Posts

عورت کی عظمت

 عورت کی عظمت              #رضی_الہندی                                           ⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐      عورتوں کو عظمت و تقدس کی بلندی پر فائز کرنے میں اسلام کا رول نمایاں ہے، بار بار انسانیت کی ترقی و زوال میں عورت کا ہاتھ مرد کے شانہ بہ شانہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات میں اس پر بہت سے حقائق مندرج ہیں درحقیقت ان سب حقائق کو سامنے رکھ کر اسلامی نظام عورتوں کے متعلق معتدل مزاج اور اعلیٰ معیار کا ہے اور اس میں امن وامان قائم کرنے کا عنصر غالب ومقدر ہے_اور مرد کے ساتھ عزت و احترام اور تخلیق کی احسنیت کے تذکرے میں عورت کا بھی ذکر کیا گیا ہے "اور ہم نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا"(سورۃ التین_5) "اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ہے اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔ "(الاسراء_70)   عورتوں کی حیثیت وعظمت ہے کہ مرد ساتھ اسکو بھی وراثت کا ایک حصہ دینے کی...

جنس اور نظریاتِ جنس _ اسلام کا نقطۂ نظر

 *جنس اور نظریاتِ جنس _ اسلام کا نقطۂ نظر* ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی         آج جماعت اسلامی ہند ، حلقۂ اترپردیش (مغرب) کی جانب سے ازدواجی تفہیمی پروگرام شروع ہوا  ، جو 22 دسمبر تک جاری رہے گا _ پروگرام کا دورانیہ 8 تا 9:30 بجے شب رکھا گیا ہے _ روزانہ دو تقاریر ہوں گی ، جن میں عائلی زندگی سے متعلق اسلامی تعلیمات پیش کی جائیں گی اور خوش گوار ازدواجی تعلقات کی تدابیر پر روشنی ڈالی جائے گی _ اس پروگرام میں ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو شریک کیا جارہا ہے جو نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ، یا کچھ عرصہ قبل ان کا نکاح ہوا ہے _ کورونا کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر اسے آن لائن کیا جارہا ہے _          آج کے پروگرام میں مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں جنس (Sex) اور نظریاتِ جنس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے سلسلے میں اسلام کا نقطۂ نظر واضح کروں _ دوسری تقریر'نکاح' کے عنوان سے مولانا عتیق احمد شفیق اصلاحی ، سکریٹری حلقہ کی ہوئی _ میری گفتگو درج ذیل نکات پر مشتمل تھی : 1 _ اللہ تعالیٰ نے جنسی جذبہ ہر انسان میں ودیعت کیا ہے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت _ ...

سدبھاونا فورم

 [14/12, 1:30 pm] نعیم الدین احمد: قرآن میں نقض امن میں ملوث افراد، اقوام و ملل پر شدید تنقید وسرزنش کی گئی. اسلام دراصل امن عالم کا علمبردار ہے اور فساد فی الارض کو قطعی ناپسند کرتا ہے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نبوت سے قبل بھی مکۃ المکرمہ میں امن وامان کی بحالی کی کوششوں میں سرگرم حصہ لیا کرتے تھے چونکہ مکہ مختلف قبائل کے درمیان خانہ جنگی، قتل وغارت گری کی آماجگاہ تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور بعض سلیم الفطرت افراد خانہ جنگی کے خاتمہ اور امن کے قیام کے لئے مسلسل سعی وجہد میں مصروف رہتے تھے. حلف الفضول کا قیام اسی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی بڑی سرگرمی سے حصہ لیا کرتے تھے. نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد بھی آپ حلف الفضول کو یاد کرکے فرماتے تھے کہ مجھے حلف الفضول میں اپنا حصہ ادا کرنا بہت پسند تھا آج بھی اگر اس طرح کا کوئی کام کیا جائے گا تو میں اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوں. سماج سے برائیوں کا خاتمہ کرنا اور نیکیوں کاحکم دینا امت مسلمہ کا فریضہ و وظیفہ قراردیا گیا ہے. ہندوستان جیسے تکثیری سماج میں برائیوں کی بیخ کنی کرنا اور نیکی...

قلب

 13 قسم کے دل ایک قرآنی ریسرچ کےمطابق ‘اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں 13 دلوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ 13 قسم کے لوگ ہیں۔ آپ اللہ کی طرف سے 13 لوگوں کی تقسیم ملاحظہ کیجیے۔ 1. قلب سلیم  اللہ تعالیٰ کی نظر میں پہلا دل قلب سلیم ہے ‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو کفر‘ نفاق اور گندگی سے پاک ہوتے ہیں‘ قلب سلیم کے مالک لوگ ذہنی اور جسمانی گندگی بھی نہیں پھیلاتے اور یہ خود بھی نفاق اور کفر سے پاک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان سے بچا کر رکھتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کو یہ دل اچھے لگتے ہیں۔ (بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ ، سورۃ الشعراء ، آیت 89) 2. قلب منیب  دوسرا دل قلب منیب ہوتا ہے ‘یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں‘آپ کو زندگی میں بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو سر تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گم رہتے ہیں‘ ان لوگوں کی واحد نشانی توبہ ہوتی ہے‘ یہ اللہ سے ہر وقت معافی اور توبہ کے خواستگار رہتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ منیب لوگوں کو بھی پسند کرتا ہے۔ (بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ ، سورۃ ق ، آیت 33) 3. قلب مخبت  تیسرا دل قلب مخبت ہے ‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو جھکے ہوئے‘ مطمئن اور پرسکون ...

*اسلامی لائبریری *

 *اسلامی لائبریری* *مودودیت فتنہ کیوں* ! *ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بہت اچھے آدمی تھے، اللہ پاک ان کو صحت و سلامتی سے رکھے،*  *ہوا یوں کہ گریجوایشن کے بعد جب میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی جانے لگا تو امام صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا:*  *تم بہت اچھے آدمی ہو، جہاں تم تعلیم کے لیے جا رہے ہو وہاں تو "مودودیے" بہت ہوتے ہیں، ان سے بچ کر رہنا اور ہاں ان کی کتابیں نہ پڑھنا ورنہ ایمان چلا جاۓ گا،*  *انہوں نے مجھ سے قسم لے لی، میں بھی نوجوان اور جزباتی آدمی تھا، سو، قسم دے دی کہ مودودی کی کتاب کبھی نہیں پڑھوں گا۔* *چنانچہ جب یونیورسٹی پہنچا تو بڑی تعداد میں "مودودیوں" کو دیکھا جیسا کہ امام صاحب نے خبردار کیا تھا۔*   *میں یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں سے ایسے بھاگتا تھا جیسے شیطان لاحول سے اور کوا غلیل سے بھاگتا ہے۔*   *کلاسوں کا آغاز ہوا، کچھ دن بعد ہمارے پروفیسر صاحب نے کلاس میں کہا کہ "کل تمام اسٹوڈنٹس مولانا مودودیؒ کی کتاب "اسلامی ریاست" لے کر آئیں، ہم اس کا مطالعہ کریں گے۔ یہ کتاب اسلامی قانون کو سمجھنے کے لیے بہ...

قابل رشک-----اصلاح و توبہ

 قابل رشک ۔۔۔۔۔اصلاح و توبہ ۔ یہ لڑکیاں سب سے بے نیاز اپنی اداؤں سے سب کو گھائل کرتی مدرسہ عزیزیہ کے دروازے سے گزر رہی تھیں کہ حضرت  شاہ محمد اسماعیل رحمہ اللہ  کی نظر ان پر پڑ گئی! حضرت نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟... سا تھیوں نے بتایا کہ حضرت یہ طوائفیں ہیں اورکسی ناچ رنگ کی محفل میں جا رہی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا.. اچھا یہ تو معلوم ہوا، لیکن یہ بتاؤ کہ یہ کس مذھب سے تعلق رکھتی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جناب یہ دین اسلام ہی کو بدنام کرنے والی ہیں.. اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں۔ شاہ صا حب نے جب یہ بات سنی تو فرمایا: مان لیا کہ بدعمل اور بدکردار ہی سہی لیکن کلمہ گو ہونے کے اعتبار سے ہو ئیں تو ہم مسلمانوں کی بہنیں ہی.. لہٰذا ہمیں انھیں نصیحت کرنی چا ہیے، ممکن ہے کہ گناہ سے باز آجاءئیں... ساتھیو ں نے کہا ان پر نصیحت کیا خاک ا ثر کرے گی؟ بلکہ ان کو نصیحت کرنے والا تو الٹا خود بدنام ہو جاءے گا شاہ صاحب نے فرمایا: تو پھر کیا ہوا؟.. میں تو یہ فریضہ ادا کر کے رہوں گا خواہ کوئی کچھ سمجھے! ساتھیوں نے عر ض کیا۔ حضرت! آپ کا ان کے پاس جانا قرین مصلحت نہیں ہے.. آپ کو پتا...

زمینوں کی حفاظت بھی دین داری ہے

 [09/12, 12:18 am] +91 90000 78665: *_زمینوں کی حفاظت بھی دینداری ہے_*  _{بقلم: مفتی انورخان سرگروہ}_  بھارت کے کئی حصوں میں نرم خوئی کے ساتھ مسلمانوں کی زمینیں خریدنے کا سلسلہ اندرونِ خانہ جاری ہے، طریقہ یہ ہوتا ہےکہ ایک طویل منصوبہ بندی اور فیوچر پلاننگ کے ساتھ مسلمانوں کی آبادیوں کے اردگرد کی بڑی بڑی زمینیں خرید کر وہاں پہلے سے طےشدہ ڈیولپمنٹ رو بہ عمل لایا جاتا یے، اور مسلم بستیوں کو "گھیٹو" کے اندر محصور اور مجبور کرکے رکھ دیا جاتا ہے، اور مسلمانوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کی گردن کو چہار جانب سے حصار میں لیا جاچکا ہے، بےدریغ زمینوں کی فروخت سے قومی بحران پیدا ہورہا ہے، خدانخواستہ مستقبل قریب میں مسلمان نوجوان اگرچہ کہ اچھے تعلیمیافتہ ہوں گے، مگر اپنی تعلیمی لیاقت کے بقدر کسی بھی پروجیکٹ کے لئے زمین کے محتاج ہوں گے، کیونکہ ان کی خاندانی یا قومی زمینیں رفتہ رفتہ بِک رہی ہیں، اگر زمینوں کی فروخت کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو معاشی میدان میں مسلمانوں کی خودمختاری تو دور کی بات ہے، بلکہ انہیں ادنیٰ سا معاشی استحکام بھی نصیب نہیں ہوگا، اور مسلم قوم بدستور تین طبقات میں بٹی...