سدبھاونا فورم

 [14/12, 1:30 pm] نعیم الدین احمد: قرآن میں نقض امن میں ملوث افراد، اقوام و ملل پر شدید تنقید وسرزنش کی گئی. اسلام دراصل امن عالم کا علمبردار ہے اور فساد فی الارض کو قطعی ناپسند کرتا ہے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نبوت سے قبل بھی مکۃ المکرمہ میں امن وامان کی بحالی کی کوششوں میں سرگرم حصہ لیا کرتے تھے چونکہ مکہ مختلف قبائل کے درمیان خانہ جنگی، قتل وغارت گری کی آماجگاہ تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور بعض سلیم الفطرت افراد خانہ جنگی کے خاتمہ اور امن کے قیام کے لئے مسلسل سعی وجہد میں مصروف رہتے تھے. حلف الفضول کا قیام اسی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی بڑی سرگرمی سے حصہ لیا کرتے تھے. نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد بھی آپ حلف الفضول کو یاد کرکے فرماتے تھے کہ مجھے حلف الفضول میں اپنا حصہ ادا کرنا بہت پسند تھا آج بھی اگر اس طرح کا کوئی کام کیا جائے گا تو میں اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوں.

سماج سے برائیوں کا خاتمہ کرنا اور نیکیوں کاحکم دینا امت مسلمہ کا فریضہ و وظیفہ قراردیا گیا ہے. ہندوستان جیسے تکثیری سماج میں برائیوں کی بیخ کنی کرنا اور نیکیوں حکم دینا اس وقت تک پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ برادران وطن کی ایک معتد بہ تعداد کو اس کام کے لئے تیار نہ کرلیا جائے. ہندوستانی سماج  بے شمار سماجی برائیوں کی آماجگاہ ہے. رشوت ستانی، سودی کاروبار کےذریعہ غریبوں کا معاشی استحصال، زنا بالجبر، جہیز کی لعنت، فرقہ پرستی، کسادبازاری، جوا ،بےگناہوں کاقتل،عورتوں پرظلم، شراب نوشی، وغیرہ اس طرح کی کئی برائیاں ہندوستانی سماج میں موجود ہیں.

سدبھاؤنا فورمس کے ذریعہ ان برائیوں کے خاتمے کے لئے بھی کوششوں کا آغاز کیا جاسکتا ہے.

[14/12, 1:30 pm] نعیم الدین احمد: سدبھاؤنا فورمس ،ضرورت واہمیت، مقاصد


ہندوستانی سماج ایک تکثیری سماج ہے جہاں مختلف مذہبی اکائیاں موجود ہیں. ملک کے موجودہ حالات انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں جہاں مذہبی منافرت اور مذہبی عدم رواداری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے. خصوصاً حالیہ عرصہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی فضا بہت تیزی سے پروان چڑھائی جارہی ہے نفرت اس زہر نے ملک کی پوری فضا کو مسموم کردیا ہے نفرت کا زہر پھیلانے میں فسطائیت نے اہم کردار ادا کیا ہے اس کے علاوہ ہندوستانی مسلمانوں کی برادرانِ وطن سے دوری اور ان کے تئیں عام مسلمانوں کا رویہ بھی اس فضا کو پروان چڑھانے میں ممدومعاون بنا.

بہرحال مومن حالات سے مایوس نہیں ہوتا اور نہ حالات سے بے خبر ہوکر خوش فہمی کا شکار ہوتا ہے.

ان حالات کو تبدیل کرنے اور نفرت کی فضا کو ختم کرکے پیارومحبت کی فضا پروان چڑھانے کی کوشش کرنا تمام باشعور مسلمانوں بالخصوص تحریک اسلامی کے افراد کی ذمی داری ہے.

ملک میں امن وامان کا قیام بذات خود اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے.

سدبھاؤنا فورمس کا بنیادی مقصد ملک میں امن وامان اور بھائی چارے کی فضا برقرار رکھنا.

[14/12, 1:30 pm] نعیم الدین احمد: اسلام کی دعوت بندگان خدا تک پہنچانا مسلمانوں کا منصبی فریضہ ہے اور پرامن ماحول کے اندر اس کام کو بہتر انداز میں کیا جاسکتا ہے. آپ غور فرمائیں کہ ابولہب، عتبہ اور ابوجہل جیسے سرداران قریش نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور اسلام کے تعلق سے مکہ کے اندر ماحول کو زہرآلود کردیا تھا. آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف ایسا منفی پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مکہ کے باشندے آپ کو صادق وامین ماننے کے باوجود آپ کی دعوت کو سننے کے لئے تیار نہیں تھے. اسی لئے مکہ میں دعوت اسلامی کی رفتار نہ صرف سست تھی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کو شدید تعذیب میں مبتلا کیا جارہا تھا. اس کے علی الرغم مدینہ منورہ میں ایسا مخالفانہ ماحول نہیں تھا اس لئے وہاں دعوت اسلامی کی رفتار تیز تھی یہاں تک کہ مدینہ منورہ اسلام کا مرکز بن گیا.

ہندوستان میں بھی فسطائیت کے ذریعہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ دعوت اسلامی کے پھیلاؤ کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے. سدبھاؤنا فورمس کا قیام دراصل فسطائیت پروپیگنڈہ کے خلاف Antidote کی حیثیت رکھتا ہے. ان فورمس کے قیام کے سلسلے میں جب برادران وطن سے ملاقات کریں گے اور ان سے قریب ہونگے تو اسلامی تعلیمات کو اپنے کردار کے ذریعہ ان کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملے گا اس طرح دعوت اسلامی کے لئے راہیں ہموار ہوں گی اور ان شاءاللہ دعوت اسلامی کی رفتار میں تیزی آئے گی.

از: نعیم الدین احمد

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں