زمینوں کی حفاظت بھی دین داری ہے
[09/12, 12:18 am] +91 90000 78665: *_زمینوں کی حفاظت بھی دینداری ہے_*
_{بقلم: مفتی انورخان سرگروہ}_
بھارت کے کئی حصوں میں نرم خوئی کے ساتھ مسلمانوں کی زمینیں خریدنے کا سلسلہ اندرونِ خانہ جاری ہے، طریقہ یہ ہوتا ہےکہ ایک طویل منصوبہ بندی اور فیوچر پلاننگ کے ساتھ مسلمانوں کی آبادیوں کے اردگرد کی بڑی بڑی زمینیں خرید کر وہاں پہلے سے طےشدہ ڈیولپمنٹ رو بہ عمل لایا جاتا یے، اور مسلم بستیوں کو "گھیٹو" کے اندر محصور اور مجبور کرکے رکھ دیا جاتا ہے، اور مسلمانوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کی گردن کو چہار جانب سے حصار میں لیا جاچکا ہے، بےدریغ زمینوں کی فروخت سے قومی بحران پیدا ہورہا ہے، خدانخواستہ مستقبل قریب میں مسلمان نوجوان اگرچہ کہ اچھے تعلیمیافتہ ہوں گے، مگر اپنی تعلیمی لیاقت کے بقدر کسی بھی پروجیکٹ کے لئے زمین کے محتاج ہوں گے، کیونکہ ان کی خاندانی یا قومی زمینیں رفتہ رفتہ بِک رہی ہیں، اگر زمینوں کی فروخت کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو معاشی میدان میں مسلمانوں کی خودمختاری تو دور کی بات ہے، بلکہ انہیں ادنیٰ سا معاشی استحکام بھی نصیب نہیں ہوگا، اور مسلم قوم بدستور تین طبقات میں بٹی رہےگی، یعنی ان میں بدستور تین طرح کے لوگ باقی رہیں گے:
بےفیض اہلِ ثروت، ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کیطرح نیچے گرتے ہوئے عام مسلمان اور بےسمتی کے شکار اہلِ دل.
تمام بھارت کا جائزہ لیجئے اور اندرا گاندھی کی اراضی کو تقسیم کرنے والی پالیسی کے بعد والے ایّام پر نظر کیجئے، تو ملک کے ہر خطے میں مسلمانوں کا زمینی تناسب گھٹتا اور سمٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے.
نگاہ دوڑائیے تو نوشتہ دیوار کی طرح دکھائی دےگا کہ آپ کے قرب و جوار کی زرخیز یا پرکشش زمینیں غیروں نے خرید لی ہیں.
تعلیمی اور رفاہی مشن پر چلنے والوں کے لئے اب بھی گنجائش ہےکہ دیہات اور قصبات میں "پائلٹ پروجیکٹ" لاؤنچ کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو عملی پیغام پہنچائیں کہ وہ اپنی زمینوں کو مختلف مصارف میں استعمال کرکے خودکفیل تجارت کا آغاز کرسکتے ہیں، یا زمین فروخت نہ کرکے کسی گروپ کے ساتھ معاہدہ کرسکتے ہیں.
ابھی بھی کافی سے زائد وقت ہےکہ مسلمانوں کے معاشیات کے ماہرین اور تجربہ کار تجار اپنے اپنے علاقوں میں معاشی امکانات کا جائزہ لے کر معاشی بیداری اور زمینوں کی حفاظت کے پروگرام چلائیں، اور اپنی ریاستوں میں چیزوں کی کھپت یا ٹورزم کا جائزہ لےکر بیداری مہم کا آغاز کریں، نیز مسلمانوں کی زمینوں کو اپجاؤ بنانے کی مختلف اسکیمیں جاری کریں، ایگریکلچر کے میدان میں مسلمانوں میں کئی باہمت افراد موجود ہیں، اس سلسلہ میں ان کی صلاحیتوں کو بروئےکار لایا جاسکتا ہے.
بنیادی طور پر بھارت ایک زرعی ملک ہے، یہاں کسان کو اولویت حاصل ہے، ایگریکلچر کے شعبے میں بےشمار سرکاری مراعات ہیں، جن سے مسلمان کاشتکار ناواقف ہیں، اور ان اسکیموں سے واقف کرانا بڑی قومی خدمت ہے.
زمینیں بیچتے وقت عام انسان خالی الذہن ہوتا ہے، اور اس کے سامنے اس کے گھر کی کوئی معمولی سی مجبوری ہوتی ہے، جسے اگرچہ کہ بندہ ٹال سکتا ہے اور کچھ مشقت کرکے اپنی وقتی ضرورت پوری کرسکتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے، بلکہ پشتوں کی زمینوں پر چونکہ اس کی محنت نہیں لگی ہوتی ہے، اسلئے اسے زمین کو بےسبب کسی دوسرے کے ہاتھوں بیچ دینے میں کوئی تکلف نہیں ہوتا ہے.
پچھلے لوگ زمین کے معاملات میں حساس اور غیرتمند ہوتے تھے، وہ اسے فروخت کرنے کے بجائے کاشتکاری میں یقین رکھتے تھے، یہی سبب ہےکہ تقسیم کے بعد بھی بڑی بڑی اراضی مسلمانوں کے پاس محفوظ رہیں.
بےسمت تعلیمی نظام کے چلتے نئی نسل پڑھائی تو کررہی ہے، لیکن ہماری شخصی اور قومی غیرت راستہ بھٹک گئی ہے، آج ایک اچھا خاصا تعلیمیافتہ آدمی بھي دور اور دیر کی نہیں سوچتا ہے، بلکہ دو اور دو چار کا حساب لگاکر بڑی آسانی سے پشتینی زمین بیچ دیتا ہے، اور ڈیجیٹل حساب کی تھپکیاں دے کے سمجھتا ہے کہ زمین فروخت کرکے شہروں میں سرمایہ کاری کرکے سمجھداری دکھائی ہے، آج لوگوں میں یہ فقرہ عام ہے کہ خالی پڑی ہوئی زمین سے کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ اسے بیچ کر رقم کو انویسٹ کرنا چاہئے.
زمین فروخت کرکے لوگ آبائی علاقے میں خود اپنی سماجی جڑیں کمزور کرتے ہیں، اِس منفی رجحان سے مقامی آبادی میں بھی بےوجہ کی ہلچل پئدا ہوتی ہے، اور لوگ ایکدوسرے کی دیکھادیکھی زمینیں بیچنے لگتے ہیں، اور ان رقوم سے تھوڑی سی سرمایہ کاری کرکے باقی رقم سے عالیشان گھر اور موٹر خرید کر وقتی طور پر ترقی کا احساس کرتے ہیں، لیکن زمینیں بِکنے کے رجحان کے دوران صرف ایک دہائی کے بعد مسلمانوں کے دیہات اور قصبات کا سارا جغرافیہ ہی بدل جاتا ہے، اور ایک چھوٹے سے رقبے کا "فلسطین کَرَن" ہوچکا ہوتا ہے.
جدوجہد والوں کےلئے اراضی کی حفاظت کا میدان مکمل طور پر خالی پڑا ہے، یہ واحد میدان ہے جہاں کوئی ریفارمر کام نہیں کررہاہے، اور یہ اہم ترین شعبہ ٹکٹکی باندھ کر قوم کی توجہات اپنی جانب مبذول کرانا چاہتا ہے.
یہ شعبہ تجارتی پیٹرن کا متقاضی ہے، اِس راستے میں جدوجہد کےلئے اہلِ نظر کو الگ الگ تکنیکی راستوں پر چلنا ہوگا، قومی تشخّص کو برقرار رکھنے والے اس راستے میں کوئی شاباشی دینے نہیں آئےگا کہ جناب آپ دین کا کام کررہےہیں، بلکہ یہ ممکن ہے کہ لوگ کہنے لگیں کہ کام کے لوگ تھے، دنیاداری میں پڑگئے ہیں.
زمین کی اپنی الگ افادیت اور طاقت ہے، اس کا متبادل کوئی نہیں یے، اسے دین کے جذبے سے کرنے میں کامیابی ہے.
یہودیوں نے فلسطین، نیویارک اور دنیا جہاں کے زرخیز اور پانی والے علاقوں پر تصرف قائم کیا ہے، اس کے پیچھے یہودیوں کا من گھڑت مذہبی جذبہ شامل ہے، اور آسارام اور اس کے چانکیہ ساتھیوں نے جگہ جگہ آشرم بناکر مسلمانوں اور حکومتوں سے زمینیں حاصل کی ہیں، اس کے پیچھے بھی ان کا دھارمک نظریہ کام کر رہا ہے.
آج مسئلہ مسلمانوں کے دوغلے رویے کا ہے، یہ لوگ شادی سے قوالی تک ہر پروگرام میں دادِ عیش دیتے نظر آتے ہیں، لیکن جہاں زمینوں کے تحفظات یا زمین سے متعلق معاملات پر گفتگو شروع ہوتی ہے، تب یہ بور ہونے لگتے ہیں، اور چشمِ زدن میں ایک قانع اور دیندار بن کر بختیار کاکیؒ کے معیار کی بات کہہ جاتے ہیں:
"زمین لے کر قبر میں تھوڑے ہی جانا ہے؟".
ایسے بڑبولے افراد کی اسی وقت اصلاح مطلوب ہے، ان کی زبان سے نکلنے والے وائرس دوسروں کے دلوں میں زمینوں کی بےتوقیری کے بیج بوتے ہیں.
جو قومیں اللّٰہ کی نعمتوں کو وقر کی نظر سے نہیں دیکھتی ہیں، ان کے علاقوں کو ہتھیانے کے لئے ظالم مسلط ہوجاتے ہیں، یہود بےبہبود کی تاریخ اس پر گواہ ہے، یا ان ریڈاِنڈینس کا رویہ ناقابلِ معافی جرم ہے، جنہوں نے کولمبس اور اس کے سونے کے پچاریوں کو اپنے خطے میں خوش آمدید کہہ کر خود اپنی موت کو گلے لگایا تھا.
اور اب کشمیر کا اللّٰہ نگہبان ہے، زمین کا جغرافیہ بدلنے کےلئے بنئے وہاں پہنچ رہے ہیں.
[09/12, 12:18 am] +91 90000 78665: *بی جے پی نا ہی اویسی کو پسند کرتی ہے اور نا ہی اسے اویسی کی ضرورت ہے۔*
(کبھی کبھار غیروں کو بھی پڑھنا چاہئے کہ کسی خاص مسئلے میں وہ کیا سوچتے ہیں, احمد الحریری بھائی کا دلی شکریہ کہ وہ اہم موضوعات کا ترجمہ کرکے عوام الناس کے سامنے پیش کرتے ہیں-)
*(بی جے پی کا مقصد مسلمانوں کو نقشے سے مٹا دینا ہے اور اویسی اس پراجیکٹ کی راہ میں ایک چیلنج ہیں)*
*تحریر: شیوم وج*
اکثر ایسا کہا جاتا ہے کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لیے ہر وہ چیز جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے کرلیتی ہے لیکن ایک چیز جو وہ نہیں کرتی اور خاص طور سے مودی اور شاہ والی بی جے پی، وہ یہ ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو شاید ہی کبھی ٹکٹ دیتی ہے، چاہے اس کی قیمت مسلم اکثریتی سیٹوں سے ہی کیوں نہ چکانا پڑے، بی جے پی کا مقصد صرف نشستیں جیتنا ہوتا تو وہ خوشی خوشی مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی۔
ٹکٹ کی تقسیم میں مسلمانوں کی کچھ نمائندگی دے کر بی جے پی شاید مدھیہ پردیش، کرناٹک، دہلی اور راجستھان کے ریاستی انتخابات کو جیت سکتی تھی،انتخابات کی جیت پر اجارہ داری رکھنے والی پارٹی سے جڑنے کے لئے آپ کو بہت سے خواہش مند مسلمان مل جائینگے،دوسری بہت سی کمیونیٹی کی طرح مسلم بھی اہل اقتدار کے ساتھ رہنے کو کوئی مسئلہ نہیں مانتے۔
یہ بے جے پی ہی ہے جو مسلمانوں کی خواہشات پر توجہ نہیں دیتی ہے کیونکہ بی جے پی نظریہ جیسی چیزوں کو انتخابات جیتنے سے زیادہ ویلو دیتی ہے، 2014 کے بعد تو یہ پہلے سے کہیں زیادہ صاف ہوگیا ہے کہ بی جے پی کا نظریاتی مقصد مسلمانوں کو پسماندگی کے اس نقطہ پر لے آنا ہے کہ وہ منظر سے بلکل ہی غائب ہی ہوجائیں،ان کے نظریہ کے اعتبار سے مسلمانوں کو خاموش اور گھروں میں قید رہنا چاہئے، مسلمانوں کو ایم ایل اے، ایم پی، منسٹر اور لیڈر نہیں بننا چاہئے، مسلمانوں کو آواز بلند نہیں کرنی چاہئے اور ان کے مطالبات نہیں سنے جانے چاہئے۔
شہریت ترمیم بل مخالف مظاہروں میں ایک یا دو سڑک جام کردینا کون سا بڑا معاملہ تھا کہ دہلی میں فسادات بھڑک گئے؟شمالی دہلی میں ایک ایسے روڈ کو جسے کوئی بھی سچ میں مسافروں کے لئے مسئلہ نہیں مانتا تھا کو بلاک کردینا کون سا بڑا معاملہ تھا؟لیکن بے جے پی کے لئے مسلم سیاسی آواز کس قدر ناقابل قبول تھی۔
*بی جے پی اویسی کو پسند نہیں کرتی ہے*
یہ کہنا بلکل مذاق ہے کہ بی جے پی اویسی کو سیاست کے ارد گرد رہنے کو پسند کرتی ہے، بی جے پی داڑھی اور ٹوپی والے مسلم کو پسند نہیں کرتی ہے، میری سمجھ یہ ہے کہ بی جے پی پارلیمنٹ میں کھڑے ہونے والے ایک مسلم کو پسند نہیں کرتی ہے اور وہ پہلی صف میں ایک ہندو راشٹر کے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی موجودگی کو کیوں پسند کرے گی؟
بہار کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ حزب اقتدار میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں ہے، بہار کی سترہ فیصد آبادی والی کمیونٹی کو بی جے پی نے ایک بھی ٹکٹ نہیں دیا، یہ واحد پارٹی ہے جو سیاسی گلیاروں سے پوری کمیونٹی کو قوت کے ساتھ ختم کر دینا چاہتی ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسمبلی میں مجلس کے پانچ ایم ایل اے کو دیکھنا پسند کرے گی؟
پانچ سیٹوں پر مجلس کی جیت کے بعد وہی عام سی بحث شروع ہوگئی ہے کہ اویسی کے عروج کو جس طرح سے بی جے پی چاہ رہی ہے وہی ہورہا ہے کہ مسلم مسلم پارٹی کو اسی طرح سے ووٹ دیں جس طرح ہندو ہندو پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، بی جے پی کے ایجنڈہ کی یہ ایک غلط ترجمانی ہے، بی جے پی اور آر ایس ایس نے سیکولر جماعتوں کو مسلم ووٹوں کے تئیں شرمندہ کردیا ہے اور ایسا ہندوستانی سیاست اور عوامی زندگی میں مسلم کمیونٹی کی آواز کو خاموش کرا کر کیا جا رہا ہے، اس لئے اب اگر مجلس اور اویسی کے ذریعے مسلمانوں کو ایک سیاسی قوت حاصل ہورہی ہے تو اس سے بی جے پی کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہے۔
بلکہ اس کے بجائے بی جے پی تو چاہتی ہے کہ مسلمانوں کا مطلق کوئی ووٹ ہی نا ہو،اور دھیرے دھیرے یہ مقصد ترتیب وار این پی آر، این آر سی اور سی اے اے جیسے قوانین سے حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ وہ قوانین ہیں جو بہت سارے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرسکتے ہیں،آسام میں این آر سی کی بار بار کوششیں یہ بتاتی ہیں کہ بی جے پی کس طرح انتخابی رول سے مسلم رائے دہندگان کی تعداد کم کردینا چاہتی ہے، اس سے نہ یہ کہ حزب اقتدار سے مسلم نمائندگی ختم ہوجائے گی بلکہ حزب اختلاف میں بھی مسلم نمائندگی نہیں رہے گی۔
*بی جے پی کو اویسی کی ضرورت نہیں ہے*
پولرائزیش کے لئے بی جے پی کو اویسی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بی جے پی نے بہر حال پولرائزیش گیم کی منزل کو طے کر لیا ہے، اور اس میں اسے اویسی کی ضرورت نہیں ہے، مثال کے طور پر مسلمانوں کے خلاف اس جھوٹی خبر کو ہی لے لیجئے کہ جب پال گنج میں سادھوؤں کی ماب لنچنگ کر دی گئی تھی تو اس کے فوراً بعد مسلمانوں پر اس کا الزام لگا دیا گیا تھا،حالانکہ اس میں کوئی بھی فرقہ وارانہ پہلو نہیں تھا، اگر اویسی کے آئینی نیشنل ازم کا اظہار تھوڑا بھی بی جے پی لیڈران اور ان کے حمایتیوں کی راہ میں آتا ہے تب مسلمانوں پر ہندؤوں سے نفرت، پاکستان پرست اور گائے ذبح کرنے جیسی چیزوں کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔
یہاں ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہندو رائے دہندگان صرف مذہب کی بنیاد پر ووٹ کرتا ہے، اگر مذہبی شناخت کافی ہوتی تو وزیراعظم مودی کو"خود انحصار ہندوستان"یعنی "آتم نربھر " اور اس جیسے دوسرے جدید نعرے بیچنے کی ضرورت نہیں پڑتی،اس طرح کے رائے دہندگان جو بی جے پی کو ووٹ کرتے تھے وہ بہر حال بی جے پی کو ہی ووٹ کرینگے،اویسی کی موجودگی اور عدم موجودگی ہندوتوا ذہنیت کے حامل رائے دہندگان کو بی جے پی کے تئیں متاثر نہیں کرے گا۔
*اویسی کی ضرورت کسے ہے؟*
اگر اویسی کی کسی کو ضرورت ہے تو وہ مسلمان ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کو پبلک ڈسکورس میں ایک آواز سے محروم کیا جارہا ہے کیونکہ وہ سیکولر پارٹیاں جو ان کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کرتی تھیں وہ بھی خاموش ہوچکی ہیں بلکہ وہ خاموشی سے بڑھ کر ہندو بنیاد پرستی کے ساتھ عملی تعاون اور اشتراک کر رہی ہیں اگر آپ اروند کیجریوال، کمل ناتھ اور پرینکا گاندھی کی حالیہ سرگرمیوں کو دیکھیں گے تو یہ صاف نظر آئے گا۔
ایسے وقت میں اویسی ہندوستانی سیاست میں اچھائی کے لیے ایک طاقت ہیں، وہ کوئی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نہیں بننے جا رہے ہیں اور وہ یہ جانتے بھی ہیں، انہیں جو کچھ حاصل ہوگا وہ یہ ہوگا کہ وہ مسلم ووٹوں کی خاطر کچھ مقابلے پیدا کردینگے جو سیکولر پارٹیوں کو اس بات کے اعتراف پر مجبور کرینگے کہ ہاں ہندوستان میں مسلمان ہیں اور ان کے ساتھ تمام سیاسی پارٹیوں کے ذریعے اسی عزت کا معاملہ کیا جانا چاہیے جو دوسرے ووٹروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
*(مترجم: احمد الحریری،دی پرنٹ20 نومبر 2020)*
Comments
Post a Comment