احکام القرآن - ۸

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احکام القرآن - ۸

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ  233تا242

سورہ نساء آیات 19تا23

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ يَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا۰۰۱۹وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَيْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَيْـًٔا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ۠ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِيْنًا۰۰۲۰وَ كَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۰۰۲۱وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًاؒ۰۰۲۲ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ وَ رَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١ٞ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ١ٞ وَ حَلَآىِٕلُ اَبْنَآىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًاۙ۰۰۲۳ وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرٰضَيْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا۰۰۲۴وَ مَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ۠ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۲۵

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔ اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اُس مَہر کا کچھ حصّہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے)۔ ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بَھلائی رکھ دی ہو۔ اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دُوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے؟ اور آخر تم اُسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دُوسرے سے لُطف اندوز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟

 

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا۔ درحقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور بُرا چلن ہے۔تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں،پُھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دُودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔۔۔۔ اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلّقِ زن و شو ہوچکا ہو۔ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور)تعلقِ زن و شو نہ ہوٴا ہو تو (انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں)تم  پرکوئی مواخذہ نہیں ہے ۔۔۔۔ اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صُلب سے ہوں۔ اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دُوسرے کے نکاح میں ہوں(مُحْصَنَات)البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں جو (جنگ میں)تمہارے ہاتھ آئیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔ اِن کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے، بشرطیکہ حصارِ نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ پھر جو ازدواجی زندگی کا لُطف تم ان سے اُٹھاوٴ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو، البتّہ مَہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے۔ اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (مُحْصَنَات)سے نکاح کرسکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خُوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرلو اور معرُوف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کردو، تاکہ وہ حصارِ نکاح میں محفوظ (مُحْصَنَات)ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھُپے آشنائیاں کریں۔ پھر جب وہ حصارِ نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بد  چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے۔ جو خاندانی عورتوں (مُحصنَات)کے لیے مقرر ہے۔ یہ سہولت تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بندِ تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو

اس سے مُراد یہ ہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میّت کی میراث سمجھ کر اس کے ولی وارث نہ بن بیٹھیں۔ عورت کا شوہر جب مر گیا تو وہ آزاد ہے۔ عدّت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کر لے۔

اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ

ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے)

مال اُڑانے کے لیے نہیں بلکہ بدچلنی کی سزا دینے کے لیے۔

وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ يَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا۰۰۱۹

ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بَھلائی رکھ دی ہو

یعنی اگر عورت خوبصورت نہ ہو، یا  اس میں کوئی ایسا نقص ہو جس کی بنا پر شوہر کو پسند نہ آئے، تو یہ مناسب نہیں ہے کہ شوہر فوراً دل برداشتہ ہو کر اسے چھوڑ دینے پر آمادہ ہو جائے۔ حتی الامکان اسے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت خوبصورت نہیں ہوتی مگر اس میں بعض دُوسری خوبیاں ایسی ہوتی ہیں جو ازدواجی زندگی میں حُسنِ صُورت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر اُسے اپنی اُن خوبیوں کے اظہار کا موقع ملے تو وہی شوہر جو ابتداءً محض اس کی صُورت کی خرابی سے دل برداشتہ ہو رہا تھا، اس کے حسنِ سیرت پر فریفتہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات ازدواجی زندگی کی ابتداء میں عورت کی بعض باتیں شوہر کو ناگوار محسُوس ہوتی ہیں اور وہ اس سے بد دل ہو جاتا ہے ، لیکن اگر وہ صبر سے کام لے اور عورت کے تمام امکانات کو برُوئے کار آنے کا موقع دے تو اس پر خود ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کی بیوی بُرائیوں سے بڑھ کر خوبیاں رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ آدمی ازدواجی تعلق کو منقطع کرنے میں جلد بازی سے کام لے۔ طلاق بالکل آخری چارہٴ کار ہے جس کو ناگزیر حالات ہی میں استعمال کرنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ  ابغض الحلال الی اللہ الطلاق ،  یعنی طلاق اگرچہ جائز ہے  مگر تمام جائز کاموں میں اللہ  کو سب سے زیادہ ناپسند اگر کوئی چیز ہے تو وہ طلاق ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا   تزوجوا وال تطلقو فان اللہ لا یحب الذواقین و الذواقات،   یعنی نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ اللہ ایسے مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو بھونرے کی طرح پھول پھول کا مزا چکھتے پھریں۔

وَ كَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۰۰۲۱

اور آخر تم اُسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دُوسرے سے لُطف اندوز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟

پختہ عہد سے مراد نکاح ہے، کیونکہ وہ حقیقت میں ایک مضبُوط پیمان ِ وفا ہے جس کے استحکام پر بھروسہ کر کے ہی ایک عورت اپنے آپ کو ایک مرد کے حوالہ کرتی ہے ۔ اب اگر مرد اپنی خواہش سے اس کو توڑتا ہے تو  اُسے معاوضہ واپس لینے کا حق نہیں ہے جو اس نے معاہد ہ کرتے وقت پیش کیا تھا۔

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا۔

تمدّنی اور معاشرتی مسائل میں جاہلیت کے غلط طریقوں کو حرام قرار دیتے ہوئے بالعمُوم قرآن مجید میں یہ بات ضرور فرمائی جاتی ہے کہ ”جو ہو چکا سو ہو چکا“۔ اِس کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ بے علمی اور نادانی کے زمانہ میں جو غلطیاں تم لوگ کرتے رہے ہو  ان پر گرفت نہیں کی جائے گی، بشرطیکہ اب حکم آجانے کے بعد اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لو اور جو غلط کام ہیں انہیں چھوڑ دو۔ دوسرے یہ کہ زمانہ ٴ سابق کےکسی طریقے کو اب اگر حرام ٹھیرا یا گیا ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ پچھلے قانون یا رسم و رواج کے مطابق جو کام پہلے کیے جا چکے ہیں ان کو کالعدم، اور ان سے پیدا شدہ نتائج کو ناجائز، اور عائد شدہ ذمّہ داریوں کو لازماًً ساقط بھی کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اگر سوتیلی ماں سے نکاح کو آج حرام کیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اب تک جتنے لوگوں نے ایسے نکاح کیے تھے ان کی اولاد حرامی قرار دی جا رہی ہے اور اپنے باپوں کے مال میں ان کا حقِ وراثت ساقط کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اگر لین دین کے کسی طریقے کو  حرام کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے جتنے معاملات اس طریقے پر ہوئے ہیں انہیں بھی کالعدم ٹھیرا دیا گیا ہے اور اب وہ سب دولت جو اس  طریقے سے کسی نے کمائی ہو اس سے واپس لی جائے گی یا مال حرام ٹھیرائی جائے گی۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں

ماں کااطلاق سگی اور سوتیلی ، دونوں قسم کی ما ؤ ں پر ہوتا ہے  اس لیے دونوں  حرام ہیں۔ نیز اسی حکم میں باپ کی ماں اور ماں کی ماں بھی شامل ہے۔

 

اس امر میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے باپ کا ناجائز تعلق ہو چکا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے یا نہیں۔ سلف میں سے بعض اس کی حُرمت کے قائل نہیں ہیں ، اور بعض اسے بھی حرام قرار دیتے ہیں ، بلکہ ان کے نزدیک جس عورت کو باپ نے شہوت سے ہاتھ لگایا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے۔ اسی طرح سلف میں اس امر پر بھی اختلاف رہا ہے کہ جس عورت سے بیٹے  کا ناجائز تعلق ہو چکا ہو ، وہ باپ پر حرام ہے یا نہیں۔ اور جس مرد سے ماں یا بیٹی کا ناجائز تعلق رہا ہو یا بعد میں ہو جائے اس سے نکاح ماں اور بیٹی دونوں کے لیے حرام ہے یا نہیں۔ اس باب میں فقیہانہ بحثیں بہت طویل ہیں، مگر یہ بات بادنیٰ تامّل سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی شخص کے نکاح میں ایسی عورت کا ہونا جس پر اس کا باپ یا اس کا بیٹا بھی نظر رکھتا ہو ، یا جس کی ماں یا بیٹی پر بھی اس کی نگاہ ہو، ایک صالح معاشرت کے لیے کسی طرح  مناسب نہیں ہو سکتا ۔ شریعتِ الہٰی کا مزاج اس معاملہ میں اُن قانونی موشگافیوں کو قبول نہیں کرتا جن کی بنا پر نکاح اور غیر نکاح اور قبل نکاح اور بعد نکاح اور لمس اور نظر وغیرہ میں فرق کیا جاتا ہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ خاندانی زندگی میں ایک ہی عورت کے ساتھ باپ اور بیٹے کے، یا ایک ہی مرد کے ساتھ ماں  اور بیٹی کے شہوانی جذبات کا وابستہ ہونا سخت مفاسد کا موجب ہے اور شریعت اسے ہرگز برداشت نہیں کر سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ   من نظر الیٰ فرج امراٴة حرمت علیہ امّھاو ابنتھا۔”جس شخص نے کسی عورت کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالی ہو اُس کی ماں اور بیٹی  دونوں اُس پر حرام ہیں۔“ اور   لا ینظر اللہ الیٰ رجل نظر الیٰ فرج امراٴة و ابنتھا،  ” خدا اس شخص کی صُورت دیکھنا پسند نہیں کرتا جو بیک وقت ماں اور بیٹی دونوں کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالے۔“ ان روایات سے شریعت کا منشاء صاف واضح ہوجاتا ہے۔

وَ بَنٰتُكُمْ

تم پر حرام کی گئیں تمہاری بیٹیاں

بیٹی کے حکم میں پوتی اور نواسی بھی شامل  ہیں۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ ناجائز تعلقات کے نتیجہ میں جو لڑکی ہوئی ہو وہ بھی حرام ہے  یا نہیں۔ امام ابو حنیفہ  ، مالک اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک وہ بھی ناجائز بیٹی کی طرح محرّمات میں سے ہے، اور امام شافعی ؒ کے نزدیک وہ محرّمات میں سے نہیں ہے۔ مگر درحقیقت یہ تصوّر بھی ذوقِ سلیم پر بار ہے کہ جس لڑکی کے متعلق آدمی یہ جانتا ہو کہ وہ اسی کے نطفہ سے پیدا ہوئی ہے اس کے ساتھ نکاح کرنا اس کے لیے جائز ہو۔

وَ اَخَوٰتُكُمْ

تم پر حرام کی گئيں تمہاری بہنیں

سگی بہن اور ماں شریک بہن اور باپ شریک بہن تینوں اس حکم میں یکساں ہیں۔

وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ

تم پر حرام کی گئیں تمہاری پُھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں

اِن سب رشتوں میں بھی سگے اور سوتیلے کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ باپ اور ماں کی بہن خواہ سگی ہو خواہ سوتیلی، یا باپ شریک ، بہرحال وہ بیٹے پر حرام ہے۔ اسی طرح بھائی او ر بہن خواہ سگے ہوں یا سوتیلے یا باپ شریک ، ان کی بیٹیاں ایک شخص کے لیے اپنی بیٹی کی طرح حرام ہیں۔

وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ

اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دُودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں،

اِس امر پر اُمّت میں اتفاق ہے کہ ایک لڑکے یا لڑکی نے جس عورت کا دُودھ پیا ہو اس کے لیے وہ عورت ماں کے حکم میں اور اس کا شوہر باپ کے حکم میں ہے ، اور تمام وہ رشتے جو حقیقی ماں اور باپ کے تعلق سے حرام ہوجاتے ہیں۔ اس حکم کا ماخذ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ  یحرم من الرضاع مایحرم من النسب۔  البتہ اس امر میں  اختلاف ہے کہ حرمت رضاعت کس قدر دُودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہم اللہ  کے نزدیک جتنی مقدار سے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ سکتا ہے  اتنی ہی مقدار میں اگر بچہ کسی کا دُودھ پی لے تو حُرمت ثابت ہوجاتی ہے ۔ مگر امام احمد ؒ کے نزدیک تین مرتبہ پینے سے اور امام شافعی ؒ کے نزدیک پانچ دفعہ پینے سے یہ حُرمت ثابت ہوتی ہے۔ نیز اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ کس عمر میں پینے سے یہ رشتے حرام ہوتے ہیں ۔ اس باب میں فقہاء کے اقوال حسبِ ذیل ہیں:

 

(١) اعتبار صرف اُس زمانہ میں دُودھ پینے کا ہے جبکہ بچّہ کا دُودھ چھڑا یا نہ جا چکا ہو اور شیر خوارگی ہی پر اس کے تغذیہ کا انحصار ہو۔ ورنہ دُودھ چھُٹائی کے بعد اگر کسی بچے  نے کسی عورت کا دُودھ پی لیا ہو تو اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے اُس نے پانی پی لیا ۔ یہ رائے اُم سَلَمَہ اور ابن عباس  کی ہے ۔ حضرت علی سے بھی ایک روایت اس معنی میں آئی ہے۔ زُہرِی، حَسَن بصری ، قَتادہ ، عِکرِمہ اور اَوزاعی اسی کے قائل ہیں۔

 

(۲) دوسال کی عمر کے اندر اندر جو دُودھ پیا گیا ہو صرف اسی سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی۔ یہ حضرت عمر  ؓ ، ابن مسعود،  ابوہریرہ  ؓ، اور ابن ِ عمر ؓ  کا قول ہے اور فقہاء میں سے امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف، امام محمد، اور سُفیان ثَوری نے اسے قُبول کیا ہے۔ امام ابو حنیفہ  سے بھی ایک قول اسی کی تائید میں منقول ہے ۔ امام مالک بھی اسی حد کے قائل ہیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ دوسال سے اگر مہینہ دو مہینہ زائد عمر بھی ہو تو اس میں دُودھ پینے کا وہی حکم ہے۔

 

(۳) امام ابو حنیفہ اور امام زُفَر کا مشہور قول یہ ہے کہ زمانہٴ رضاعت ڈھائی سال ہے اور اس کے اندر پینے سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوتی ہے۔

 

(۴) خواہ کسی عمر میں دُودھ پیے، حرمت ثابت ہو جائے گی۔ یعنی اس معاملہ میں اصل اعتبار دُودھ کا ہے نہ کہ عمر کا۔ پینے والا اگر بوڑھا بھی ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو شیر خوار بچے کا ہے۔ یہی رائے ہے حضرت عائشہ ؓ کی۔ اور حضرت علی ؓ سے بھی صحیح تر روایت اسی کی تائید میں منقول ہے۔ اور فقہاء میں سے عُروَہ بن زبیر ، عطاء، لَیث بن سعد اور ابن حَزم نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔

وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ

اور تمہاری بیویوں کی مائیں

اس امر میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے محض نکاح ہوا ہو اس کی ماں حرام ہے یا نہیں۔ امام ابو حنیفہ ، مالک، احمد اور شافعی  رحمہم اللہ اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ اور حضرت علی ؓ کی رائے  یہ ہے کہ جب تک کسی عورت سے خلوت نہ ہوئی ہو اس کی ماں حرام نہیں ہوتی۔

وَ رَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ

تم پر حرام کی گئیں تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔۔۔۔

ایسی لڑکی کا حرام ہونا اس شرط پر موقوف نہیں ہے کہ اس نے سوتیلے باپ  کے گھر میں پرورش پائی ہو۔ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے محض اس رشتہ کی نزاکت ظاہر کرنے کے لیے استعمال  فرمائے ہیں۔ فقہائے اُمّت کا اس بات پر تقریباً اجماع ہے کہ سوتیلی بیٹی آدمی پر بہر حال حرام ہے خواہ اس نے سوتیلے باپ کے گھر میں پرورش پائی ہو یا نہ پائی ہو۔

وَ حَلَآىِٕلُ اَبْنَآىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ

تم پر حرام کی گئیں تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صُلب سے ہوں

یہ قید اس غرض کے لیے بڑھائی گئی ہے کہ جسے آدمی نے بیٹا بنا لیا ہو اس کی بیوہ یا مطلقہ آدمی پر حرام نہیں ہے۔ حرام صرف اُس بیٹے کی بیوی ہے جو آدمی کی اپنی صلب سے ہو۔ اور بیٹے ہی کی طرح پوتے اور نواسے کی بیوی بھی دادا اور نانا پر حرام ہے۔

وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ

اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ خالہ اور بھانجی اور پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام ہے ۔ اس معاملہ میں یہ اُصُول سمجھ لینا چاہیے کہ ایسی عورتوں کو جمع کرنا بہر حال حرام ہے  جن میں سے کوئی ایک اگر مرد ہو تی  تو اس کا نکاح دُوسری سے حرام ہوتا۔

مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

یعنی جاہلیّت کے زمانہ میں جو ظلم تم لوگ کرتے رہے ہو کہ دو دو بہنوں سے بیک وقت نکاح کر لیتے تھے اس پر بازپُرس نہ ہوگی بشرطیکہ اب اس سے باز رہو( ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر ۳۲)۔ اسی بنا پر یہ حکم ہے کہ جس شخص نے حالتِ کفر میں دو بہنوں کو نکاح  میں جمع کر رکھا ہو اُسے اسلام لانے کے بعد ایک کو رکھنا اور ایک کو چھوڑنا ہوگا۔

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دُوسرے کے نکاح میں ہوں (مُحْصَنَات)البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں جو (جنگ میں)تمہارے ہاتھ آئیں۔

یعنی جو عورتیں جنگ میں پکڑی ہوئی آئیں اور ان کے  کافر شوہر دارالحرب میں موجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں، کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میں آنے کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔ ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا جا سکتا ہے اور جس کی ملک یمین میں ہو ں وہ ان سے تمتُّع بھی کر سکتا ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اگر میاں  اور بیوی دونوں ایک ساتھ گرفتا ر ہوں  تو ان کا کیا حکم ہے ۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ ان کا نکاح باقی رہے گا اور امام مالک و شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ان کا نکاح بھی باقی نہ رہے گا۔

 

لونڈیوں سے تمتُّع کے معاملہ میں بہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں۔ لہٰذا حسب ذیل مسائل کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے:

 

(١) جو عورتیں جنگ میں گرفتا ر ہوں ان کو پکڑتے ہی ہر سپاہی ان کے ساتھ مباشرت کر لینے کا مجاز نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی عورتیں حکومت کے حوالہ کر دی جائیں گی۔ حکومت کو اختیار ہے کہ چاہے ان کو رہا کر دے،  چاہے ان سے فدیہ لے ، چاہے ان کا تبادلہ اُن مسلمان قیدیوں سے کرے جو دُشمن کے ہاتھ میں ہوں ، اور چاہے تو انہیں سپاہیوں میں تقسیم کر دے۔ ایک سپاہی صرف اس عورت ہی سے تمتُّع کرنے کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کی ملک میں دی گئی ہو۔

 

(۲) جو عورت اس طرح کسی کی ملک میں دی جائے اس کے ساتھ بھی اس وقت تک مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں اور یہ اطمینان نہ ہولے کہ وہ حاملہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے مباشرت کرنا حرام ہے۔ اور اگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل سے پہلے بھی مباشرت ناجائز ہے۔

 

(۳)جنگ میں پکڑی ہوئی عورتوں سے تمتُّع کے معاملہ میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اہلِ کتاب ہی میں سے ہوں۔ ان کا مذہب خواہ کوئی ہو، بہرحال جب وہ تقسیم کر دی جائیں گی تو جن کے حصّہ میں وہ آئیں وہ ان سے تمتُّع کر سکتے ہیں۔

 

(۴) جو عورت جس شخص کے حصّہ میں دی گئی ہو صرف وہی اس کے ساتھ تمتُّع کر سکتا ہے۔ کسی دُوسرے کو اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس عورت سے جو اولاد ہوگی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائے گی جس کی ملک میں وہ عورت ہے۔ اُس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو شریعت میں صُلبی اولاد کے لیے مقرر ہیں۔ صاحب ِ اولاد ہوجانے کے بعد وہ عورت فروخت نہ کی جا سکے گی۔ اور مالک کے مرتے ہی وہ آپ سے آپ آزاد ہو جائے گی۔

 

(۵) جو عورت اس طرح کسی شخص کی ملک میں آئی ہو اسے اگر اس کا مالک کسی دُوسرے شخص کے نکاح میں دیدے تو پھر مالک کو اس سے دُوسری تمام خدمات لینے کا حق تو رہتا ہے لیکن شہوانی تعلق کا حق باقی نہیں رہتا۔

 

(٦) جس طرح شریعت نے بیویوں کی تعداد پر چار کی پابندی لگائی ہے اُس طرح لونڈیوں کی تعداد پر نہیں لگائی ۔ لیکن اس معاملہ میں کوئی حد مقرر نہ کرنے سے شریعت کا منشا یہ نہیں تھا کہ مالدار لوگ بے شمار لونڈیاں خرید کر جمع کر لیں اور اپنے گھر کو عیاشی کا گھر بنا لیں۔ بلکہ درحقیقت اس معاملہ میں عدم تعیُّن کی وجہ جنگی حالات کا عدم تعیُّن ہے۔

 

(۷) ملکیت کے تمام دُوسرے حقوق کی طرح وہ مالکانہ حقوق بھی قابلِ انتقال ہیں جو کسی شخص کو ازرُوئے قانون کسی اسیرِ جنگ پر حکومت نے عطا کیے ہوں۔

 

(۸) حکومت کی طرف سے حقوقِ ملکیّت کا باقاعدہ عطا کیا جانا ویسا ہی ایک قانونی فعل ہے جیسا نکاح ایک قانونی فعل ہے۔ لہٰذا کوئی معقول وجہ نہیں کہ جو شخص نکاح میں کسی قسم کی کراہت محسُوس نہیں کرتا  وہ خواہ مخواہ لونڈی سے تمتُّع میں کراہت محسُوس کرے۔

 

(۹) اسیرانِ جنگ میں سے کسی عورت کو کسی شخص کی ملکیت میں دے دینے کے بعد پھر حکومت اسے واپس لینے کے مجاز نہیں رہتی۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی عورت کا ولی اس کو کسی کے نکاح میں دے چکنے کے بعد پھر واپس لینے کا حقدار نہیں رہتا۔ اور محض کچھ وقت کے لیے انھیں فوج میں تقسیم کرے تو یہ اسلامی قانون کی رُو سے قطعاً ایک ناجائز فعل ہے۔ اس میں اور زنا میں کوئی فرق نہیں ہے، اور زنا اسلامی قانون میں جُرم ہے ۔ تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب”تفہیمات“ حصّہ دوم۔ اور ”رسائل و مسائل“ حصّہٴ اوّل۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں