
پسند نہ آئے، تو یہ مناسب نہیں ہے کہ شوہر فوراً دل برداشتہ ہو کر اسے چھوڑ دینے
پر آمادہ ہو جائے۔ حتی الامکان اسے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ بسا اوقات ایسا
ہوتا ہے کہ ایک عورت خوبصورت نہیں ہوتی مگر اس میں بعض دُوسری خوبیاں ایسی ہوتی ہیں
جو ازدواجی زندگی میں حُسنِ صُورت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر اُسے اپنی اُن
خوبیوں کے اظہار کا موقع ملے تو وہی شوہر جو ابتداءً محض اس کی صُورت کی خرابی سے
دل برداشتہ ہو رہا تھا، اس کے حسنِ سیرت پر فریفتہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات
ازدواجی زندگی کی ابتداء میں عورت کی بعض باتیں شوہر کو ناگوار محسُوس ہوتی ہیں
اور وہ اس سے بد دل ہو جاتا ہے ، لیکن اگر وہ صبر سے کام لے اور عورت کے تمام
امکانات کو برُوئے کار آنے کا موقع دے تو اس پر خود ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کی بیوی
بُرائیوں سے بڑھ کر خوبیاں رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ آدمی ازدواجی
تعلق کو منقطع کرنے میں جلد بازی سے کام لے۔ طلاق بالکل آخری چارہٴ کار ہے جس کو
ناگزیر حالات ہی میں استعمال کرنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
کہ ابغض الحلال الی اللہ الطلاق ، یعنی طلاق اگرچہ جائز ہے مگر تمام جائز کاموں میں اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند اگر کوئی چیز ہے تو وہ
طلاق ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا
تزوجوا ولا تطلقو فان اللہ لا یحب الذواقین و الذواقات، یعنی نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ اللہ ایسے
مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو بھونرے کی طرح پھول پھول کا مزا چکھتے پھریں۔
ازدواجی تعلق کی نوعیت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– ازدواجی زندگی – صفحہ ۱۴۵
سورہ بقرہ آیت ۱۸۷
اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ
الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ
لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ
فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا
مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ
تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں
کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور
تم اُن کے لیے۔ اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم
لوگ چُپکے چُپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے ، مگر اُس نے تمہارا قصُور معاف کر دیا
اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ
نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ
اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ
وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور
تم اُن کے لیے
یعنی جس طرح لباس اور جسم کے درمیان
کوئی پردہ نہیں رہ سکتا ، بلکہ دونوں کا باہمی تعلق و اتّصال بالکل غیر منفک ہوتا
ہے، اسی طرح تمہارا اور تمہاری بیویوں کا تعلق بھی ہے۔
فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ
ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ
اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ
شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو
ابتدا میں اگرچہ اس قسم کا کوئی صاف
حکم موجود نہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں کوئی شخص اپنی بیوی سے مباشرت نہ کرے، لیکن
لوگ اپنی جگہ یہی سمجھتے تھے کہ ایسا کر نا جائز نہیں ہے۔ پھر اس کے ناجائز یا
مکروہ ہونے کا خیال دل میں لیے ہوئے بسا اوقات اپنی بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے۔ یہ
گویا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کا ارتکاب تھا اور اس سے اندیشہ تھا کہ ایک مجرمانہ
اور گناہ گارانہ ذہنیت اُن کے اندر پرورش پاتی رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے
اس خیانت پر تنبیہ فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ یہ فعل تمہارے لیے جائز ہے۔
لہٰذا اب اسے بُرا فعل سمجھتے ہوئے نہ کرو، بلکہ اللہ کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے
ہوئے قلب و ضمیر کی پوری طہارت کے ساتھ کرو۔
مہر کے معاملے میں
فریقین کو فیاضانہ برتاؤ کا حکم
فہرست موضوعات – تفہیم القران جلد اول
– ازدواجی زندگی – صفحہ ۱۸۱
سورہ بقرہ آیت ۲۳۶
لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ
طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ
فَرِيْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى
الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۲۳۶
تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں
کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں
انھیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے۔ خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی
مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر
اس صورت میں انھیں کچھ نہ
کچھ دینا ضرور چاہیے
اس طرح رشتہ جوڑنے کے بعد توڑ دینے سے
بہرحال عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان تو پہنچتا ہی ہے، اس لیے اللہ نے حکم دیا ہے کہ
حسبِ مقدرت اس کی تلافی کرو۔
بیوی
کا مہر معاف کرنا
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد اول—ازدواجی زندگی – صفحہ ۳۲۲
سورہ نساء آیت ۴
وَ اٰتُوا
النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ
نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْٓـًٔا مَّرِيْٓـًٔا۰۰۴
اور عورتوں
کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے)ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے
مہر کا کوئی حصّہ تمہیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھاسکتے ہو
حضرت عمر ؓ اور قا ضی
شُریح کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت نے
اپنے شوہر کو پُورا مہر یا اس کا کوئی حصّہ معاف کر دیا ہو اور بعد میں وہ اس کا پھر مطالبہ کرے تو شوہر
اُس کے ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا ، کیونکہ اس کا مطالبہ کرنا یہ معنی رکھتا
ہے کہ وہ اپنی خوشی سے مہر یا اس کا کوئی
حصہ چھوڑنا نہیں چاہتی ۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”حقوقُ الزّوجین“
عنوان”مہر“۔
مہر
مارنے کے لیے عورت کو تنگ نہ کیا جائے
فہرست موضوعات--
تفہیم القرآن جلد اول – ازدواجی زندگی – صفحہ ۳۳۴
سورہ نساء آیت ۱۹
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ
لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ
يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ١ۚ
اے لوگو جو ایمان
لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔ اور نہ یہ
حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اُس مَہر کا کچھ حصّہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں
دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا
حق ہے)
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو
اس سے مُراد یہ ہے کہ
شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میّت کی میراث سمجھ کر اس کے
ولی وارث نہ بن بیٹھیں۔ عورت کا شوہر جب مر گیا تو وہ آزاد ہے۔ عدّت گزار کر جہاں
چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کر لے۔
وَ لَا
تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ
يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ١ۚ
اور نہ یہ
حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اُس مَہر کا کچھ حصّہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں
دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا
حق ہے)
مال اُڑانے کے لیے نہیں
بلکہ بدچلنی کی سزا دینے کے لیے۔
Comments
Post a Comment