Posts

شیدائے قرآن مولانا امانت اللہ اصلاحی

 *شیدائے قرآن مولانا امانت اللہ اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ* محی الدین غازی مسجد اشاعت الاسلام دہلی کی محراب میں قریب اٹھارہ برس سے ذکر وفکر اور مطالعہ میں منہمک بزرگ کو دیکھنے والے کیا یہ بھی جانتے ہوں گے کہ یہ مرد عابد میدان دعوت کا ایک مرد مجاہد بھی رہا ہے، اور اس نے عمر کی کئی دہائیاں اور جسم کی ساری توانائیاں افریقہ کے لوگوں کو اسلام سے واقف کرانے میں لگادی ہیں۔ بڑے اباکی زندگی کی کم وبیش تین دہائیاں نائیجیریا میں گزریں، مجھے ان کی  وہاں کی سرگرمیوں کے بارے میں بہت کم معلوم ہوسکا، بس اتنا معلوم ہے کہ وہ بہت پسماندہ علاقہ تھا، اور اس میں وہ سالہا سال دعوت اور تعلیم کے میدان میں سرگرم رہے۔ میں بڑے ابا کے ساتھ  کئی سال رہا، قرآنیات کے حوالے سے ہزاروں باتیں پوچھنے اورسننے کا موقع ملا، لیکن انہوں نے کبھی اپنے ماضی کے کسی کارنامے سے پردہ نہیں اٹھایا، اور نہ ہی مجھے کریدنے کی جرأت یا توفیق ملی۔ اب جستجو ہوئی تو نائیجیریا کی جدید تاریخ کے حوالوں میں تلاش کیا اور وہاں مسرت انگیز تذکرے ملے۔ نائیجیریا کےایک عالم شیخ عباس زکریا ابادنی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: "شیخ کی فطرت میں دعوت رچی...

لوہا

 *قرآن میں لوھے کے متعلق پیشن گوئیاں اور قرآن کا معجزہ* سائنسانوں کا کہنا ھے کہ لوہا اس زمین اور نظام شمسی کا حصہ نہیں ھے۔ کیونکہ لوھے کے پیدا ہونے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ھوتی ھے جو ہمارے نظام شمسی کے اندر بھی موجود نہیں۔ لوہا صرف سوپر نووا supernova کی صورت میں ھی بن سکتا ھے۔ یعنی جب کوئی سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ پھٹ جائے اور اس کے اندر سے پھیلنے والا مادہ جب شہاب ثاقب meteorite کی شکل اختیار کرکے کسی سیارے پر گر جائے جیسا کے ھماری زمین کے ساتھ ھوا۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ھماری زمین پر بھی لوھا اسی طرح آیا۔ اربوں سالوں پہلے اسی طرح شہاب ثاقب meteorites اس دھرتی پر گرے تھے جن کے اندر لوھا موجود تھا۔ اللہ سبحان وتعالی نے یہی بات قرآن میں بیان فرمائی ہے، 1400 سال پہلے اس بات کا وجود تک بھی نہیں تھا کہ لوھا کیسے اور کہاں سے آیا؟ عرب کے صحراؤں میں تو لوھے کا استعمال بھی صرف تلوار اور ڈھال کے لئے ھوتا تھا۔ قرآن کی 57 ویں سورة کا نام الحدید ھے جس کا مطلب لوھا ھے۔ لوھے کے نام پر پوری سورة موجود ھے اور اسی سورة کی آیت میں اللہ فرماتا ھے کہ:  "اور ہم نے لوھے کو اتارا، اس میں...
 جب بندہ زندگی میں سب کچھ ہار نے کے بعد اللہ تعالی کی طرف بڑھتا ہے نا__  تو اللہ تعالی اس بندے سے دگنی تیزی سے اس کی جانب بڑھتا ہے_!!!  پھر رفتہ رفتہ دل کی کیفیات بدلنے لگتی ہیں__!!!  درد سکون میں بدلنے لگتا ہے_!!!  نا معلوم سی سکون کی کیفیات روح میں اترنے لگتی ہیں__!!  اللہ تعالی کی مصلحتوں کی اور حکمتوں کی سمجھ آنے لگتی ہے__!!!  زندگی پھر سے محسوس ہونے لگتی ہے_!!  پھر اس بندے کے لیےعرش سجایا جاتا ہے_!!  صبر کے صلے کا تحفہ تیار کروایا جاتا ہے_!!  پھر فرشے بھی سوال کرتے ہیں کہ__!!!!  یا اللہ یہ تیاریاں کس لیے_!!!  "آج کون سا مہمان آرہا ہے " تو بتایا جاتا ہے__!!!!!!   آج میرا بندہ _!! کئی برسوں کی تھکن کے بعد _!! کئی ندامتوں کے بعد_!!  مجھ سے صلح کرنے آ رہا ہے  پھر وہ اپنے بندے کا انتظار کرتا ہے  پھر جب بندہ اس کی بارگاہ میں پہنچتا ہے   تو اللہ تعالی کی مہمان نوازی میں جوسجدہ کرتاہے  وہ سجدہ معمول کے سجدوں سے بہت الگ ہوتا ہے_!!  نم آنکھیں_!!  اور سسکتے ہونٹ_!!  اس سکون کا منظر بی...

گفتگو سائے اور غفلت سے

 گفتگو: سایے اور غفلت سے ڈاکٹر جاسم محمد مطوع ترجمان القرآن : مارچ 2019ء میرا سایہ اچانک پکار اٹھا : میں تمھارے ساتھ چلتے چلتے اُکتا چکا ہوں۔ میں: کیوں؟ سایہ: کیوں کہ تم مجھے وہاں وہاں لیے پھرتے ہو، جہاں جانا میری فطرت کے خلاف ہے۔ تمھارے کاموں پر بظاہر خوب صورتی اور چمک دکھائی دیتی ہے، لیکن اندرون میں ریاکاری کا اندھیرا ہوتا ہے۔ کاش میں تمھارا سایہ نہ ہوتا! میں: تم مجھے چھوڑنا چاہتے ہو، لوگ تو مجھ سے ملنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ حیرت ہے تمھاری راے پر! سایہ: اخلاق کے جوہر تو ساتھ رہنے پر ہی کھلتے ہیں۔ لوگ میری طرح تمھارے ساتھ نہیںرہتے۔ تم اپنے دل میں دیکھو گے تو سیاہی ہی نظر آئے گی۔ میں: اس سیاہی کا سبب کیا ہے؟ سایہ: جب کاموں سے اخلاص رخصت ہوجائے اور معاملات میں دکھلاوا اور ریاکاری شامل ہوجائے تو دل سیاہ ہوجاتے ہیں۔ میں: کیا یہ چیز واقعی دل پر اس درجہ اثر کرتی ہے؟ سایہ: ہاں! اخلاص ہی تو عمل کی اساس ہے۔ اسی لیے کہا گیا ’جو انسان اخلاص سے خالی ہو، اس سے کہہ دو کہ اپنے آپ کو تھکانے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا حکم دیا ہے: ’’انھیں تو صرف اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ اللہ ک...

سلطان رکن الدین بیبرس

 وه عالم اسلام کا ایک نایاب اور نامور سلطان تھا۔ وه ان گنت زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔ عربوں سے عربی میں ، منگولوں اور تاتاریوں سے تاتاری میں ، یونانیوں سے یونانی میں، حبشیوں سے ان کی زبان میں اور اس طرح دوسری اقوام سے ان کی زبان میں گفتگو کرنے کی مہارت رکھتا تھا ۔ سلطان بننے سے پہلے وہ جگہ جگہ ایک غلام کی حیثیت سے دھکے کھاتا پھرتا تھا لہذہ اس نے اس دوران میں مختلف زبانیوں میں مہارت حاصل کر لی تھی ۔ وقت کی آنکھ نے اسے کبھی ایک گڈریے کی صورت میں " دشت قپچاق " میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دیکھا ، آسمان نے اسے کبھی دمشق شہر میں برده فروشوں کی منڈی میں ایک غلام کی حیثیت سے بکتے دیکھا ، کبھی اس نے دمشق اور مصر کے امراء کی نوکری و چاکری کرتے ہوئے وقت گزارہ اور کبھی رزم گاہ میں ایک صف شکن لشکری کے سنگ میں بھی دیکھا گیا اور کبھی وقت کی تیز آنکھ نے اسے اسلامی لشکر کے سالار اعلی کی حیثیت سے بھی دیکھا ۔ مشہور امریکی مؤرخ ہئیر لڈیم اس کے متعلق لکھتا ہے ۔ اسے اپنے سوا کسی پر اعتبار نہ تھا اس لیے وہ بھیس بدل کر خود گشت لگاتا اور اپنے لیے خود ہی دشمنوں کی مخبری کرتا تھا ۔ وہ اپنے ہم پیالہ ، ہم...

خلافت کے خاتمے کو ایک صدی ہونے

 *خلافت کے خاتمے کو ایک صدی ہجری مکمل ہونے پر۔۔۔ اے مسلمانو، اسے قائم کرو!* اللہ کے نام سے جو بہت ہی رحمدل، مہربان اور قابل ستائش ہے، دنیا کا مالک، کائنات کا مالک، آسمانوں و زمین اور انسانیت کا خالق ہے۔ وہی ہے جس نے پیغمبروں اور رسولوں کو بھیجا، اپنی کتابوں کے ذریعے قوموں کو خبردار کرنے والا، حساب کتاب کے دن اور جنت و جہنم کا مالک، جو تمام مخلوقات پر حاوی ہے۔ امت مسلمہ کی شفاعت کرنے والے اور اس امت کی گواہی دینے والے کہ اس نے انسانیت کو ہدایت سے روشناس کرایا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سب سے عظیم تخلیق محمدﷺ، ان کے گھر والوں اور ان کے صحابہ ؓ پر درود و سلام ۔ آج خلافت کے انہدام کی برسی ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے، لیکن اس بار اس نے اپنا سوواں سال پورا کر لیا ہے، اسی لیے ہم پر لازم ہے کہ اس پوری صدی کا ہم جائزہ لیں اور دیکھیں کہ خلافت کی عدم موجودگی کے بعد کیا ہوا ہے۔ اس 100 سال کے دو پہلو ہیں۔ ایک تاریک اور افسردہ پہلو، اور دوسرا روشن اور پُرجوش پہلو جو حوصلہ دلاتا ہے کہ جدوجہد  اور کام کرتے رہیں۔ اس کے تاریک پہلو کے دو اہم ترین رخ ہیں۔ پہلا تاریک پہلو یہ ہے کہ اسلام کی حکمرانی کا...

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

 بہترین جماعت کے بدترین لوگ شاہنواز فاروقی-  اگر آپ کچھ لوگوں کو پی ایچ ڈی کے بعد میٹرک کرتے ہوئے پائیں تو آپ ان کے بارے میں کیا خیال کریں گے؟ اگر آپ من و سلویٰ کھانے کے بعد کسی کو پیاز اور دال کی تعریف کرتے ہوئے پائیں تو آپ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ اگر آپ کچھ لوگوں کو سورج کے مشاہدے اور تجربے کے بعد ٹمٹماتی ہوئی موم بتی کا طواف کرتے ہوئے دیکھیں تو آپ ان کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے؟ یہ محض قیاسی باتیں نہیں۔ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو بہترین اور بدترین کے فرق کو مٹادیتے ہیں۔ جو بہترین کو بدترین سے ملادیتے ہیں۔ کیسے، آئیے خورشید ندیم کے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ کرتے ہیں۔ خورشید ندیم نے نواز لیگ کے رہنما مشاہد اللہ کی رحلت کے حوالے سے لکھا۔ ’’مشاہد اللہ خان کا جسد خاکی سپرد خاک ہوا۔ انسان مگر محض پیکرِ گِل تو نہیں۔ اس کے سوا بھی بہت کچھ ہے جو کبھی نہیں مرتا۔ فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے بے پناہ اداسی ہے اور مایوسی کا گہرا احساس۔ آج پارلیمان میں کوئی دوسرا مشاہد اللہ نہیں ہے۔ ایسی قدرتِ کلام، ایسا دبنگ لہجہ، قسام از...