آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – آدم علیہ السلام – صفحہ  ۴۶۱تا ۴۶۳

سورہ مائدہ آیات ۲۷ تا۳۱

وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ۰۰۲۷لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّيْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۲۸اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِيْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيْنَۚ۰۰۲۹فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۳۰فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ١ؕ قَالَ يٰوَيْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَۚۛۙ۰۰۳۱

اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصّہ بھی بے کم و کاست سُنادو۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ”میں تجھے مار ڈالوں گا“۔ اس نے جواب دیا ”اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔ اگرتُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اُٹھاوٴں گا، میں اللہ ربّ العا لمین سے ڈرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کررہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے“۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کردیا اور وہ اسے مارکر اُن لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چُھپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر ! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چُھپانے کی تدبیر نکال لیتا۔ اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔

قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ۰۰۲۷

”اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے

یعنی تیری قربانی اگر قبول نہیں ہوئی تو یہ میرے کسی قصُور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ تجھ میں تقویٰ نہیں ہے، لہٰذا میری جان لینے کے بجائے تجھ کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔

لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ

اگرتُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اُٹھاوٴں گا

اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تُو مجھے قتل کر نے کے لیے آئے گا تو میں ہاتھ باندھ کر تیرے سامنے قتل ہونے کے لیے بیٹھ جاؤ ں گا اور مدافعت نہ کروں گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تُو میرے قتل کے درپے ہوتا ہے  تو ہو، میں تیرے قتل کے درپے نہ ہوں گا۔ تُومیرے قتل کی تدبیر میں لگنا چاہے تو تُجھے اختیار ہے ، لیکن میں یہ جاننے کے بعد بھی کہ تُو میرے قتل کی تیاریاں کر رہا ہے ، یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی شخص کا اپنے آپ کو خود قاتل کے آگے پیش کر دینا اور ظالمانہ حملہ کی مدافعت نہ کرنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص میرے قتل کے درپے ہو اور میں جانتا ہوں کہ وہ میری گھات میں لگا ہو ا ہے ، تب بھی میں اس کے قتل کی فکر نہ کروں اور اسی بات کو ترجیح دوں کہ ظالمانہ اقدام اُس کی طرف سے ہو نہ کہ میری طرف سے ۔ یہی مطلب تھا اس بات کا جو آدم علیہ السّلام کے اس نیک بیٹے نے کی۔

اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِيْ وَ اِثْمِكَ

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے

یعنی بجائے اس کے کہ ایک دُوسرے کے قتل کی سعی میں ہم دونوں گناہ گار ہوں ، میں اس کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ دونوں کا گناہ تنہا تیرے ہی حصّہ میں آجائے ، تیرے اپنے قاتلانہ  اقدام کا گناہ بھی، اور اس نقصان کا گناہ بھی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔

قَالَ يٰوَيْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ١ۚ

یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر ! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چُھپانے کی تدبیر نکال لیتا۔

اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کا ر بیٹے کو  اس کی جہالت و نادانی پر متنبّہ کیا، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجّہ کرنے کا موقع مل گیا توا س کی ندامت صرف اسی بات تک محدُود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوّے سے پیچھے کیوں رہ گیا، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبُوت دیا ہے۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا، اسی مطلب پر دلالت کر تا ہے۔

فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ

اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا

 

یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اُس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی(ملاحظہ ہو اسی سُورۃ کا حاشیہ نمبر ۳۰)۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے اِن اُمّیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور اُن پُرانے اہلِ کتاب کو رد کر دیا، سراسر اِس بُنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا  اور دُوسری طرف تقویٰ نہ تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رَد کر دیا گیا تھا، اپنے مردُود ہونے کی وجہ  پر غور کرتے اور اُس قصُور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے، ان پر ٹھیک اُسی جاہلیت کا دورہ پڑ گیا جس میں آدم ؑ کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا، اور اُسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہو گئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے  ہاں مقبول نہ ہو سکتے تھے ، بلکہ یہ کرتُوت انہیں اور زیادہ مردُود بنا دینے والے تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں