احکام القرآن - ۱۲
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احکام القرآن - ۱۲
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد اول – احکام القرآن –صفحہ 401،
402
سورہ نساء آیات 127،
128
وَ يَسْتَفْتُوْنَكَ۠ فِي النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ١ۙ وَ مَا يُتْلٰى
عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ
مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ
مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا
تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيْمًا۰۰۱۲۷وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا
جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ
خَيْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا
فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۰۰۱۲۸
لوگ تم سے عورتوں کے
معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہو اللہ
تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس
کتاب میں سنائے جارہے ہیں۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق
تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے
سے تم باز رہتے ہو(یا لالچ کی بنا ء پر تم
خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، اور وہ
احکام جو ان بچّوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے۔ اللہ تمہیں ہدایت
کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم
رہو، جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی۔جب کسی عورت کو
اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی(
کچھ حقوق کی کمی بیشی پر)آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے۔ نفس تنگ دلی کی
طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام
لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا۔
وَ
يَسْتَفْتُوْنَكَ۠ فِي النِّسَآءِ
لوگ تم سے
عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں
اس کی تصریح نہیں
فرمائی گئی کہ عورتوں کے معاملہ میں لوگ کیا پُوچھتے تھے۔ مگر آگے چل کر جو فتویٰ
دیا گیا ہے اس سے سوال کی نوعیت خودواضح ہو جاتی ہے۔
قُلِ اللّٰهُ
يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ١ۙ وَ مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ
کہو اللہ
تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس
کتاب میں سنائے جارہے ہیں
یہ اصل استفتاء کا
جواب نہیں ہے بلکہ لوگوں کے سوال کی طرف توجہ فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اُن
احکام کی پابندی پر پھر ایک مرتبہ زور دیا ہے جو اِسی سُورۃ کے آغاز میں یتیم لڑکیوں
کے متعلق بالخصُوص اور یتیم بچوں کے متعلق بالعمُوم ارشاد فرمائے تھے۔ اس سے معلوم
ہوتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں یتیموں کے حقوق کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ ابتدائی
دورکوعوں میں ان کے حقوق کے تحفظ کی تاکید بڑی شدّت کے ساتھ کی جا چکی تھی۔ مگر اس
پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ اب جو معاشرتی مسائل کی گفتگو چھڑی تو قبل اس کے کہ لوگوں
کے پیش کردہ سوال کا جواب دیا جاتا ، یتیموں کے مفاد کا ذکر بطورِ خود چھیڑ دیا گیا۔
فِيْ يَتٰمَى
النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ
یعنی وہ
احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے
”اشارہ ہے اُس آیت کی
طرف جس میں ارشاد ہوا ہے کہ ”اشارہ ہے اُس آیت کی طرف جس میں ارشاد ہوا ہے کہ ”اگر
یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو
عورتیں تم کو پسند آئیں۔۔۔۔“ (سُورۂ نساء ۔ آیت ۳)
وَ
تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ
اور جن کے
نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو(یا لالچ کی
بنا ء پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے
ہو)
تَرْغَبُوْنَ
اَنْ تَنْکِحُوْ ھُنَّ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ”تم ان سے نکاح کرنے کی
رغبت رکھتے ہو“ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ”تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے“۔
حضرت عائشہ ؓ اس کی تشریح میں فرماتی ہیں کہ جن لوگوں کی سرپرستی میں ایسی یتیم
لڑکیاں ہوتی تھیں جن کے پاس والدین کی چھوڑی ہوئی کچھ دولت ہوتی تھی وہ ان لڑکیوں
کے ساتھ مختلف طریقوں سے ظلم کرتے تھے۔ اگر لڑکی مالدار ہونے کے ساتھ خوبصورت بھی
ہوتی تو یہ لوگ چاہتے تھے کہ خود اس سے نکاح کر لیں اور مہر و نفقہ ادا کیے بغیر اس کے مال اور جمال دونوں سے فائدہ اُٹھائیں۔
اور اگر وہ بدصُورت ہوتی تو یہ لوگ نہ اس سے خود نکاح کرتے تھے اور نہ کسی دُوسرے
سے اس کا نکاح ہونے دیتے تھے تاکہ اس کا کوئی ایسا سر دھرا پیدا نہ ہو جائے جو کل
اُس کے حق کا مطالبہ کرنے والا ہو۔
وَ
الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ
اور وہ
احکام جو ان بچّوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے
اشارہ ہے ان احکام کی
طرف جو اِسی سُورہ کے پہلے اور دُوسرے رکوع میں یتیموں کے حقوق کے متعلق ارشاد ہو
ئے ہیں۔
جب
یہاں سے اصل استفتاء
کا جواب شروع ہوتا ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سوال کو اچھی
طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ زمانۂ جاہلیت
میں ایک شخص غیر محدود تعداد تک بیویاں کر نے کے لیے آزاد تھا اور ان کثیر التعداد بیویوں کے لیے کچھ بھی حقوق
مقرر نہ تھے ۔ سُورۂ نساء کی ابتدائی آیات جب نازل ہو ئیں تو اس آزادی پر دو قسم
کی پابندیاں عائد ہوگئیں۔ ایک یہ کہ بیویوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ چار تک محدود
کر دی گئی۔ دوسرے یہ کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لیے عدل ( یعنی مساویانہ
برتا ؤ) کو شرط قرار دیا گیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر کسی شخص کی بیوی بانجھ
ہے ، یا دائم المرض ہے، یا تعلقِ زن و شو کے قابل نہیں رہی ہے، اور شوہر دُوسری بیوی
بیاہ لاتا ہے تو کیا وہ مجبُور ہے کہ دونوں کے ساتھ یکساں رغبت رکھے؟ یکساں محبت
رکھے؟ جسمانی تعلق میں بھی یکسانی برتے؟ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو کیا عدل کی شرط
کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دُوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی
کو چھوڑ دے؟ نیز یہ کہ اگر پہلی بیوی خود جدا نہ ہونا چاہے تو کیا زوجین میں
اس قسم کا معاملہ ہو سکتا ہے کہ جو بیوی غیر مرغوب ہو چکی ہے وہ اپنےبعض حقوق سے
خود دست بردار ہو کر شوہر کو طلاق سے باز رہنے پر راضی کر لے؟ کیا ایسا کرنا عدل کی
شرط کے خلا ف تو نہ ہوگا ؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب اِن آیات میں دیا گیا ہے۔
وَ اِنِ
امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ
عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ١ؕ
جب کسی
عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں
اور بیوی( کچھ حقوق کی کمی بیشی پر)آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے
یعنی طلاق و جدائی سے
بہتر ہے کہ اس طرح باہم مصالحت کر کے ایک عورت
اُسی شوہر کے ساتھ رہے جس کے ساتھ
وہ عمر کا ایک حصہ گزار چکی ہے۔
وَ
اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ
نفس تنگ دلی
کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں
عورت کی طرف سے تنگ دلی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر شوہر کے لیے بے رغبتی کے اسباب کو خود محسوس کر
تی ہو اور پھر بھی وہ سلوک چاہے جو ایک مرغوب بیوی کے ساتھ ہی برتا جا سکتا ہے۔
مرد کی طرف سے تنگ دلی یہ ہے کہ جو عورت دل سے اُتر جانے پر بھی اس کے ساتھ ہی
رہنا چاہتی ہو اس کو وہ حد سے زیادہ دبانے
کی کوشش کرے اور اس کے حقوق ناقابلِ برداشت حد تک گھٹا دینا چاہے۔
وَ اِنْ
تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۰۰۱۲۸
لیکن اگر
تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس
طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا۔
یہاں پھر اللہ تعالیٰ
نے مرد ہی کے جذبۂ فیاضی سے اپیل کی ہے جس طرح بالعموم ایسے معاملات میں اس کا
قاعدہ ہے۔ اس نے مرد کو ترغیب دی ہے کہ وہ بے رغبتی کے باوجود اس عورت کے ساتھ
احسان سے پیش آئے جو برسوں اس کی رفیقِ
زندگی رہی ہے، اور اس خدا سے ڈرے جو اگر کسی انسان کی خامیوں کے سبب سے اپنی نظرِ
التفات اس سے پھیر لے اور اس کے نصیب میں کمی کرنے پر اُتر آئے تو پھر اس کا دنیا
میں کہیں ٹھکانا نہ رہے۔
احکام القرآن - ۱۲
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد اول – احکام القرآن –صفحہ 405تا408
سورہ نساء آیت
135تا140
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ
لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ١ۚ اِنْ يَّكُنْ
غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى
اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ
بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۰۰۱۳۵يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْ
نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ
يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْيَوْمِ
الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۰۰۱۳۶اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا
ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا
لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيْلًاؕ۰۰۱۳۷بَشِّرِ
الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمَاۙ۰۰۱۳۸ا۟لَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ
الْمُؤْمِنِيْنَ١ؕ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ
لِلّٰهِ جَمِيْعًاؕ۰۰۱۳۹وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا
سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَ يُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا
تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖۤ١ۖٞ اِنَّكُمْ
اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ الْكٰفِرِيْنَ فِيْ
جَهَنَّمَ جَمِيْعَاۙ۰۰۱۴۰
اے لوگو جو ایمان
لائےہو ، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور
تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی
کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر
خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی
پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس
کی خبر ہے۔
اے لوگو جو ایمان
لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے
رسول پر نازل کی ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے
اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔ رہے و
ہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھرایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں
بڑھتے چلے گئے، تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی ان کو راہ راست
دکھائے گا۔ اور جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر
کافروں کو اپنا رفیق بنا تے ہیں انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لیے درد ناک
سزا تیار ہے۔ کیا یہ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی
ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم
دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا
مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔
اب اگر تم ایسا کرتے ہو توتم بھی انہی کی
طرح ہو۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا
ہے۔
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ
اے لوگو جو
ایمان لائےہو ، انصاف کے علمبردار بنو
یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو،
بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علمبردار بنو۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے
بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اُٹھنا ہے۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم
مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی
ضرورت ہے ، مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔
شُهَدَآءَ
لِلّٰهِ
اور خدا
واسطے کے گواہ بنو
یعنی تمہاری گواہی
محض خدا کے لیے ہونی چاہیے ، کسی کی رو رعایت اس میں نہ ہو، کوئی ذاتی مفاد یا خدا
کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے مدِّ نظر نہ ہو۔
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ
ایمان لانے والوں سے
کہنا کہ ایمان لا ؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن دراصل یہاں لفظ ایمان دو الگ
معنوں میں استعمال ہواہے۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے
اقرار کی راہ اختیار کرے ، نہ ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہو
جائے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اُسے سچے دل سے مانے۔
پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔ اپنی فکر کو، اپنے مذاق کو ،ا پنی پسند کو ،
اپنے رویّے اور چلن کو، اپنی دوستی اور دُشمنی کو ، اپنی سعی و جہد کے مصرف کو
بالکل اُس عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ آیت میں خطاب اُن تمام
مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی کے لحاظ سے ”ماننے والوں“ میں شمار ہوتے ہیں ۔ اور ان
سے مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ دُوسرے معنی
کے لحاظ سے سچے مومن بنیں۔
وَ مَنْ
يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْيَوْمِ
الْاٰخِرِ
جس نے اللہ
اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا
کفر کرنے کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صاف صاف انکار کر دے۔ دوسرے یہ کہ زبان سے
تو مانے مگر دل سے نہ مانے ، یا اپنے رویّے سے ثابت کر دے کہ وہ جس چیز کو ماننے
کا دعویٰ کر رہا ہے فی الواقع اسے نہیں مانتا۔ یہاں کفر سے یہ دونوں معنی مراد ہیں
اور آیت کا مقصُود لوگوں کو اس بات پر متنبّہ کرنا ہے کہ اسلام کے اِن اساسی عقیدوں
کے ساتھ کفر کی اِن دونوں اقسام میں سے جس قسم کا برتاؤ بھی آدمی اختیار کرے گا ،
اس کا نتیجہ حق سے دوری اور باطل کی روہوں
میں سر گشتگی و نا مرادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
اِنَّ الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا
كُفْرًا
رہے و ہ
لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھرایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں
بڑھتے چلے گئے
اس سے مراد وہ لوگ ہیں
جن کے لیے دین محض ایک غیر سنجیدہ تفریح ہے۔ ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا
اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اُٹھی، مسلمان
ہو گئے اور جب دُوسری لہر اُٹھی، کافر بن گئے۔ یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر
آیا ، مسلمان بن گئے اور جب معبودِ منفعت نے دُوسری طرف جلوہ دکھایا تو اس کی
پُوجا کرنے کے لیے بے تکلف اسی طرف چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے پاس نہ
مغفرت ہے نہ ہدایت۔ اور یہ جو فرمایا کہ” پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے“ تو اس
کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص محض کافر بن
جانے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے بعد
دوسرے لوگوں کو بھی اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرے، اسلام کے خلاف خفیہ سازشیں اور
علانیہ تدبیریں شروع کر دے، اور اپنی قوت اس سعی و جہد میں صرف کرنے لگے کہ کفر کا بول بالا ہو اور اس کے مقابلہ میں
اللہ کے دین کا جھنڈا سرنگوں ہو جائے۔ یہ کفر میں مزید ترقی، اور ایک جرم پر پے در
پے جرائم کا اضافہ ہے جس کا وبال بھی مجرّد کفر سے لازماً زیادہ ہونا چاہیے
اَيَبْتَغُوْنَ
عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ
کیا یہ عزت
کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں
“عزت” کا مفہُوم عربی زبان میں اُردو کی بہ نسبت زیادہ
وسیع ہے۔ اُردو میں عزّت محض احترام اور قدر و منزلت کے معنی میں آتا ہے۔ مگر عربی
میں عزّت کا مفہُوم یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسی بلند اور محفوظ حیثیت حاصل ہو جائے
کہ کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ دُوسرے الفاظ میں لفظ عزّت“ناقابلِ ہتک حرمت” کا
ہم معنی ہے۔
وَ قَدْ
نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ
بِهَا وَ يُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِيْ
حَدِيْثٍ غَيْرِهٖۤ١ۖٞ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ
اللہ اس
کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر
بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی
دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو توتم بھی انہی کی طرح ہو
یعنی اگر ایک شخص
اسلام کا دعویٰ رکھنے کے باوجود کافروں کی ان صحبتوں میں شریک ہوتا ہے جہاں آیاتِ
الہٰی کے خلاف کفر بکا جاتا ہے ، اور ٹھنڈے دل سے ان لوگوں کو خدا اور رسول کا مذاق اُڑاتے ہوئے سنتا ہے ، تو اس
میں اور ان کافروں میں کوئی فرق نہیں
رہتا۔ (جس حکم کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ سُورہ اَنعام آیت ۶۸ میں
بیان ہوا ہے)۔
احکام القرآن – ۱۲
فہرست موضوعات
--تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 411
سورہ نساء آیت 144
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ
الْمُؤْمِنِيْنَ١ؕ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا
مُّبِيْنًا۰۰۱۴۴
اے لوگوں جو ایمان
لائے ہو، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجّت دے دو؟
احکام القرآن – ۱۲
فہرست موضوعات --تفہیم
القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 431،
432
سورہ نساء آیت 176
يَسْتَفْتُوْنَكَ۠١ؕ
قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَهٗ
وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ يَرِثُهَاۤ اِنْ
لَّمْ يَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ
مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ
مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ١ؕ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ
اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ۰۰۱۷۶
لوگ تم سے کلالہ کے
معاملہ میں فتویٰ پُوچھتے ہیں۔ کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص بے
اولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی، اور اگر
بہن بے اولاد مرے تو بھائی اُس کا وارث ہوگا۔ اگر میّت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ
ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی،اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا
دوہرا حصّہ ہوگا۔ اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو
اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ؏۲۴
لوگ
یہ آیت اِس سُورہ کے
نزول سے بہت بعد میں نازل ہوئی ہے۔ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ یہ
قرآن کی سب سے آخری آیت ہے۔ یہ بیان اگر صحیح نہ بھی ہو تب بھی کم از کم اتنا تو
ثابت ہے کہ یہ آیت سن ۹ ہجری میں نازل ہوئی۔ اور سُورہ نساء اس سے بہت پہلے ایک
مکمل سُورہ کی حیثیت سے پڑھی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے اس آیت کو اُن آیات کے سلسلہ
میں شامل نہیں کیا گیا جو احکام میراث کے متعلق سُورہ کے آغاز میں ارشاد ہوئی ہیں،
بلکہ اسے ضمیمہ کے طور پر آخر میں لگا دیا گیا۔
کلالہ
کَلَالہ کے معنی میں
اختلاف ہے ۔ بعض کی رائے میں کَلالہ وہ شخص ہے جو لا ولد بھی ہو اور جس کے باپ اور
دادا بھی زندہ نہ ہوں۔ اور بعض کے نزدیک محض لا ولد مرنے والے کو کلالہ کہا جاتا
ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آخر وقت تک اس معاملہ میں متردّ د رہے ۔ لیکن عامۂ فقہاء
نے حضرت ابوبکر ؓ کی اس رائے کو تسلیم کر لیا ہے کہ اس کا اطلاق
پہلی صورت پر ہی ہوتا ہے۔ اور خود قرآن سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ، کیونکہ یہاں
کلالہ کی بہن کو نصف ترکہ کا وارث قرار دیا گیا ہے، حالانکہ اگر کلالہ کا باپ زندہ
ہو تو بہن کو سرے سے کوئی حصّہ پہنچتا ہی نہیں۔
اِنِ
امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ
اگر کوئی
شخص بے اولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن ہو
یہاں اُن بھائی بہنوں
کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے جو میّت کے ساتھ ماں اور باپ دونوں میں، یا صرف باپ میں
مشترک ہوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک خطبہ میں اس معنی کی تصریح
کی تھی اور صحابہ میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہ کیا، اس بنا پر یہ مُجْمَع علیہ
مسئلہ ہے۔
وَ هُوَ
يَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ
اور اگر
بہن بے اولاد مرے تو بھائی اُس کا وارث ہوگا
یعنی بھائی اس کے
پُورے مال کا وارث ہو گا اگر کوئی اور صاحبِ فریضہ نہ ہو۔ اور اگر کوئی صاحبِ فریضہ
موجود ہو، مثلاً شوہر، تو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ بھائی کو ملے
گا۔
فَاِنْ
كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ
اگر میّت کی
وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی
یہی حکم دو سے زائد
بہنوں کا بھی ہے۔
Comments
Post a Comment