سورہ بقرۃ رکوع 33 آیات 249تا253
سورہ بقرۃ رکوع 33
آیات 249تا253
فَلَمَّا فَصَلَ
طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ
شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّيْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّيْۤ
اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِيْلًا
مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا
لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيْنَ
يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ
فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۰۰۲۴۹وَ لَمَّا بَرَزُوْا
لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ
ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَؕ۰۰۲۵۰فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ
اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ
الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ
بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ
عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۰۰۲۵۱تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ
نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۲۵۲تِلْكَ الرُّسُلُ
فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ
بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ
اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ
الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَ
لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ
شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُؒ۰۰۲۵
پھرجب طالوت لشکر لے کر چلا،
تو اس نے کہا:”ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا
پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہےجو اس سے پیاس نہ بجھائے ،
ہاں ایک آدھ چُلّو کوئی پی لے“مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب
ہوئے۔
پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی
مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت
اور اس کےلشکر وں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے
تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سےملنا ہے، انھوں نے کہا: ”بار ہا ایسا ہوا ہے کہ
ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں
کا ساتھی ہے۔“ اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے، تو
انہوں نے دعا کی:” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر ، ہمارے قدم جمادے اور اس
کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر“۔آ خر کا ر اللہ کےاذن سے انھوں نے کافروں کومار
بھگایا اور داوٴد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت
اور حکمت سے نوازا اور جِن جِن چیزوں کا چاہا، اس کو علم دیا۔۔۔۔ اگر
اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا، تو
زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے(کہ وہ اس
طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)۔
یہ اللہ کی آیات ہیں، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سُنا
رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو، جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم
نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود
ہمکلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں
عیسٰی ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روحِ پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ
چاہتا ، تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے
تھے، وہ آپس میں لڑتے۔ مگر( اللہ کی مشیّت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً
اختلاف سے روکے، اس وجہ سے)انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا
اور کسی نےکفر کی راہ اختیار کی۔ ہاں اللہ چاہتا، تو وہ ہر گز نہ لڑتے، مگر
اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ؏۳۳
Comments
Post a Comment