آخرت میں باطل پرست خسارے میں پڑجائیں گے
آخرت میں باطل پرست
خسارے میں پڑجائیں گے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ 592
سورہ جاثیہ آیت 27
وَ لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ
يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۲۷
زمین اور آسمانوں کی
بادشاہی اللہ ہی کی ہے ، اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست
خسارے میں پڑ جائیں گے۔
سیاق و سباق کو نگاہ
میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس فقرے سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو خدا اس عظیم
الشان کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے اس کی قدرت سے یہ بات ہر گز بعید نہیں ہے کہ
جن انسانوں کو وہ پہلے پیدا کرچکا ہے انہیں دوبارہ وجود میں لے آئے۔
آخرت میں اہل ایمان
کا استقبال کس طرح ہوگا
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ 104، 105
سورہ احزاب آیات
41تا44
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًاۙ۰۰۴۱وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا۰۰۴۲هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ
الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا۰۰۴۳تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا
كَرِيْمًا۰۰۴۴
اے لوگو! جو ایمان
لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو ۔ وہی ہے جو
تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لے دُعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ
تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے ، وہ مومنوں پر
بہت مہربان ہے جس روز وہ اس سے ملیں
گے اُن کا استقبال سلام سے ہوگا ، اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر
رکھا ہے۔
اے لوگو!
جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو
سورة الاحزاب حاشیہ
نمبر۷۸
اس سے مقصود مسلمانوں
کو یہ تلقین کرنا ہے کہ جب دشمنوں کی طرف سے اللہ کے رسول پر طعن و تشنیع کی
بوچھاڑ ہو رہی ہو اور دینِ حق کو زک پہنچانے کے لیے ذاتِ رسول کو ہدف بنا کر پروپیگنڈے
کا طوفان برپا کیا جا رہا ہو، ایسی حالت میں اہل ایمان کا کام نہ تو یہ ہے کہ ان بیہودگیوں
کو اطمینان کے ساتھ سُنتے رہیں ، اور نہ یہ کہ خود بھی دشمنوں کے پھیلائے ہوئے
شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں ، اور نہ یہ کہ جواب میں ان سے گالم گلوچ کرنے لگیں ،
بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ عام دِنوں سے بڑھ کر اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کو
اور زیادہ یاد کریں۔ ’’ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے ‘‘ کا مفہوم حاشیہ نمبر ۶۳میں
بیان کیا جا چکا ہے۔ صبح و شام تسبیح کرنے سے مُراد دائماً تسبیح کرتے رہنا ہے۔
اور تسبیح کے معنی اللہ کی پاکیزگی بیان کرنے کے ہیں نہ کہ محض دانوں والی تسبیح
پھرانے کے۔
وہ مومنوں
پر بہت مہربان ہے
سورة الاحزاب حاشیہ
نمبر۷۹
اس سے مقصود مسلمانوں
کو یہ احساس دِلانا ہے کہ کفار و منافقین کی ساری جلن اور کُڑھن اُس رحمت ہی کی
وجہ سے ہے جو اللہ کے اِس رسول کی بدولت تمہارے اوپر ہوئی ہے۔ اُسی کے ذریعہ سے ایمان
کی دولت تمہیں نصیب ہوئی ، کفر و جاہلیّت
کی تاریکیوں سے نِکل کر تم اسلام کی روشنی میں آئے۔ اور تمہارے اندر یہ بلند اخلاقی
و اجتماعی اوصاف پیدا ہوئے جن کے باعث تم علانیہ دوسروں سے برتر نظر آتے ہو۔ اسی
کا غصّہ ہے جو حاسد لوگ اللہ کے رسول پر نِکال رہے ہیں۔ اس حالت میں کوئی ایسا رویہّ
اختیار نہ کر بیٹھنا جس سے تم خدا کی اس رحمت سے محرم ہو جاؤ۔
صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ
کے صلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے
معنی رحمت ، مہربانی اور شفقت کے ہوتے ہیں۔ اور جب ملائکہ کی طرف سے انسانوں کے حق
میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی دعائے رحمت کے ہوتے ہیں ، یعنی ملائکہ انسانوں
کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ تو اِن پر فضل فرما اپنی عنایات سے
اِنہیں سرفراز کر ایک مفہوم یُصَلِّیْ
عَلَیکُمْ کا یہ بھی ہے کہ یشیع عنکم الذکر الجمیل فی عباداللہ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے بندوں کے درمیان ناموری عطا
فرماتا ہے اور تمہیں اِس درجے کو پہنچا دیتا ہے کہ خلقِ خدا تمہاری تعریف کرنے لگتی
ہے اور ملائکہ تمہاری مدح و ثنا کے چرچے کرتے ہیں۔
اُن کا
استقبال سلام سے ہوگا
سورة الاحزاب حاشیہ
نمبر۸۰
اصل الفاظ ہیں تَحِیَّتھُُمْ یَوْمَ یَلقَوْنَہٗ سَلٰمٗ’’ ان کا تحیّہ اس سے ملاقات کے روز سلام ہو گا۔‘‘ اس کے تین
مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود السّلام علیکم کے ساتھ ان کا استقبال
فرمائے گا ، جیسا کہ سُورۂ یٰسین میں فرمایا
کہ سَلاَمٌ قَوْلاًمِّنْ رَّ بٍّ رَّ حِیْمٍ(آیت۵۸)۔ دوسرے یہ کہ ملائکہ ان کو سلام کریں گے ، جیسے سورۂ نحل میں
ارشاد ہوا اَلَّذِیْنَ تَتْوَفّٰھُمُ
الْمَلیٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلاَم عَلَیْکُمُ ادْخُلُواالْجَنَّۃَ
بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ،’’جن
لو گوں کی روحیں ملائکہ اس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاکیزہ لوگ تھے ، ان سے وہ
کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر ، داخل ہو جاؤ جنت میں ان نیک اعمال کی بدولت جو تم دنیا
میں کرتے تھے ‘‘(آیت ۳۲)تیسرے یہ کہ وہ خودآپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے ،جیسے
سورۂ یونس میں فرمایا ’دَعْوٰھُم فِیْھَا
سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَتَحِیَّتھُُمْ فِیْھَا سَلام وَاٰخِرُ دَعْوٰ ھُمْ اَنِ
الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنِ ‘‘
وہاں ان کی صدا یہ ہو گی کہ خدایا ، پاک
ہے تیری ذات ، ان کا تحیہ ہو گا سلام اور ان کی تان ٹوٹے گی اس بات پر کہ
ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے ‘‘۔ (آیت ۱۰)
Comments
Post a Comment