Posts
آخرت کے امکان کے دلائل
- Get link
- X
- Other Apps
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آخرت کے امکان کے دلائل فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت صفحہ 164 سورہ قیامہ آیت 1تا3 لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ ۰۰۱ وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ ۰۰۲ اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ ۰۰۳ نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی، اور نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی، کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ اوپر کی دو دلیلیں ، جو قسم کی صور ت میں بیان کی گئی ہیں، صرف دو باتیں ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ (یعنی قیامت کا پہلا مرحلہ )ایک یقینی امر ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد دوسری زندگی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کے ایک اخلاقی وجود ہونے کے منطقی اور فطری تقاضے پُورے نہیں ہو سکتے ، اور یہ امر ضرور واقع ہونے والا ہے، کیونکہ انسان کے اندر ضمیر کی موجودگی اِس پر گواہی دے رہی ہے۔ اب یہ تیسری دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ زندگی بعدِ موت ممکن ہے۔ مکہ میں جو لوگ اس کا انکار کرتے تھے وہ با...
آخرت میں مومنین کو عزت اور کفار کو ذلت ملے گی
- Get link
- X
- Other Apps
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آخرت میں مومنین کو عزت اور کفار کو ذلت ملے گی فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت صفحہ 277 سورہ واقعہ آیت 3 خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ ۰۰۳ وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی۔ اصل الفاظ ہیں خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ ۰۰۳ ، ’’ گرانے والی اور اٹھانے والی ‘‘۔ اس کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ سب کچھ الٹ پلٹ کر کے رکھ دے گی۔ نیچے کی چیزیں اوپر اور اوپر کی چیزیں نیچے ہو جائیں گی۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ گِرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے والی اور اٹھے ہوئے لوگوں کو گرانے والی ہو گی، یعنی اس کے آنے پر انسانوں کے درمیان عزت و ذلت کا فیصلہ ایک دوسری ہی بنیاد پر ہو گا۔ جو دنیا میں عزت والے بنے پھرتے تھے وہ ذلیل ہو جائیں گے اور جو ذلیل سمجھے جاتے تھے وہ عزت پائیں گے۔
آخرت میں مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے
- Get link
- X
- Other Apps
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آخرت میں مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے فہرست موضوعات –تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت صفحہ 264، 265 فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ ۰۰۳۹ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۰۰۴۰ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِۚ ۰۰۴۱ اس روز کسی انسان اور کسی جِن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی، پھر(دیکھ لیاجائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ ۰۰۳۹ اس روز کسی انسان اور کسی جِن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی اس کی تشریح آگے کا یہ فقرہ کر رہا ہے کہ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے ‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تمام اولین و آخرین اکٹھے ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگ...