ڈاکٹر محمد رفعت -ڈاکٹر شاہد بدر

 آہ ڈاکٹر محمد رفعتؒ صاحب۔ انا للہ ونا الیہ راجعون


میں یوپی اعظم گڑھ کے ایک دور افتادہ گاؤں منچوبھا میں رہتا ہوں۔۔۔ صبح سویرے مجھے یہ غم گین کردینے والی خبر ملی۔۔ ڈاکٹر محمد رفعت صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ۔

میں نے تو ڈاکٹر صاحب کے علیل ہونے کی بھی خبر نہیں سنی تھی۔۔۔ اچانک انتقال کی خبر سن کر میں زار زار ہو گیا۔۔گھنٹوں بعد طبیعت سنبھلی ۔۔لیکن ابھی بھی دل قابو میں نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب سے میری اپنی وابستگی۔۔ ان سے ناقابل شمار ملاقاتیں۔۔ یادوں کے پہاڑ تلے دبا ہوا ہوں۔۔۔ وہ ہندوستان میں اسلامی انقلاب کی نقیب مسلم طلبہ و نوجوانوں کی پہلی کل ہند طلبہ تنظیم students islamic movement of india کے پہلے باضابطہ کل ہند صدر تھے۔ اس طلبہ تحریک کے وہ گویا فکری و اخلاقی سرپرست تھے اور اسی انقلابی فکر کے تاحیات علم بردار تھے۔محترم ڈاکٹر صاحب۔ انتہائی پیچیدہ فکری و تحریکی مسائل کی گتھیوں کو بڑی آسانی سے حل کر دیتے تھے۔۔ جب حالات کی تیرگی ذہن ودماغ کو گھیر لیتی تھی تب ڈاکٹر صاحب سے ملنے کی شدید خواہش پیدا ہو جاتی تھی۔۔ محترم ڈاکٹر صاحب اسلامی انقلابی سوچ و فکر کی آبیاری سے کبھی پیچھے نہیں رہے۔ اور نہ ہی تعاون سے کبھی دست کش ہوئے۔۔

Students Islamic Movement Of india کے قیام (۲۵ اپریل ۱۹۷۷)سے ایس، آئی، ایم پر پابندی کی تاریک رات تک (۲۷ ستمبر ۲۰۰۱) اور پابندی کے ان سخت ترین حالات میں بھی وہ ہمارے لئے ایک ٹھنڈھی چھاؤں تھے۔ دہلی ہائی کورٹ، شیشن کورٹ کی تھکا دینے والی صعبتوں سے گزرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات، صلاح و مشورہ کی لالچ دل میں بسائے مسجد اشاعت الاسلام  میں نماز مغرب ادا کرتا نماز بعد ڈاکٹر صاحب اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ والہانہ انداز میں استقبال کرتے۔۔ ہاتھ پکڑے ہوئے اسی مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ جاتے اور تفصیل سے مقدمہ اور عدالتی کاروائی کی تفصیلات سنتے۔ مختصر ، بلیغ، جامع الفاظ سے ہماری ہمت بندھاتے۔۔ساری کلفتیں دور ہو جاتیں اور ہم آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے پھر سے تازہ دم ہو جاتے۔

آہ۔۔۔۔ایس آئی ایم پر پابندی ہنوز جاری ہے۔۔مقدمات تاحال باقی ہیں۔۔ مقدمہ کی تاریخوں کو جھیلنے کیلئے دلی تو جانا ہی ہوگا ۔۔۔ بے اختیار قدم مسجد اشاعت الاسلام کی طرف بھی بڑھیں گے ۔۔نماز کے بعد نگاہیں مسجد میں ہر طرف آپ کو ڈھونڈیں گی لیکن اب مسجد کا وہ کونا ہمارے لئے سونا ہوگا۔۔۔جب بھی ہمیں دینی جماعتوں کی طرف سے فکری اضمحلال و مداہنت کی باتیں سننے یا پڑھنے کو ملتیں۔۔۔ دل میں کرب سا اٹھتا تب ہم ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کیلئے جاتے ہم انہیں اس وقت خالص کتاب و سنت کی فکر پر قائم پاتے۔ محترم ڈاکٹر صاحب بے باک ،کم گو ، متین، حلیم، بردبار ، صائب الرائے اور جوان دل تھے۔۔۔ اللہ ہم تمام سوگواروں کو اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے آمین۔ 

محترم ڈاکٹر صاحب نے S.I.M کی فکری سرپرستی کی اور لاکھوں جوان دلوں میں اسلامی انقلاب کی جو جوت  جگائی ہے اللہ انہیں عظیم خدمات کے صلہ میں انہیں اعلی علین میں مقام عطا فرمائے۔ آمین


سوگوار و اشکبار۔ دور افتادہ ۔۔۔

شاہد بدر

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں