آخرت کے امکان کے دلائل

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت کے امکان کے دلائل

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 164

سورہ قیامہ آیت 1تا3

لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ۰۰۱وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ۰۰۲اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ۰۰۳

نہیں،  میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی، اور نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی،  کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟

اوپر کی دو دلیلیں ، جو قسم کی صور ت میں بیان کی گئی ہیں، صرف دو باتیں ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ (یعنی قیامت کا پہلا مرحلہ )ایک یقینی امر ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد دوسری زندگی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کے ایک اخلاقی وجود ہونے کے منطقی اور فطری تقاضے پُورے نہیں ہو سکتے ، اور یہ امر ضرور واقع ہونے والا ہے، کیونکہ انسان کے اندر ضمیر کی موجودگی اِس پر گواہی دے رہی ہے۔ اب یہ تیسری دلیل  یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ زندگی بعدِ موت ممکن  ہے۔ مکہ میں جو لوگ اس کا انکار کرتے تھے وہ  بار بار یہ کہتے تھے کہ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر چکے ہوں، جن کے جسم کا ذرہ ذرہ خا ک میں مل کر پر اگندہ ہو چکا ہو، جن  کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر نہ معلوم زمین میں کہاں کہاں منتشر ہو چکی ہوں ، جن میں سے کوئی جل مرا ہو، کوئی درندوں  کے پیٹ میں جا چکا ہو، کوئی سمندر میں غرق ہو کر مچھلیوں کی غذا بن چکا ہو، ان سب کے اجزائے جسم پھر سے جمع ہو جائیں اور ہر انسان پھر وہی شخص بن کر اٹھ کھڑا ہو جو دس بیس ہزار برس پہلے کبھی  وہ تھا؟ اس کا نہایت معقول اور انتہائی  پر زور جواب اللہ تعالیٰ نے اِس مختصر سے سوال کی شکل میں دے دیا ہے کہ ”کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو کبھی  جمع نہ کر سکیں گے“؟یعنی اگر تم سے یہ کہا گیا ہوتا کہ تمہارے یہ منتشر اجزائے جسم کسی وقت آپ سے آپ جمع ہو جائیں گے اور تم آپ سے آپ اسی جسم کے ساتھ جی اٹھو گے، تو بلا شبہ تمہارا اِسے  نا ممکن سمجھنا بجا ہوتا۔مگر تم سے تو کہا یہ گیا ہے کہ یہ کام خود نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا۔ اب کیا تم واقعی یہ سمجھ رہے ہو کہ کائنات کا خالق، جسے تم خود بھی خالق مانتے ہو ، اِس کام سے عاجز ہے؟ یہ ایسا سوال تھا جس کے جواب میں کوئی شخص جو خدا کو خالقِ کائنات مانتا ہو، نہ اُس وقت یہ کہہ سکتا تھا اور نہ آج یہ کہہ سکتا ہے کہ خدا بھی یہ کام کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ اور اگر کوئی بے وقوف ایسی بات کہے تو اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تم آج جس جسم میں اِس وقت موجود ہو اس کے بے شمار اجزاء کو ہوا اور پانی اور مٹی اور نہ معلوم کہا ں کہاں سے جمع کر کے اُسی خدا نے کیسے یہ جسم بنا دیا جس کے متعلق تم یہ کہہ رہے ہو کہ وہ پھر ان اجزاء کو جمع نہیں کر سکتا؟

آخرت کے امکان کے دلائل

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 177

سورہ قیامہ آیت 36تا40

اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ۰۰۳۶اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ۰۰۳۷ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰۳۸فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ۰۰۳۹اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰىؒ۰۰۴۰

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یُونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحمِ مادر میں )ٹپکایا جاتا ہے؟  پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔ کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے؟

یہ حیات بعدِ موت کے امکان کی دلیل ہے۔ جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق کا آغاز کر کے پُور اانسان بنا دینے تک کا سارا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اورحکمت کا کرشمہ ہے ان کے لیے تو فی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہ کتنی ہی ڈِھٹائی برتیں، ان کی عقل یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجود میں لے آنے پر  قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ اگر ہٹ دھرمی پر تُلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان  کے پاس اس بات کی کیا توجیہ ہے کہ آغازِ آفرنیش سے آج تک دنیا کے ہر حصے اور ہر قوم میں کس طرح ایک ہی نوعیت کے تخلیقی فعل کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش مسلسل اِس تناسب سے ہوتی چلی جا رہی ہے کہ کہیں کسی زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی انسانی آبادی میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہی پیدا ہوتی چلی جائیں اور آئندہ اُس کی نسل چلنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے؟ کیا یہ بھی اتفاقاً ہی ہوئے چلا جا رہا ہے؟ اتنا بڑا دعویٰ کرنے کے لیے آدمی کوکم از کم  اتنا بے شرم ہونا چاہیے کہ وہ اٹھ کر ایک روز یہ دعوی ٰ کر بیٹھے کہ لندن اور نیوریاک ، ماسکو اور پیکنگ اتفاقاً آپ سے آپ بن گئے ہیں۔

