عورت کی عظمت
عورت کی عظمت
#رضی_الہندی
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
عورتوں کو عظمت و تقدس کی بلندی پر فائز کرنے میں اسلام کا رول نمایاں ہے، بار بار انسانیت کی ترقی و زوال میں عورت کا ہاتھ مرد کے شانہ بہ شانہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات میں اس پر بہت سے حقائق مندرج ہیں درحقیقت ان سب حقائق کو سامنے رکھ کر اسلامی نظام عورتوں کے متعلق معتدل مزاج اور اعلیٰ معیار کا ہے اور اس میں امن وامان قائم کرنے کا عنصر غالب ومقدر ہے_اور مرد کے ساتھ عزت و احترام اور تخلیق کی احسنیت کے تذکرے میں عورت کا بھی ذکر کیا گیا ہے "اور ہم نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا"(سورۃ التین_5) "اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ہے اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔ "(الاسراء_70)
عورتوں کی حیثیت وعظمت ہے کہ مرد ساتھ اسکو بھی وراثت کا ایک حصہ دینے کی بات کی گئی ہے _
انسانی اقدار کی محافظت کی بات کی جائے اور مرد و عورت میں ایک دوسرے سے ازدواجی رشتہ ہو تو دونوں کو انکی حدود کے ساتھ مساوی حقوق دیکر عورت کو عظمت عطاء کی گئی ہے _
"۔۔۔۔عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالٰی غالب ہے حکمت والا ہے"(سورۃالبقرہ_228)
اور اقدار کی محافظت اور اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد کے میدان میں لغزش و خطا سے ایک دوسرے کی بچاؤ کی تدبیر میں بھی مساوی مواقع فراہم کر عظمتِ نسواں کو چار چاند لگائے گئے ہیں "مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے ( مددگار و معاون ) اور دوست ہیں ، وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ، نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکٰو ۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے ۔"(سورۃالتوبۃ_71)
سن رسیدہ افراد سے سابقہ پڑتا ہے اور طبیعت کو کچھ حرکتیں ناگوار گذر جایا کرتی ہیں لیکن یہی حالت عورت کی ماں کی صورت میں مل جائے تو اللہ جل وعلا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بعد ان کی فرمانبرداری کا حکم اور انکے ساتھ حد درجہ نرمی کا سلوک روا کرنے کا آرڈر کر عورت کی عظمت کو پنکھ لگایا گیا تاکہ وہ آزاد پرندوں کی طرح عزت کے ساتھ عمر کے آخری لمحات کو بھی جی سکے "اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا ، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا ۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے ۔ (سورۃ الاسراء_23-24)
معاملہ آخرت میں سرخروئی و کامیابی حاصل کرنے کا ہو تو سبھی کو فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ کیا ہوگا یہانتک بعض افراد ہلاک بھی ہوگئے ہیں اور دوسرے مذاہب وادیاں اس مسئلے پر خاموش بھی دکھائی دیتے ہیں مگر عورت کو انکے ہر ایک کارخیر اور نیک عمل کا برابر ثواب دینے کی بات کرکے انکے جذبہ اطاعت وبندگی اور خیرخواہی کو حوصلہ دیا گیا ہے "پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا ، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو اس لئے وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے ، میں ضرور ضرور ان کی بُرائیاں ان سے دُور کردوں گا اور بالیقین انہیں اُن جنّتوں میں لے جاؤنگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، یہ ہے ثواب اللہ تعالٰی کی طرف سے اور اللہ تعالٰی ہی کے پاس بہترین ثواب ہے ۔"(آل عمران_195)اور دوسری جگہ پر ہے "جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت ، لیکن با ایمان ہو تو ہم اُسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے ۔"(سورۃ النحل _97) بلکہ رتی بھر بھی کمی نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے "جو ایمان والا ہو مرد ہو یا عورت اور وہ نیک اعمال کرے ، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا ۔(سورۃ النساء_124)
جبکہ اسلام سے پہلے کے ادوار اس کی طرف متوجہ کرا رہے تھے کہ عورت کو یونان میں کوئی اہمیت حاصل نہ تھی اسے ایک مستعمل اشیاء سمجھا جاتا تھا اور اس وقت وہ دنیا کی "سوپر پاور" تھا، وہیں یوروپ میں اس کو کوئی ادنیٰ رتبہ بھی حاصل نہیں تھا یہاں تک کہ ایک بار اس پر ابحاث و تبحیث کی گئی تھی کی یہ مخلوق ہے کہ نہیں اور ھندوستان میں ستی کی رسم عام طور پر اپنائی جاتی تھی پھر اسلام آیا اور اس نے عورتوں کے مقامات کو متعارف کرایا مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا انکو فضیلتوں سے ہمکنار کیا آج لوگوں کو اسلامی قوانین امن سے اتنا خوف ہیکہ اس نے عورتوں کے حقوق کے لئے مختلف تنظیمات و کمیشن قائم کیا ہوا ہے اور اسلام پر دیوانہ وار وار کئے جا رہے ہیں مگر
ْْنورِخداہےکفرکی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چَراغ بجھایا نہ جائے گا
اور آج پھر عورتوں کو دیکھا جائے تو ان کے حقوق کو سلب کرلیا گیا ہے، درگور کی جگہ رحم مادر سے ابورشن کرائی جارہی ہیں تو وہیں ستی کے بدلے جہیز کی آگ میں جھونسی جارہی ہیں ،خوبصورتی کے نام پر ننگا کیا جاچکا ہے، بزنس کی ترقی کے لئے ماڈلنگ ریمپ پر کپڑے اتارے جاچکے ہیں، رشتوں کی عظمت کو بالائے طاق رکھ کر کوٹھوں، قحبہ خانوں، وائن پیلیسیز، باراور بازاروں میں اس کو بیچ دیا گیا ہے _
اللہ بنی انسان کو اسلام کی تعلیمات سمجھنے کی توفیق دے ۔۔۔آمین
Comments
Post a Comment