ڈاکٹر محمد رفعت - عمیر انس

 میرے شہر اناو کے بزرگوں نے ہمیں بتایا تھا کہ کانپور آئی آئی ٹی میں پڑھنے والے طلبہ یہاں درس قران دینے آیا کرتے تھے، ان میں سے سب زیادہ قابل ذکر نام ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کا تھا، یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ وہ جامعہ ملیہ میں فزکس کے پروفسر ہیں، پہلی بار دہلی گیا تو ایک تقریر میں انکو دیکھا، کہیں سے بھی پروفیسر والے ہاؤ بھاؤ نہیں، بغیر پریس کیے ہوئی پینٹ اور بغیر میچنگ کی شرٹ، اور وہ بھی بغیر ان ان کی ہوئی، حیرت ہوئی کہ ایسے پروفیسر بھی کہیں ہوتے ہیں، میرا تو خیال ہیکہ جوتے بھی وہ شائد صرف بہت سردی میں یا دہلی سے باہر کا سفر کے موقعے پر پہنے ہونگے، میری یادداشت کی دس بارہ سال کی ملاقاتوں میں شائد ہی کبھی انکو جوتے پہنے دیکھا ہوگا میں نے، انکو تلاش کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ تھا کہ آپ خود وقت پر پہلی صف میں نماز ادا کرنے پہنچ جائیں، ان سے گفتگو کریئے تو نہ وہ اپنے استاذ اور پروفیسر ہونے کا ادنی بھی اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی گفتگو اور اپنی رایے پر مکمل اعتماد سے آپ کو متاثر کر لیتے تھے، انکے ساتھ کیرلا کے ایک ساحل پر ایک شام صرف ہم اور وہ ساتھ تھے، باتیں بہت ہوئیں لیکن اس دن اس انسان کے اندر کی رفعت محسوس کرنے کا موقعہ ملا، کئی عظمتوں کے ساتھ یہ انسان کئی انسانوں کے برابر تھا، پر اعتماد، اپنی آپ میں ایک زندگی جی رہا ہے، اگر اس سے آپ دنیا کی گر شے بھی چھین لیجئے تو بھی وہ غنی نظر آتا اور دنیا کی ساری بلندیاں بھی حاصل ہو چکی تھیں لیکن پھر بھی علامہ اقبال کا فقیر اور قلندر تھا، جماعت اسلامی کے دوست جانتے ہیں کہ شائد میں ان سے کافی اختلافی سوالات کرتا تھا، مجھے انکی کئی باتوں سے اطمینان نہیں ہوتا تھا اور لیکن آپ ان سے ہر سوال پر تفصیل سے مفید مذاکرے کے لئے خوش جبینی سے استقبال کرتے تھے، کیرلا کے اس ساحل پر میں نے ان سے اسٹیفن ہاکنگ کے خیالات پر تفصیل سے گفتگو کی تھی، اسکا خیال تھا کہ اگرچ خدا موجود ہو لیکن کائنات میں اسکے عمل دخل کی ضرورت ہے نہ موقع، مزید یہ کہ تصور قیامت اس لئے غیر ضروری ہے کیونکہ سبھی سائنسی شواہد کے مطابق یہ کائنات ابھی ہزارہا سالوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری اور ساری رہنے والی ہے، میں نے ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا میرا خیال ہے کہ آپ کو اس سلسلے میں باقاعدہ ایک گفتگو کرنی چاہئے، اسکے بعد ڈاکٹر صاحب نے ایک بیحد جامع مضمون میں اپنے خیالات سے اسکے نظریے کا رد لکھا، کیرلا کے اس جلسے میں میں نے اپنی تقریر کے جماعت اسلامی پر تنقید کے ساتھ اسکے کارناموں کی خوب ستائش بھی کی تو تقریر کے بعد ڈاکٹر صاحب نے شاباشی دی اور مذاقا فرمایا اب آپ ٹھیک ہو رہے ہیں، بس یہی آخری تفصیلی ملاقات تھی جسکے بعد سے میں ملک کے باہر رہا اور ان سے تفصیلی گفتگو کے موقعے نہیں آیے. آج وہ وہاں چلے گئے جہاں کی تیاری میں ساری زندگی لگا دی، کتنے فرشتے منتظر ہونگے آج انکے استقبال میں ! کتنی روحیں رشک کریں گی جب اللہ اس نیک روح کا اعزاز اور اکرام فرمایے گا!  انکی فکری خدمات پر گفتگو پھر کبھی، انکے سینکڑوں مضامین، اور تقریریں موجود ہیں، انہیں جلد از جلد مرتب کرکے شایان شان طریقے سے شائع ہونا چاہیے! 


اگر آپ ہم سے پوچھیں جماعت اسلامی کیا کر سکتی ہے تو میرا مختصر جواب یہ ہوگا کہ یہ پروفیسر رفعت صاحب جیسے انسان تیار کر سکتی ہے، 


عمیر انس

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں