آدم علیہ السلام
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آدم علیہ السلام فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – آدم علیہ السلام – صفحہ ۱۷ پہلے ناظر کو قرآن کی اصل سے واقف ہو جانا چاہیے۔ وہ خواہ اس پر ایمان لائے یا نہ لائے، مگر اس کتاب کو سمجھنے کے لیے اسے نقطہء آغاز کے طور پر اس کی وہی اصل قبول کرنی ہوگی جو خود اس نے اور اس کے پیش کرنے والے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان کی ہے۔ اور وہ یہ ہے: ۱ ۔ خدا وندِ عالم نے ، جو ساری کائنات کا خالق اور مالک اور فرمانروا ہے، اپنی بے پایاں مملکت کے اِس حصّے میں ، جسے زمین کہتے ہیں، انسان کو پیدا کیا۔ اُسے جاننے اور سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں دیں۔ بَھلائی اور بُرائی کی تمیز دی۔ انتخاب اور ارادے کی آزادی عطا کی۔ تصرّف کے اختیارات بخشے۔ اور فی الجُملہ ایک طرح کی خود اختیاری ( autonomy ) دے کر اسے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا۔ ۲ ۔ اس منصب پر انسان کو مقرر کرتے وقت خداوندِ عالم نے اچھی طرح اس کے کان کھول کر یہ بات اس کے ذہن نشین کر دی تھی کہ تمہارا اور تمام جہان کا مالک ، معبُود اور حاکم میں ہوں۔ میری اس سلطنت میں نہ تم خود مختار ہو، نہ کسی دُوسرے کے بندے ...