آخرت کے امکان کے دلائل

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ212تا214

سورہ مرسلات آیات 20تا28

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍۙ۰۰۲۰فَجَعَلْنٰهُ فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍۙ۰۰۲۱اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ۰۰۲۲ فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ۰۰۲۳وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۰۰۲۴اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ۰۰۲۵اَحْيَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ۰۰۲۶وَّ جَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَيْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ۰۰۲۷وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۰۰۲۸

کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا اور ایک مقرر مدت تک اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا؟ تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں ۔  تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔

کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا، زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی، اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟  تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔

فَجَعَلْنٰهُ فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍۙ۰۰۲۱

ایک مقرر مدت تک اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا؟

یعنی رحمِ مادر، جس میں استقرارِ حمل ہوتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی کے ساتھ جما دیا جاتا ہے اور اتنے انتظامات اس کی حفاظت اور پرورش کے کیے جاتے ہیں کہ کسی شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہو سکتا، اور مصنوعی اسقاط کے لیے بھی غیر معمولی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں جوفنِّ طب کی جدید ترقیات کے باوجود خطرے اور نقصان سے خالی نہیں ہیں۔

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ۰۰۲۳

تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں ۔

یہ حیات بعدِ موت کے امکان کی صریح دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم ایک حقیر نطفے سے تمہاری ابتدا کر کے تمہیں پُورا انسان بنانے پر قادر تھے، تو آخر دوبارہ تمہیں کسی اور طرح پیدا کر دینے پر کیوں قادر نہ ہوں گے؟ ہماری یہ تخلیق، جس کے نتیجے میں تم آج زندہ موجود ہو، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، ایسے عاجز نہیں ہیں کہ ایک دفعہ پیدا کر کے پھر تمہیں پیدا نہ کر سکیں۔

وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۰۰۲۸

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔

یہاں  یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ حیات بعدِ موت کے امکان کی یہ صریح دلیل سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی جو لوگ اُس کو جھٹلا رہے ہیں، وہ آج اُس کا جتنا چاہیں مذاق اڑا لیں، اور جس قدر چاہیں اس کے ماننے والوں کو دقیا نوسی، تاریک خیال اور اوہام پرست قرارد یتے رہیں، مگر جب وہ دن آجائے گا جسے یہ جھٹلا رہے ہیں تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے لیے تباہی کا دن ہے۔

اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟

یہ آخرت کے ممکن اور معقول ہونے پر ایک اور دلیل ہے ۔ یہی ایک کُرہ زمین ہے جو کڑوروں اور اربوں سال سے  بے حد و حساب مخلوقات کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے، ہر قسم کی نبا تات، ہر قسم کے حیوانات اور انسان اس پر جی رہے ہیں، اور سب کی ضروریات پُوری کرنے کےلیے اِس کے پیٹ میں سے طرح طرح کے اَتھاہ خزانے نکلتے چلے آرہے ہیں۔ پھر یہی زمین ہے جس پر اِن تمام اقسام کی مخلوقات کے بے شمار افرادروز مرتے ہیں، مگر ایسا بے نظیر انتظام کر دیا گیا ہے کہ سب کے لاشے اِسی زمین میں ٹھکانے لگ جاتے ہیں اور یہ پھر ہر مخلوق کے نئے افراد کے جینے اور بسنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ اِس زمین کو سپاٹ گیند کی طرح بھی بنا کر نہیں رکھ دیا گیا ہے بلکہ اس میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے اور فلک بوس پہاڑ قائم کیے گئے ہیں جن کا موسموں کے تغیرات میں، بارشوں کے برسنے میں، دریاؤں کی پیدائش میں ، زرخیز وادیوں کے وجود میں ، بڑے بڑے شہتیر فراہم کر نے والے درختوں کے اُگنے میں ، قسم قسم کے معدنیات اور طرح طرح کے پتھروں کی فراہمی میں  بہت بڑا دخل ہے۔ پھر اس زمین کے پیٹ میں  میٹھا پانی پیدا کیا گیا  ہے، اِس کی پیٹھ پر بھی میٹھے پانی کی نہریں بہا دی گئی ہیں، اور سمندر کے کھارے پانی سے صاف ستھرے بخارات اٹھا کر بھی نتھرا ہوا پانی آسمان سے بر سانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کیا یہ سب اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایک قادرِ مطلق نے یہ سب کچھ بنا یا ہے، اور وہ محض قادر ہی نہیں ہے بلکہ علیم و حکیم بھی ہے؟ اب اگر اس کی قدرت اور حکمت ہی سے یہ زمین اِس سروسامان کے ساتھ اور اِن حکمتوں کے ساتھ بنی ہے تو ایک صاحبِ عقل آدمی کو یہ سمجھنے میں کیوں مشکل پیش آتی ہے کہ اُسی کی قدرت اِس دنیا کی بساط لپیٹ کر پھر ایک دوسری دنیا نئے طرز پر بنا سکتی ہے، اور اُس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اِس کے بعد ایک دوسری دنیا بنائے تا کہ انسان سے اُن اعمال کا حساب لے جو اُس نے اِس دنیا میں  کیے ہیں؟

وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۰۰۲۸

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔

یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ خدا کی قدرت اور حکمت کے یہ کرشمے دیکھ کر بھی آخرت کے ممکن اور معقول ہونے کا انکار کر رہے ہیں اور اس بات کو جُھٹلا رہے ہیں کہ خدا اِس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا پیدا کرے گا اور اُس میں انسان سےاُس کے اعمال کا حساب لے گا، وہ اپنی اِس خام خیالی میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو رہیں۔ جس روز یہ سب کچھ اُن کی توقعات کے خلاف پیش آجائے گا اس روز اُنہیں پتہ چل جا ِئے گا کہ انہوں نے یہ حماقت کر کے خود اپنے لیے تباہی مول لی ہے۔

آخرت کے امکان کے دلائل

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 243تا249

سورہ نازعات آیات 27تا46

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ۰۰۲۷رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ۰۰۲۸وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪۰۰۲۹وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ۰۰۳۰اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪۰۰۳۱وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ۰۰۳۲مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ۰۰۳۳فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ٞۖ۰۰۳۴يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى ۙ۰۰۳۵وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى۰۰۳۶فَاَمَّا مَنْ طَغٰى ۙ۰۰۳۷وَ اٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاۙ۰۰۳۸فَاِنَّ الْجَحِيْمَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۳۹وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ۰۰۴۰فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۴۱يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ۰۰۴۲فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ۰۰۴۳اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ۰۰۴۴اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ۰۰۴۵كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَاؒ۰۰۴۶

کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟  اللہ نے اُس کو بنایا، اُس کی چھت خُوب اُونچی اُٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا، اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔  اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا،  اُس کے اندر اُس کا پانی اور چارہ نکالا، اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔

پھر جب وہ ہنگامہٴِ عظیم برپا ہوگا، جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا،  اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی، تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔ اور جس نے اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا تھا ، جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“  تمہارا کیا کام کہ اُس کا وقت بتاوٴ۔ اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔ تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے۔جس  روز یہ لوگ اُسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہو گا کہ (یہ دنیا میں یا حالتِ موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں

آخرت کے امکان کے دلائل

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 264،  265

سورہ تکویر آیات 8،  9

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ۪ۙ۰۰۸بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ۰۰۹

اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قُصور میں مار ی گئی؟

اس آیت کے اندازِ بیان میں ایسی شدید غضبناکی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضبناکی کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اِس معصوم کو کیوں قتل کیا، بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بے چاری آخر کس قصور میں ماری گئی، اور وہ اپنی داستان سنائے گی کہ ظالم ماں باپ نے اس کے ساتھ کیا ظلم کیا اور کس طرح اسے زندہ دفن کر دیا۔ اس کے علاوہ اس مختصر سی آیت میں دو بہت بڑے مضمون سمیٹ دیے گئے ہیں جو الفاظ میں بیان کیے بغیر خود بخود اس کے فَحویٰ سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اس میں اہل عرب کو یہ  احساس دلا یا گیا ہے کہ جاہلیت نے ان کو اخلاقی پستی کی کس انتہا پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی ہی اولاد کو اپنے ہاتھوں زندہ در گور کرتے ہیں، پھر بھی انہیں اصرار ہے کہ اپنی اِسی جاہلیت پر قائم رہیں گے اور اُس اصلاح کو قبول نہ کریں گے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بگڑے ہوئے معاشرے میں کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اِس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے۔ جس لڑکی کو زندہ دفن کر دیا گیا، آخر اس کی کہیں تو دادرسی ہونی چاہیے، اور جن ظالموں نے یہ ظلم کیا ، آخر کبھی تو وہ وقت آنا چاہیے جب ان سے اِس بے دردانہ ظلم کی باز پرس کی جائے۔ دفن ہونے والی لڑکی کی فریاد دنیا میں تو کوئی سننے والا نہ تھا۔ جاہلیت کے معاشرے میں اِس فعل کو بالکل جائز کر رکھا گیا تھا۔ نہ ماں باپ کو اس پر کوئی شرم آتی تھی۔ نہ خاندان میں کوئی ان کو ملامت کرنے والا تھا۔ نہ معاشرے میں کوئی اس پر گرفت کرنے والا تھا۔ پھر کیا خدا کی خدائی میں یہ ظلمِ عظیم بالکل ہی بے داد رہ جانا چاہیے؟

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں