آخرت میں مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت میں مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے

فہرست موضوعات –تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 264،  265

فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ۰۰۳۹فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۰۰۴۰يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِۚ۰۰۴۱

اس روز کسی انسان اور  کسی جِن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی،  پھر(دیکھ لیاجائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں  پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔

فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ۰۰۳۹

اس روز کسی انسان اور  کسی جِن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی

اس کی تشریح آگے کا یہ فقرہ کر رہا ہے کہ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے ‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تمام اولین و آخرین اکٹھے ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت  نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں۔ نہ کسی انسان یا جن سے یہ دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ وہ مجرم ہے یا نہیں۔ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ان کی خوف زدہ آنکھیں اور ان کی گھبرائی ہوئی صورتیں اور ان کے چھوٹتے ہوئے پسینے خود ہی یہ راز فاش کر دینے کے لیے کافی ہوں گے کہ وہ مجرم ہیں۔ پولس کے گھیرے میں اگر ایک ایسا مجمع آ جائے جس میں بے گناہ اور مجرم، دونوں قسم کے لوگ ہوں، تو بے گناہوں کے چہرے کا اطمینان اور مجرموں کے چہروں کا اضطراب بیک نظر بتا دیتا ہے کہ اس مجمع میں مجرم کو ن ہے اور بے گناہ کون۔ دنیا میں یہ کلیہ بسا اوقات اس لیے غلط ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی پولیس کے بے لاگ انصاف پسند ہونے پر لوگوں کو بھروسا نہیں ہوتا، بلکہ با رہا اس کے ہاتھوں مجرموں کی بہ نسبت شریف لوگ زیادہ پریشان ہوتے ہیں، اس لیے یہاں یہ ممکن ہے کہ اس پولیس کے گھیرے میں آ  کر شریف لوگ مجرموں سے بھی زیادہ خوف زدہ ہو جائیں۔ مگر آخرت میں، جہاں ہر شریف آدمی کو اللہ تعالیٰ کے انصاف پر کامل اعتماد ہو گا، یہ گھبراہٹ صرف ان ہی لوگوں پر طاری ہو گی جن کے ضمیر خود اپنے مجرم ہونے سے آگاہ ہونگے  اور جنہیں میدان حشر میں پہنچتے ہی یقین ہو جائے گا کہ اب ان کی وہ شامت آ گئی ہے جسے ناممکن یا مشتبہ سمجھ کر وہ دنیا میں جرائم کرتے رہے تھے۔

فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۰۰۴۰

پھر(دیکھ لیاجائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو

جرم کی حقیقی بنیاد قرآن کی  نگاہ میں یہ ہے کہ بندہ جو اپنے رب کی نعمتوں سے متمتع ہو رہا ہے،اپنے نزدیک یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نعمتیں کسی کی دی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ اسے مل گئی ہیں، یا یہ کہ یہ نعمتیں خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت یا خوش نصیبی کا ثمرہ ہیں، یا یہ کہ یہ ہیں تو خدا کا عطیہ مگر اس خدا کا اپنے بندے پر کوئی حق نہیں ہے۔ یا یہ کہ خدا نے خود یہ مہربانیاں اس پر نہیں کی ہیں بلکہ یہ کسی دوسری ہستی نے اس سے کروا دی ہیں۔ یہی وہ غلط تصورات ہیں جن کی بنا پر آدمی خدا سے بے نیاز اور اس کی اطاعت و بندگی سے آزاد ہو کر دنیا میں وہ افعال کرتا ہے جن سے خدا نے منع کیا ہے اور وہ افعال نہیں کرتا جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ اس لحاظ سے ہر جرم اور ہر گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی تکذیب ہے قطع نظر اس سے کہ کوئی شخص زبان سے ان کا انکار کرتا ہو یا اقرار۔ مگر جو شخص فی الواقع تکذیب کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ اس کے ذہن کی  گہرائیوں میں تصدیق موجود ہوتی ہے، وہ احیاناً کسی بشری کمزوری سے کوئی قصور کر بیٹھے تو اس پر استغفار کرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیز اسے مکذبین میں شامل ہونے سے بچا لیتی ہے۔ اس کے سوا باقی تمام مجرم در حقیقت اللہ کی نعمتوں کے مکذب  اور اس کے احسانات کے منکر ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ جب تم لوگ مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہو جاؤ گے اس وقت ہم دیکھیں گے کہ تم ہمارے کس کس احسان کا انکار کرتے ہو۔ سورہ تکاثر میں یہی بات اس طرح فرمائی گئی ہے کہ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِؒ۰۰۸ ، اس روز ضرور تم سے ان نعمتوں کے بارے میں باز پرس کی جائے گی جو تمہیں دی گئی تھیں۔ یعنی پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں ہم نے تمہیں دی تھیں یا نہیں؟ اور انہیں پاکر تم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا؟ اور اس کی نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا؟                              

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں