آخرت میں جزا و سزا کس قاعدے پر مبنی ہوگی
آخرت میں جزا و سزا
کس قاعدے پر مبنی ہوگی
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ206، 207
سورہ سبا آیات 33تا38
وَ قَالَ
الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَ
النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ۠ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ
اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا
الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا
كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۳۳وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا
قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ۰۰۳۴وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ
بِمُعَذَّبِيْنَ۰۰۳۵قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ
يَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَؒ۰۰۳۶ وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِيْ
تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ٞ
فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِي الْغُرُفٰتِ
اٰمِنُوْنَ۰۰۳۷وَ الَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓىِٕكَ
فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ۰۰۳۸
وہ دبے ہوئے لوگ ان
بڑے بننے والوں سے کہیں گے” نہیں، بلکہ شب و روز کی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے
تھے کہ ہم اللہ سے کُفر کریں اور دُوسروں کی اس کا ہمسر ٹھہرائیں ۔“ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے
دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن مُنکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے ۔ کیا لوگوں
کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا
وہ پائیں؟
کبھی ایسا نہیں ہوا
کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے
لوگوں نے یہ نہ کہا ہو جو پیغام تم لے کر
آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے ۔ انہوں نے ہمیشہ
یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مالدار اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں
ہیں ۔ اے نبیؐ ، اِن سے کہو میرا ربّ جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے
چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے۔ یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب
کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے
عمل کی دُہری جزا ہے ، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے ۔ رہے
وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں
مُبتلا ہوں گے۔
آخرت میں جزا و سزا
کس قاعدے پر مبنی ہوگی
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ285
سورہ صٰفّٰت آیات
33تا39
فَاِنَّهُمْ
يَوْمَىِٕذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۰۰۳۳اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ۰۰۳۴اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ
يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ۙ۰۰۳۵وَ يَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا
لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ۰۰۳۶بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۳۷اِنَّكُمْ لَذَآىِٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِيْمِۚ۰۰۳۸وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ۰۰۳۹
اِس طرح وہ سب اُس
روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔ ہم مجرموں کے
ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا” اللہ کے سوا کوئی
معبُود بر حق نہیں ہے“ تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے اور کہتے تھے” کیا ہم ایک شاعرِ
مجنون کی خاطر اپنے معبُودوں کو چھوڑ دیں؟“ حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے
رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔ (اب ان سے کہا جائے گا کہ)تم لازماً دردناک سزا کا مزا
چکھنے والے ہو۔ اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جارہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے
جو تم کرتے رہے ہو۔
Comments
Post a Comment