احکام القرآن - ۷
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
احکام القرآن - ۷
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 317تا331
اسلامی سوسائیٹی کی تنظیم کے لیے
سُورہٴ بقرہ میں جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ سوسائیٹی ان سے زائد ہدایات کی
طالب تھی ، اس لیے سُورہٴ نساء کے اِن خطبوں میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ
مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کو اسلام کے طریق
پر کس طرح درست کریں۔ خاندان کی تنظیم کے اُصُول بتائے گئے۔ نکاح پر پابندیاں عائد
کی گئیں۔ معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کی حد بندی کی گئی۔ یتیموں کے حقوق معیّن
کیے گئے۔ وراثت کی تقسیم کا ضابطہ مقرر کیا گیا۔ معاشی معاملات کی درستی کے متعلق
ہدایات دی گئیں۔ خانگی جھگڑوں کی اصلاح کا طریقہ سکھایا گیا۔ تعزیری قانون کی
بنا ڈالی گئی۔ شراب نوشی پر پابندی عائد کی
گئی۔ طہارت و پاکیزگی کے احکام دیے گئے۔ مسلمانوں کو بتایا گیا کہ ایک صالح انسان
کا طرزِ عمل خدا اور بندوں کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کے اندر جماعتی نظم
و ضبط (ڈسپلن) قائم کرنے کے متعلق ہدایات دی گئیں۔ اہلِ کتاب کے اخلاقی و مذہبی رویّہ
پر تبصرہ کر کے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا کہ اپنی اِن پیش رَو اُمتوں کے نقشِ قدم
پر چلنے سے پرہیز کریں۔ منافقین کے طرزِ عمل پر تنقید کر کے سچی ایمانداری کے مقتضیا
ت واضح کیے گئے۔ اور ایمان و نفاق کے امتیازی اوصاف کو بالکل نمایاں کر کے رکھ دیا
گیا۔
مخالفِ اصلاح طاقتوں سے جو کشمکش برپا
تھی اُس نے جنگِ اُحد کے بعد زیادہ نازک صُورت اختیار کر لی تھی۔ اُحد کی شکست نے
اطراف و نواح کے مشرک قبائل ، یہُودی ہمسایوں، اور گھر کے منافقوں کی ہمتیں بہت
بڑھا دی تھیں اور مسلمان ہر طرف سے خطرات میں گھِر گئے تھے۔ ان حالات میں اللہ
تعالیٰ نے ایک طرف پُر جوش خطبوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کو مقابلہ کے لیے اُبھارا،
اور دُوسری طرف جنگی حالات میں کام کرنے کے لیے انہیں مختلف ضروری ہدایات دیں۔ مدینہ
میں منافق اور ضعیف الایمان لوگ ہر قسم کی خوفناک خبریں اُڑا کر بدحواسی پھیلانے کی
کوشش کر رہے تھے۔ حکم دیا گیا کہ ہر ایسی
خبر ذمہ دار لوگوں تک پہنچائی جائے اور جب تک وہ کسی خبر کی تحقیق نہ کر لیں اس کی
اشاعت کو روکا جائے۔ مسلمانوں کو بار بار غزّوات اور سَرِیّوں میں جانا پڑتا تھا
اور اکثر ایسے راستوں سے گزرنا ہوتا تھا جہاں پانی فراہم نہ ہو سکتا تھا۔ اجازت دی
گئی کہ پانی نہ ملے تو غسل اور وضو دونوں کے بجائے تیمم کر لیا جائے۔ نیز ایسے
حالات میں نماز مختصر کرنے کی بھی اجازت
دےدی گئی اور جہاں خطرہ سر پر ہو وہاں صلوٰ ةِ خوف ادا کرنے کا طریقہ بتایا
گیا۔ عرب کے مختلف علاقوں میں جو مسلمان کافر قبیلوں کے درمیان منتشر تھے اور بسا
اوقات جنگ کی لپیٹ میں بھی آجاتے تھے اُن کا معاملہ مسلمانوں کے لیے سخت پریشان
کُن تھا ۔ اِس مسئلہ میں ایک طرف اسلامی جماعت کو تفصیلی ہدایات دی گئیں اور دُوسری
طرف اُن مسلمانوں کو بھی ہجرت پر اُبھارا گیا تاکہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر دارالاسلام
میں آجائیں۔
یہُودیوں میں سے بنی نضیر کا رویہ
خصُوصیّت کے ساتھ نہایت معاندانہ ہو گیا تھا اور معاہدات کی صریح خلاف ورزی کر کے
کھُلم کھُلا دشمنانِ اسلام کا ساتھ دے رہے تھے اور خود مدینہ میں محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ ؐ کی جماعت کے خلاف سازشوں کے جال بچھا رہے تھے ۔ ان کی اس روش پر سخت
گرفت کی گئی اور انہیں صاف الفاظ میں آخری تنبیہ کر دی گئی۔ اس کے بعد ہی مدینہ سے
اُن کا اخراج عمل میں آیا۔
منافقین کے مختلف گروہ مختلف طرزِ عمل
رکھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کس قسم کے منافقوں سے کیا
معاملہ کریں۔ ان سب کو الگ الگ طبقوں میں تقسیم کر کے ہر طبقہ کے منافقوں کے متعلق
بتا دیا گیا کہ ان کے ساتھ یہ برتا ؤ ہونا چاہیے۔
غیر جانبدار معاہد قبائل کے ساتھ جو
رویہ مسلمانوں کا ہونا چاہیے تھا اس کو بھی واضح کیا گیا۔
سب سے زیادہ اہم چیزیہ تھی کہ مسلمان
کا اپنا کیریکٹر بے داغ ہو کیونکہ اس کشمکش میں یہ مٹھی بھر جماعت اگر جیت سکتی تھی
تو اپنے اخلاقِ فاضلہ ہی کے زور سے جیت سکتی تھی۔ اس لیے مسلمانوں کو بلند ترین
اخلاقیات کی تعلیم دی گئی اور جو کمزوری بھی ان کی جماعت میں ظاہر ہوئی اس پر سخت
گرفت کی گئی۔
دعوت و تبلیغ کا پہلو بھی اس
سُورہ میں چھُوٹنے نہیں پایا ہے ۔ جاہلیّت
کے مقابلہ میں اسلام جس اخلاقی و تمدّنی اصلاح کی طرف دنیا کو بُلا رہا تھا ، اس کی توضیح کرنے کے
علاوہ یہُودیوں، عیسائیوں اور مشرکین، تینوں گروہوں کے غلط مذہبی تصوّرات اور غلط
اخلاق و اعمال پر اس سُورہ میں تنقید کر کے ان کو دینِ حق کی طرف دعوت دی گئی ہے۔
سورہ نساء آیات 1تا 16
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ
اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ
مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ
اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ
كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا۰۰۱وَ اٰتُوا الْيَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ
وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا۰۰۲وَ اِنْ خِفْتُمْ
اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ
النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا
فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا
تَعُوْلُوْاؕ۰۰۳وَ
اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ
مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْٓـًٔا مَّرِيْٓـًٔا۰۰۴وَ لَا تُؤْتُوا
السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِيْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيٰمًا وَّ
ارْزُقُوْهُمْ فِيْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۰۰۵وَ ابْتَلُوا
الْيَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ
رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ
اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ يَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا
فَلْيَسْتَعْفِفْ۠١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ
فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى
بِاللّٰهِ حَسِيْبًا۰۰۶لِلرِّجَالِ
نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ
نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ
اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۰۰۷وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ
اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ
قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۰۰۸وَ لْيَخْشَ
الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَيْهِمْ١۪
فَلْيَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا۰۰۹اِنَّ الَّذِيْنَ
يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ
بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًاؒ۰۰۱۰ يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ
مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ
فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ
لِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ
وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ
الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ
وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا
تَدْرُوْنَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا۰۰۱۱وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ
اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ
الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِهَاۤ اَوْ
دَيْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ
وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ
مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ
يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ
مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ
فِي الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ۙ غَيْرَ مُضَآرٍّ١ۚ
وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌؕ۰۰۱۲تِلْكَ حُدُوْدُ
اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ
مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ
الْعَظِيْمُ۰۰۱۳وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ
يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌؒ۰۰۱۴ وَ الّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ
فَاسْتَشْهِدُوْا۠ عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا
فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ
اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيْلًا۰۰۱۵وَ الَّذٰنِ يَاْتِيٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ
فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ
تَوَّابًا رَّحِيْمًا۰۰۱۶
لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک
جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت
دُنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دُوسرے سے اپنے حق
مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلّقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ
اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔
یتیموں کے مال اُن کو واپس دو، اچھے
مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاوٴ،
یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی
کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار
سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک
ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیّت میں لاوٴ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے
انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین ِصواب ہے۔
اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ
(فرض جانتے ہوئے)ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصّہ تمہیں
معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھاسکتے ہو۔
اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے
لیے قیامِ زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں
کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو۔
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں
تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاوٴ تو
اُن کے مال اُن کے حوالے کردو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اِس
خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاوٴ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔
یتیم کا جو سر پرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف
طریقہ سے کھائے۔ پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ
بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے۔
مردوں کے لیے اُس مال میں حصّہ ہے جو
ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں
نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصّہ(اللہ کی طرف سے)مقرر ہے۔
اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ
اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے
مانسوں کی سی بات کرو۔
لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا
چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچّوں
کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی
بات کریں۔ جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے
بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔
تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں
ہدایت کرتا ہے کہ :
مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر
ہے،اگر
(میّت کی وارث)دو سے زائد لڑکیاں ہو ں
تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔
اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا
ترکہ اس کا ہے۔
اگر میّت صاحبِ اولاد ہو تو اس کے
والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصّہ مِلنا چاہیے۔
اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور
والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصّہ دیا جائے۔
اور اگر میّت کے بھائی بہن بھی ہوں تو
ماں چھٹے حصّہ کی حق دار ہوگی۔
(یہ سب حصّے اُس وقت نکالے جائیں
گے)جبکہ وصیّت جو میّت نے کی ہو پُوری کردی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کردیا
جائے۔
تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور
تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے
ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔
اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو
اس کا آدھا حصّہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صُورت میں
ترکہ کا ایک چوتھائی حصّہ تمہارا ہے جبکہ وصیّت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے،
اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی
کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صُورت میں اُن کا
حصّہ آٹھواں ہوگا، بعد اس کے کہ جو وصیّت تم نے کی ہو وہ پُوری کردی جائے اور جو
قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے۔
اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث
تقسیم طلب ہے)بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک
بھائی یا ایک بہن موجود ہوتو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور بھائی
بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیّت
جو کی گئی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے، بشرطیکہ
وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خُو
ہے۔
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ جو
اللہ اور اُس کے رسُولؐ کی اطاعت کرے گا
اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں
میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسُول ؐ کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی
حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس
کے لیے رسوا کُن سزا ہے۔
تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی
مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے
دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ اُن کے لیے
کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف
دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ
قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
لوگو !
اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا
اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دُنیا میں پھیلا دیے
چونکہ آگے چل کر
انسانوں کے باہمی حقوق بیان کرنے ہیں اور خصُوصیّت کے ساتھ خاندانی نظام کی بہتری و استواری کے لیے ضروری قوانین ارشاد فرمائے
جانے والے ہیں، اس لیے تمہید اس طرح اُٹھائی گئی کہ ایک طرف اللہ سے ڈرنے اور اس کی
ناراضی سے بچنے کی تاکید کی اور دُوسری
طرف یہ بات ذہن نشین کرائی کہ تمام انسان ایک اصل سے ہیں اور ایک دُوسرے کا خون
اور گوشت پوست ہیں۔
” تم کو ایک جان
سے پیدا کیا“یعنی نوعِ انسانی کی تخلیق ابتداءً ایک فرد سے کی۔ دُوسری جگہ قرآن
خود اس کی تشریح کرتا ہے کہ وہ پہلا انسان آدم تھا جس سے دنیا میں نسلِ انسانی پھیلی۔
”اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا“، اس کی تفصیلی کیفیت ہمارے علم
میں نہیں ہے۔ عام طور پر جو بات اہلِ تفسیر بیان کرتے ہیں اور جو بائیبل میں بھی بیان
کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدم کی پسلی سے
حوّا کو پیدا کیا گیا ( تَلموُد میں اَور تفصیل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت
حوّا کو حضرت آدم علیہ السّلام کی دائیں جانب کی تیرھویں پسلی سے پیدا کیا گیا
تھا)۔ لیکن کتاب اللہ اِس بارے میں خاموش ہے۔ اور جو حدیث اس کی تائید میں پیش کی
جاتی ہے کا مفہُوم وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھا ہے ۔ لہٰذا بہتر ہے کہ بات
کو اسی طرح مجمل رہنے دیا جائے جس طرح اللہ نے اسے مجمل رکھا ہے اور اس کی تفصیلی
کیفیت متعیّن کرنے میں وقت نہ ضائع کیا جائے۔
یتیموں کے
مال اُن کو واپس دو
یعنی جب تک وہ بچّے ہیں
، اُن کے مال اُنہی کے مفاد پر خرچ کرو اور جب بڑے ہو جائیں تو جو ان کا حق ہے وہ
انہیں واپس کر دو۔
اچھے مال
کو بُرے مال سے نہ بدل لو
جامع فقرہ ہے جس کا ایک
مطلب یہ ہے کہ حلال کی کمائی کے بجائے
حرام خوری نہ کرنے لگو، اور دُوسرا مطلب یہ ہے کہ یتیموں کے اچھّے مال کو اپنے
بُرے مال سے نہ بدل لو۔
اور اگر تم
یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں
سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو
اس کے تین مفہوم اہلِ
تفسیر نے بیان کیے ہیں:
(١) حضرت عائشہ ؓ اس
کی تفسیر میں فرماتی ہیں کہ زمانہٴ جاہلیت میں جو یتیم بچّیاں لوگوں کی سرپرستی میں
ہوتی تھیں اُن کے مال اور اُن کے حُسن و جمال کی وجہ سے ، یا اس خیال سے کہ ان کا
کوئی سردھرا تو ہے نہیں، جس طرح ہم چاہیں گے دبا کر رکھیں گے ، وہ ان کے ساتھ خود
نکاح کر لیتے تھے اور پھر اُن پر ظلم کیا کرتے تھے ۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اگر تم کو
اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو دُوسری عورتیں دُنیا میں
موجود ہیں ، ان میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان کے ساتھ نکاح کر لو۔ اسی سُورة میں
اُنیسویں رکوع کی پہلی آیت اس تفسیر کی تائید کرتی ہے۔
(۲) ابن عباس ؓ اور ان کے شاگرد عِکرِمہ اس کی تفسیر یہ بیان
کرتے ہیں کہ جاہلیت میں نکاح کی کوئی حد نہ تھی۔ ایک ایک شخص دس دس بیویاں کر لیتا
تھا۔ اور جب اس کثرتِ ازدواج سے مصارف بڑھ جاتے تھے تو مجبُور ہو کر اپنے یتیم بھتیجوں،
بھانجوں اور دُوسرے بے بس عزیزوں کے حقوق
پر دست درازی کرتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے چار کی حد مقرر
کر دی اور فرمایا کہ ظلم و بے انصافی سے بچنے کی صُورت یہ ہے کہ ایک سے لے کر چار
تک اتنی بیویاں کرو جن کے ساتھ تم عدل پر قائم رہ سکو۔
(۳)سَعید بن جُبَیر اور قَتَادَہ اور بعض دُوسرے مفسّرین کہتے
ہیں کہ جہاں تک یتیموں کا معاملہ ہے اہلِ
جاہلیت بھی ان کے ساتھ بے انصافی کرنے کو اچھی
نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ لیکن عورتوں کے معاملہ میں اُن کے ذہن عدل و انصاف
کے تصوّر سے خالی تھے۔ جتنی چاہتے تھے شادیاں
کر لیتے تھے اور پھر اُن کے ساتھ ظلم و جور سے پیش آتے تھے۔ اِس پر ارشاد ہوا کہ
اگر تم یتیموں کےساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو عورتوں کے ساتھ بھی بے انصافی
کرنے سے ڈرو ۔ اوّل تو چار سے زیادہ نکاح
ہی نہ کرو، اور اس چار کی حد میں بھی بس اتنی بیویاں رکھو جن کے ساتھ انصاف کر
سکو۔
آیت کے الفاظ ان تینوں
تفسیروں کے متحمل ہیں اور عجب نہیں کہ تینوں مفہُوم مراد ہوں۔ نیز اس کا ایک
مفہُوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ ویسے انصاف نہیں کر سکتے
تو اُن عورتوں سے نکاح کر لو جن کے ساتھ یتیم
بچے ہوں۔
لیکن اگر
تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو
اس بات پر فقہا ءِ
اُمّت کا اجماع ہے کہ اس آیت کی رُو سے تعدّد ازواج کو محدُود کیا گیا ہے اور بیک
وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کو ممنوع کر دیا گیا ہے ۔ روایات سے بھی اس کی تصدیق
ہوتی ہے ۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے کہ طائف کا رئیس غَیلا جب اسلام لایا تو اس کی
نو بیویاں تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے حکم دیا کہ چار بیویاں رکھ لے
اور باقی کو چھوڑ دے۔ اِسی طرح ایک دُوسرے شخص (نَوفَل بن معاویہ) کی پانچ بیویاں
تھیں ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ ان میں سے ایک کو چھوڑ دے۔
نیز یہ آیت تعدّد
ازواج کے جواز کو عدل کی شرط سے مشروط کرتی ہے ۔ جو شخص عدل کی شرط پُوری نہیں
کرتا مگر ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کے جواز سے فائدہ اُٹھاتا ہے وہ اللہ کے ساتھ
دغا بازی کرتا ہے۔ حکومت ِ اسلامی کی
عدالتوں کو حق حاصل ہے کہ جس بیوی یا جن بیویوں کے ساتھ وہ انصاف نہ کر رہا ہو اُن
کی داد رسی کریں۔
بعض لوگ اہلِ مغرب کی
مسیحیت زدہ رائے سے مغلُوب و مرعُوب ہو کر
یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآں کا اصل مقصد تعدّدِ ازواج کے طریقے کو ( جو
مغربی نقطہ ٴ نظر سے فی الاصل بُرا طریقہ ہے) مٹا دینا تھا، مگر چونکہ یہ طریقہ
بہت زیادہ رواج پا چکا تھا اس لیے اس پر صرف پابندیاں عائد کر کے چھوڑ دیا گیا ۔ لیکن
اس قسم کی باتیں دراصل محض ذہنی غلامی کا نتیجہ ہیں ۔ تعدّد ازواج کا فی نفسہ ایک
بُرائی ہونا بجائے خود ناقابلِ تسلیم ہے ، کیونکہ بعض حالات میں یہ چیز ایک تمدّنی
اور اخلاقی ضرورت بن جاتی ہے ۔ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو پھر وہ لوگ جو ایک عورت
پر قانع نہیں ہو سکتے ، حصارِ نکاح سے باہر صنفی بد امنی پھیلانے لگتے ہیں جس کے
نقصانات تمدّن و اخلاق کے لیے اس سے بہت زیادہ ہیں جو تعدّدِ ازواج سے پہنچ سکتے ہیں۔
اِسی لیے قرآن نے ان لوگوں کو اس کی اجازت دی ہے جو اس کی ضرورت محسُوس کریں۔ تاہم
جن لوگوں کے نزدیک تعدّدِ ازواج فی نفسہ ایک بُرائی ہے اُن کو یہ اختیا ر تو ضرور
حاصل ہے کہ چاہیں تو قرآن کے بر خلاف اس کی مذمت کریں اور اسے موقوف کر دینے کا
مشورہ دیں۔ لیکن یہ حق انہیں نہیں پہنچتا کہ اپنی رائے کو خوا مخواہ قرآن کی طرف منسُوب کریں ۔ کیونکہ قرآن نے صریح
الفاظ میں اس کو جائز ٹھیرایا ہے اور اشارةً و کنایةً بھی اس کی مذمت میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں
کیا ہے جس سے معلوم ہو کہ فی الواقع وہ اس
کو مسدُود کرنا چاہتا تھا۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب” سنت کی آئینی
حیثیت “، ص ۳۰۷ تا ۳۱۶)۔
(اقتباس از مراسلت جو
سنت کی آئینی حیثیت کے بارے میں مولانا مودودی اور ڈاکٹر عبدالودود صاحب کے درمیان
ہوئی تھی)۔
تعدادِ ازواج کے
مسئلے میں فاضل جج کا اجتہاد
اس سلسلے میں وہ سب
سے پہلے سورۂ نسا کی تیسری آیت: و ان خفتم الا تقسطو فی الیتمیٰ فانکحوا ما طاب
لکم من النسآء مثنٰی و ثلاث و رباع کو لیتے ہیں جس کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ
"اسے اکثر غلط استعمال کیا گیا ہے" اس آیت پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وہ
پہلی بات یہ فرماتے ہیں کہ :
"قرآن پاک کے کسی حکم کا کوئی جزء بھی فضول یا بے معنی نہ
سمجھا جانا چاہیے"۔
لیکن اس کے فوراً بعد
دوسرا فقرہ یہ ارشاد فرماتے ہیں :
"یہ لوگوں کے منتخب نمائندوں کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں
قانون بنائیں کہ آیا ایک مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں کر سکتا ہے اور اگر کر سکتا
ہے تو کن حالات میں اور کن شرائط کے ساتھ"۔
اس اجتہاد کی پہلی
غلطی
تعجب ہے کہ فاضل جج
کو اپنے ان دونوں فقروں میں تضاد کیوں نہ محسوس ہوا۔ پہلے فقرے میں جو اصولی بات
انہوں نے خود بیان فرمائی ہے اس کی رو سے زیرِ بحث آیت کا کوئی لفظ زائد از ضرورت یا
بے معنی نہیں ہے۔ اب دیکھیے، آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس کے مخاطب افراد
مسلمین ہیں۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ "اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے
معاملہ میں تم انصاف نہ کر سکوں گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کر
لو، دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر
سکو گے تو ایک ہی سہی۔۔۔۔۔۔ "
ظاہر ہے کہ عورتوں کو
پسند کرنا، ان سے نکاح کرنا اور اپنی بیویوں سے عدل کرنا یا نہ کرنا افراد کا کام
ہے نہ کہ پوری قوم یا سوسائٹی کا۔ لہٰذا باقی تمام فقرے بھی جو بصیغۂ جمع مخاطب
ارشاد ہوئے ہیں، ان کا خطاب بھی لامحالہ افراد ہی سے ماننا پڑے گا۔ اس طرح پوری آیت
اول سے لے کر آخر تک دراصل افراد کو ان کی انفرادی حیثیت میں مخاطب کر رہی ہے اور یہ
بات انہی کی مرضی پر چھوڑ رہی ہے کہ اگر عدل کر سکیں تو چار کی حد تک جتنی عورتوں
کو پسند کریں، ان سے نکاح کر لیں اور اگر یہ خطرہ محسوس کریں کہ عدل نہ کر سکیں گے
تو ایک ہی پر اکتفا کریں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک فانکحوا ما طاب لکم اور فان خفتم
الّا تعدلوا کے صیغۂ خطاب کو فضول اور بے معنی نہ سمجھ لیا جائے، اس آیت کے ڈھانچے
میں نمائندگانِ قوم کس راستے سے داخل ہو سکتے ہیں؟ آیت کا کون سا لفظ ان کے لیے
مداخلت کا دروازہ کھولتا ہے؟ اور مداخلت بھی اس حد تک کہ وہی اس امر کا فیصلہ بھی
کریں کہ ایک مسلمان دوسری بیوی کر بھی سکتا ہے یا نہیں، حالانکہ کر سکنے کا مجاز
اسے اللہ تعالیٰ نے خود بالفاظ صریح کر دیا ہے، اور پھر "کر سکنے" کا فیصلہ
کرنے کے بعد وہی یہ بھی طے کریں کہ "کن حالات میں اور کن شرائط کے مطابق کر
سکتا ہے"۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز فرد کے اپنے انفرادی فیصلے پر چھوڑی
ہے کہ اگر وہ عدل کی طاقت اپنے اندر پاتا ہو تو ایک سے زائد کرے ورنہ ایک ہی پر
اکتفا کرے۔
دوسری غلطی
دوسری بات وہ یہ
فرماتے ہیں کہ "از راہِ قیاس ایسی شادی کو (یعنی ایک سے زائد بیویوں کے ساتھ
شادی کو) یتیموں کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے" وہی عام غلطی ہے جو اس آیت کا
مطلب لینے میں جدید زمانے کے بعض لوگ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ آیت میں
چونکہ یتامٰی کے ساتھ انصاف کا ذکر آ گیا ہے، اس لیے لا محالہ ایک سے زائد بیویاں
کرنے کے معاملہ میں کسی نہ کسی طرح یتامٰی کا معاملہ بطور ایک لازمی شرط کے شامل
ہونا چاہیے حالانکہ اگر اس بات کو ایک قاعدۂ کلیہ بنا لیا جائے کہ قرآن میں کسی
خاص موقع پر جو حکم دیا گیا ہو اور اس موقع کا ذکر بھی ساتھ ساتھ کر دیا گیا ہو،
وہ حکم صرف اسی موقع کے لیے خاص ہو گا، تو اس سی بڑی قباحتیں لازم آئیں گی۔ مثلاً
عرب کے لوگ اپنی لونڈیوں کو پیشہ کمانے پر زبردستی مجبور کرتے تھے۔ قرآن میں اس کی
ممانعت ان الفاظ میں فرمائی کہ: لا تکرھوافتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً
(النور: 33) "اپنی لونڈیوں کو بد کاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ بچی رہنا چاہتی
ہوں"۔ کیا یہاں از قیاس یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حکم صرف لونڈیوں سے متعلق
ہے، اور یہ کہ لونڈی اگر خود بدکار رہنا چاہتی ہو تو اس سے پیشہ کرایا جا سکتا ہے؟
دراصل اس طرح کی قیود
کا واقعاتی پس منظر جب تک نگاہ میں نہ ہو، آدمی قرآن مجید کی ایسی آیات کو، جن میں
کوئی حکم بیان کرتے ہوئے خاص حالت کا ذکر کیا گیا ہے، ٹھیک نہیں سمجھ سکتا۔ آیت و
ان خفتم الا تقسطو فی الیتٰمٰی کا واقعاتی پس منظر یہ ہے کہ عرب میں اور قدیم زمانے
کی پوری سوسائٹی میں، صد ہا برس سے تعداد ازواج مطلقاً مباح تھا۔ اس کے لیے کوئی
نئی اجازت دینے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہ تھی، کیونکہ قرآن کا کسی رواج عام سے
منع کرنا خود ہی اس رواج کی اجازت کا ہم معنی تھا۔ اس لیے فی الحقیقت یہ آیت تعددد
ازواج کی اجازت دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ جنگ احد کے بعد جو بہت سی
عورتیں کئی کئی بچوں کےساتھ بیوہ رہ گئی تھیں، ان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نازل
ہوئی تھی۔ اس میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ اگر شہدائے احد
کے یتیم بچوں کے ساتھ تم یوں انصاف نہیں کر سکتے تو تمہارے لیے ایک سے زائد بیویاں
کرنے کا دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا ہے، ان کی بیوہ عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں
ان کے ساتھ نکاح کر لو تاکہ ان کے بچے تمہارے اپنے بچے بن جائیں اور تمہیں ان کے
مفاد سے ذاتی دلچسپی پیدا ہو جائے۔ اس سے یہ نتیجہ کسی منطق کی رو سے بھی نہیں
نکالا جا سکتا کہ تعدد ازواج صرف اسی حالت میں جائز ہے جبکہ یتیم بچوں کی پرورش کا
مسئلہ درپیش ہو۔ اس آیت نے اگر کوئی نیا قانون بنایا ہے تو وہ تعدد ازواج کی اجازت
دینا نہیں ہے، کیونکہ اس کی اجازت تو پہلے ہی تھی اور معاشرے میں ہزاروں برس سے اس
کا رواج موجود تھا، بلکہ دراصل اس میں جو نیا قانون دیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ بیویوں
کی تعداد پر چار کی قید لگا دی گئی جو پہلے نہ تھی۔
تیسری غلطی
تیسری بات فاضل جج یہ
فرماتے ہیں کہ "اگر ایک مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ میں ایک سے زیادہ بیویاں نہیں
کروں گا کیونکہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تو 8 کروڑ مسلمانوں کی اکثریت بھی ساری
قوم کے لیے یہ قانون بنا سکتی ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی اور سیاسی حالت اس کی اجازت
نہیں دیتی کہ اس کا کوئی فرد ایک سے زیادہ بیویاں کرے"۔ اس عجیب طرز استدلال
کے متعلق ہم عرض کریں گے کہ ایک مسلمان جب یہ کہتا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں
نہ کرے گا تو وہ اس آزادی کو استعمال کرتا ہے جو اس کی خانگی زندگی کے بارے میں
خدا نے اسے دی ہے۔ وہ اس آزادی کو شادی نہ کرنے کے بارے میں بھی استعمال کر سکتا
ہے، ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے میں استعمال کر سکتا ہے اور کسی وقت اس کی رائے بدل
جائے تو ایک سے زائد بیویاں کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے لیکن جب قوم تمام افراد
کے بارے میں کوئی مستقل قانون بنا دے گی تو فرد سے اس کی وہ آزادی سلب کر لے گی جو
خدا نے اسے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسی قیاس پر کیا قوم کسی وقت یہ فیصلہ کرنے کی بھی
مجاز ہے کہ اس کے آدھے افراد شادی کریں اور آدھے نہ کریں؟ جس کی بیوی یا شوہر مر
جائے وہ نکاحِ ثانی نہ کرے؟ ہر آزادی جو افراد کو دی گئی ہے اسے بنائے استدلال بنا
کر قوم کو یہ آزادی دینا کہ وہ افراد سے ان کی آزادی سلب کرے، ایک منطقی مغالطہ تو
ہو سکتا ہے، مگر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ قانون میں یہ طرز استدلال کب سے مقبول ہوا
ہے۔
تاہم تھوڑی دیر کے لیے
ہم یہ مان لیتے ہیں کہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی اکثریت مثلاً ان میں سے 4 کروڑ ایک
ہزار مل کر ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آٹھ کروڑ
مسلمانوں میں سے صرف چند ہزار مل کر اپنی ذاتی رائے سے اس طرح کا کوئی قانون تجویز
کریں اور اکثریت کی رائے کے خلاف اسے مسلط کر دیں تو فاضل جج کے بیان کردہ اصول کی
رو سے اس کا کیا جواز ہو گا؟ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آبادی میں سے ایک لاکھ بلکہ
پچاس ہزار کا بھی نقطۂ نظر یہ نہیں ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی اور سیاسی حالت اس
امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایک سے زائد بیویاں رکھنا تو قانوناً
ممنوع ہو، البتہ اس کا "گرل فرینڈس" سے آزادانہ تعلق، یا طوائفوں سے ربط
و ضبط، یا مستقل داشتہ رکھنا از روئے قانون جائز رہے۔ خود وہ عورتیں بھی، جن کے لیے
سوکن کا تصور ہی تکلیف دہ ہے، کم ہی ایسی ہوں گی جن کے نزدیک ایک عورت سے ان کے
شوہر کا نکاح ہو جائے تو ان کی زندگی ستی سے بدتر ہو جائے گی، لیکن اسی عورت سے ان
کے شوہر کا نا جائز تعلق رہے تو ان کی زندگی جنت کا نمونہ بنی رہے گی۔
چوتھی غلطی
پھر فاضل جج فرماتے ہیں :
"اس آیت کو قرآن کی دوسری دو آیتوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔
ان میں سے پہلی آیت سورۂ نور نمبر 33 ہے جس میں طے کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی کرنے
کے ذرائع نہ رکھتے ہوں، ان کو شادی نہ کرنی چاہیے۔ اگر ذرائع کی کمی کے باعث ایک
شخص کو ایک بیوی کرنے سے روکا جا سکتا ہے تو انہی وجوہ یا ایسے ہی وجوہ کی بنا پر
اسے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔ "
یہاں پھر موصوف نے
خود اپنے بیان کردہ اصول کو توڑ دیا ہے۔ آیت کے اصل الفاظ یہ ہیں :
ولیستعفف الذین لا یجدون
نکاحاً حتٰی یغنیھم اللہ من فضلہ
"اور عفت مآبی سے کام لیں وہ لوگ جو نکاح کا موقع نہیں پاتے یہاں
تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے"۔
ان الفاظ میں یہ
مفہوم کہاں سے نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو نکاح نہ کرنا چاہیے؟ اگر قرآن کی کسی آیت
کے الفاظ کو "فضول و بے معنی" سمجھنا درست نہیں ہے تو نکاح سے منع کر دینے
کا تصور اس آیت میں کسی طرح داخل نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں تو صرف یہ کہا گیا ہے
کہ جب تک اللہ نکاح کے ذرائع فراہم نہ کر دے اس وقت تک مجرد لوگ عفت مآب بن کر رہیں۔
بد کاریاں کر کے نفس کی تسکین نہ کرتے پھریں۔ تاہم اگر کسی نہ کسی طرح نکاح سے منع
کر دینے کا مفہوم ان الفاظ میں داخل کر بھی دیا جائے، پھر بھی اس کا روئے سخن فرد
کی طرف ہے، نہ کہ قوم یا ریاست کی طرف۔ یہ بات فرد کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دی گئی
ہے کہ کب وہ اپنے آپ کو شادی کر لینے کے قابل پاتا ہے اور کب نہیں پاتا اور اسی کو
یہ ہدایت کی گئی ہے کہ (اگر فی الواقع ایسی کوئی ہدایت کی بھی گئی ہے) کہ جب تک وہ
نکاح کے ذرائع نہ پائے، نکاح نہ کرے۔ اس میں ریاست کو یہ حق کہاں دیا گیا ہے کہ وہ
فرد کے اس ذاتی معاملہ میں دخل دے اور یہ قانون بنا دے کہ کوئی شخص اس وقت تک نکاح
نہ کرنے پائے جب تک وہ ایک عدالت کے سامنے اپنے آپ کو ایک بیوی اور گنتی کے چند
بچوں (جن کی تعداد مقرر کر دینے کا حق بھی فاضل جج کی رائے میں یہی آیت ریاست کو
عطا کرتی ہے) پرورش کے قابل ثابت نہ کر دے؟ آیت کے الفاظ اگر "فضول اور بے
معنی" نہیں ہیں تو اس معاملے میں ریاست کی قانون سازی کا جواز ہمیں بتایا
جائے کہ اس کے کس لفظ سے نکلتا ہے؟ اور اگر نہیں نکلتا تو اس آیت کی بنیاد پر مزید
پیش قدمی کر کے ایک سے زائد بیویوں اور مقررہ تعداد سے زائد بچوں کے معاملہ میں ریاست
کو قانون بنانے کا حق کیسے دیا جا سکتاہے؟
پانچویں غلطی
دوسری آیت جسے سورۂ
نساء کی آیت نمبر 3 کے ساتھ ملا کر پڑھنے اور اس سے ایک حکم نکالنے کی فاضل جج نے
کوشش فرمائی ہے وہ سورۂ نساء کی آیت 129 ہے۔ اس کا صرف حوالہ دینے پر انہوں نے
اکتفاء نہیں فرمایا ہے، بلکہ اس کے الفاظ انہوں نے خود نقل کر دیے ہیں، اور وہ یہ
ہیں :
ولا تستطیعوا ان
تعدلو بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقہ و ان تصلحو۱ و تتقوا فان
اللہ کان غفوراً رحیماً
"اور تم ہر گز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ عدل کرو عورتوں (یعنی
بیویوں) کے درمیان، خواہ تم اس کے کیسے ہی خواہش مند ہو لہٰذا (ایک بیوی کی طرف)
بالکل نہ جھک پڑو کہ (دوسری کو) معلق چھوڑ دو اور اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو
اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ یقیناً درگزر کرنے والا اور رحیم ہے"۔
ان الفاظ کی بنیاد پر
فاضل جج پہلے تو یہ فرماتے ہیں کہ "اللہ تعالیٰ نے یہ بات بالکل واضح کر دی
ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا انسان ہستیوں کے بس میں نہیں ہے" پھر یہ نتیجہ
نکالتے ہیں کہ "یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ ان دونوں آیتوں میں تطبیق دینے کے لیے
ایک قانون بنائے، اور ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر پابندیاں عائد کرے۔ وہ کہہ سکتی
ہے کہ دو بیویاں کرنے کی صورت میں چونکہ سالہا سال کے تجربات سے یہ بات ظاہر ہو چکی
ہے اور قرآن میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دونوں بیویوں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں
ہو سکتا، لہٰذا یہ طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے"۔
ہمیں سخت حیرت ہے کہ
اس آیت میں سے اتنا بڑا مضمون کس طرح اور کہاں سے نکل آیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ
تو ضرور فرمایا ہے کہ انسان دو یا زائد بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل اگر کرنا
چاہے بھی تو نہیں کر سکتا، مگر کیا اس بنیاد پر اس نے تعدد ازواج کی وہ اجازت واپس
لے لی جو عدل کی شرط کے ساتھ اس نے خود ہی سورۂ نساء کی آیت نمبر 3 میں دی تھی؟ آیت
کے الفاظ بتا رہے تھے کہ اس فطری حقیقت کو صریح لفظوں میں بیان کرنے کے بعد اللہ
تعالیٰ دو یا زائد بیویوں کے شوہر سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک بیوی کی طرف
اس طرح ہمہ تن نہ مائل ہو جائے کہ دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر
پورا پورا عدل نہ کر سکنے کا حاصل قرآن کی رو سے یہ نہیں ہے کہ تعدد ازواج کی
اجازت ہی سرے سے منسوخ ہو جائے بلکہ اس کے برعکس اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ شوہر
ازدواجی تعلق کے لیے ایک بیوی کو مخصوص کر لینے سے پرہیز کرے اور ربط و تعلق سب بیویوں
سے رکھے خواہ اس کا دلی میلان ایک ہی کی طرف ہو۔ یہ حکم ریاست کو مداخلت کا موقع
صرف اس صورت میں دیتا ہے جبکہ ایک شوہر نے اپنی دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق کر
کے رکھ دیا ہو۔ اسی صورت میں وہ بے انصافی واقع ہو گی جس کے ساتھ تعدد ازواج کی
اجازت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن منطق کی رو سے بھی اس آیت کے الفاظ اور
اس کی ترکیب اور فحویٰ سے یہ گنجائش نہیں نکالی جا سکتی کہ معلق نہ رکھنے کی صورت
میں ایک ہی شخص کے لیے تعدد ازواج کو از روئے قانون ممنوع ٹھہرایا جا سکے، کجا کہ
اس میں سے اتنا بڑا مضمون نکال لیا جائے کہ ریاست تمام لوگوں کے لیے ایک سے زائد بیویاں
رکھنے کو مستقل طور پر ممنوع ٹھہرا دے۔ قرآن کی جتنی آیتوں کو بھی آدمی چاہے، ملا
کر پڑھے، لیکن قرآن کے الفاظ میں قرآن ہی کا مفہوم پڑھنا چاہیے، کوئی دوسرا مفہوم
کہیں سے لا کر قرآن پڑھنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ مفہوم قرآن سے نکل رہا ہے، کسی
طرح بھی درست طریقِ مطالعہ نہیں ہے کجا کہ اسے درست طریق اجتہاد مان لیا جائے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم
فاضل جج کو اور ان کا سا طرزِ فکر رکھنے والے دوسرے حضرات کو بھی، ایک سوال پر غور
کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی جن آیات پر وہ کلام فرما رہے ہیں، ان کو نازل
ہوئے 1378 سال گزر چکے ہیں۔ اس پوری مدت میں مسلم معاشرہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں
مسلسل موجود رہا ہے۔ آج کسی ایسی معاشی یا تمدنی یا سیاسی حالت کی نشاندہی نہیں کی
جا سکتی جو پہلے کسی دور میں بھی مسلم معاشرے کو پیش نہ آئی ہو لیکن آخر کیا وجہ
ہے کہ پچھلی صدی کے نصف آخر سے پہلے پورے دنیائے اسلام میں کبھی یہ تخیل پیدا نہ
ہوا کہ تعدد ازواج کو روکنے یا اس پر سخت پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے؟ کیا اس کی
کوئی معقول توجیہ اس کے سوا کی جا سکتی ہے کہ اب ہمارے ہاں یہ تخیل ان مغربی قوموں
کے غلبہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو ایک سے زائد بیوی رکھنے کو ایک قبیح و شنیع فعل،
خارج از نکاح تعلقات کو (بشرط تراضی طرفین) حلال و طیب، یا کم از کم قابل در گزر
سمجھتی ہیں؟ جن کے ہاں داشتہ رکھنے کا طریقہ قریب قریب مسلم ہو چکا ہے مگر اسی
داشتہ سے نکاح کر لینا حرام ہے؟ اگر صداقت کے ساتھ فی الواقع اس کے سوا اس تخیل کے
پیدا ہونے کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس طرح خارجی اثرات
سے متاثر ہو کر قرآن آیات کی تعبیریں کرنا کیا کوئی صحیح طریق اجتہاد ہے؟ اور کیا
عام مسلمانوں کے ضمیر کو ایسے اجتہاد پر مطمئن کیا جا سکتا ہے؟
یا اُن
عورتوں کو زوجیّت میں لاوٴ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں
لونڈیاں مراد ہیں ، یعنی
وہ عورتیں جو جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں اور حکومت کی طرف سے لوگوں میں تقسیم کر دی
جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک آزاد خاندانی بیوی کا با ر بھی برداشت نہ کر سکو تو پھر لونڈی سے نکاح کر لو،
جیسا کہ رکوع ۴ میں آگے آتا ہے ۔ یا یہ کہ اگر ایک سے زیادہ عورتوں کی تمہیں
ضرورت ہو اور آزاد خاندانی بیویوں کے درمیان
عدل رکھنا تمہارے لیے مشکل ہو تو لونڈیوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ ان کی وجہ سے تم
پر ذمّہ داریوں کا بار نسبتًہ کم پڑے گا۔ (آگے حاشیہ نمبر ۴۴ میں
لونڈیوں کے متعلق احکام کی مزید تفصیل ملے گی)
سورة النساء حاشیہ
نمبر۴۴
یعنی جو عورتیں جنگ میں
پکڑی ہوئی آئیں اور ان کے کافر شوہر
دارالحرب میں موجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں، کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میں آنے
کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔ ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا جا سکتا ہے اور جس کی
ملک یمین میں ہو ں وہ ان سے تمتُّع بھی کر سکتا ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس امر
میں اختلاف ہے کہ اگر میاں اور بیوی دونوں
ایک ساتھ گرفتا ر ہوں تو ان کا کیا حکم ہے
۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ ان کا نکاح باقی رہے گا اور امام
مالک و شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ان کا نکاح بھی باقی نہ رہے گا۔
لونڈیوں سے تمتُّع کے
معاملہ میں بہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں۔ لہٰذا حسب ذیل مسائل کو اچھی
طرح سے سمجھ لینا چاہیے:
(١) جو عورتیں جنگ
میں گرفتا ر ہوں ان کو پکڑتے ہی ہر سپاہی ان کے ساتھ مباشرت کر لینے کا مجاز نہیں
ہے۔ بلکہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی عورتیں حکومت کے حوالہ کر دی جائیں گی۔ حکومت
کو اختیار ہے کہ چاہے ان کو رہا کر دے،
چاہے ان سے فدیہ لے ، چاہے ان کا تبادلہ اُن مسلمان قیدیوں سے کرے جو دُشمن
کے ہاتھ میں ہوں ، اور چاہے تو انہیں سپاہیوں میں تقسیم کر دے۔ ایک سپاہی صرف اس
عورت ہی سے تمتُّع کرنے کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کی ملک میں دی
گئی ہو۔
(۲) جو عورت اس طرح کسی کی ملک میں دی جائے اس کے ساتھ بھی اس
وقت تک مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں اور یہ
اطمینان نہ ہولے کہ وہ حاملہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے مباشرت کرنا حرام ہے۔ اور اگر
وہ حاملہ ہو تو وضع حمل سے پہلے بھی مباشرت ناجائز ہے۔
(۳) جنگ میں پکڑی ہوئی عورتوں سے تمتُّع کے
معاملہ میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اہلِ کتاب ہی میں سے ہوں۔ ان کا مذہب خواہ کوئی
ہو، بہرحال جب وہ تقسیم کر دی جائیں گی تو جن کے حصّہ میں وہ آئیں وہ ان سے تمتُّع
کر سکتے ہیں۔
(۴) جو عورت جس شخص کے حصّہ میں دی گئی ہو صرف وہی اس کے ساتھ
تمتُّع کر سکتا ہے۔ کسی دُوسرے کو اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس عورت سے جو
اولاد ہوگی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائے گی جس کی ملک میں وہ عورت ہے۔ اُس
اولاد کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو شریعت میں صُلبی اولاد کے لیے مقرر ہیں۔ صاحب
ِ اولاد ہوجانے کے بعد وہ عورت فروخت نہ کی جا سکے گی۔ اور مالک کے مرتے ہی وہ آپ
سے آپ آزاد ہو جائے گی۔
(۵) جو عورت اس طرح کسی شخص کی ملک میں آئی ہو اسے اگر اس کا
مالک کسی دُوسرے شخص کے نکاح میں دیدے تو پھر مالک کو اس سے دُوسری تمام خدمات لینے
کا حق تو رہتا ہے لیکن شہوانی تعلق کا حق باقی نہیں رہتا۔
(٦) جس طرح شریعت
نے بیویوں کی تعداد پر چار کی پابندی لگائی ہے اُس طرح لونڈیوں کی تعداد پر نہیں
لگائی ۔ لیکن اس معاملہ میں کوئی حد مقرر نہ کرنے سے شریعت کا منشا یہ نہیں تھا کہ
مالدار لوگ بے شمار لونڈیاں خرید کر جمع کر لیں اور اپنے گھر کو عیاشی کا گھر بنا
لیں۔ بلکہ درحقیقت اس معاملہ میں عدم تعیُّن کی وجہ جنگی حالات کا عدم تعیُّن ہے۔
(۷) ملکیت کے تمام دُوسرے حقوق کی طرح وہ مالکانہ حقوق بھی
قابلِ انتقال ہیں جو کسی شخص کو ازرُوئے قانون کسی اسیرِ جنگ پر حکومت نے عطا کیے
ہوں۔
(۸) حکومت کی طرف سے حقوقِ ملکیّت کا باقاعدہ عطا کیا جانا ویسا
ہی ایک قانونی فعل ہے جیسا نکاح ایک قانونی فعل ہے۔ لہٰذا کوئی معقول وجہ نہیں کہ
جو شخص نکاح میں کسی قسم کی کراہت محسُوس نہیں کرتا وہ خواہ مخواہ لونڈی سے تمتُّع
میں کراہت محسُوس کرے۔
(۹) اسیرانِ
جنگ میں سے کسی عورت کو کسی شخص کی ملکیت میں دے دینے کے بعد پھر حکومت اسے واپس لینے
کے مجاز نہیں رہتی۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی عورت کا ولی اس کو کسی کے نکاح میں دے
چکنے کے بعد پھر واپس لینے کا حقدار نہیں رہتا۔ اور محض کچھ وقت کے لیے انھیں فوج
میں تقسیم کرے تو یہ اسلامی قانون کی رُو سے قطعاً ایک ناجائز فعل ہے۔ اس میں اور
زنا میں کوئی فرق نہیں ہے، اور زنا اسلامی قانون میں جُرم ہے ۔ تفصیلی بحث کے لیے
ملاحظہ ہو ہماری کتاب”تفہیمات“ حصّہ دوم۔ اور ”رسائل و مسائل“ حصّہٴ اوّل۔
Comments
Post a Comment