احکام القرآن - ۱۰
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
احکام القرآن - ۱۰
فہرست
موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن –صفحہ
362تا365
سورہ نساء آیات 58، 59
اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ
اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۰۰۵۸يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا
اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ
كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ
اَحْسَنُ تَاْوِيْلًاؒ۰۰۵۹
مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ
کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سُنتا اور دیکھتا
ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو
اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں، پھر
اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسُول کی طرف پھیردو
اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور
انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے
مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا
ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل
کے ساتھ کرو
یعنی تم اُن برائیوں سے بچے رہنا جن میں
بنی اسرائیل مبتلا ہو گئے ہیں۔ بنی اسرائیل
کی بُنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اپنے انحطاط کے زمانہ میں امانتیں،
یعنی ذمہ داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے مرتبے (Positions
of trust) ایسے لوگوں کو دینے شروع کر دیے جو نا اہل
، کم ظرف، بد اخلاق، بد دیانت اور بدکار تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بُرے لوگوں کی قیادت
میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ایسا نہ
کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرنا جو ان کے اہل ہوں ، یعنی جن میں بارِ
امانت اُٹھانے کی صلاحیت ہو۔ بنی اسرائیل کی دُوسری بڑی کمزوری یہ تھی کہ و ہ انصاف
کی رُوح سے خالی ہو گئے تھے۔ وہ شخصی اور قومی اغراض کے لیے بے تکلف ایمان نِگل
جاتے تھے۔ صریح ہٹ دھرمی برت جاتے تھے۔ انصاف کے گلے پر چُھری پھیرنے میں انہیں
ذراتامل نہ ہوتا تھا۔ ان کی بے انصافی کا تلخ ترین تجربہ اُس زمانہ میں خود مسلمانوں کو ہو رہا تھا۔ ایک
طرف ان کے سامنے محمد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر ایمان لانے والوں کی
پاکیزہ زندگیاں تھیں۔ دُوسری طرف وہ لوگ تھے جو بُتوں کو پُوج رہے تھے، بیٹیوں کو
زندہ گاڑتے تھے، سوتیلی ماؤں تک سے نکاح کر لیتے تھے اور کعبہ کے گرد مادر زاد
ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ یہ
نام نہاد اہل کتاب ان میں سے دُوسرے گروہ
کو پہلے گروہ پر ترجیح دیتے تھے اور ان کو یہ کہتے ہوئے ذرا شرم نہ آتی تھی کہ
پہلے گروہ کے مقابلہ میں یہ دُوسرا گروہ زیادہ صحیح راستہ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی
اس بے انصافی پر تنبیہ کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ تم کہیں ایسے
بے انصاف نہ بن جانا ۔ خواہ کسی سے دوستی ہو یا دشمنی ، بہر حال بات جب کہو انصاف
کی کہو اور فیصلہ جب کرو عدل کے ساتھ کرو۔
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ
شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ
پھر اگر تمہارے درمیان کسی
معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسُول کی طرف پھیردو
یہ آیت اسلام کے پُورے مذہبی، تمدّنی
اور سیاسی نظام کی بُنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اوّلین دفعہ ہے۔ اس میں
حسب ذیل اصول مستقل طور پر قائم کر دیے گئے ہیں:
(۱) اسلامی
نظام میں اصل مُطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک مسلمان سب سے پہلے بندۂ خدا ہے، باقی جو
کچھ بھی ہے اس کے بعد ہے۔ مسلمان کی انفرادی زندگی ، اور مسلمانوں کے اجتماعی
نظام، دونوں کا مرکز و محوَر خدا کی فرمانبرداری اور وفاداری ہے۔ دُوسری اطاعتیں
اور وفاداریاں صرف اس صورت میں قبول کی جائیں گی کہ وہ خدا کی اطاعت اور وفاداری کی
مدِّ مقابل نہ ہوں بلکہ اس کے تحت اور اس کی تابع ہوں۔ ورنہ ہر وہ حلقۂ اطاعت توڑ
کر پھینک دیا جائے گا جو اس اصلی اور بنیادی اطاعت کا حریف ہو۔ یہی بات ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ
لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔
خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے۔
(۲)اسلامی نظام کی دُوسری بنیاد
رسول کی اطاعت ہے۔ یہ کوئی مستقل بالذّات اطاعت نہیں ہے بلکہ اطاعتِ خدا کی واحد
عملی صُورت ہے۔ رسول اس لیے مُطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا
کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقہ سے کر سکتے ہیں کہ
رسول کی اطاعت کریں۔ کوئی اطاعتِ خدا رسُول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے ، اور
رسُول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی مضمون کو یہ حدیث واضح کرتی
ہے کہ من اطاعنی فقد اطاع اللہ و من
عصَانی فقد عصَی اللہ۔” جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری
نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔“ اور یہی بات خود قرآن میں پوری وضاحت کے
ساتھ آگے آرہی ہے۔
(۳)مذکورۂ بالا دونوں
اطاعتوں کے بعد اور ان کے ماتحت تیسری اطاعت جو اسلامی نظام میں مسلمانوں پر واجب
ہے وہ اُن” اولی الامر“ کی اطاعت ہے جو خود مسلمانوں میں سے ہوں۔”اولی الامر “ کے
مفہُوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے سربراہ کار ہوں،
خواہ وہ ذہنی و فکری رہنمائی کرنے والے
علماء ہوں ، یا سیاسی رہنمائی کرنے والے لیڈر، یا مُلکی انتظام کرنے والے حُکّام، یا
عدالتی فیصلے کرنے والے جج، یا تمدّنی و معاشرتی
امور میں قبیلوں اور بستیوں اور محلّوں کی سربراہی کرنے والے شیوخ اور سردار۔ غرض جو جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا
صاحب امر ہے وہ اطاعت کا مستحق ہے ، اور اس سے نزاع کر کے مسلمانوں کی اجتماعی
زندگی میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے۔ بشرطیکہ وہ خود مسلمانوں کے گروہ میں سے ہو،
اور خدا و رسول کا مطیع ہو۔ یہ دونوں شرطیں اس اطاعت کے لیے لازمی شرطیں ہیں اور یہ
نہ صرف آیت مذکورۂ صدر میں صاف طور پر درج ہیں، بلکہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان کو پُوری شرح و بسط کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ مثلاً حسب ذیل احادیث
ملاحظہ ہوں:
السَّمْعُ والطَّاعَةُ علَى المَرْءِ
المُسْلِمِ فِيما أحَبَّ وكَرِهَ، ما لَمْ يُؤْمَرْ بمَعْصِيَةٍ، فإذا أُمِرَ
بمَعْصِيَةٍ فلا سَمْعَ ولا طاعَةَ۔ (بخاری و مسلم)
مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اُولی
الامر کی بات سُنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا نا پسند ، تا وقتیکہ اسے معصیت کا
حکم نہ دیا جائے۔ اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سُننا چاہیے
نہ ماننا چاہیے۔
لا طاعۃ فی معصیۃ انما الطاعۃ فی
المعروف۔ (بخاری و مسلم)
خدا اور رسُول کی نافرمانی میں کوئی
اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت جو کچھ بھی ہے ”معروف“ میں ہے۔
یکون علیکم امراء تعرفونَ وتُنكِرونَ ،
فمَن أنكرَ فقد برِئَ ومَن كرِهَ فقد سلِمَ ولَكِن مَن رضيَ وتابعَ ، فقيلَ : يا
رسولَ اللَّهِ أفلا نقاتلُهُم ؟ قالَ : لا ، ما صلَّوا
۔(مسلم)
حضور ؐ نے فرمایا تم پر ایسے لوگ بھی
حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پا ؤ گے اور بعض کو منکر۔ تو جس نے ان
کے منکرات پر اظہارِ ناراضی کیا وہ بَری الذّمّہ ہوا۔ اور جس نے ان کو ناپسند کیا
وہ بھی بچ گیا۔ مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔ صحابہ نے
پوچھا، پھر جب ایسے حکّام کا دَور آئے تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں، آپ ؐ نے فرمایا
نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔
یعنی ترکِ نماز وہ علامت ہو گی جس سے
صریح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ اطاعت ِ خدا
و رسُول سے باہر ہو گئے ہیں، اور
پھر ان کے خلاف جدوجہد کرنا درست ہو گا۔
شِرَار ائمّتکُم الّدیْن تبغضو نہم و
یبغضو نکم و تلعنو نہم و یلعنو نکم قلنا یا رسول اللہ افلا ننا بذھم عند ذٗالک؟
قال لا ما اقامو ا فیکم الصلوۃ،
لا مَا اقاموا فیکم الصلوۃ۔
(مسلم)
حضُور ؐ نے فرمایا تمہارے بدترین سردار وہ ہیں جو
تمہارے لیے مبغوض ہوں اور تم ان کے لیے مبغوض ہو۔ تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا
رسول اللہ ﷺ ! جب یہ صُورت ہو تو کیا ہم اُن کے مقابلہ پر نہ اُٹھیں؟ فرمایا نہیں،
جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز
قائم کرتے رہیں۔
اس حدیث میں اُوپر والی شرط کو اور زیادہ
واضح کر دیا گیا ہے۔ اُوپر کی حدیث سے گمان ہو سکتا تھا کہ اگر وہ اپنی انفرادی زندگی میں نماز کے
پابند ہوں تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز
پڑھنے سے مراد دراصل مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں نماز کا نظام قائم کرنا ہے۔ یعنی
صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ لوگ خود پابندِ نماز ہوں ، بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے تحت جو نظامِ حکومت
چل رہا ہو وہ کم از کم اقامتِ صلوٰۃ کا انتظام کرے۔ یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ
ان کی حکومت اپنی اُصُولی نوعیت کے اعتبار سے
ایک اسلامی حکومت ہے۔ ورنہ اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے
کہ وہ حکومت اسلام سے منحرف ہو چکی ہے اور اسے اُلٹ پھینکنے کی سعی مسلمانوں کے لیے
جائز ہو جائے گی۔ اسی بات کو ایک اور روایت
میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے مِن جملہ اور
باتوں کے ایک اس امر کا عہد بھی لیا کہ ان
لا ننازع الامر ا ھلہ الا ان ترو اکفر ا بَوَاحًا عندکم من اللہ فیہ برھان، یعنی یہ
کہ” ہم اپنے سرداروں اور حُکّام سے نزاع نہ کریں گے، اِلّا یہ کہ ہم ان کے کاموں میں
کھُلم کھُلا کفر دیکھیں جس کی موجودگی میں ان کے خلاف ہمارے پاس خدا کے حضور پیش
کرنے کے لیے دلیل موجود ہو۔“ (بخار ی و مسلم)
(۴) چوتھی
بات جو آیت زیرِ بحث میں ایک مستقل اور قطعی اُصُول کے طور پر طے کر دی گئی
ہے یہ ہے کہ اسلامی نظام میں خدا کا حکم
اور رسُول کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند(
Final authority ) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان
، یا حکومت اور رعایا کے درمیان جس مسئلہ میں بھی نزاع واقع ہوگی اس میں فیصلہ کے
لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا
اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اس کے سامنے سب سرِتسلیم خم کر دیں گے۔ اس طرح
تمام مسائل زندگی میں کتاب اللہ و سنت رسُول اللہ کو سند اور مرجع اور حرفِ آخر
تسلیم کرنا اسلامی نظام کی وہ لازمی خصُوصیّت ہے جو اسے کافرانہ نظامِ زندگی سے ممیز
کرتی ہے۔ جس نظام میں یہ چیز نہ پائی جائے وہ بالیقین ایک غیر اسلامی نظا م ہے۔
اس موقع پر بعض لوگ یہ شبہہ پیش کرتے
ہیں کہ تمام مسائل ِ زندگی کے فیصلہ کے لیے کتاب اللہ و سُنت رسول اللہ کی طرف کیسے
رجوع کیا جا سکتا ہے جبکہ میونسپلٹی اور ریلوے اور ڈاک خانہ کے قواعد و ضوابط اور
ایسے ہی بے شمار معاملات کے احکام سرے سے وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ
شبہہ اُصُولِ دین کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان کو جو چیز کافر سے ممیّز
کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کافر مطلق آزادی کا مدّعی ہے ، اور مسلمان فی الاصل بندہ ہونے
کے بعد صرف اُس دائرے میں آزادی کا متمتع ہوتا ہے جو اس کے رب نے اُسے دی ہے۔ کافر اپنے سارے معاملات کا فیصلہ خود اپنے
بنائے ہوئے اُصُول اور قوانین اور ضوابط کے مطابق کرتا ہے اور سرے سے کسی خدائی
سند کا اپنے آپ کو حاجت مند سمجھتا ہی نہیں۔
اس کے برعکس مسلمان اپنے ہر معاملہ میں سب سے پہلے خدا اور رسُول ﷺ کی طرف رجوع کرتا ہے ، پھر اگر وہاں سے کوئی
حکم ملے تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے ، اور اگر کوئی حکم نہ ملے تو وہ صرف اِسی
صُورت میں آزادیِ عمل برتتا ہے، اور اُس کی یہ آزادیٔ عمل اس حجّت پر مبنی ہوتی ہے
کہ اس معاملہ میں شارع کا کوئی حکم نہ دینا
اس کی طرف سے آزادیِ عمل عطا کیے جانے کی دلیل ہے۔
احکام القرآن - ۱۰
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن –صفحہ 371، 372
سورہ نساء آیات 71تا75
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا۰۰۷۱وَ اِنَّ
مِنْكُمْ لَمَنْ لَّيُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالَ قَدْ
اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِيْدًا۰۰۷۲وَ لَىِٕنْ
اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَيَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَيْنَكُمْ
وَ بَيْنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا
عَظِيْمًا۰۰۷۳فَلْيُقَاتِلْ
فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا
بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ اَوْ
يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۷۴وَ مَا لَكُمْ
لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ
وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا
مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ
وَلِيًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًاؕ۰۰۷۵
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مقابلہ کے
لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے
ہوکر۔ ہاں، تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہےجو لڑائی سے جی چُراتا ہے، اگر تم پر
کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ
پربڑا فضل کیا کہ میں اِن لوگوں کے ساتھ نہ گیا، اور اگر اللہ کی طرف سے تم
پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان
محبّت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔۔۔۔کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام
بن جاتا۔ (ایسے لوگوں کو معلوم ہوکہ)اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو
آخرت کے بدلے دُنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور
مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے۔ آخر کیا وجہ ہے
کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچّوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور
پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدا یا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے
باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا۰۰۷۱
اے لوگو جو ایمان لائے ہو،
مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو
واضح رہے کہ یہ خطبہ اس زمانہ میں
نازل ہوا تھا جب اُحُد کی شکست کی وجہ سے اطراف و نواح کے قبائل کی ہمتیں بڑھ گئیں
تھیں اور مسلمان ہر طرف سے خطرات میں گھِر گئے تھے۔ آئے دن خبریں آتی رہتی تھیں کہ
فلاں قبیلے کے تیور بگڑ رہے ہیں، فلاں قبیلہ دُشمنی پر آمادہ ہے، فلاں مقام پر
حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ
پے در پے غداریاں کی جا رہی تھیں۔ ان کے مبلّغین کو فریب سے دعوت دی جاتی
تھی اور قتل کر دیا جاتا تھا۔ مدینہ کے
حدُود سے باہر ان کے لیے جان و مال کی سلامتی باقی نہ رہی تھی۔ ان حالات میں
مسلمانوں کی طرف سے ایک زبردست سعی و جہد اور سخت جاں فشانی کی ضرورت تھی تاکہ اِن خطرات کے ہجوم سے اسلام کی یہ تحریک
مِٹ نہ جائے۔
وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ
لَّيُبَطِّئَنَّ
تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا
بھی ہےجو لڑائی سے جی چُراتا ہے
ایک مفہُوم یہ بھی ہے کہ خود تو جی
چُراتا ہی ہے ، دُوسروں کی بھی ہمتیں پست کرتا ہے اور ان کو جہاد سے روکنے کے لیے
ایسی باتیں کرتا ہے کہ وہ بھی اُسی کی طرح بیٹھ رہیں۔
فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ
اللّٰهِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ
اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے
اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دُنیا کی زندگی کو فروخت کردیں
یعنی اللہ کی راہ میں لڑنا دنیا طلب
لوگوں کا کام ہے ہی نہیں۔ یہ تو ایسے لوگوں کا کام ہے جن کے پیشِ نظر صرف اللہ کی خوشنودی ہو، جو اللہ اور آخرت پر
کامل اعتماد رکھتے ہوں، اور دنیا میں اپنی کامیابی و خوشحالی کے سارے امکانات اور
اپنے ہر قسم کے دُنیوی مفاد اس اُمید پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوجائیں کہ ان کا
رب ان سے راضی ہو گا اور اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں بہرحال ان کی قربانیاں ضائع
نہ ہوں گی۔ رہے وہ لوگ جن کی نگاہ میں اصل اہمیت اپنے دُنیوی مفاد ہی کی ہو، تو
درحقیقت یہ راستہ ان کے لیے نہیں ہے۔
احکام القرآن - ۱۰
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن –صفحہ 378
سورہ نساء آیت 86
وَ اِذَا حُيِّيْتُمْ
بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا
اور جب کوئی احترام کے ساتھ
تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح
اُس وقت مسلمانوں اور غیر مسلموں کے
تعلقات نہایت کشیدہ ہو رہے تھے، اور جیسا کہ تعلقات کی کشیدگی میں ہو اکرتا ہے ،
اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں مسلمان
دوسرے لوگوں کے ساتھ کج خُلقی سے نہ پیش آنے لگیں۔ اس لیے انہیں ہدایت کی
گئی کہ جو تمہارے ساتھ احترام کا برتاؤ کرے اس کے ساتھ تم بھی ویسے ہی بلکہ اس سے
زیادہ احترام سے پیش آؤ۔ شائستگی کا جواب شائستگی ہی ہے، بلکہ تمہارا منصب یہ ہے
کہ دوسروں سے بڑھ کر شائستہ بنو۔ ایک داعی و مبلغ گروہ کے لیے، جو دنیا کو راہِ
راست پر لانے اور مسلک حق کی طرف دعوت دینے کے لیے اُٹھا ہو، درشت مزاجی ، ترش
رُوئی اور تلخ کلامی مناسب نہیں ہے۔ اس سے نفس کی تسکین تو ہو جاتی ہے مگر اُس
مقصد کو الٹا نقصان پہنچتا ہے جس کے لیے وہ اُٹھا ہے۔
Comments
Post a Comment