احکام القرآن - 6

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احکام القرآن - ۶

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 243،  244

سورہ آل عمران آيت28

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ١ۚ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ يُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ۰۰۲۸

مومنین اہل ایمان کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جاؤ۔ مگر اللہ تمہیں  اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جاؤ

یعنی اگر کو ئی مومن کسی دشمنِ اسلام جماعت کے چنگل میں پھنس گیا ہو اور اسے  ان کے ظلم و ستم کا خوف ہو، تو اس کو اجازت ہے کہ اپنےایمان کو چھپائے رکھے اور کفار کے ساتھ بظاہر اس طرح رہے کہ گویا اُنہی میں کا ایک آدمی ہے۔ یا اگر اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہوگیا ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے وہ کفار کے ساتھ دوستانہ رویّہ کا اظہار کر سکتا ہے، حتٰی کہ شدید خوف کی حالت میں جو شخص برداشت کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کو کلمہٴ کفر تک کہہ جانے کی رخصت ہے۔

مگر اللہ تمہیں  اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے

یعنی کہیں انسانوں کا خوف تم پر اتنا نہ چھا جائے کہ خدا کا خوف دل سے نِکل جائے۔ انسان حد سے حد تمہاری دنیا بگاڑ سکتے ہیں مگر خدا تمہیں ہمیشگی کا عذاب دے سکتا ہے۔ لہٰذا اپنے بچا ؤ کے  لیے اگر بدرجہٴ مجبُوری کبھی کفار کے ساتھ تقیہ کرنا پڑے ،  تو وہ بس اس حد تک ہونا چاہیے کہ اسلام کے مشن اور اسلامی جماعت کے مفاد اور کسی مسلمان کی جان و مال کو نقصان پہنچائے بغیر تم اپنی جان و مال کا تحفظ کر لو۔ لیکن خبردار، کفر اور کفار کی کوئی ایسی خدمت تمہارے ہاتھوں انجام نہ ہونے پائے جس  سے اسلام کے مقابلے میں کفر کو فروغ حاصل ہو نے اور مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے کا امکان ہو۔ خوب سمجھ لو کہ اگر اپنے آپ کو بچانے کے لیے تم نے اللہ کے دین کو یا اہلِ دین کی جماعت کو یا کسی ایک فردِ مومن کو بھی نقصان پہنچایا ، یا خدا کے باغیوں کی کوئی حقیقی خدمت انجام دی ، تو اللہ کے محاسبے سے ہر گز نہ بچ سکو گے۔ جانا تم کو بہرحال اسی کے پاس ہے۔

احکام القرآن

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 277 سورہ آل عمران آیت 104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۱۰۴

تم میں کچھ لوگ ایسے ضرو رہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔

احکام القرآن

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ  282

سورہ آل عمران آیت 118

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِيْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۱۱۸

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی  کے کسی موقع سے فائدہ  اٹھا نے میں   نہیں چُوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائےہوئے ہیں وہ اس سے شدید ترہے ۔  ہم نے تمہیں صاف  صاف  ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتےہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)۔

وہ تمہاری خرابی  کے کسی موقع سے فائدہ  اٹھا نے میں   نہیں چُوکتے

مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اَوس اور خَزرَج کے لوگوں کی قدیم زمانہ سے دوستی چلی آتی تھی۔ انفرادی طور پر بھی اِن قبیلوں کے افراد اُن کے افراد سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور قبائلی حیثیت سے بھی یہ اور وہ ایک دُوسرے کے ہمسایہ اور حلیف تھے۔ جب اَوس اور خَزرَج کے قبیلے مسلمان ہو گئے تو اس ل بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ وہی پُرانے تعلقات نباہتے رہے اور ان کے افراد اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی محبت و خلوص کے ساتھ ملتے رہے۔ لیکن یہودیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مِشن سے جو عداوت ہوگئی تھی اس کی بنا پر وہ کسی ایسے شخص سے مخلصانہ محبت رکھنے کے لیے تیار نہ تھے جو اس نئی تحریک میں شامل ہوگیا ہو۔ انہوں نے انصار کے ساتھ ظاہر میں تو وہی تعلقات رکھے جو پہلے سے چلے آتے تھے ، مگر دل میں وہ اب ان کے سخت دُشمن ہو چکے تھے اور اس ظاہری دوستی سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کی جماعت میں اندرونی فتنہ و فساد برپا کر دیں، اور ان کے جماعتی راز معلوم کر کے ان کے دشمنوں تک پہنچائیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کی اسی منافقانہ روش سے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ہدایت فرما رہا ہے۔

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ287

سورہ آل عمران آیت 130

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۰۰۱۳۰

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو

اُحُد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہو گئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لُوٹنے میں لگ گئے۔ اس لیے حکیمِ مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سُود خواری سے باز آ ؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے آدمی کے اندر روپے کی حرص بے حد بڑھتی چلی جاتی ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں