احکام القرآن - ۵
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
احکام القرآن - ۵
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 217تا221
سورہ بقرہ آیات 278تا283
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۲۷۸فَاِنْ
لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ
تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ۰۰۲۷۹وَ اِنْ كَانَ
ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ
اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۸۰وَ اتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ
فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا
يُظْلَمُوْنَؒ۰۰۲۸۱ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَايَنْتُمْ
بِدَيْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ
كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ
اللّٰهُ فَلْيَكْتُبْ١ۚ وَ لْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَ لْيَتَّقِ
اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ
عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ
هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ
فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ
مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا
الْاُخْرٰى ١ؕ وَ لَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا
تَسْـَٔمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ
ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا
تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا
بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا
اِذَا تَبَايَعْتُمْ١۪ وَ لَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِيْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ
تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ يُعَلِّمُكُمُ
اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۰۰۲۸۲وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ
لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ
بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْيَتَّقِ اللّٰهَ
رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ
اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۸
اے لوگو جو ایمان
لائے ہو ، خُدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سُود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ
دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جاوٴ کہ
اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے
خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سُود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے
کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ تمہارا قرض دار تنگ دست
ہو تو ہاتھ کھُلنے تک اُسے مہلت دو، اور
جو صد قہ کردو ، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو ۔ اس دن کی رسوائی
و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی
نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا
اور کسی پر ظلم ہر گز نہ ہوگا۔ ؏۳۸
اے لوگو جو ایمان لائےہو، جب کسی
مقرّر مدت کےلیے تم آپس میں لین دین کرو ، تو اُسے لکھ لیا کرو۔فریقینکے درمیان
انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے ۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی
ہو، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے ۔وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائےجس پر حق
آتا ہے(یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ ،اپنے ربّ سے ڈرنا چاہیےکہ جو معاملہ
طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو
، یا املا نہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے
مردوں میں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد
اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو
دوسری اُسے یاد دلائے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے
درمیان مقبول ہو۔ گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ
کرنا چاہیے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز
لکھوا لینے میں تسا ہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر
انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ اور تمہارے شکوک وشبہات
میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس
کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا
کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے ۔ ایسا کروگے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے ۔
اللہ کے غضب سے بچو ۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا
علم ہے۔
اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز
لکھنے کےلیے کوئی کاتب نہ ملے ، رہن بالقبض پر معاملہ کرو۔
اگر تم میں سے کوئی شخص دُوسرے پر
بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے ، اسے چاہیے
کہ امانت ادا کرے اور اللہ ، اپنے ربّ سے ڈرے۔
اور شہادت ہرگز نہ چھپاوٴ۔ جو شہادت
چھپاتاہے ، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں
ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،
خُدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سُود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر
واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جاوٴ کہ اللہ
اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف
اعلانِ جنگ ہے
یہ آیت فتحِ مکّہ کے بعد نازل ہوئی
اور مضمون کی مناسبت سے اِس سلسلہ ٴ
کلام میں داخل کر دی گئی ۔ اس سے پہلے اگرچہ سُود ایک ناپسندیدہ چیز سمجھا
جاتا تھا مگر قانوناً اسے بند نہیں کیا گیا تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی
حکومت کے دائرے میں سُودی کاروبار ایک فوجداری جُرم بن گیا۔ عرب کے جو قبیلے سُود
کھاتے تھے ، اُن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عُمّال کے ذریعے سے آگاہ فرمادیا
کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے، تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ نَجران کے
عیسائیوں کو جب اسلامی حکعمت کے تحت اندرونی خود مختاری دی گئی، تو معاہدے میں یہ
تصریح کر دی گئی کہ اگر تم سُودی کاروبار کرو گے، تو معاہدہ فسخ ہو جائے گا اور
ہمارے اور تمہارے درمیان حالتِ جنگ قائم ہو جائے گی۔ آیت کے آخری الفاظ کی بنا پر
ابن عباس ، حسن بصری، ابن سیرین اور ربیع
بن انس کی رائے یہ ہے کہ جو شخص دارالا سلام میں سُود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا
جائے اور اگر باز نہ آئے، تو اسے قتل کر دیا جائے۔ دُوسرے فقہا کی رائے میں ایسے
شخص کو قید کر دینا کافی ہے۔ جب تک وہ سُود خواری چھوڑ دینے کا عہد نہ کرے، اسے نہ
چھوڑا جائے۔
تمہارا قرض دار تنگ دست ہو
تو ہاتھ کھُلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو
صد قہ کردو ، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو
اسی آیت سے شریعت میں یہ حکم نکا لا گیا ہے کہ جو شخص
ادائے قرض سے عاجز ہوگیا ہو ، اسلامی عدالت اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ اُسے مہلت دیں، اور
بعض حالات میں وہ پورا قرض یا قرض کا ایک حصّہ معاف بھی کرانے کی مجاز ہو گی۔ حدیث
میں آتا ہے کہ ایک شخص کے کاروبار میں گھاٹا آگیا اور اس پر قرضوں کا بار بہت چڑھ
گیا ۔ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے
اس بھائی کی مدد کرو۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے اس کو مالی امداد دی۔ مگر قرضے پھر
بھی صاف نہ ہوسکے۔ تب آپ نے اس کے قرض
خواہوں سے فرمایا کہ جوکچھ حاضر ہے، بس وہی لے کر اسے چھوڑ دو، اس سے زیادہ تمہیں
نہیں دلوایا جا سکتا ۔ فقہا نے تصریح کی ہے کہ ایک شخص کے رہنے کا مکان، کھانے کے
برتن، پہننے کے کپڑے اور وہ آلات جن سے وہ
اپنی روزی کماتا ہو، کسی حالت میں قرق نہیں کیے جا سکتے۔
اے لوگو جو ایمان لائےہو،
جب کسی مقرّر مدت کےلیے تم آپس میں لین دین کرو
اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ قرض کے
معاملے میں مدّت کی تعیین ہونی چاہیے۔
تو اُسے لکھ لیا کرو۔فریقین
عموماً دوستوں اور عزیزوں کے درمیان
قرض کے معاملات میں دستاویز لکھنے اور گواہیاں لینے کو معیوب اور بے اعتمادی کی دلیل
خیال کیا جاتا ہے ۔ لیکن اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قرار دادوں کو تحریر
میں لانا چاہیے اور اس پر شہادت ثبت کرا لینی چاہیے تا کہ لوگوں کے درمیان معاملات
صاف رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ تین قسم کے آدمی ایسے ہیں ، جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں،
مگر ان کی فریاد سُنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بد خلق ہو اور وہ اس کو
طلاق نہ دے۔ دُوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کر
دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا مال قرض
دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔
پھر اپنے مردوں میں سے دو
آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو
یعنی مسلمان مردوں میں سے، اس سے
معلوم ہوا کہ جہاں گواہ بنانا اختیاری فعل ہو وہاں مسلمان صرف مسلمانوں ہی کو اپنا
گواہ بنائیں۔ البتہ ذمّیوں کے گواہ ذمّی بھی ہو سکتے ہیں۔
یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے
ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو
“مطلب یہ ہے کہ ہر کس و ناکس گواہ
ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے ، بلکہ ایسے لوگوں کو گواہ بنایا جائے جو اپنے اخلاق و
دیانت کے لحاظ سے بالعموم لوگوں کے درمیان قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔
ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس
کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ روز مرّہ کی خرید
و فروخت میں بھی معاملہٴ بیع کا تحریر میں آجانا بہتر ہے ، جیسا کہ آج کل کیش میمو
لکھنے کا طریقہ رائج ہے، تاہم ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔ اِسی طرح ہمسایہ تاجر ایک
دُوسرے سے رات دن جو لین دین کرتے رہتے ہیں ، اس کو بھی اگر تحریر میں نہ لایا
جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
مگر تجارتی معاملے طے کرتے
وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو
دستاویز لکھنے یا اس پر گواہ بننے کے لیے مجبُور نہ کیا جائے، اور یہ بھی کہ کوئی
فریق کا تب یا گواہ کو اس بنا پر نہ ستائے
کہ وہ اس کے مفاد کے خلاف صحیح شہادت دیتا ہے۔
اگر تم سفر کی حالت میں ہو
اور دستاویز لکھنے کےلیے کوئی کاتب نہ ملے ، رہن بالقبض پر معاملہ کرو
یہ مطلب نہیں ہے کہ رہن کا معاملہ صرف
سفر ہی میں ہو سکتا ہے، بلکہ ایسی صورت چونکہ زیادہ تر سفر میں پیش آتی ہے، اس لیے
خاص طور پر اس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ نیز معاملہٴ رہن کے لیے یہ شرط بھی نہیں ہے
کہ جب دستاویز لکھنا ممکن نہ ہو، صرف اسی صورت میں رہن کا معاملہ کیا جائے۔ اس کے
علاوہ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جب محض دستاویز لکھنے پر کوئی قرض دینے کے لیے
آمادہ نہ ہو، تو قرض کا طالب اپنی کوئی چیز
رہن رکھ کر روپیہ لے لے۔ لیکن قرآن مجید
چونکہ اپنے پیرووں کو فیاضی کی تعلیم دینا چاہتا ہے ، اور یہ بات بلند اخلاق سے
فروتر ہے کہ ایک شخص مال رکھتا ہو اور وہ ایک ضرورت مند آدمی کو اس کی کو ئی چیز
رہن رکھے بغیر قرض نہ دے، اس لیے قرآن نے
قصداً اِس دوسری صورت کا ذکر نہیں کیا۔
اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے
کہ رہن بالقبض کا مقصد صرف یہ ہے کہ قرض دینے والے کو اپنے قرض کی واپسی کا اطمینان
ہو جائے ۔ اسے اپنے دیے ہوئے مال کے معاوضے میں شے مرہونہ سے فائدہ اُٹھانے کا حق
نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص رہن لیے ہوئے مکان میں خود رہتا ہے یا اس کا کرایہ کھاتا
ہے ، تو دراصل سود کھاتا ہے ۔ قرض پر براہِ راست سُود لینے اور رہن لی ہوئی چیز سے
فائدہ اُٹھانے میں اُصُولاً کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی جانور رہن لیا گیا
ہو تو اس کا دُودھ استعمال کیا جا سکتا ہے ، اور اس سے سواری و بار برداری کی خدمت
لی جا سکتی ہے ، کیونکہ یہ دراصل اُس چارے کا معاوضہ ہے جو مرتہن اس جانور کو کھلاتا ہے۔
اور شہادت ہرگز نہ چھپاو
شہادت دینے سے گریز کرنا، یا شہادت میں
صحیح واقعات کے اظہار سے پرہیز کرنا، دونو ں پر ”شہادت چھپانے“ کا اطلاق ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment