مومنوں کی تہجد گزاری قرآن کے آئینے میں

 مومنوں کی تہجُّد گزاری قرآن کے آئینے میں


                                            محمد اکمل فلاحی

(پہلی قسط)

«قرآن ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنی زندگی کی ہر تصویر دیکھ سکتا ہے، اس نے مومنوں کے ایمان و یقین، عبادت و اطاعت اور اخلاص وللّٰہیت کی جو تصویر پیش کی ہے وہ انتہائی دل کش اور ایمان آفریں ہے»


قرآن نے مومنوں کی تہجد گزاری کی بڑی دل کش تصویر پیش کی ہے اور ان کی نمایاں صفات کو نمایاں کیا ہے۔

کیا آپ ایسے مومنوں کی تصویر دیکھنا پسند نہیں کریں گے؟

کیا آپ ایسے مومنوں کی صفات تلاش کرنا نہیں چاہیں گے؟

آپ کہیں گے: 

کیوں نہیں؟

ضرور چاہیں گے۔

ضرور پنسد کریں گے۔

***

آپ کی پسند میری پسند،،

آئیے!

ان کی تصویر ڈھونڈتے ہیں۔

ان کا تذکرہ تلاش کرتے ہیں۔

ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتے ہیں۔


خدا ان کا تذکرہ کرتا ہے:

{کَانُوا قَلِیلًا مِّنَ الَّیلِ مَا یَھجَعُونَ} (ذاریات:17)

"وہ رات کے تھوڑے حصے میں سوتے ہیں۔"

ہاں! وہ رات کے تھوڑے حصے میں سوتے ہیں،

یہ وہ لوگ ہیں جو رات میں کم سوتے ہیں، زیادہ جاگتے ہیں، 

یہ وہ لوگ ہیں جو رات کی تنہائیوں میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں،

خدا کی محبت میں،

خدا کی چاہت میں،

خدا کی یاد میں،

قرآن کا ایک سچا قاری اس آیت کو پڑھ کر چونک پڑے گا،

کچھ دیر کے لیے رک جائے گا، 

سوچنے پر مجبور ہو جائے گا،

آگے بڑھنے سے پہلے سوال کرے گا،

وہ کہے گا: 

یہ تو اُن مومنوں کا تذکرہ ہے جو راتوں میں جگ کر زیادہ عبادت کرتے ہیں،

مگر... مَیں...

مَیں کیا کرتا ہوں؟

کیا میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں؟

کیا مجھے ایسے مومنوں کی صفوں میں شامل نہیں ہونا چاہئے؟

کیا میں نیند توڑ کر، 

بستر چھوڑ کر، 

رات کے کچھ حصے میں اٹھ کر،

آہ سحر گاہی کی منزل طے کرکے،

عبادت کا لطف اٹھاتا،

اور اس کی لذت محسوس کرتا ہوں؟

یا پھر میری پوری رات سونے کی نذر ہوجاتی ہے یا فضول کاموں میں گزر جاتی ہے؟

افسوس! 

میں نے اب تک اپنی راتوں کو سونے میں گزارا،

افسوس!

میں نے اب تک اپنی راتوں کو فضول کاموں میں گزارا،

لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، إن شاء الله،

میں نے اس آیت کو پڑھ لیا، سمجھ لیا اور اس پر غور لیا ہے،

میں نے اس آیت سے بڑا سبق حاصل کیا ہے،

میں نے اس آیت کے پیغام کو سمجھ لیا ہے،

یہ آیت میرے دل میں اتر چکی ہے،

یہ آیت مجھ سے کہہ رہی ہے کہ

کیا تم تہجد گزار مومنوں میں شامل ہونا نہیں چاہتے؟

اگر چاہتے ہو تو دیر نہ کرو، 

سستی اور کاہلی چھوڑو،

غفلت کے پردے چاک کرو، 

اور رات کی گھڑیاں اپنے رب کی یاد میں بسر کرو،

طے کرو کہ اس رمضان سے قیام اللیل شروع کردو گے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرو گے۔

***

اور آگے بڑھئے ، ان کا حال دیکھئے۔

خداوند عالم کتنے پیار بھرے انداز میں ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

{تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ المَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقنٰھُمْ یُنْفِقُونَ} (سجدہ:16)

”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے ہیں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“


وہ (ہماری) طرح سو سو کر پوری رات نہیں گزار دیتے ہیں،

وہ نرم گرم بستروں پر خراٹے کی نیند لے لے کر صبح کے منتظر نہیں رہتے ہیں،

وہ تو ذرا آرام کرتے ہیں اور پھر اپنے بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں، 

ان کے پہلو ان کی خواب گاہوں پر زیادہ دیر تک نہیں ٹکتے، ادھر سوتے ہیں، ادھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں،

وہ جلد سوجاتے ہیں تاکہ جلد اٹھ جائیں،

وہ تھوڑا آرام کرتے ہیں تاکہ زیادہ قیام کریں،


ان کے مولٰی کی یاد انہیں سجدہ گاہ تک کھینچ لاتی ہے

اور وہ کِھنچے کِھنچے چلے آتے ہیں،

وہ راتوں کو اٹھ کر یاد کرتے ہیں،،

اپنے رب کو،

سب کے رب کو،

پوری کائنات کے رب کو۔


وہ راتوں کو دعائیں مانگتے ہیں،،

اپنے خالق سے،

اپنے مالک سے،

اپنے پروردگار سے۔


وہ راتوں کو دعائیں مانگتے ہیں،،

دنیا و آخرت کی بھلائی کی،

عہدِ وفا نبھانے کی،

ہمت و عزیمت کی،

صبر و استقامت کی،

شکر و اطاعت کی،

عمل اور قبولِ عمل کی،

خدا کی راہ میں مر مٹنے کی،


وہ راتوں کو توبہ و استغفار کرتے ہیں،،

اپنے ربِّ رحیم سے، 

جو رحمتوں کی بارش کرتا ہے، 

جس کی رحمتیں ہر وقت جوش مارتی رہتی ہیں،

جس کی رحمتیں بے پایاں اور لا محدود ہیں،


وہ توبہ و استغفار کرتے ہیں،،

اپنے ربِّ کریم سے، 

جو بڑا کرم فرما ہے، 

جس کی کرم فرمائی کا کوئی ٹھکانہ نہیں،


وہ توبہ و استغفار کرتے ہیں،،

اپنے ربِّ غفور سے،

جو لغزشوں کو معاف کردیتا ہے،

جو خطاؤں کو بخش دیتا ہے، 

جو گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے، 

جو پھسلنے کے بعد سنبھلنے کا پورا پورا موقع دیتا ہے،

جو سنبھلنے والوں کو بڑھ کر تھام لیتا ہے، 

جو گناہوں کی دلدل سے نکل کر توبہ کرنے والوں کی توبہ بڑھ کر قبول کر لیتا ہے،

جو (توبۃ النصوح) دل سے سچی توبہ کرنے والوں سے بے پناہ خوش ہوتا ہے، ملأ اعلی میں ان کا تذکرہ کرتا ہے،

جو کبھی نظریں نہیں پھیرتا، جو (صحیح وقت پر) توبہ کرنے والوں کو کبھی جھڑکتا نہیں، بلکہ ان پر مغفرت کی شبنم چھڑکتا ہے،

جو توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتا، بلکہ ہر وقت کھلا رکھتا ہے،

یہ ہے ان کا رب،

اور یہ ہیں رب والے،

قیام اللیل کرنے والے،

***

کیسے لوگ ہیں یہ!

کیسے اللہ والے ہیں یہ!

کتنا خدا سے ڈرنے والے ہیں یہ!

کتنا سہم سہم کر اللہ کو پکارنے والے ہیں یہ!

وہ ڈرتے ہیں اس کی پکڑ سے،

وہ ڈرتے ہیں اس کے عذاب سے،

وہ ڈرتے ہیں اس کے حساب سے،

وہ ڈرتے ہیں قیامت کی ہولناکی سے، جس سے بڑھ کر کوئی ہولناکی نہیں،

وہ ڈرتے ہیں قیامت کی رسوائی سے، جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں،

وہ ڈرتے ہیں رب کی ناراضگی سے، جس سے بڑھ کر کوئی ناراضگی نہیں،

وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان سے کوئی کوتاہی نہ ہوجائے، 

عبادت کی ادائیگی میں،

عہد و پیمان کی پاسداری میں،

راہ خدا میں جد و جہد کرنے میں،

یہی وہ ڈر ہے جو انہیں ہمیشہ تقوٰی کی راہ پر گامزن رکھتا ہے،

یہی وہ ڈر ہے جو انہیں ہمیشہ خدا کا فرماں بردار بنائے رکھتا ہے،

یہ ہے ان کے (خوفا) کا منظر،

اور یہ ہے ان کے دل کا حال۔

***

مگر دوسری طرف اپنے رب کریم سے ان کی وابستگی کا حال تو دیکھئے۔

وہ اپنے رب سے صرف ڈرتے نہیں ہیں اور ڈر کر مایوسی کا شکار نہیں ہوجاتے ہیں، بلکہ اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ

ان کا رب انہیں معاف کردے گا،

کیوں کہ 

وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب بڑا رحیم و کریم ہے،

وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب انہیں معافی کا پروانہ عطا کرے گا،

وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب انہیں محروم نہیں کرے گا،

اپنی رحمتوں سے،

اپنی نعمتوں سے،

اپنی عنایتوں سے،

نہیں وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا،

کیوں کہ ان کا رب انہیں چاہتا ہے، اور وہ اپنے رب کو چاہتے ہیں، 

کیوں کہ ان کا رب ان سے راضی ہے، اور وہ اپنے رب سے راضی ہیں،

اسی جنت، اسی رحمت، اور اسی مغفرت کی امید لگائے وہ خوش ہو ہو کر، دوڑ دوڑ کر اور بڑھ چڑھ کر نیکیاں کماتے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں، وہ نیکیاں کرکے خوب خوش ہوتے ہیں، نیکیاں کرنے میں وہ سستی نہیں دکھاتے اور بخل سے کام نہیں لیتے،

یہ ہے ان کے (وطمعا) کی تصویر،

اور یہ ہے ان کے دل کی کیفیت۔

***

ذرا اور آگے بڑھئے، ان کی ایک اور تصویر دیکھئے...

یہ وہ لوگ ہیں جو ایک طرف اپنے رب سے جُڑے رہتے ہیں اور دوسری طرف رب کے بندوں سے جُڑے رہتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔

اس لیے کہ

انہیں معلوم ہے کہ ایک نمازی، ایک تہجد گزار کے پاس جو مال ہے، وہ مال ان کا نہیں ہے، ان کے مالک کا ہے اور اس مال کا مالک صرف ان کا مالک ہے، وہ تو بس ان کے تصرف میں ہے، اس مال کا دینے والا اللہ ہے، وہ تو بس لینے والے ہیں، وہ نہ دیتا تو کیسے پاتے، مجال نہیں کہ پالیتے، جس نے مال دیا ہے، اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ میری راہ میں میرا دیا ہوا مال خرچ کرو، 

یہی وہ تصور ہے جس کے تحت وہ اللہ کا دیا ہوا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، وہ خرچ کرتے ہیں:

مسکینوں پر،

فقیروں پر،

غریبوں پر،

ضرورت مندوں پر،

رشتے داروں پر،

پڑوسیوں پر،

اور دین کے کاموں میں،

وہ سائل اور محروم لوگوں کو بھی نوازتے ہیں، ان کے سامنے سورہ ذاریات کی یہ آیت ہوتی ہے:

{وَفِی أَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ} (الذریٰت۔ ع۔ ١)

”اور ان کے مال میں مانگنے والوں اور محروم لوگوں (دونوں) کا حق ہوتا ہے۔“

اس آیت میں پتے کی بات یہ ہے کہ ایسے تہجد گزار اپنے مال میں سے کچھ حصہ (خاص) کرتے ہیں، ضرورت مندوں کے لیے، یعنی انہیں یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ ضرورت مندوں کا پورا پورا خیال رکھنا ہے، اسے وہ بڑی اہمیت دیتے ہیں، انہیں نظر انداز کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ 

وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی راہ ہے،

اس لیے وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں۔


وہ صرف اپنا پیٹ نہیں بھرتے،

وہ صرف اپنا تن نہیں ڈھانکتے،

وہ صرف اپنی ذات کو ترجیح نہیں دیتے،

وہ صرف اپنی ضرورتیں پوری نہیں کرتے،

بلکہ اپنے بھائیوں کا بھی پورا پورا خیال رکھتے ہیں،

وہ کنجوسی نہیں کرتے، وہ بخل سے کام نہیں لیتے،

وہ مال سینت سینت کر تجوری میں نہیں رکھتے،

وہ حرص و ہوس کی دلدل میں نہیں پھنستے،

وہ شُحِّ نفس (دل کی تنگی)سے دور رہتے ہیں،

وہ اپنے آس پاس بسنے والے حاجت مندوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں،

وہ چل کر، مِل کر لوگوں کی خبر گیری کرتے ہیں، ان کا حال پوچھتے ہیں، ان پر مال خرچ کرتے ہیں، ان کا تعاون کرتے ہیں۔

یہ ہے ان کے انفاق فی سبیل اللہ کا دل کش منظر،

اور یہ ہے ان کے {وَمِمَّا رَزَقْناھُمْ یُنفِقُونَ} کی جیتی جاگتی تصویر۔


ہمیں بھی ان لوگوں جیسا بننا ہے،

ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے،

ہمیں بھی اپنے دلوں میں انفاق کا یہی جذبہ پروان چڑھانا ہے۔

ایسا کیوں نہ ہو، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں، جو (شہر المواساۃ) غم گساری، خیر خواہی، خیر طلبی اور ہم دردی کا مہینہ ہے،

 پھر کیوں نہ نیکیاں اور خوبیاں پیدا کرنے والے بابرکت مہینے میں بڑھ چڑھ کر نیکیوں میں حصہ لیں؟

کیوں نہ انفاق کے لیے ہاتھ سمیٹنے کے بجائے کھول دیں؟

تاکہ اللہ کا دیا ہوا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اس کا شکرانہ ادا کریں، سب سے بہترین شکرانہ (عملی شکرانہ) جس عملی شکرانے کی طرف قرآن بار بار دعوت دیتا ہے،

ہاں!

تاکہ اللہ کا دیا ہوا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اپنے اللہ کو خوش کرلیں۔

***

کچھ اور آگے بڑھئے، مومنوں کی تہجد گزاری کی ایک اور تصویر اپنے دل پر نقش کیجئے:


اللہ تعالیٰ کتنی محبت اور اپنائیت کے ساتھ ان کا ذکرِ خیر کرتا ہے، ان کی کیسی کیسی صفات بیان کرتا ہے، وہ کہتا ہے:

وَالَّذِينَ یَبِیتُونَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا (فرقان:64)

”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز و نیاز سے) کھڑے ہو کر راتیں بسر کرتے ہیں۔“

اس (و یعنی اور) سے پہلے کچھ اور ہے، اور وہ ہے، (عباد الرحمٰن) کا بے مثال نام اور شاندار لقب۔

ان کے اس ربانی نام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر نرم چال چلتے ہیں، جذباتی اور جھگڑالو لوگ جب ان سے الجھنے اور جھگڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے اور سلامتی کی دعا کرتے ہوئے ان سے جدا اور رخصت ہو جاتے ہیں،

یہی وہ لوگ ہیں جو سجدے اور قیام کی حالت میں رات رات بھر اپنے رب کے سامنے با ادب کھڑے رہتے ہیں،

وہ اپنے رب کو سامنے اور پاس پاتے ہیں، وہ اپنے دلوں کو اس کے ذکر سے منور کرتے ہیں، 

وہ اپنے دلوں میں اس کی یادوں کے چراغ روشن کرتے ہیں۔

***

ذرا رکیے، جلدی نہ کیجیے، 

ان کی نماز کی کیفیت کا جو خوبصورت منظر ہے اس کا نظارہ تو کرتے چلیے اور اسی خوب صورتی کے ساتھ اپنی نمازیں ادا کیجیے۔


دو خاص لفظوں پر غور کیجیے، جنہیں اللہ تعالٰی نے خاص طور پر ان کی نمازِ تہجد میں ذکر کیا ہے۔

یہ کون سےدو خاص الفاظ ہیں؟

یہ قیام اور سجود ہیں۔


آپ جانتے ہیں اس کی کیا اہمیت ہے؟

آپ جانتے ہیں اس کی کیا معنویت ہے؟

انہی دو لفظوں کا حق ادا کرنے سے نماز میں جان پیدا ہوجاتی ہے اور انہی کے ساتھ نا انصافی کرنے سے نماز کی جان نکل جاتی ہے۔


(قیاما) کا مطلب کھڑے ہو کر

(سجدا) کا مطلب سجدے کی حالت میں

دونوں لفظوں میں نکتہ کی بات یہ ہے کہ ان کا قیام طویل ہوتا ہے، بڑا طویل،

ان کا قیام خوبصورت ہوتا ہے، بڑا خوبصورت،

بڑا قابلِ قدر،

بڑا قابلِ ذکر،

بڑا قابلِ دید،

بڑا قابلِ رشک،

دیکھئے تو دیکھتے رہ جائیے،

وہ کھڑے رہتے ہیں، دیر دیر تک کھڑے رہتے ہیں،


وہ دیر دیر تک کیوں کھڑے رہتے ہیں؟

ان کا قیام کیوں اتنا لمبا ہوتا ہے؟

وہ قیام کی حالت میں کرتے کیا ہیں؟


اسی سوال کے جواب کی تلاش مجھے بھی تھی، لیجیے آپ بھی سن لیجیے،

دراصل وہ اپنے طویل قیام میں طویل قراءت کرتے ہیں، 

وہ {ورتل القرآن ترتیلا} پر عمل کرتے ہیں،

اور قرآن پاک کی تلاوت خوب ٹھہر ٹھہر کر کرتے ہیں، 

وہ قرآن پاک میں غور و فکر کرتے ہیں،

وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور لطف اٹھاتے ہیں، خوب خوب لطف اٹھاتے ہیں،

وہ قرآن پاک میں گم ہو جاتے ہیں،

وہ قرآن پاک کی سیر کرتے ہیں، 

وہ قرآن پاک پڑھتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں،

قرآن پاک انہیں اپنی آواز سناتا ہے اور وہ دل کے کانوں سے اس کی آواز سنتے رہتے ہیں،

وہ قرآن پاک کی تلاوت سے (ہماری طرح) اکتاتے نہیں، جلدی جلدی تلاوت سے فارغ ہو کر جھٹ جھٹ رکوع سجدہ نہیں کرتے، 

وہ قرآن سے اثر قبول کرتے ہیں، اس طرح قبول کرتے ہیں کہ قرآن ان کے دل میں اترتا جاتا ہے اور وہ پگھلتے جاتے ہیں، اتنا پگھلتے ہیں اتنا پگھلتے ہیں کہ رو پڑتے ہیں اور روتے روتے سجدے میں گر پڑتے ہیں،

اور {و یخرون للأذقان یبکون ویزیدھم خشوعا} (کہف: 109) کی سچی تصویر بن جاتے ہیں۔ 

ان کے خشوع (دل کے جھکاؤ) میں اضافہ ہوجاتا ہے، 

ان کے دل کی کیفیت بالکل بدل جاتی ہے،

ان کے ایمان میں تازگی پیدا ہوجاتی ہے، 

ان کے ایمان کی لَو تیز ہوجاتی ہے،

ان کا ایمان نیا ہوجاتا ہے،

ان کا ایمان پہلے سے کافی طاقتور ہوجاتا ہے،


خدا کو خشوع و خضوع کی یہی کیفیت مطلوب ہے،

خدا کو خشوع کی یہ کیفیت بڑی پسند ہے،  

خدا کو خشوع کی یہ ادا خوب بھاتی ہے،

وہ اس کیفیت سے بڑا خوش ہوتا ہے،

وہ ہم سے یہی چاہتا بھی ہے کہ ہم اپنے خشوع و خضوع میں اضافہ کرکے اس کے سامنے بالکل جھک جائیں، پلکیں بچھادیں، تسلیم ورضا کے پیکر بن جائیں۔

***

سجدے میں گرے، تو گرے رہ گئے، 

جلدی اٹھنے کا نام نہیں، 

جیسے کوئی غیبی طاقت سجدے میں گرے رہنے، سجدے میں پڑے رہنے پر مجبور کر رہی ہو،

قیام کی طرح سجدہ بھی طویل! 

کافی طویل!


سجدے میں وہ کیا کرتے ہیں؟

ان کا سجدہ آخر اتنا طویل کیوں ہوتا ہے؟


ہم تو تین یا پانچ بار جلدی جلدی (سبحان ربی الاعلٰی، سبحان ربی الاعلٰی) کہہ کر سر اٹھالیتے ہیں، اپنے رب سے نہ باتیں کرتے ہیں اور نہ اس سے کچھ مانگتے ہیں اور ایسا بے روح سجدہ بچپن سے لے کر اب تک کرتے چلے آرہے ہیں، اور شاید اسی طرح کا بے جان سجدہ کرتے کرتے دنیا سے رخصت بھی ہوجائیں۔

مگر وہ...

وہ اپنے سجدے میں خدا سے مناجات کرتے ہیں،

وہ اپنے سجدے میں خدا سے باتیں کرتے ہیں،

وہ اپنے سجدے میں گریہ و زاری کرتے ہیں،

وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے ہیں، دیر دیر تک گڑگڑاتے ہیں،

وہ اپنے رب کے سامنے روتے ہیں، دیر دیر تک روتے ہیں، پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں،

اور خدا سے قریب، بے حد قریب ہوجاتے ہیں،

یہاں تک کہ {واسجد واقترب} کی سچی تصویر بن جاتے ہیں۔

کتنا پیارا ہے ان کا سجدہ!

کتنا خوبصورت ہے ان کا سجدہ!

ان کا رب ان سے کتنا خوش ہوتا ہوگا!

سورہ زمر میں بھی ان کے قیام و سجود کاخاص طور پر ذکر ہوا ہے:

{أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ} (زمر:9)

"کیا وہ شخص جو سجدے اور قیام کی حالت میں فرماں برداری میں رات کی گھڑیاں گزارتا ہے ،آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت (مغفرت اور جنت) کی آس (امید) لگا رکھتا ہے ، وہ نافرمانی اور غفلت میں  رہنے والے کی طرح ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔"


یہ ہیں وہ تہجد گزار مومن جن کی تصویر آپ نے قرآن کے آئینے میں دیکھی، 

یہ ہیں وہ تہجد گزار مومن جن کی تہجُّد گزاری کا خوبصورت منظر آپ نے دیکھا،

یہ ہیں وہ تہجُّد گزار  مومن جن کا صرف جسم ہی نہیں بلکہ دل بھی جھکتا ہے، جن کے سجدوں میں روح اور جان ہوتی ہے۔

کاش ہمیں بھی یہی تڑپنے والا دل مل جائے!

کاش ہمیں بھی یہی سجدہ نصیب ہو جائے!

کاش ہمیں بھی اسی طرح کے سجدوں میں لطف آنے لگے!

کاش ہمیں بھی ایسا سجدہ کرکے خدا کا قرب حاصل ہو جائے اور اس کو راضی کرنے کا موقع مل جائے!

***

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں