دعا اسوۂ حسنۃ تقریر سید منور حسن مرحوم
دعا اسوۂ حسنۃ
تقریر سید منور حسن مرحوم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ والصلوة والسلام على رسوله الکریم وعلى آله
واصحابه اجمعين ْ
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ
ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًاؕ۰۰۲۱وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ
الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ
اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ٞ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًاؕ۰۰۲۲مِنَ
الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ
مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ١ۖٞ وَ مَا بَدَّلُوْا
تَبْدِيْلًاۙ۰۰۲۳
سیرت نبوی میں دعا کا مقام یا دعا اور اسوۂ حسنہ، بظاہر توایک ایسا موضوع ہےکہ جو ہرشخص کے ذہن میں بالکل مستحضر اور واضح ہے۔
لیکن یہاں جو احباب جمع ہیں، ان کی مناسبت یا ان کی نسبت سےمیں نے یہ کوشش کی ہے
کہ بعض ایسی باتیں سامنے آسکیں کہ جن سے اس موضوع کی اہمیت اجاگر کی جاسکے۔نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں جو
کمالات جمع تھے۔ ان کے دو شعبے بنائے جا سکتے ہیں۔ایک شعبہ عبدیت کاملہ کا
ہے۔ یعنی بندگی کی معراج،بندگی اپنی عاجزی اور عظمت کی انتہاؤں کو چھوتی ہوئی، عبدیت
کاملہ۔اس کا اظہار بھی آپ ہیں ، اس کا پیکر بھی آپ ہیں۔ اور اظہار اور پیکر کے
لئے، جو سہارا نظر آتا ہے وہ دعاکا ہے۔ یعنی اس عبدیت کاملہ کے اظہار کا پیکر۔
دوسرا
شعبہ نبوت جامعہ۔یعنی اتمام اور اکمال نبوت۔اور اس کا اظہار اور اس کا پیکر دعوت
اور جہاد ہے۔دعوت اور دعا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے دونوں ہی بڑے
اہم پہلو ہیں۔یہ آپ کی زندگی کے نہایت ہی نمایاں عنوانات ہیں۔اور دعوت بھی، اور
دعا بھی دونوں سیرت کے مستقل ابواب ، یعنی تاریخ کے مستقل ابواب ہیں۔اور ان دونوں
کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔نہ دعا کو دعوت کے بغیر سمجھا جاسکتا ہے،اور نہ دعوت تک
پہنچ اور رسائی دعا کو سمجھے بغیر کی جاسکتی ہے۔تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ واضح اور
دوٹوک ہے کہ دعوت جلوت کی چیز ہے۔سب کی نظر اس پر پڑتی ہے اس کی تفصیلات، اس کی
جزئیات،جا بجا موجود ہیں۔اس کے آثار درخشاں ہیں، تاباں ہیں۔اس کے نتائج واشگاف ہیں، نمایاں ہیں۔ یعنی یہ جلی اور خفی ہر عنوان دکھائی دیتی ہے، سنائی دیتی ہے۔چلتی
پھرتی نظر آتی ہے۔اس دعوت کی جلوہ افروزیاں
ایک عالم کو اپنے اوپر گواہ بناتی
ہیں، شاہد بناتی ہیں۔تاآنکہ یہ دعوت تحریک بن جاتی ہے۔انقلاب قرار پاتی
ہے۔بالآخر چلتا پھرتا معاشرہ ہوجاتی ہے۔ اور پھر ریاست کا روپ اور شکل اختیار
کرکے،نظام بن جاتی ہے، تمکن اور اقتدار تک پہنچ جاتی ہے۔یعنی دعوت اس قدر نمایاں
اور جلی، آنکھوں سے نظر آتی ہے، کانوں سے سنائی دیتی ہے۔ اس کی دھمک دور دور تک
پہنچتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔یہ جلوت کی
چیز ہے۔
جبکہ
دعا جو ہے وہ خلوت کی چیز ہے۔اور حالانکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ،خود دعوت کی
اثر پذیری میں بھی دعا کابڑا اہم مقام ہے۔دعوت کی وسعت میں ،دعوت کے پھیلاؤ میں اس
کی تسخیر میں اسکا بڑا حصہ ہے۔ گراں قدر اس کا رول بڑا انمول ہے دعا کا۔ اور سیرت
نبوی میں اس کی حیثیت اور اس کا مرتبہ فیصلہ کن
حیثیت اور مرتبہ رکھتا ہے۔لیکن میں اس وقت صرف دعا ہی کے حوالے سے چند
باتیں عرض کروں گا۔
نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسان اپنے رب کے بارے میں اس درجہ جہالت
میں ڈوبا ہوا تھا ،اس طرح غفلتوں کا شکار تھا ،اور یوں غلط فہمیوں کا اسیر تھا کہ
اس کے اپنے اندر نہ دعا کی کوئی طلب تھی،
نہ فطری جذبہ اور خواہش تھی نہ اس کے دل کا کوئی تقاضا اور نہ مطالبہ تھا کہ وہ
اپنے رب سے جڑے ،اس سے مانگے، اس سے طلب کرے ،کوئی عنوان زندگی بندگی کا راستہ
تلاش کرے ۔ یعنی یوں کہیے کہ گویا دعا کا سرچشمہ اس جہالت ،اس کے گھٹاٹوپ اندھیروں
کی وجہ سے اندر ہی اندر خشک ہوگیا تھا ،اور بندے اور رب کا رشتہ اس طرح ٹوٹ پھوٹ
گیا تھا ، مضمحل ہوگیا تھا کہ یوں محسوس
ہوتا تھا کہ جیسے کوئی تنا ہے بغیر جڑ کے ،بغیر بنیاد کے کوئی عمارت ہے ،جب کہ دعا
کے لئے یہ بات بالکل ناگزیر ہےاور لازمی شرط ہے کہ اس ہستی کے بارے میں یقین کامل
موجود ہو ،جس سے دعا کی جارہی ہے۔ یہ یقین کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ،اسے مکمل
اختیار ہے، یہ یقین کہ اس کے خزانے بے بہا ہیں ،اس کی رحمتیں بے پایاں ہیں۔ اور یہ
یقین کہ اس کی مغفرتیں زمین وآسمان کو محیط ہیں۔ آسمان کی پہنائیوں تک اور زمین
کی گہرائیوں تک، اتری ہوئی ہیں۔یہ یقین
کامل ناگزیر ہے ،ضروری ہے،یعنی جس سے
مانگنا ہے ،جس سے طلب کرنا ہے۔ یہ یقین کہ اس کے در کے سوا کوئی اور در نہیں ہے،
جس کا سوالی بنا جائے، کوئی چوکھٹ نہیں
ہےجس پر سجدہ ریز ہوا جائے، اور یہ یقین کہ وہ تو خود ہی دینا چاہتا ہے
۔کوئی لے کر اتنا خوش نہیں ہوتا ،جتنا کہ وہ دے کر خوش ہوتا ہے، یہ یقین اور یہ
یقین کہ وہ محبت وشفقت،رحمت و رافت، بخشش اور مغفرت اور عطا اور انعام جتنے عنوان
اور درگزر اور احسان یہ سب اس کی خاص صفات ہیں ۔یہی اس کی پہچان اور شناخت ہے ۔پھر
اس یقین کامل کی ضرورت ،کہ بندہ محتاج محض، مجسم سوال ، سراپا کشکول گدائی ،اس کی
بے بضاعتی ،اس کی عاجزی ،اس کی درماندگی ،اور اس کا ضعف ،اس کی فروتنی بالکل آشکار
،دوٹوک ،نمایاں اس میں کوئی کلام یا اس
میں کوئی دقیقہ فروگزاشت کرنے والی چیز نہیں اور پھر یہ یقین کہ وہ ہر ایک کی سنتا
ہے ہر حال سنتا ہے ،ہر عنوان سنتا ہے ، بزبان حال بھی سنتا ہے ،بزبان قال بھی سنتا
ہے۔جو کہ سکے اس کی کہی سنتا ہے ، جو نہ کہ سکے اس کی ان کہی سنتا ہے ، بآواز بلند
بھی سنتا ہے، خفی اور جلی ہرہر بحر میں سنتا ہے اور ہر وقت سنتا ہے رات کی تاریکی
ہو، دن کا اجالا ہو ،اس کے در رحمت پر ہر وقت دستک دی جاسکتی ہے، ہر لمحہ اسے
پکارا جاسکتا ہے۔ کوئی لمحہ نہیں کہ جس
میں اس سے رجوع نہ کیا جاسکتا ہو، اس سے سرگوشی کی جاسکتی ہے ،ہمکلامی کا شرف حاصل
کیا جاسکتا ہے۔
معلم دعا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
بعثت سے قبل ان میں سے ہر یقین ناپید ہوچکا تھا،مضمحل اور نایاب ہوچکا تھا۔ ان میں
کا ہر یقین شبہات کے حوالے ہوچکا تھا، مغالطوں کا ،توہمات کا ،ان کی بھول بھلیوں
میں گم ہوچکا تھا ۔غلط فہمیوں کا، جہالتوں کا ،اس کی نذر ہوچکا تھا۔ لہذا جس ہستی
کی ہر صفت کمال کے انکار پر اصرار تھا، جس کی مسلسل نفی کی جارہی تھی اپنے سارے
رویوں سے، اپنے قول و فعل سے ،زندگی کے پورے نظام سے، ہر ہر فرد کے اندر سراپا اس
کی نفی تھی ۔پورے معاشرے اور اجتماعیت میں اور اس نظام میں اس کی نفی تھی ، تو اس
در کا سوالی بننے ، اس سے طلب کرنے، اس سے مانگنے ،مدد چاہنے اور سراپا ملتجی ہونے
کی گنجائش ہی بھلا کہاں باقی رہ گئی تھی ۔ اور پھر اس پر مستزاد ، مزید ظلم یہ بھی
کیا گیا تھا ،کہ نظام طاغوت نے اس اللہ رب العالمین کی ہر صفت کو کسی نہ کسی مخلوق
کے ساتھ منسوب کردیا تھا۔ یہ صفات موجود تھیں لیکن کسی نہ کسی فرد کے ساتھ ، شخص
کے ساتھ، مخلوق کے ساتھ منسوب تھیں۔ کوئی احیاء پر قادر تھا، کسی کے لئے زمان و
مکان کے حجابات اٹھادئے گئے تھے، کوئی اپنے پکارنے والوں کے لئے ،اپنے پرستاروں کے
لئے ہر وقت ، ہر جگہ پہنچ سکتا تھا۔ کسی کی دسترس میں سارے خزانے دے دئے گئے تھے۔
اور یہ مقامی الہ، ہر ہر جگہ پر یہ مقامی الہ یہ
نظر کے سامنے تھے ،دسترس کے اندر تھے ۔جبکہ حقیقی الہ نظروں سے اوجھل دور ،بہت دور کہیں جا بسا تھا۔ اور دور
دور تک جس کا نام و نشان ڈھونڈے بھی نہیں ملتا تھا۔ بالفاظ دیگر دعا اور التجا کا
دروازہ نہ صرف یہ کہ بند کردیا گیا تھا، بلکہ اس اصل مالک کی طرف سے رخ موڑ کران
لوگوں کے سپرد کردیا گیا تھا، جوخود اپنی ذات کے اندر ضعیف بھی تھے ،ناتواں بھی
تھے اور بظاہر لوگوں کے نزدیک ملجا و ماوی بھی تھے۔ لہذا نبئ اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس محروم انسان کو، لق و دق صحراء میں گم کردہ انسان کو ، خود اپنی پہچان
اور شناخت مسخ کردینے والے انسان کو ،اور اپنے رب سے دور ،اوربہت دور ہوجانے والے،
اتھاہ گہرائیوں ، انحطاط کی پستیوں میں ڈوب جانے والے انسان کو دوبارہ دعا کی دولت
سے مالامال کیا۔ یعنی اس پس منظر میں دیکھئےکہ کیا کیا ملا انسان کو۔ جو گھر بیٹھے
اس وقت ہم کو میسر ہے جس بات سے ہم بظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم واقف ہیں ۔ اس سفر
کو دیکھئے کہاں سے یہ بات چلی ہے۔بندے اور رب کے تعلق کو آپ نے دوبارہ بحال کیا ۔
بندے کو اس کے رب سے ملایا۔ دونوں کو ہم کلام کیا۔ زندگی بندگی سے آشنا بلکہ لذت
آشنا ہوئی اس کو عزت ملی ،اس کو سرفرازی ملی ،اس کو رفعت ملی ۔اس زندگی کو بلندی ملی۔ اور انسان کو اذن باریابی
ملا۔ اور یوں ابن آدم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کے ذریعہ پھر
اپنے خالق سے، پھر اپنے مالک سے، اس کے آستانےپر پھر وہ پہنچ گیا۔ بھولا ہوا انسان
،ایک بھٹکا ہوا انسان ، در بدر کی ٹھوکریں صدیوں کھانے والا انسان جانب منزل رواں
دواں ہوا، اور بندے اور رب کے تعلق کو یہ نئی جہت ملی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے قرب الہی کی نوید سنائی۔ اللہ کی طرف سے خوشخبری اور بشارت ، یہ مژدۂ
جانفزا سنایا کہ "وَاِذَا سَاَلَكَ
عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْالِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ١٨٦"
کہ جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں ، مجھ سے
متعلق پوچھیں تو انھیں بتا دیجئے کہ میں ان کے بالکل قریب ہوں ،ان کی سنتا ہوں، ان
کی قبول کرتا ہوں، یہ اعتماد کہ پکارنے والا فضاؤں میں، ہواؤں میں، خلاؤں میں محض
نہیں پکاررہا کہ اس کی پکار فضاؤں میں گم ہوجائے، ہواؤں میں تحلیل ہوجائے، زمین اس
کو جذب کرلے،آسمان اچک کر،نہیں سننے والا، خود فرمارہاہے کہ پہنچادیجئےیہ بات کہ
میں سنتا ہوں، میں قبول کرتا ہوں، بالکل قریب ان کے موجود ہوتا ہوں۔ لہذا نہ صرف یہ کہ آپ نے یہ
واضح کیا کہ بندہ اپنے مالک سے سوال کرسکتا ہے، ملتجی ہوسکتا ہے، دعا کرسکتا ہے،
در رحمت پہ دستک دے سکتا ہےبلکہ یہ بھی کہ وہ سنتا ہے، وہ اس کی مدد کرتا ہے،
پہنچتا ہے۔ اور پھر یہ کہ اللہ کو بندے کی یہ ادا بڑی پسند آتی ہے،یعنی بندے کا یہ
دعا کرنا اس کو بہت پسند ہے۔ وہ دعا کرنے ہی سے راضی اور خوش ہوتا ہے، بلکہ دعا نہ
کرنے سے ناراض ہوتا ہے۔ یہ بندگی کا نہایت واضح اور مؤثر مظاہرہ کہ عدم دعا کے
نتیجہ میں گویا بندگی سے گریز کی کیفیت۔ وَقَالَ
رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ
عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ
کہ
رب تو یہ کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو ،تمہاری دعاؤں کو قبول کروں
گا،اور اس کے آگے میری بندگی سے جو لوگ منہ موڑتے ہیں ، جو لوگ ایسا نہیں کرتےگویا
وہی سرکشی کرنے والے اور ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہونے والے، بلکہ مزید ایک قدم
آگےیعنی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا نہ کرنا صرف محرومی ہی کا باعث نہیں
کہ آدمی کسی چیز سے محروم رہ جائے، اس کا ہاتھ ، اس کا دامن خالی رہ جائے بلکہ اس
کے علی الرغم، اوراس کے ساتھ اللہ کی ناراضگی کا سبب بھی ہے کہ "من
لم یسءل اللہ یغضب علیہ" جو اس سے سوال
نہیں کرتا اس سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ یعنی اس حد تک اس کا تعلق ہے اور اسی پر آپ
نےاکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ یہ تو عبادت کا مغز ہے"الدعآء مخ
العبادۃ" دعا کومغز ،جوہر قرار دیا، اور پھر دعا کو رحمت و برکت کے خزانوں تک
پہنچنے کا کامیابی اور کامرانی کی نوید سنانے کا یقینی ذریعہ بھی بتایا ہےکہ
"من فتح لہ منکم باب الدعآء فتحت لہ
ابواب الرحمۃ" یعنی اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں جس کے لئے دعا کا
دروازہ کھل جاتا ہے،یعنی جس نے یہ دروازہ کھول لیا اس کے لئے پھروہ سارے دروازے کھلتے
چلے جاتے ہیں۔
اپنے رب تک رسائی کا یقینی ذریعہ۔ یعنی وہ
وسیلہ جو مسدود ہوگیا تھا ، وہ راستہ جو بند کردیا گیا تھا اور پوری کی پوری
انسانیت جس سے محروم کردی گئی تھی ۔وہ دوبارہ زندہ ہوا، تابندہ ہوا اور یہ دولت اس
قدر عام ہوئی کہ ،"رہےاس سے محروم آبی نہ خاکی کے مصداق "،یعنی سبھی تک
اس کی رسائی ہوئی۔ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض دعا کی اہمیت اور فضیلت ہی
نہیں بتائی ،بلکہ دعا کرنا بھی سکھایا۔یعنی میں کچھ کہنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہ یہ
جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتایا ،قرآن
پاک نے بھی بتایا، احادیث سے بھی پتہ چلا ۔اور یہ جزئیات تک میں آپ نے دعا
کا کرنا سکھایا ہے ۔بلکہ یوں کہیے کہ آپ نے ان الفاظ میں اپنے خالق اور مالک سے
دعا کی۔ یعنی وہ الفاظ بھی عجیب و غریب ہیں۔ دعاؤں کے اس ذخیرہ پر ذرا نگاہ ڈالیے
،ایسے الفاظ کہ جو اثر پذیری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ایسے الفاظ جو بلاغت،
موزونیت اور اپنے محل اور مناسبت کے اعتبار سے نایاب ہیں، بے مثل۔ یعنی وہ الفاظ
آپنے چن کر ان دعاؤں میں یعنی اگر اس ذخیرۂ دعا پر نظر ڈالی جائے ہم سب کچھ نہ
کچھ دعاؤں
سے واقف ہیں ، سنتے رہتے ہیں،کرتے رہتے
ہیں۔پڑھتے رہتے ہیں ۔تو ذرا اس ذخیرۂ دعا پر نظر ڈالئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم سے جو مسنون۔ کوئی چیز رہ نہیں گئی ہےاس میں۔ کوئی کمی، کوئی کسر، کوئی
عنوان، اس ذخیرۂ دعا پر نظر ڈالیں تو ان دعاؤں میں بے تکلفی بھی ہے۔ ان دعاؤں میں
بے ساختگی بھی ہے۔ ان دعاؤں کے اندر
اپنائیت بھی ہے۔ ان دعاؤں کے اندر سادگی بھی ہے۔ ان میں حجابات کا اٹھ جانا ، بندہ
اپنے رب کے ساتھ۔ اور اس کی جلوہ افروزیاں،حجابات کا اٹھ جانا، ان دعاؤں میں بے
کلی کا علاج بھی ہے۔ جس بے کلی کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے، تصور کیا جاسکتا ہے۔ ہر
درد کا درماں بھی ہے، ہر زخم کا مرہم بھی ہے، ہر اضطراب کے لئے انشراح اور طمانیت بھی
ہے۔ یعنی ان دعاؤں کے اندر بحیثیت مجموعی ایک غرض مند کا جس کی غرض اٹکی ہوئی ہے۔ ایک غرض مند کا اصرار
بھی ہے،اور اس غرض مند کااضطرار بھی ہے ،
لفظوں کےاندر، پیرائے میں ہر چیز یہ ملے گی۔ان دعاؤں میں آپ دیکھیں کہ درد کی کسک
بھی ہے۔ اس کا پورا پورا اظہار بھی ہے۔ اور پھر اسی کے ساتھ ساتھ ایسا نہیں ہے کہ
وہ جو رشتہ ہےبندے اور رب کا اس میں کوئی
خلل واقع ہوتا ہو، بارگاہ رب العزت کا لحاظ بھی ہے ، اس کا ادب اور پاس بھی ہے، اس
کی ربوبیت کا اور اس کے دربار کے شایان شان، پرشکوہ انداز میں اس سے خطاب بھی ہے،
اپنی بات کہنے کا انداز بھی ہے۔ یعنی جو زبان استعمال ہوئی ہےیعنی سچی بات یہ ہے
کہ کیسے انسان اس کو بیان کرسکے۔ وہ زبان صاحب زبان کے دل کی حقیقی ترجمان بھی ہے ، اور اس کی پاسبان بھی
ہے، نگران بھی ہے۔یہ جو دعا اور مناجات ہیں زبان سے نکلے ہوئے ایسے الفاظ کہ جو
محض الفاظ نہیں ہیں ۔ کہیں دل کے ٹکڑے ہیں۔ کہیں آنکھ کے آنسو ہیں۔ کہیں قلب
کاگداز لئے ہیں۔ اخلاص کا اورایمان کا نچوڑ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔کہیں پسیجے
ہوئے دل کی ، دکھے ہوئے دل کی پکار ہیں۔ کہیں شکستہ دل کے غماز ہیں۔ اور یہ ساری
دعاؤں کے ذخيرہ کو ایک سے ایک دیگ کے جتنے چاول آدمی چنے ،چنتا چلا جائے۔ اور ان
دعاؤں کے اندر ، ان
میں نبوت کا نور بھی ہے، ان میں پیغمبر کا یقین، اس میں پیغمبر کا یقین، جب چاروں
طرف اندھیرا ہو روشنی کی بات، جب چاروں طرف مایوسی کی کیفیت ہو امید دلانے کی بات۔
اس میں عبد کامل کا نیاز بھی ہے۔ اورمحبوب رب العالمین کا اعتماد اور اس کا ناز
بھی ہے۔ اگر ایک دو مثالوں سے میں اپنی بات کہنے کی کوشش کروں ۔ طائف ہی کی دعا کو
لے لیجئے۔ ذہن میں تو بات آتی ہے نا وہ پس منظرپورا سامنے ہے۔ اس لئے کہ دعا تو
دعوت سے منسلک ہے۔ جدوجہد کے ساتھ ملی ہوئی اورجڑی ہوئی ہے۔اور جو جدوجہد کو سامنے
رکھ سکے۔ اور اس دعوت اور اس کے لئے کی جانے والی سعی اور کاوش کو مد نظر رکھ سکے۔
اس حوالے سے وہ دعا کی بھی قدر و قیمت کا احساس کرسکے۔ یعنی طائف کی اس دعا کے
اندر بے بسی بھی ہے، بے چارگی بھی ہے، عجز و درماندگی بھی ہے، ضعف اور فقر اور
احتیاج بیان کرنےکے لئے جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔ اور دریائے رحمت کو جوش دلانے
کے لئے، اس میں تلاطم پیدا کرنے کےلئے، اس میں مدوجزر اٹھانے کے لئے، اس کو طوفان
بنانے کےلئے، بڑی مؤثر اور دل آویز ۔یعنی پوری دعا پڑھتے چلے جائیے۔ یعنی ذرا اس سفر طائف کا نقشہ
تو اپنےسامنے لائیے۔ اور اس مسافر طائف کے شکستہ دل کی، ہاں چاہیں تو صرف شکستہ دل
ہی کی بات کیجئے۔ اور اگر دیکھ سکیں ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر،کوئی تاریخ سے رشتہ جوڑ کر، تاریخ کیا ہوتا ہے،
ایمان کے حوالے سے کوئی رشتہ جوڑ کریعنی ذراخون میں لت پت ان پیروں پر تو نگاہیں
مرکوز کیجئے۔ درخت کے نیچے سستانے کے لئےبیٹھے ہیں۔ بڑی امید کے ساتھ آئے تھے نا
کہ یہ اہل مکہ تو مانتے نہیں سنی ان سنی کئے دیتے ہیں۔ طائف کے لوگ مانیں گے، اس
دعوت کو قبول کریں گے، دل میں اس کوجگہ دیں گے اور کیا عجب کہ کوئی ریاست، یہ دعوت
ریاست بن جائے ، کوئی سرزمین کوئی ٹکڑا نصیب ہوجائے۔ طائف! کیا عجب کہ اس کی
ابتداء یہیں سے ، ان امیدوں کے ساتھ آپ آئے تھے۔ دردر پہ دستک دیتے ہیں، ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، ہرفرد جو
نظر آتا ہے بڑا اور چھوٹا پیغام نامہ وپیامہ آپ فرماتے ہیں۔کوئی نہیں جو مان کر
دینے والا، قبول کرنے والا، تصدیق کرنے والا، آمنا اور صدقنا کہنے والا،اس پکار کو
دل میں جگہ دینے والا، نہیں کوئی بھی تو نہیں، ذرا دیکھیں تو سہی، یہ تو
ایمان کاحصہ ہے، ذرا پیچھے کی طرف لوٹ کے۔ اور اسی پر بس نہیں ہوا ہےکہ انکار
کردیتے ، خالی ہاتھ لوٹادیتے۔ بلکہ پھرآپ جب لوٹے ہیں تو گلی کے بچے ہیں ، لچے
لفنگے ہیں، پتھروں کی یورش ہے، بارش ہے، بچے پتھر مارتے جاتے ہیں، جسم اطہر سے خون
بہ رہا ہے، نعلین مبارک خون میں لتھڑے
ہوئے پیر اس میں جمے ہوئے، اس حال میں آپ بیٹھے ہیں۔ پھر جب آپ درخت کے نیچے سستانے
کو پہنچتے ہیں تو ،مسئلہ تو ذرا ساکچھ آگے بڑھ جاتا ہے کہ جبرئیل امین آتے ہیں ،کہ
آج پروردگار عالم بڑا غضب ناک ہے۔اور کیوں نہ غضب ناک ہو، کہ اس کا محبوب ترین
بندہ، آج بڑا غضب ناک ہے۔آپ اشارہ کیجئے۔
یہ فرشتہ ساتھ ہے۔ اس بستی کوکہ جو دو پہاڑوں کےدرمیان میں ہے۔ ان پہاڑوں کو ملا
دیا جائے۔یہ بستی ریزہ ریزہ ہوجائے۔ خاک و خون ہوجائے، عبرت کا نشان ہوجائے۔تاریخ
کے اندر خود اپنی مثال آپ، تباہی و بربادی کی مثال ہوجائے۔ لیکن نہیں ، آپ فرماتے
ہیں کہ نہیں یہ نہیں ان کے بعد والے۔ اور بظاہر یہ وہ الفاظ ہیں کہ جو یعنی یہ الفاظ ہی بس زبان مبارک سے نکلے،
اور پھر وہ دعا ،وہ رشتہ بندے اور رب کا ، وہ تو یوں بھی جڑا ہی رہتا ہے۔ لیکن پھر
الفاظ کا پیرایہ اختیار کرتا ہے۔ اپنی کمزروری کی، بے سروسامانی کی،لوگوں کے تحقیر
آمیز سلوک کی میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں۔ یعنی جوتو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ
رحم کرنے والا، رب المستضعفین ہے۔ اور میرا مالک بھی توہی ہے۔مجھے کس کے سپرد کرتا
ہے، کس کے حوالے کرتاہے، جو مجھے پہچانتے نہیں، جو مجھے جانتے نہیں۔ جو نام اور
شناخت سے دور بہت دورکہیں اپنی بستی بسائے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بات اپنی ختم اسی پر
کرتے ہیں۔کہ اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں، اگر تو راضی ہے تو بس میں راضی ہوں۔ میرا
رب راضی ہے تو پھرسارا جگ راضی ہے۔
تومیں عرض کررہا تھا نا کہ اس کی عظمت و
کبریائی، اس کا ادراک ہے۔اس کی عظمت و کبریائی، اس کااعتراف ہے۔اپنی ناتوانی کا، اپنی بے نوائی
کا، اپنی بے بضاعتی کا، اپنے ضعف اور کمزوری کا، اپنی شکستگی کا، اپنی غربت،
اوراپنی مظلومیت کا ، اس کی عکاسی بھی پوری ہو رہی ہے اور اس کی عظمت کے گن بھی
گارہے ہیں۔ اس کی بڑائی، جو اس کا مقام، اس کا بھی اظہار اور اعتراف فرمارہے ہیں۔
اس کی عکاس ہےیہ دعا۔ یعنی جس کے باب رحمت پر دستک دی جارہی ہے۔ جس کی رحمت کو جوش
دلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔دریائے رحمت میں تلاطم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سب کچھ موجود ہے۔ میں تو عرض کررہا تھا نا کہ الفاظ کا بھی جو چناؤ ہے، الفاظ کا
بھی جو ذخیرہ ہے۔حالانکہ اس سے پہلے وہ بات میں نے عرض کی تھی کہ، رہتی دنیا تک
انسانوں کی جو احتیاج ہوسکتی ہے، انسان جس فطرت پر پیدا کیا گیا اس کی جو احتیاج ،
اس کی جو ضرورت، اس کی فطرت کا جوتقاضا، جو مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ رب سے جڑنے کی
بات ہو، دنیا میں رہنے کی بات ہو، مسائل و مشکلات کی ، مصائب کے سمندر کی ،پہاڑوں
کی بات ہو۔ جو کچھ ممکن ہے انسانوں کے لئے وہ سب دعاؤں کے اندر موجود ہے۔ اور ان
الفاظ میں اور اس پیرائے میں موجود ہے۔کہ چاہیں تو ادب پارہ کہ لیں، چاہیں تو
جامعیت کا نمونہ کہ لیں۔چاہیں تو بات شروع اور ختم کرنے کا انداز کہ اس سے بہتر
ناممکن ہے۔ اس لئے اگرکسی پر کوئی ایسا
وقت آئے، اور دل کی کیفیت بھی کچھ ترجمانی
کررہی ہو تو کیا اس سے بہتر الفاظ ممکن ہیں؟اور اس سے مؤثر پیرایۂ بیان ممکن ہے؟کہ جس میں دل کی بھی ترجمانی ہو اور جذبات کی بھی ترجمانی۔ اور وہ احتیاط،
اور وہ ادب و پاس اپنے رب کا اور اس کی بندگی کرتے ہوئے اس کی عظمت کا اعتراف ہونا
چاہئے، وہ بھی اس کے اندر موجود ہے۔ اس لئے نہ صرف یہ کہ جوڑا اپنے رب کے ساتھ بلکہ اس رشتے کو
اسی طرح سے جوڑا اور ان الفاظ کے ساتھ جوڑا کہ جو اس کی کبریائی کو پکارنے والے
بھی ہوں اور اپنی درماندگی کا احساس دلانے والے بھی۔تو میں یہ عرض کررہا تھا کہ انسانی ضروریات کا سلسلہ لامتناہی، یعنی میں
اور آپ اکیلے اکیلے ہی بیٹھ جائیں کبھی اور اپنی ضروریات کی فہرست بنائیں۔ان کا
سمیٹنا ناممکن، میرے کیا مسائل ہیں، کیا احتیاج ہے، کیاضروریات ہیں ان کو ترتیب
دینا، اس میں ترجیح قائم کرنامشکل۔ان کا خلاصہ کیا ہو، ان کا نچوڑ کیا ہو، کوئی
عطر پیش کرنا ہو، کوئی ایک بات کرنی ہو، بتاؤ فورا قبول کی جائے۔ کوئی ایک بات
کہنا مشکل، الفاظ نہیں ملتے، بات نہیں سمجھ میں آتی،کونسی ضرورت انسان بیان کرے،
کس کو روکے کس کو آگے بڑھائے۔ یعنی اپنے پر بھی قیاس کرکے آدمی اس بات کو سمجھ
سکتا ہے۔ اور اپنے رب سے واقعی عرض مدعا کاموقع آہی جائے تو بندہ کیا کرے؟ ویسے تو
رب ہر وقت ہر جگہ موجود ہے۔لیکن کبھی یہ احساس شدت کے ساتھ دلادیا جائے کہ یہ اس
وقت یہاں موجود کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرامتی کی ہمیشہ
کے لئے نمائندگی کی ، بھرپور اور جامع نمائندگی، قیامت تک کے لئے انسانوں کی نیابت
مکمل طور پر آپ نے فرمائی۔
یعنی کس کس طرح اس عنوان کو سمیٹا جائے۔
" لاالہ الااللہ الحلیم الکریم۔ سبحان رب العرش العظیم۔ والحمد للہ رب
العالمین۔ اسئلک مؤجبات رحمتک۔ میں تجھ سے وہ اعمال اور فضائل مانگتا ہوں جو تیری
رحمت کو واجب کرنے والے۔ اس سے مختصر، اس
سے جامع، محیط ہر چیز پر کوئی بات ہوسکتی ہے،وہ اعمال و فضائل جوتیری رحمت کو واجب
کردیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آدمی کہے بھی تو کیسے کہے کس عنوان اس کی تعریف کرے،
وعزائم مغفرتک۔ اور مغفرت کے یقینی اسباب میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ مغفرت کے یقینی
اسباب۔ والغنیمت من کل بر۔ والسلامۃ من کل اثم۔ یعنی ہر نیکی کی بھرمار کہیں ہر
نیکی کی لوٹ کہیں اور ہر معصیت سے حفاظت۔ یعنی کس طرح پوری امت کے لئے مانگ لیا آپ نے ۔ یہ تعلیم بھی تو ہے اس کے
اندر تلقین بھی تو ہے۔ نہیں کہ سکتے کہنے کا پیرایہ بھی تو ہے نااس کے اندر۔ نہیں
مانگ سکتے مانگنے کا طریقہ بھی ہے اس کے اندر اور نہیں جانتے کہ تم کیا مانگنا
چاہتے ہو۔ تمہیں یہ مانگنا چاہیے۔
"لا تدع لی ذنب الا غفرتہ۔ کوئی گناہ نہ چھوڑ جسے تو بخش نہ دے۔ ولا ھم الا
فرجتہ۔ کوئی ایسی تشویش جسے تو دور نہ کردے۔ کوئی پریشانی، کوئی تشویش، کوئی خدشہ،
کوئی گلہ جو انسان کو ہو۔ کوئی کھٹکا بھی اس میں ہو سکتا ہے۔ ولا ھم الا فرجتہ۔
ولا حاجۃ ھی لک رضا الا قضیتہا یارب العالمین۔نہ کوئی ایسی ضرورت جسے تو پورا نہ
فرمادے ۔ کس قدر جامعیت، اور ضرورتوں کا کس قدر احاطہ ہے اس کے اندر اور انسان کو
جو کچھ میسر آسکتا ہے آنا چاہیے۔ اے ارحم الراحمین۔میں نے تو عرض کیا تھا نا کہ
دیگ کے ایک دو چاولوں ہی کی بات ہے۔
جو مجموعہ ہائے دعا ہے، جو ذخیرہ ہے دعا
کا۔ اب انسانوں کا معاملہ کیا ہے؟ ہم سب بیٹھے ہیں نا یہاں پر اپنی اپنی ذات کے
اندر، ہم اپنی اپنی جگہ بڑے اہم ذمہ دار دینی تحریک کے، لیکن ایک عجیب و غریب بات
ہے، میں اوروں سے نہیں کہ رہا، میں تو اپنے آپ سے بات کر رہا ہوں ناکہ انسان
دوسروں کو چھوٹا اور اپنے کو بڑا سمجھنے کا دائمی مریض ہے۔ اسے خود پرستی کہیں ،
خود بینی کہیں۔ یعنی اور لوگ بہرحال چھوٹے
ہی ہوتے ہیں۔ انسان اپنی ذات کے اندر اوروں سے قد اسکا کچھ نکلتا ہی ہے۔ کچھ علم
کے لحاظ سے، کچھ شخصیت کے لحاظ سے، کچھ عمل کے میدان میں، کچھ دنیا داری کے اندر،
کچھ لب و لہجہ سے، یعنی ہر انسان ذرا جھانک کر دیکھے۔ ایک ایسا مرض کہ جو ازل سے ہے۔باقی رہنا ہے جس کو۔ نبی صلی
اللہ علیہ وسلم واقف انسانوں کے اس مرض سے۔ الھم الجعلنی صبورا واجعلنی شکورا۔ اے
اللہ مجھے بڑا صبر کرنے والا، اور بڑا شکر کرنے والا بنادے۔ واجعلنی فی عینی
صغیرا۔ اور مجھے میری نظر میں چھوٹا بنادے۔ خاطر میں نہیں لاتا ہے کسی کو۔وفی اعین
الناس کبیرا۔اور دوسروں کی نظر میں بڑا بنا دے۔ یعنی سارا تزکیہ اس کے اندرموجود
ہے، تربیت کا سامان موجود ہے۔ اور وہ تعلیم موجود ہے۔ یعنی یہ مرض اب ان کونظر
نہیں آتا، پہچانا نہیں جاتا، پھر چھٹکارا اس سے مشکل۔سید المخلصین صلی اللہ علیہ
وسلم بظاہر اپنے حق میں اس طرح دعا فرمارہے ہیں۔ لیکن امت کو تعلیم دے رہے
ہیں۔رہتی دنیا تک اس امت کو اس مرض سے نجات پانے۔اس مرض کی طرف نشان دہی بھی
فرمارہے ہیں، اور دعا کے ذریعہ وہ تعلیم بھی موجود ہے ،اس سے نکلنے کا راستہ بھی
موجود ہے۔ یہ جو معاشرہ کے مسکین، اور عاجز اور درماندہ اور ٹھکرائے ہوئے، اور
غریب اور نادار، یہ جو بندے ہیں جن کو پرکاہ کے برابر بھی نہ کوئی اہمیت دیتا ہے،
نہ قدر و قیمت ان کی جانتا اور پہچانتا ہے۔ اہل ثروت کا اصحاب دولت کا، اصحاب
اختیار کا مقتدر لوگوں کا، ان کی تو توقیر اور ان سے تعلق تو معمول کی بات ہے۔اس
کے لئے تو سفارش بھی لوگ لے کر آتے ہیں۔ لیکن جو فقراء ہیں ، جو مساکین ہیں، جو بے
اختیار،جو بے نام و نشان ہیں ان سے محبت کمیاب بھی کہی جائے تو زیادہ ہی شاید
نکلے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ اخلاق سکھارہےہیں، یہ تعلیم دے رہے ہیں۔ ان کو
اوپر اٹھانے کی ، اور رفعتوں کا سفر طئے کرانے کی بات فرمارہے ہیں۔ الھم
انی اسئلک فعل الخیرات، وترک المنکرات، وحب المساکین۔
میں تجھ سے اے پروردگار یہ توفیق طلب کرتا ہوں، یعنی نیکیوں کے کرنے کی اوربرائیوں
کو ترک کرنے کی اور چھوڑنے کی اور غریبوں کے ساتھ محبت۔ پورا فلسفہ بھی ہے اس کے اندر پوری زندگی بھی
ہے، زندگی گذارنے کا طریقہ بھی ہے اوروہ ساری جہتیں اس کے اندر موجود ہیں،کہ جو مطلوب
ہیں۔ معاشرہ میں جسے دعوت کا کام بھی کرنا ہو، جسے کوئی تبدیلی اور انقلاب کی نوید
بھی سنانی ہو۔ انہی راستوں سے گذر کر، انہی پگڈنڈیوں پر چل کر،انہی پرپیچ بظاہر
بھول بھلیوں سے نکل کر ہی وہاں پرپہنچنا
ہو۔ لیکن یہ دعا کے اندر بھی یہ بات موجود ہے۔
بدر کے میدان کی آپ دعا لے لیجئے۔ یعنی اس
پوری دعوت پر وہ محیط ہے۔ جو تیرہ سال مکہ کےدو ڈھائی سال مدینہ طیبہ کے گذرے تھے۔
پندرہ ساڑھے پندرہ سال کی جو دعوت تھی ، جو ہجرت تھی۔ جو اس کے اندر اپنوں کی بے
گانگی تھی، ان سب پر محیط ہے وہ دعا۔ جو میدان بدر میں آپ۔ "الھم ھذہ قریش،
"اے اللہ یہ ہیں قریش! اے اللہ تو نے مجھ سے جو
وعدہ کیا ہے اس کو پورا گر مسلمانوں کی یہ
جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر روئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہوگی۔ اس کیفیت سے اس کو
آپ بیان فرمارہے ہیں ۔ یعنی کس سے یہ بات ڈھکی چھپی ہے۔میں نے تو ابتدا میں ہی یہ
بات عرض کی نا کہ یہ دونوں چولی دامن کا ساتھ ہے دعوت کااور دعا کا۔کہ سب کو آرام
کرنے کے لئے آپ فرماتے ہیں، اور خود گویا مصلے پر کھڑے ہوجاتے ہیں، یعنی قریش کا
بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کے فخر و غرور کا، ان کے کبر و نخوت کااور پھر ان تین سو
تیرہ کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔کہ یہ تین سو تیرہ ہیں، عمر بھر کی کمائی ہے۔ تیرہ سال جو مکے میں گذارے اور یہ دو ڈھائی سال جویہاں بسر ہوئے ۔ زندگی بھر
کی پونجی ہے تین سو تیرہ۔ چند اونٹ ہیں، چند گھوڑے ہیں، پیٹ پہ پتھر بندھے ہیں،
چند ٹوٹے ہوئے اوزار ، جسے اسلحہ کہتے ہیں۔ چند ٹوٹی ہوئی تلواریں ،کچھ نیام کے اندرنیام
سے باہر، یہ تین سو تیرہ۔ یعنی آپ کام کی رپورٹ پیش فرمارہے ہیں۔ یہ پندرہ سال میں
یہ رپورٹ ہے کام کی ۔ کہ اسی کے حوالے ہی سے تو آگے کی بات کہنی تھی۔یہ زندگی بھر
کی کمائی۔ ان کے پاس بظاہر کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن سب کچھ ہے ان کے پاس، جذبۂ جہاد
ان کے پاس ہے، شوق شہادت ان کے پاس ہے۔ اپنے رب سے ملاقات کے منتظر بے قراری ان کے
اندر موجود ہے۔اضطراب ان کے اندر موجود ہے۔ تجھ سے ملنے، ملتے چلے جانے، بڑھنے،
اور بڑھتے چلے جانے، تیرے راستے میں پیروں کو غبار آلود کرنے، یہ سب سے بے نیاز
ہوکر، یہ مکہ سے ہجرت کرکر، یہ اپنوں کو
غیر بنا کر، یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر۔ یہ بڑا سرمایہ ہے ، کل کائنات ہے یہ تین سو
تیرہ۔
اور پھر ایسی عظیم بات آپ فرماتے ہیں جو آپ
ہی فرماسکتے تھے۔ اب تو آجائے تیری مدد ،جس کا تونے وعدہ کیا ۔ اگر یہ کامیاب نہیں
ہوتے ہیں تو پھر روئے زمین پر تیری بندگی، تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔یہ
تو وہی کہہ سکتا ہے جس نے اتمام حجت کی ہو۔ وہ تو واقعات میں تو آتا ہے نا کہ جناب
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ کھڑے تھے، اور بار بار آپ کی ردائے مبارک چادر
آپ کی گر پڑتی تھی۔ بار بار وہ اٹھا کرآپ کے کاندھوں پر رکھتے تھے۔ تاآنکہ ایک
لمحہ وہ بھی آیا کہ درمیان میں وہ بھی بول پڑے، اور کہا کہ حضور بس کیجئے، کہ وہ
آپ کو مایوس نہیں کرے گا۔ اس کی نصرت اور اس کی تائید قدموں کو چومے گی۔ یعنی یہ
بھی اشارہ ہے ناآپ تو جانتے ہیں۔ ان حالات کو ، اور اس پورے پس منظر کوجس میں ، جن
الفاظ میں یہ بات کہی جارہی ہے۔ بلکہ ذرا
آپ نیچے آجائیں ۔یہ تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کررہے ہیں نا۔ذرا
کسی ایک آدھ صحابی کی بات کرلیں۔ یعنی جو آپ کے تربیت یافتہ تھے۔جنہوں نے بظاہر آپ
سے فیض پایا۔جنہوں نے صحبت اٹھائی، اصحاب کاالنجوم کہلائے۔صرف ایک مثال عرض کرتا
ہوں کہ ایران کی ایک جنگ میں ،جنگ قادسیہ، حضرت قعقعاع رضی اللہ تعالی عنہ انہوں
نے امیر لشکر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی اجازت کے بغیردشمن پر حملہ کردیا۔ امیر
لشکر سے پوچھا نہیں اور دشمن پر حملہ آور ہوگئے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے جب
یہ دیکھا تو فورا اللہ سے دعا کی الھم المغفر للقعقعاع وانصر فقد اذنت لہ وان لم
یستاءذن۔ اے اللہ تو قعقعاع کو معاف فرمادے۔
اس کو کامیابی اور نصرت سے نواز
اگرچہ اس نے اجازت نہیں مانگی پر میں نے دے دی۔اور جب اپنے سردار کو دیکھ کر ان کا
پورا قبیلہ بھی اس حملہ کے اندر بغیر اجازت کے شریک ہوگیا۔ اور حضرت سعد نے دیکھا
کہ یہ تو پورا لشکر اس طرف چل پڑا تو پھر دعا کی الھم المغفر لھم وانصرھم فقد اذنت
لھم وان لم یستاء ذن۔ اے اللہ انہیں معاف فرمادے ،انہیں نصرت سے نواز دےاگرچہ
انہوں نے اجازت نہیں مانگی پر میں نے اجازت دے دی۔ یعنی اس میں کتنے عنوانات پنہاں
ہیں اس کے اندر۔ہم تو بظاہر ایک محدود دائرے میں دعا پر ہی بات کررہے ہیں نالیکن
اس کے اندر یہ عنوان بھی، یہاں تو ذمہ داران بیٹھے ہیں لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے
والے، جن کے جلو میں لوگ چلتے ہیں۔ وہ بیٹھے ہیں۔یہ جو مغفرت کی بات ہے اورلوگوں کو معاف کرنے کی ان کو معافی
دینے کی، ان کی غلطیوں سے درگذر کی۔ اور
بظاہر اتنی فاش غلطی مجھ سے پوچھے بغیر میں موجود ہوں آپ کو مجھ سے پوچھ
کر، نہیں ، میں نے ان کو معاف کیا۔تو بھی ان کو معاف کردے، اجازت نہیں میں نے ان
کو اجازت دی۔یعنی اس کے اندر وہ وسعت ہے وہ عالی ظرفی ہے۔ اسی کو قیادت کہتے ہیں۔
یہ وہ بلندیاں ہیں یہ وہ رفعتیں
ہیں جوپھر ذروں کو آفتاب بنادیں۔ جوچھوٹوں کو بڑا بنادیں۔ جوبندوں کو رب سے ملادے،
جو منزلوں کو آسان کردے اور منزلوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ مسافر کی طرف سفر کریں کہ یہ ایک قدم چلے تو وہ دس قدم چل کر
آئے۔اس پر لے آتی ہے۔ اس لئے میرے دوستویہ تو کوئی علمی مجلس تو ہے نہیں اور نہ
میں کوئی علمی بات میں کررہا ہوں ، نہ میں اس کی
قدرت رکھتا ہوں۔ ہم تو دعوت کے میدان کے کارکن ہیں۔ یہ تشخص بار بار نگاہوں
میں تازہ رہے اوجھل نہ ہو۔ یعنی وہ لوگ کہ
جو دعوت و تذکیر کے عنوان سجائے بیٹھے ہیں، تسلیم و رضا کی تصویر بنے ہیں، ہم تو
وہ ایک دوسرے سے مخاطب ہیں۔ تبادلہ خیال
کررہے ہیں۔ وہ جو اس حوالے سے وقار کااور متانت کااور سنجیدگی کا پیکر بنے ہوئے
ہیں۔ صبر و شکر کے کوہ گراں نظر آتے ہیں، اپنے اپنے محاذوں کےاوپر ڈٹے ہوئے، سینہ
سپر ، بلند آہنگ، سر سے کفن باندھے ہوئےیہ
بظاہر محاورے کی زبان استعارے کی زبان ہے، سر سے کفن بندھا ہی ہوتا ہے ۔ یہ
باندھنے سے نہیں بندھا کرتا ہے۔ یہ کرنے سے یہ کام کو کرنے سے بندھا ہوا ہوتا ہے۔
جان ہتھیلی پر لئے، جذبۂ جنوں سے سرشار، یہ عشق کا سودا کئے، شہادت کے لئے تیار،
یہ منزل کا رخ کئے،کشتیاں جلا کر ، سب کچھ تج دے کر ان راہوں کےاوپر چلے اور کھڑے
ہیں۔ یہ تو میں اپنی اور آپ کی بات کررہا ہوں۔ پھر دعا کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ یہ
مضبوط ترین ہتھیار ہے ، ہر دور کے اندر چلنے والا، باقی رہنے والا، یہ کند نہیں
ہوتاہتھیار، سارے ہتھیاروں کو کند کردینے والاہتھیار، یہ حاوی ہے۔ اونٹ کو رسی سے
باندھے اسی پر پھر توکل کرے۔ یہ جو دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہی ہے
یہ دعا۔ یہ پہچان بھی انہوں نے دی، یہ شناخت بھی انہوں نے دی۔یہ تعلق بھی انہوں نے
جوڑا۔ اس کی عظمت کو واشگاف کیا۔ اس کے
ضعف کو ، ناتوانی ، بے بضاعتی کو کھول کر رکھدیا کہ تم کچھ ہو نہیں ، جب سب کچھ نظر آتے ہو تب بھی کچھ نہیں
ہو۔ جب تمہاری پشت پر پوری دنیا بھی ہوتی
ہے تو تب بھی کچھ نہیں ہو۔ اور جب وہ پشت پر ہوتا ہے تو ساری دنیا بھی پرکاہ
کےبرابر ، جوتی کی نوک پرہوتی ہے ساری دنیا، جب وہ پشت پر ہوتا ہے۔ لہذا دعا کو
اپنا ہتھیار بنائیں۔کہ اپنےرب سے لو لگائیں۔اسی سے اپنے تعلق کو بڑھائیں۔اسی سے
ہمکلامی کا شرف پائیں۔ ہر لمحہ اسی کی طرف متوجہ، اسی کو پکاریں، بزبان حال بھی
پکاریں۔ سمع و بصر جو جو عنوانات ہوسکتے ہیں۔ یعنی اس سمیع و بصیر ذات کو بس اسی
کو سنائیں۔یہ جو گلہ ان سے ہےمجھے، یہ جو گلہ ان سے ہےمجھے، یہ گلہ بھی اسی کے
سامنے کریں، کہ تیرے راستے میں مجھے ان سے کوئی تکلیف پہنچی ہے۔ مجھے ان سے بھی
تکلیف پہنچی۔ بس تو ہے نا تیرے راستے میں پہنچی ہے نا، تو نے کہا تھا نا کہ ان کے
ساتھ چلو، تو نے کہا تھا کہ ان کی اطاعت کرو بس میں کرتا ہوں۔ جی نہیں چاہتا کرتا ہوں۔ ہوتی نہیں مجھ سے کرانا بھی
نہیں آتا۔ اسی سے کہیں اگر گلہ بھی۔ اگر کوئی رپورٹ پیش کرنی ہے تو اسی کو رپورٹ
پیش کریں۔ کوئی شکوہ شکایت کرنی ہے تو بھی اسی کو پیش کریں۔ دینے والا تو وہی ہے۔اور رفع کرنے والا۔کوئی کوتاہی اس سے
اس سے ، مجھ سے آپ سے ہورہی ہے اس کا ازالہ کرنے والا بھی وہی ہے۔ لہذا جو علیم و
خبیر ہستی ہے، اسی کو بتائیں۔ اپنا دکھڑا بھی اسی کو سنائیں۔ جو ملجا ہے ماوی ہے۔
اسی کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے کی جو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ یعنی کس قدر قربت
حاصل ہے۔ جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے بس اسی کے ہوجائیں۔ اپنے اندر جذبہ، اٹھ
کھڑے ہونے کی کیفیت، اور لڑادے ممولے کو شہباز سے ، یہ تو سب کہنے کی باتیں ہیں۔
لیکن وہ کیفیت پاتا ہے۔ پھر اضطراب کو یقین ملتا ہے۔ اضمحلال کو شرح صدر ملتا ہے۔
اسی کے نتیجہ میں بے قراری کو قرار آتا ہے۔ اسی کے نتیجہ میں بے کیف پر کیف ہوجاتی
ہے ۔یاس امید میں بدل جاتی ہے۔ اور بے نور اسی کے نتیجہ میں نور بن جاتا ہے۔اس لئے جسے نصرت خداوندی کہتے ہیں، جسے
تائید ایزدی کہتے ہیں، جسے فتح و ظفر کہتے ہیں۔ جسے کامیابی و کامرانی اور قدموں
کے چومنے کی بات ہم کہتے ہیں۔ یہ سب پھرمنزلیں ہیں اگر منزلیں ان کو کہا جائے۔
مرحلے ہیں اگر مرحلے ان کو نام دیا جائے۔ اس دعا کے نتیجہ میں ان کیفیتوں سے
سرشاری ہوتی ہے۔ یہ مرحلے آسان ، یہ مرحلے نگاہوں کے سامنے اور یہ محاذ، فتوحات،
اورظفر مندی قدموں کے نیچے آتے چلے جاتے
ہیں۔ آخری بات اس سلسلے میں کہ کر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔ حضرت امام غزالی رحمہ
اللہ نے اس سلسلے میں بڑی پیاری بات کہی ہے۔بات سے بات سمجھ میں آتی ہے۔انہوں نے
فرمایا کہ دعا محض، دعا کی حیثیت صرف التجا کی اورصرف درخواست کی نہیں ہے۔کہ اپنی
خواہشات کے بارے میں، اپنی تمناؤں کے بارے میں، اپنی آرزؤں کے بارے میں، اپنی
چاہتوں اور فطرت کے تقاضوں کے بارے میں آدمی اپنےہاتھ پھیلا کر اور دامن کھولکر
رکھ دیتا ہے۔نہیں بلکہ اس کی حیثیت اپنے رب سے مشورے اور استصواب کی ہے ۔ ذرا
دیکھئے ایک عجیب و غریب نکتہ ہے اس میں کہ
بندہ اپنی درخواست اپنے رب کے حضور پیش
کردیتا ہے۔ مشورے کے لئے، استصواب کے لئے، وہ جس قدر قبول کرلیتا ہے ۔ گویا منظور
ہوجاتی ہے۔ نظر آجاتا ہے۔ جو نہیں کرتا ٹھیک ہےوہ بھی بلند تر حکمتوں کے تحت۔ لیکن
