حج میں اسلامی اخلاقیات کی تربیت
حج میں اسلامی
اخلاقیات کی تربیت
فہرست موضوعات –
تفہیم القران جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۱۵۵
سورہ بقرہ آیت ۱۹۷
اَلْحَجُّ
اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا
فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ
يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ١ٞ وَ
اتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ۰۰۱۹۷
حج کے مہینے سب کو
معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ
حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات
سرزد نہ ہو ۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے
زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو
فَلَا رَفَثَ
کوئی شہوانی
فعل
احرام کی حالت میں میاں
اور بیوی کے درمیان نہ صرف تعلقِ زن و شو
ممنوع ہے، بلکہ اُن کے درمیان کوئی ایسی گفتگو بھی نہ ہونی چاہیے ، جو رغبتِ شہوانی
پر مبنی ہو۔
وَ لَا
فُسُوْقَ
کوئی بدعملی
تمام معصیت کے افعال
اگرچہ بجائے خود ناجائز ہیں، لیکن احرام کی حالت میں ان کا گناہ بہت سخت ہے۔
وَ لَا
جِدَالَ
کوئی لڑائی
جھگڑے کی بات
حتیٰ کہ خادم کو
ڈانٹنا تک جائز نہیں۔
وَ
اتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ
پس اے
ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو
جاہلیّت کے زمانے میں
حج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے کر نکلنے کو ایک دُنیا دارانہ فعل سمجھا جاتا تھا اور
ایک مذہبی آدمی سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ خدا کے گھر کی طرف دُنیا کا سامان لیے
بغیر جائے گا۔ اس آیت میں اُن کے اِس غلط
خیال کی تردید کی گئی ہے اور انہیں بتایا
گیا ہے کہ زادِ راہ نہ لینا کوئی خوبی نہیں ہے۔ اصل خوبی خدا کا خوف اور اس کے
احکام کی خلاف ورزی سے اجتناب اور زندگی
کا پاکیزہ ہونا ہے۔ جو مسافر اپنے اخلاق
درست نہیں رکھتا اور خدا سے بے خوف ہو کر بُرے اعمال کر تا ہے، وہ اگر زادِ
راہ ساتھ نہ لے کر محض ظاہر میں فقیری کی نمائش کرتا ہے، تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں وہ ذلیل ہو گا اور اپنے اُس مذہبی کام کی بھی توہین
کرے گا، جس کے لیے وہ سفر کر رہا ہے۔ لیکن اگر اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور اس
کے اخلاق درست ہوں، تو خدا کے ہاں بھی اس
کی عزّت ہوگی اور خلق بھی اس کا احترام کرے گی، چاہے اس کا توشہ دان کھانے سے بھرا
ہوا ہو۔
Comments
Post a Comment