*اسلامی لائبریری *
*اسلامی لائبریری*
*مودودیت فتنہ کیوں* !
*ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بہت اچھے آدمی تھے، اللہ پاک ان کو صحت و سلامتی سے رکھے،*
*ہوا یوں کہ گریجوایشن کے بعد جب میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی جانے لگا تو امام صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا:*
*تم بہت اچھے آدمی ہو، جہاں تم تعلیم کے لیے جا رہے ہو وہاں تو "مودودیے" بہت ہوتے ہیں، ان سے بچ کر رہنا اور ہاں ان کی کتابیں نہ پڑھنا ورنہ ایمان چلا جاۓ گا،*
*انہوں نے مجھ سے قسم لے لی، میں بھی نوجوان اور جزباتی آدمی تھا، سو، قسم دے دی کہ مودودی کی کتاب کبھی نہیں پڑھوں گا۔*
*چنانچہ جب یونیورسٹی پہنچا تو بڑی تعداد میں "مودودیوں" کو دیکھا جیسا کہ امام صاحب نے خبردار کیا تھا۔*
*میں یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں سے ایسے بھاگتا تھا جیسے شیطان لاحول سے اور کوا غلیل سے بھاگتا ہے۔*
*کلاسوں کا آغاز ہوا، کچھ دن بعد ہمارے پروفیسر صاحب نے کلاس میں کہا کہ "کل تمام اسٹوڈنٹس مولانا مودودیؒ کی کتاب "اسلامی ریاست" لے کر آئیں، ہم اس کا مطالعہ کریں گے۔ یہ کتاب اسلامی قانون کو سمجھنے کے لیے بہت مفید ہے،"*
*میں نے "مودودی" کا نام سنتے ہی دل میں ارادہ کر لیا کہ اس کی کتاب تو کبھی نہیں لاؤں گا، اگلے چند روز میں یہ کتاب لاۓ بغیر کلاس میں جاتا رہا، ایک دن پروفیسر صاحب نے دیکھ لیا کہ میرے پاس کتاب نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ بیٹا کیا مسئلہ ہے؟ کیا کتاب کے لیے پیسے نہیں ہیں؟*
*میں نے کہا، نہیں پروفیسر صاحب! میں اس شخص کی کتاب پڑھنا نہیں چاہتا، ہمارے امام صاحب کہتے ہیں "مودودیت ایک فتنہ ہے، اس کی کتابیں نہ پڑھنا" اور امام صاحب نے مجھ سے قسم بھی لی ہے کہ میں اس کی کتابیں نہیں پڑھوں گا۔ اس لیے میں نے یہ کتاب نہیں خریدی۔*
*پروفیسر صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور فرمایا: "برخوردار، اپنے والدین کے پیسے ضائع نہ کرو، گھر چلے جاؤ اور جا کر کوئی کام کر لو، چلے ہو وکیل بننے اور ملزم کو سنے بغیر مقدمہ کا فیصلہ کر رہے ہو؟"*
*اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے ان کی بات سمجھ آ گئ، پھر میں نے پوچھا کہ میں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے، اس کا کیا کروں؟*
*تو پروفیسر صاحب نے رہنمائی کی کہ اس کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے۔*
*چنانچہ قسم کا کفارہ ادا کیا اور مولانا مودودیؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ تب احساس ہوا کہ مولانا کی کتابوں کے مطالعہ سے صرف تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے روکا جاتا ہے، اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔*
*الحمدللہ وہ دن اور آج کا دن، مولانا مودودیؒ کی اس انقلابی دعوت کو پھیلانے کی مقدور بھر کوشش میں مصروف ہوں۔*
*مرزا حماد الرحمان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ*
*اسلامی لائبریری محبوب نگر*
Comments
Post a Comment