آخرت میں اللہ کی عدالت میں فیصلہ کس طرح ہوگا؟
آخرت میں اللہ کی
عدالت میں فیصلہ کس طرح ہوگا؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ383
سورہ زمر آیات 68تا70
وَ نُفِخَ
فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ
شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ۰۰۶۸وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ
بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا
يُظْلَمُوْنَ۰۰۶۹وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ
بِمَا يَفْعَلُوْنَؒ۰۰۷۰
اور اُس روز صُور
پھُونکا جائے گا ،اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے
اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دُوسرا صُور پھونکا جائے گا اور یکایک
سب کے سب اُٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ زمین اپنے ربّ کے نُور سے چمک اُٹھے گی ، کتابِ
اعمال لا کر رکھ دی جائے گی ، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے ، لوگوں
کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا، اور ہر متنفّس کو
جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پُورا پُورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ لوگ جو
کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ ؏۷
آخرت میں اللہ کی
عدالت میں فیصلہ کس طرح ہوگا؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ401
وَ
اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ
كٰظِمِيْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ۰۰۱۸يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ۰۰۱۹وَ اللّٰهُ يَقْضِيْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا
يَقْضُوْنَ بِشَيْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُؒ۰۰۲۰
اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن
لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔ جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ
چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔ اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھُپا رکھے ہیں۔ اور
اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلہ کر ے گا۔ رہے وہ جن کو (یہ مشرکین)اللہ کو چھوڑ کر
پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں ۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ
سُننے اور دیکھنے والا ہے۔
آخرت میں اللہ کی
عدالت میں فیصلہ کس طرح ہوگا؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ570
سورہ دخان آیات
40تا42
اِنَّ يَوْمَ
الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۴۰يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ
يُنْصَرُوْنَۙ۰۰۴۱اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ
الرَّحِيْمُؒ۰۰۴۲
اِن سب کے اُٹھائے
جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے،
وہ دن جب کوئی عزیزِ قریب اپنے کسی عزیزِ قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں
سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست
اور رحیم ہے
فیصلے کا
دن ہے
سورۃ الدخان حاشیہ
نمبر۳۵
یہ ان کے اس مطالبے
کا جواب ہے کہ ’’ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی
بعد موت کوئی تماشا تو نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے، فوراً ایک مردہ
قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اس کے لیے تو رب العالمین نے ایک
وقت مقرر کر دیا ہے جب تمام اولین و آخرین کو وہ دوبارہ زندہ کر کے اپنی عدالت میں
جمع کرے گا اور ان کے مقدمات کا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ تم مانو چاہے نہ مانو، یہ
کام بہر حال اپنے وقت مقرر پر ہی ہوگا۔ تم مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کیونکہ
اس طرح قبل از وقت خبردار ہو کر اس عدالت سے کامیاب نکلنے کی تیاری کر سکو گے۔ نہ
مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، کیونکہ اپنی ساری عمر اس غلط فہمی میں کھپا دو
گے کہ برائی اور بھلائی جو کچھ بھی ہے بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے، مرنے کے بعد
پھر کوئی عدالت نہیں ہونی ہے جس میں ہمارے اچھے یا برے اعمال کا کوئی مستقل نتیجہ
نکلنا ہو۔
عزیزِ قریب
سورۃ الدخان حاشیہ
نمبر۳۶
اصل میں لفظ’’ مولیٰ
‘‘ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق
کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ رشتہ داری کا تعلق ہو یا
دوستی کا یا کسی اور قسم کا
وہ زبردست
اور رحیم ہے
ان فقروں میں بتایا گیا
ہے کہ فیصلے کے دن جو عدالت قائم ہو گی اس کا کیا رنگ ہو گا۔ کسی کی مدد یا حمایت
وہاں کسی مجرم کو نہ چھڑا سکے گی، نہ اس کی سزا کم ہی کرا سکے گی۔ کلی اختیارات اس
حاکم حقیقی کے ہاتھ میں ہوں گے جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں
سکتی ، اور جس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا بل بوتا کسی میں نہیں ہے ۔ یہ بالکل
اس کے اپنے اختیار تمیزی پر موقوف ہو گا کہ کسی پر رحم فرما کر اس کو سزا نہ دے یا
کم سزا دے، اور حقیقت میں اس کی شان یہی ہے کہ انصاف کرنے میں بے رحمی سے نہیں
بلکہ رحم ہی سے کام لے۔ لیکن جس کے مقدمے میں جو فیصلہ بھی وہ کرے گا وہ بہر حال
بے کم و کاست نافذ ہو گا۔ عدالت الٰہی کی یہ کیفیت بیان کرنے کے بعد آگے کے چند
فقروں میں بتایا گیا ہے کہ اس عدالت میں جو لوگ مجرم ثابت ہوں گے ان کا انجام کیا
ہو گا ، اور جن لوگوں کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ دنیا میں خدا سے ڈر کر
نافرمانیوں سے پرہیز کرتے رہے تھے، ان کو کن انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment