جنس اور نظریاتِ جنس _ اسلام کا نقطۂ نظر
*جنس اور نظریاتِ جنس _ اسلام کا نقطۂ نظر*
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
آج جماعت اسلامی ہند ، حلقۂ اترپردیش (مغرب) کی جانب سے ازدواجی تفہیمی پروگرام شروع ہوا ، جو 22 دسمبر تک جاری رہے گا _ پروگرام کا دورانیہ 8 تا 9:30 بجے شب رکھا گیا ہے _ روزانہ دو تقاریر ہوں گی ، جن میں عائلی زندگی سے متعلق اسلامی تعلیمات پیش کی جائیں گی اور خوش گوار ازدواجی تعلقات کی تدابیر پر روشنی ڈالی جائے گی _ اس پروگرام میں ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو شریک کیا جارہا ہے جو نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ، یا کچھ عرصہ قبل ان کا نکاح ہوا ہے _ کورونا کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر اسے آن لائن کیا جارہا ہے _
آج کے پروگرام میں مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں جنس (Sex) اور نظریاتِ جنس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے سلسلے میں اسلام کا نقطۂ نظر واضح کروں _ دوسری تقریر'نکاح' کے عنوان سے مولانا عتیق احمد شفیق اصلاحی ، سکریٹری حلقہ کی ہوئی _ میری گفتگو درج ذیل نکات پر مشتمل تھی :
1 _ اللہ تعالیٰ نے جنسی جذبہ ہر انسان میں ودیعت کیا ہے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت _ لڑکا ہو یا لڑکی ، دونوں بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہی دوسری صنف کی جانب کشش محسوس کرتے ہیں _
2 _ اس فطری جذبہ کی پیدائش کا مقصد نسلِ انسانی کی بقا اور تسلسل ہے _ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نباتات اور حیوانات میں قانونِ زوجیت کو جاری کیا ہے ، اسی طرح انسانوں کو بھی اس قانون کا پابند کیا ہے _ ( الذاريات :49 ، النجم :45)
3 _ کائنات کی دیگر مخلوقات قوانینِ فطرت کی پابند ہیں ، جن سے سرِ موٗ بھی انحراف نہیں کرسکتیں ، لیکن انسان کو کسی حد تک آزادی دی گئی ہے کہ وہ فطری تقاضوں پر عمل کرسکتا ہے اور ان سے انحراف بھی کرسکتا ہے _ (الحج :18)
4 _ انسانوں کا رویّہ جنس کے معاملے میں بے اعتدالی کا رہا ہے اور انھوں نے منحرف طریقے اختیار کیے ہیں _ بعض انسانوں نے تفریط کی راہ اپنائی ہے تو بعض نے افراط سے کام لیا ہے _
5 _ کچھ لوگوں نے جنسی جذبہ دبانے اور کچلنے کو انسانیت کی معراج سمجھا ، تجرّد کی زندگی کو آئیڈیل قرار دیا اور شادی بیاہ کرنے اور بال بچوں والا ہونے کو سخت ناپسندیدہ سمجھا _ ان لوگوں کا نظریہ 'رہبانیت' کہلایا _
6 _ دوسری طرف کچھ لوگوں نے یہ نظریہ اپنایا کہ انسان کو مکمل آزادی ہے کہ وہ جس طرح بھی چاہے ، اپنے جنسی جذبہ کی تسکین کرلے _ اس آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں نے تسکینِ جنس کے طرح طرح کے منحرف طریقے اختیار کیے _
* نکاح کے بغیر جنسی تعلق کو روا رکھا گیا(Live in relationship)، چنانچہ آزادی دی گئی کہ مرد اور عورت چاہیں تو عارضی مدّت تک ایک ساتھ رہیں ، یا پوری زندگی اسی طرح گزار دیں _
* نکاح سے قبل وقتی طور پر جنسی لطف اٹھانے (Pre marital sex) کی آزادی دی گئی _
* نکاح کے بعد بھی آزاد شہوت رانی ( Extra marital sex) کی چھوٹ دی گئی ، چنانچہ شوہر کو آزادی رہی کہ وہ دوسری عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار رکھے اور بیوی کو بھی حق حاصل رہا کہ وہ غیر مردوں سے تعلقات بنائے _
* مرد کے دوسرے مرد سے جنسی تعلق ( Homosexuality) کو قانونی جواز فراہم کیا گیا _
* عورت کے دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق (Lesbianism) کو جائز ٹھہرایا گیا _
* خود لذّتی کو جائز کہا گیا کہ مرد یا عورت تنہا کسی طرح اپنے جنسی جذبہ کی تسکین کر سکتے ہیں _
7 _ یہ تمام طریقے انسانی فطرت سے مغایر اور اس سے بغاوت پر مبنی ہیں ، چنانچہ انسانیت کو ان کے کڑوے کسیلے پھلوں کا مزہ چکھنا پڑا ہے _ رہبانیت کا ردّعمل ہوا تو عبادت گاہیں تک بدکاری کے اڈّے بن گئیں اور جنسی اباحیت کے نتیجے میں انسانوں کا سماج حیوانات کے باڑے کا منظر پیش کرنے لگا _ سفلس ، گنوریا ، ایڈز جیسے بھیانک امراض وجود میں آئے ، 'سنگل پیرنٹس' کی بہتات ہوگئی، جرائم پیشہ نسل وجود میں آگئی اور خاندان کا شیرازہ منتشر ہوگیا _
8 _ اسلام جنس (Sex) کو تسلیم کرتا ہے اور اسے اہمیت دیتا ہے _ اس کے نزدیک جنسی تسکین گناہ نہیں ، نہ اسے ناپسندیدہ حیوانی خواہش قرار دیا جاسکتا ہے _ وہ دنیا کی لذّتوں کا شمار کراتا ہے تو جنسی خواہش کو سرِ فہرست بیان کرتا ہے _( آل عمران :14)
9 _ البتہ اس نے جنسی خواہش کی تکمیل کو صرف نکاح سے مشروط کیا ہے _( المومنون :5_ 6 ،المعارج :29 _30) نکاح کے علاوہ جنسی تسکین کے تمام طریقوں کو وہ حرام قرار دیتا ہے _ اس کے نزدیک جس طرح زنا بالجبر قابلِ سزا جرم ہے اسی طرح زنا بالرضا بھی ہے _ (الإسراء : 32 ، الفرقان : 68) اس کے نزدیک بغیر نکاح کے کسی کے ساتھ نہ علانیہ جنسی تعلق رکھنے کی اجازت ہے نہ خفیہ _ اس نے کسی مرد کے لیے زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے اور اسے بھی عدل سے مشروط کیا ہے ، ورنہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کی تاکید کی ہے _ وہ عارضی نکاح کی بھی اجازت نہیں دیتا _ اس نے کچھ رشتے داروں کو محترم قرار دے کر ان سے جنسی تعلق کو حرام قرار دیا ہے _
10 _ وہ جائز جنسی تعلق کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے _ ( مسلم :1006) وہ زوجین کے حقوق بیان کرتا ہے اور ان کی ادائیگی کی تاکید کرتا ہے _ وہ خوش گوار ازدواجی تعلق کو اللہ کی نشانی ، باعثِ سکون اور باہم مودّت و رحمت قرار دیتا ہے _
11 _ جنس کے بارے میں اسلام کا نظریہ معتدل اور ہر طرح کے افراط و تفریط سے پاک ہے _ اسی کو اپنانے میں انسانیت کی فلاح مضمر ہے _
Comments
Post a Comment