تیری گفتگو اسباق گفتگو کی ایک کتاب
*تیری گفتگو اسباق گفتگو کی ایک کتاب*
بیاد ڈاکٹر محمد رفعت مرحوم
از: ایس.امین الحسن
شوری دراصل کسی موضوع پر ایک سے زائد زاویوں اور ان میں تحریک کے مفاد میں موزوں ترین اور تحریک کے اساس کار سے اقرب ترین کے انتخاب سلسلے میں بحث و مباحثہ کی جگہ ہے۔ عام طور پر دو مختلف آراء کو لے کر دو گروہ بن جاتے ہیں۔ کبھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ اجلاس شوری ایک لیول پلےانگ فٹ بال گراؤنڈ ہے۔ کھیل میں کبھی اتنا جوش وخروش پیدا ہو جاتا ہے کہ لگتا ہے کہ اب گول ہونے والا ہے لیکن اچانک پیچھے سے ایک کھلاڑی ایسی شارٹ لگاتا ہے کہ سارے کھلاڑی بکھر جاتے ہیں اور گیند واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔۔بارہا میں نے دیکھا کہ ایک رائے جس کے سپورٹ میں دسیوں آوازیں اٹھتیں اور گفتگو کا ماحول بتاتا کہ اب یہ فیصلے پر جا کر منتج ہوگا، اچانک فیلڈ کے بیک ڈیفنڈر کے روپ میں ڈاکٹر محمد رفعت صاحب اس مجوزہ اور تقریباً مقبول رائے کے خلاف اس طرح گفتگو کرتے کہ پھر گیند وہیں پہنچ جاتا جہاں سے آیا تھا۔ فکری تحریکوں میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے جو اس بات سے بالکل متاثر نہیں ہوتے کہ یہ وقت کا چلن ہے اور ہمیں اسے اپنانا چاہیے، یا یہ کہ اگر ہم یہ موقف نہ اختیار کریں تو لوگ کیا کہیں گے ؟
ایسے افراد کی نگاہ تحریک کی اصل بنیادوں پر ہوتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ اوپر اٹھنے والی عمارت کی ایک اینٹ بھی ٹیڑھی نہ ہونے پائے۔ اس رول کی ادائیگی کے لیے ڈاکٹر محمد رفعت صاحب موضوع ترین آدمی تھے کیونکہ ان کا دینی مطالعہ وسیع تھا اور وہ تحریکی لٹریچر کی گہرائیوں سے واقف کار ، فلسفہ ہائے وقت کی پیچیدگیوں کے شناسا اور باطل نظام ہائے حیات کی کمزوریوں کے رمز شناس تھے۔ کچھ لوگوں کی گفتگو خشک اور پیچدار ہوا کرتی ہے مگر ڈاکٹر صاحب ان لوگوں میں سے نہیں تھے۔ ان کی باتیں دلچسپ ہوا کرتی تھیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صرف منطق کی بیساکھیوں کے سہارے سے فکری میدان میں نہیں چلتے تھے بلکہ قرآن و سنت، تاریخ، شعر و ادب اور جدید سائنس اور فلسفہ کے پر لگا کر اڑا کرتے تھے۔ تحریک کے افق پر ان کی پرواز بہت بلند تھی۔ دلائل کی کمزوریوں کو بہت جلد اور آسانی سے دیکھ لیتے تھے اور ان کا تعاقب کرتے تھے۔
تحریکی لٹریچر اور اس کے بیک گراؤنڈ کا وسیع زاویہ سے مطالعہ اور تحریک کے عظیم رجال کار کی صحبت سے بھی شورائیت کی گفتگو کی دھار تیز ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ میں نے دیکھا کہ شوری کا وقت بچانے کے لئے صاف کہہ دیتے تھے کہ 'بھائی کچی پکی رائوں پر یہاں گفتگو کر کے وقت ضائع نہ کریں'. الحمدللہ چودہ سال شوری میں ان کے ساتھ وقت گزارنے، انہیں قریب سے دیکھنے اور ان کی گفتگو کا مطالعہ کرنے، تجزیہ کرنے اور ان سے بہت کچھ آداب شورائیت سیکھنے کا موقع ملا۔ وہ انٹلیکچوئل برائے اظہار انٹیلکچوئلزم نہیں تھے۔ وہ دوسروں کی رائے بزور قوت دلیل ڈھالتے تھے اور مضبوط متبادل دلیل کے سامنے آجانے پر اپنی رائے بھی بدل لیتے تھے۔ بسا اوقات وہ اپنی رائے بدلتے نہیں تھے لیکن جس رائے پر شوری پہنچتی اس کے اظہار کے لیے بہترین جملوں کی بندش اور املا کرانے سے مدد کرتے تھے۔
میرا خیال ہے کہ اگر وہ صرف ایک خشک مفکر ہوتے تو ایسا نہ کرتے۔ بلکہ میں نے انکی کی زندگی میں روحانیت کی لطافت اور عبودیت کی کشش بھی پائی۔ شوریٰ کا اجلاس جب کبھی دہلی سے باہر ہوتا تو معزز اراکین شوری کا عام مزاج یہ پایا جاتا تھا کہ جمع بين الصلاتين کر کے نمازوں سے فارغ ہو جایا کرتے تھے۔ مگر ڈاکٹر رفعت صاحب ان دو تین لوگوں میں سے تھے جو اس بات کے قائل تھے پرفضا ماحول میں پرسکون قیام کے دوران اللہ تعالی کی یاد کے وقفوں کو طویل ہونے نہ دیا جائے اس لۓ وہ ہر نماز کو اپنے وقت پر ادا کرتے تھے۔ نمازوں کے بعد سفر اور حضر میں کچھ دیر تک مصلی پر سر جھکا ہے بیٹھتے ، دسوں انگلیوں کا استعمال کرتے اور ہونٹوں کو تیز تیز حرکت دیکر اذکار مسنونہ کی پابندی کرتے تھے۔ اس میں، میں نے کبھی ناغہ ہوتے ہوۓ نہیں دیکھا۔
اجلاس شوریٰ کی مہمان نوازی کا شرف جب کسی یونٹ ملتا تو وہ دل کھول کر مہمان نوازی کیا کرتے اور مجلس میں موجود مختلف افراد اور ذائقوں کی رعایت کرتے ہوئے دسترخوان کی تزئین کرتے اور میزبانی کا اظہار کرتے ۔ مگر دسترخوان پر خواہ کتنی ہی انواع و اقسام کی نعمتیں پروسی گیء ہوں، ڈاکٹر صاحب کو اپنے نفس پر اتنا کنٹرول تھا کہ وہ صرف روٹی اور دہی یا دال اور چاول پر اکتفا کر لیتے ۔ ایک بار میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنی طبیعت پر اتنا جبر کیوں کرتے ہیں اور اپنے نفس پر اتنا کنٹرول کیوں کرتے ہیں جبکہ ان نعمتوں سے بھی متمتع ہونا چاہیے۔ تو جواب میں انہوں نے کسی فلسفیانہ بحث کے بجائے صرف اتنا کہہ دیا کہ کم کھانے کی وجہ سے میں اجلاس شوری میں ذہنی طور پر مستحضر رھتا ہوں اور ہم اسی کام کے لیے یہاں آئے ہوۓ ہیں۔
وہ کپڑوں کے معاملے میں بھی حد درجہ سادگی پسند تھے ۔پر رونق کپڑوں کے زیب تن کرنے سے اجلاس میں ان کی رونق نہیں تھی بلکہ ان کا آئیڈیا انہیں ممتاز رکھتا تھا اور فکری گفتگو سے وہ اپنا مقام پیدا کرتے تھے۔ ان گفتگوؤں کے بعد وہ جذبہ فتح اور شکست سے بھی بالکل بی نیاز تھے۔ ان کی رائے کے مطابق فیصلہ ہو جاتا تو اجلاس کے باہر اس پر مزید حاشۓ چڑھا کر خوشی کے شادیانے نہیں بجاتے تھے اور ان کی رائے کے خلاف فیصلہ ہونے پر اجلاس کے باہر غیر رسمی نشستوں میں صف ماتم بچھا کر رنجش و شکایات کہ تحریک اب اپنی پٹری سے ہٹ رہی کا رونا بھی نہیں روتے تھے۔ شخصیت مرکزیت کے بجائے لله في الله کام کرنے کے نتیجے میں یہ مزاج پروان چڑھتا ہے۔
2007 تا 11 وہ مرکزی سیکریٹری برائے تربیت کی ذمہ داری پر فائز تھے۔وہ کرناٹک کے مختلف علمی اور کارکنوں کی تربیت اجتماعات میں مدعو کۓجاتے رہے۔ اس سے پہلے بھی وہ آتے رہے اور اس کے بعد بھی وہ بلائے جاتے رہے۔ کبھی کبھی مسلسل ایک گھنٹہ کی تقریر کرتے تھے مگر یا للعجب وہ بغیر کسی تحریری نوٹس کے ایسی گفتگو کرتے جیسا کہ ایک کھلی کتاب ہے جو ان کے سامنے رکھی گئی ہو جسے وہ دیکھ کر پڑھ رہے ہوں۔ قرآن و حدیث کو راست کوٹ کرنے کے بجائے اس کی فکر کا ماحاصل پیش کرتے چلے جاتے ۔ ان کی باڈی لینگویج کے تین نمایاں حصہ تھے۔ ایک وقفے وقفے سے اس طرح سانس لیتے گویا کہ ہلکی سی ڈکار انہیں آرہی ہے۔ شاید ایسا اس لیے ہوتا تھا کہ وہ نیء نیء باتیں دوران تقریر ہضم کرتے اور اس کا حاصل لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ۔ دوسرا ، وہ اکثر سیدھے ہاتھ کی مٹھی بند رکھتے تھے اور پیشانی پوچھنے کی ضرورت ہو تب بھی اسی مٹھی سے پیشانی صاف کرتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے عنوان اور مضمون کو مضبوط مٹھی میں پکڑے رکھتے تھے اور ایک مضمون کے بعد پیشانی صاف کرکے دوسرا مضمون اس پر لکھتے چلے جاتے تاکہ سننے والا وہ مضمون ان کی پیشانی پر بھی پڑھ لے جو ان کی دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ تیسرا یہ کہ اگر بیٹھے ہوئے ہوں تو اپنے ہاتھ سے اپنے تلوے کو کچھ کچھ دیر بعد رگڑتے یا کھڑے ہوں تو پوڈیم پر اپنی مٹھی والے ہاتھ کو رگڑتے۔ ایسا لگتا ہے کہ دوران گفتگو جو منفی باتیں یا غیر مفید باتیں ذہن میں آتی ہوں انہیں وہ صاف کرتے رہتے۔ یہ ان کی خاص اور منفرد ادا تھی جس سے سامع کے ذہن پر ان کی گفتگو کا حسین نقش مرتب ہوتا تھا۔
کسی رسم و تکلف کے بغیر بہت جلد وہ ہم سے دور چلے گئے۔ اپ صرف ان کی باتیں یاد رہیں گی اور ان سے سیکھے گئے اسباق ہماری فکر و عمل کا حصہ بن جائیں گے۔ خدا کرے کہ وہ اسباق ہمارے توسط سے دوسروں کے لئے روشنی اور رہنمائی کا سبب بنے۔امید اور دعا ہے کہ ہمارے ان سے سیکھے ہوۓ علم و عمل کے اجر کا ایک حصہ ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کے کھاتے میں لکھا جاتا رہے۔ خدا تعالی اپنی خوشنودی سے ان کے اعمال کے بدلے سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر ان کو اجر عظیم عطا کرے۔ آمین
Comments
Post a Comment