بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
دنیا و آخرت میں تمام اعمال کو برباد کرنے والا عمل
فہرست موضوعات –تفہیم القرآن جلد اول –
ارتداد
صفحہ۱۶۶
سورہ بقرۃ آیت ۲۱۷
وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ
عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي
الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا
خٰلِدُوْنَ۰۰۲۱۷
(اور یہ خوب سمجھ لو کہ )تم میں سے جو کوئی اس دین
سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں
ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے
مسلمانوں میں بعض سادہ لوح لوگ ، جن
کے ذہن پر نیکی اور صُلح پسندی کا ایک غلط تصور مسلّط تھا، کفّارِ مکّہ اور یہُودیوں
کے مذکورہٴ بالا اعتراضات سے متاثر ہوگئے تھے۔ اس آیت میں انھیں سمجھایا گیا
ہے کہ تم اپنی ان باتوں سے یہ اُمید نہ
رکھو کہ تمہارے اور ان کے درمیان صفائی ہو جائے گی۔ اُن کے اعتراضات صفائی کی غرض
سے ہیں ہی نہیں۔ وہ تو در اصل کیچڑ
اُچھالنا چاہتے ہیں۔ انھیں یہ بات کَھل رہی ہے کہ تم اِس دین پر ایمان کیوں لائے
ہو اور اس کی طرف دُنیا کو دعوت کیوں دیتے ہو۔ پس جب تک وہ اپنے کُفر پر اَڑے ہوئے
ہیں اور تم اس دین پر قائم ہو، تمہارے اور
ان کے درمیان صفائی کسی طرح نہ ہو سکے گی۔ اور ایسے دُشمنوں کو تم معمُولی دُشمن
بھی نہ سمجھو۔ جو تم سے مال و زر یا زمین چھیننا چاہتا ہے، وہ کمتر درجے کا دُشمن
ہے۔ مگر جو تمہیں دینِ حق سے پھیرنا چاہتا ہے ، وہ تمہارا بدترین دُشمن ہے۔ کیونکہ
پہلا تو صرف تمہاری دُنیا ہی خراب کرتا ہے، لیکن یہ دُوسرا تمہیں آخرت کے اَبدی
عذاب میں دھکیل دینے پر تُلا ہوا ہے۔
یہودکا ایمان لانے کے
بعد کفر کرنا اور اس کا وبال
فہرست موضوعات –
تفہیم القرآن جلد اول – ارتداد – صفحہ ۲۷۱
سورہ آل عمران آیت ۸۶
كَيْفَ
يَهْدِي اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ
الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي
الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۸۶
کیسے ہو
سکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمتِ ایمان پا لینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول
حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی
آچکی ہیں۔
اللہ
ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
یہاں پھر اُسی بات کا
اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے قبل بارہا بیان
کی جا چکی ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان
چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سےاس امر کی شہادت ادا ہو چکی تھی کہ آپ نبی ِ برحق ہیں
اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لا تے رہے ہیں۔ اس کے
بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصّب، ضد اور دُشمنیِ حق کی اُس پُرانی عادت کا
نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔
ایمان کی نعمت پاکر
پھر کفر کرنے والوں کا انجام
فہرست موضوعات --
تفہیم القرآن جلد اول—ارتداد – صفحہ ۲۷۸
آل عمران آیات ۱۰۵،۱۰۶
وَ لَا
تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ
الْبَيِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌۙ۰۰۱۰۵يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ
اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا
الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۰۰۱۰۶
کہیں تم ان لوگوں کی
طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور
کھلی کھلی واضح ہدایا ت پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔ جنھوں نے یہ روش
اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے
جبکہ کچھ لوگ سرخرُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہو گا، جن کا منہ کالا ہوگا(ان
سے کہا جا ئے گا کہ )نعمتِ ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویّہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اس کفرانِ نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو۔
یہ اشارہ اُن اُمّتوں
کی طرف ہے جنہوں نے خدا کے پیغمبروں سے دینِ
حق کی صاف اور سیدھی تعلیمات پائیں مگر کچھ مُدّت گزر جانے کے بعد اساسِ دین کو
چھوڑ دیا اور غیر متعلق ضِمنی و فروعی مسائل کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنانے شروع
کر دیے، پھر فضول و لایعنی باتوں پر جھگڑنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ اُنہیں اُس
کام کا ہوش رہا جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا اور نہ عقیدہ و اخلاق کے اُن بنیادی
اُصُولوں سے کوئی دلچسپی رہی جن پر در حقیقت انسان کی فلاح و سعادت کا مدار ہے۔
کفر و ایمان کو کھیل
بنالینا
فہرست موضوعات
--تفہیم القرآن جلد اول –ارتداد—صفحہ ۴۰۷
سورہ نساء آیت ۱۳۷
اِنَّ
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ
ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا
لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيْلًاؕ۰۰۱۳۷
رہے و ہ
لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھرایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں
بڑھتے چلے گئے، تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی ان کو راہ راست
دکھائے گا۔
اس سے مراد وہ لوگ ہیں
جن کے لیے دین محض ایک غیر سنجیدہ تفریح ہے۔ ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا
اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اُٹھی، مسلمان
ہو گئے اور جب دُوسری لہر اُٹھی، کافر بن گئے۔ یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر
آیا ، مسلمان بن گئے اور جب معبودِ منفعت نے دُوسری طرف جلوہ دکھایا تو اس کی
پُوجا کرنے کے لیے بے تکلف اسی طرف چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے پاس نہ
مغفرت ہے نہ ہدایت۔ اور یہ جو فرمایا کہ” پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے“ تو اس
کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص محض کافر بن
جانے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے بعد
دوسرے لوگوں کو بھی اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرے، اسلام کے خلاف خفیہ سازشیں اور
علانیہ تدبیریں شروع کر دے، اور اپنی قوت اس سعی و جہد میں صرف کرنے لگے کہ کفر کا بول بالا ہو اور اس کے مقابلہ میں
اللہ کے دین کا جھنڈا سرنگوں ہو جائے۔ یہ کفر میں مزید ترقی، اور ایک جرم پر پے در
پے جرائم کا اضافہ ہے جس کا وبال بھی مجرّد کفر سے لازماً زیادہ ہونا چاہیے۔
Comments
Post a Comment