جو بات ہے وہ یہ کہ دعا کے سہارے کیا جانے والا کام وہ صرف بندے کا نہیں رہ جاتا،
بلکہ اس کے رب کا ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ اس سے مشورہ کیا تھا، اس کی بارگاہ میں پیش
کیا تھا۔ لہذا اس کی حیثیت صرف کسی التجا
کی ، کسی خواہش کی ، کسی تمنا ہی کی نہیں رہ جاتی۔ لہذا اس کے فیصلے پر انسان
مطمئن۔تو میرے دوستو میرے عزیزواور میرے
بزرگو!جس محاذ پر ہم کھڑے ہیں ، جس مقام پر ہم اس وقت نظر آتے ہیں ۔ جس مرحلے میں
ہم داخل ہیں ، بحیثیت تحریک کے بحیثیت تحریک کے ایک کارکن کےاس کا تناظر مختلف اور
جدا بھی ہوسکتا ہے۔ میں ادھر سے بیٹھ کر دیکھتا ہوں مجھےایسا نظر آتا ہے۔ آپ ادھر
سے بیٹھ کر دیکھتے آپ کو ویسا نظر آتا ہےدونوں اپنی اپنی جگہ درست دیکھ رہے
ہوتےہیں، اور اپنے اطراف میں جو دنیا ہم نے بسائی ہوئی ہےجہاں پیر ہمارے گڑے ہوئے
ہیں ۔ یہاں ہمارےجذبات کی دنیا ہے،ہمارے بچوں، ہماری اولاد کی دنیا ہے۔ہمارے گھر
بار اس کی ترجیحات کی دنیا ہے۔اور کل سے بہتر آج ہو ، اور آج سے بہتر ہو کل اس کی
مصداق دنیا ہے ۔ یہ رنگین، رنگ برنگی دنیا ، یہ چاروں طرف دلوں کو لبھانے والی،
پرکشش۔ اس دنیا کے اندر کھڑے ہوکر ، ہم تحریک اور اسلام اور دین اور اجتماعیت،بڑے
سوالات ہیں اس میں، بڑے اعتراضات ہیں، بڑے عنوانات، بڑے چیلینج ہیں اس میں ۔آدمی سوچنا شروع کردے، پریشان ہو ہو
جائے۔ان سب کا علاج بھی دعا کے اندر ہے۔یعنی سارے معاملات اسی کے دربار میں پیش
کئے جائیں۔میں نے تو عرض کیا تھا نا کہ ، یعنی ادھر ادھر کی بات میں نہیں کررہا۔
کہ مجھے تو کوئی آدمی ہی نہیں پسند آتا۔کچھ ہے میری کیفیت، یہ نہیں اچھا لگتا، وہ
نہیں اچھا لگتا،یہ بھی برے ہیں ، ان کے فیصلے ہی غلط ہیں،ان کے طریقے، سمجھ میں
نہیں آتے۔اس سے کرو بات، اس سے کہا جائے اس بات کو۔لیکن اسی سے کہا جائے۔ یہ بڑے
راز کی بات ہے۔میں آپ کو نہیں پسند آتا ، آپ مجھے پسند نہیں آتے۔یعنی ذرا دور کی
بات کررہا ہوں۔لیکن یہ ذرا اس سے کہیں۔ پھر پسند اور ناپسند بھی اسی کے ہاتھ میں
ہے نا۔پھر دلوں کو کھول دینا ، دلوں کو وا کردینا،کام کی ، میدان کی تنگنائیوں کو
واشگاف کردینا۔ وسعت ان کو دے دینا۔ دور دور تک ان کو پھیلا دینا، سہولتیں جس کو
لوگ کہتے ہیں فراہم کردینا۔ اسی لئے یہ تو
ایسا عجیب و غریب ہتھیار ہے۔تو بندے کو تو اپنے رب پہ ناز ہے کہ میں تو اپنے
رب سے کہوں گا۔میں اس سے گلہ کروں گا۔ تم
نے میرا دل دکھایا ہے۔میں اس سے جاکے بات کروں گا۔اور تم نے مجھے خوش کیاہے، میں
تو صلہ نہیں دے سکتا۔میں اس سے کہوں گا وہ تم کو صلہ دے گا۔تم نے میرا دل خوش کیا
ہے۔ تم نے میری لاج رکھی ہے۔ تم نے بھری بزم کے اندراس راز کی بات کو واشگاف نہیں
ہونے دیا ، چھپایا ہے۔ بس میں اپنے رب سے کہوں گا وہ تمہیں اس کا صلہ دے
گا۔تمہارے درجات کی بلندی ہو۔ یعنی یہ ایسا عجیب و غریب ہتھیار ہے۔ کبھی کبھی مثال ہم تواپنے ذہن کی تنگنائی کی وجہ سے اپنے
ذہن کو مطمئن کرنےاور سمجھنے کے لئےدیتے ہیں ورنہ مثال کا اطلاق توپورا نہیں ہوتا۔وہ جو چھوٹا سا بچہ گھر میں
ہوتا ہے نا۔اس کا سارا ناز اپنے باپ پر ہوتا ہے۔دن بھر جو لوگ اس سے لڑتے ہیں
جھگڑتے ہیں کہتا ہے ابا جان سے کہوں گا۔دن بھر جو لوگ کہتے ہیں تمہارے پاس یہ نہیں
ہے وہ نہیں ہے۔ ابو سے میں فرمائش کروں
گا۔ اور جب بالآخر اس کا باپ آتا ہے تو اس کی ٹانگوں سے چمٹ جاتا ہے۔ سب کچھ کہتا
ہے۔اور کبھی کبھی تو یہ بھی کہ دیتا ہے کہ وہ چاند، وہ اوپرچاند، مجھے تو یہ چاند چاہئے۔ یعنی اتنا ناز ہے اس کو اپنے
باپ پر، اور اتنی بڑی ہستی وہ سمجھتا ہے اس کو۔ اتنا اہم ہتھیار ہے وہ اس کے
لئے۔مجھے تو یہ چاند چاہئے۔ اب جس کو ساری زندگی خود ہی چاند نہیں ملا وہ کہاں سے
اپنے بچے کو چاند لاکر دے۔لیکن وہ بھی اس کے گالوں کو تھپتھپاتا ہے، اس کے لبوں کے
اوپر اپنے لب رکھ دیتا ہے، اس کی پیشانی کو بوسہ دیتا ہے، اس کے پیٹ کو گدگداتا
ہے، اور اس کے ہاتھ میں دو ٹافیاں دے دیتا ہے ، اور وہ چاند سمجھ کر واپس چلا جاتا
ہے۔لیکن جس کے اختیار میں سب کچھ ہے،یعنی چاند ستارے تو ہیچ ہیں ان کی کیا حیثیت ۔اور یہ لفظوں کی تو دنیا نہیں ہے
یہ تو ایمان کی دنیاہے۔کہ جس کے اختیار میں سب کچھ ہے ، جس کی پوری کائنات،جس کا
وہ فرمانروا ہے، جو اول و آخر ہے،جو سمیع و بصیر ہے، جو علیم و خبیر،جو ملجا و ماوی
ہے۔جس کے اشارے کے بغیر یہ پتہ بھی حرکت نہیں کرتا۔ یہ سانس جو اندر گیا اس کے حکم
کی وجہ سے، اس کے اشارے پر،اور یہ جو سانس باہر آیا جب اس نے منع کردیا تو نہیں ہے
کچھ بھی۔یعنی کس قدرقدرت والاتو کتنا بڑا ہتھیار ہےمؤمن کا یہ ، کہ میں اس سے گلہ
کروں گا۔میں اس سے شکوہ کروں گا۔کہ میں اس
سے نصرت مانگوں گا، میں اس سے تائید چاہوں گا۔ میں اس سے قوت، ضعف کو قوت میں بدل
دے۔اس لئے وہ لوگ یعنی میرے اور آپ جیسےیہ جو اس میدان میں اس محاذ پر ان حیثیتوں
اور شناخت کے ساتھ موجود ہیں۔جن کا ہم تذکرہ،کارکن، اور ذمہ دار اور کم ذمہ دار،
زیادہ ذمہ داراور داعی الی اللہ ان عنوانات سے کرتے ہیں، اس کا تو سب کچھ یہی ہے،
کچھ کئے بغیر بھی، بہت تھوڑا کئے بغیر بھی اگر وہ بہت زیادہ نظر آئے گا تواس کے
حوالے سے۔ بس اللہ تعالی سے دعا ہے ، کہ وہ ہمیں اپنا بنا لے اور اپنا ہی ہمیں
بنائے رکھے، اپنی بندگی کے راستے پر چلائے، اور اپنے ہی سے مانگنے والا بنائے۔وآخر
دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
Comments
Post a Comment