Posts

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں

 مسلمان‘جائیں تو جائیں کہاں؟ معصوم مرادآبادی بہار اوربنگال کے مسلم حلقوں میں اپنی حاضری درج کرانے کے بعد اب بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں قدم رکھ دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان تمام اندیشوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے جو مسلمانوں کی علیحدہ سیاست سے وابستہ ہیں اور جن کی تان بی جے پی کو فائدہ پہنچانے طعنہ پر جاکر ٹوٹتی ہے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اترپردیش کی تقریباً 22 کروڑ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 18 فیصد ہے اوروہ 400 اسمبلی نشستوں میں100سے زیادہ حلقوں پرفیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیکولر سیاست کے ٹھیکیدار ہر الیکشن میں مسلمانوں کی حاشیہ برداری کرتے ہیں مگر ان کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یوپی میں مسلمانوں کی پسماندگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ سیاسی طور پر یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔2012کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دینے کا خوش کن وعدہ کیا تھا ۔ اس کے فریب میں آکر مسلمانوں نے سارے ووٹ سماجوادی پارٹی کو منتقل کردیئے۔ پارٹی سربراہ ملائم سنگ...

ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مغربی۔ محمد اسعد فلاحی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  ڈاکٹر محمد رفعت: مشفق استاد، مہربان مربی محمد اسعد فلاحی   مفکر اسلام اور فکرِمودودیؒ کے شارح ڈاکٹرمحمد رفعت 8؍ جنوری 2021ء کو اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ گئے۔ ان کی وفات سے عالم اسلام، خصوصا تحریک اسلامی کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا احساس وابستگانِ تحریک نے جس شدت کے ساتھ کیا ہے، اس کا اظہار الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔علم و تقویٰ، سادگی اور انکساری کا ایسا چلتا پھرتا قابلِ تقلید نمونہ اپنی آنکھوں سے پہلے کہیں نہیں دیکھا۔ مسکرانا تو جیسے ان کی فطرت میں شامل تھا۔وسائل کی فراوانی کے باوجود ان کی زندگی تصنع، آرائش و زیبائش، زینب و زینت اور دنیا کی چمک دھمک سے بالکل پاک تھی۔ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے،ان کو دیکھنے اور جاننے والا ہر شخص اس کا شاہد ہے۔ معمولی سی چپل،سادہ سے کپڑے اور چہرے پر مسکراہٹ ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔   ڈاکٹر محمد رفعت 26؍ جولائی 1956ء خورجہ، ضلع بلند شہر، یوپی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام بندو خان ہے۔ وہ تحصیل دار تھے۔1965ء میں ان کا تبادلہ علی گڑھ میں ہوا تھا، اس کے بعد سے وہ وہیں سکونت پذیر ہو گئے۔ ڈاکٹر رفعت صاح...

تیری گفتگو اسباق گفتگو کی ایک کتاب

 *تیری گفتگو اسباق گفتگو کی ایک کتاب*  بیاد ڈاکٹر محمد رفعت مرحوم از: ایس.امین الحسن شوری دراصل کسی موضوع پر ایک سے زائد زاویوں اور ان میں تحریک کے مفاد میں موزوں ترین اور تحریک کے اساس کار سے اقرب ترین کے انتخاب سلسلے میں بحث و مباحثہ کی جگہ ہے۔ عام طور پر دو مختلف آراء کو لے کر دو گروہ بن جاتے ہیں۔‌ کبھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ اجلاس شوری ایک لیول پلےانگ فٹ بال گراؤنڈ ہے۔‌ کھیل میں کبھی اتنا جوش وخروش پیدا ہو جاتا ہے کہ لگتا ہے کہ اب گول ہونے والا ہے لیکن اچانک پیچھے سے ایک کھلاڑی ایسی شارٹ لگاتا ہے کہ سارے کھلاڑی بکھر جاتے ہیں اور گیند واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔‌۔‌بارہا میں نے دیکھا کہ ایک رائے  جس کے سپورٹ میں دسیوں آوازیں اٹھتیں اور گفتگو کا ماحول بتاتا کہ اب یہ فیصلے پر جا کر منتج ہوگا، اچانک فیلڈ کے بیک ڈیفنڈر کے روپ میں ڈاکٹر محمد رفعت صاحب اس مجوزہ اور تقریباً مقبول رائے کے خلاف اس طرح گفتگو کرتے کہ پھر گیند وہیں پہنچ جاتا جہاں سے آیا تھا۔ فکری تحریکوں میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے جو اس بات سے بالکل متاثر نہیں ہوتے کہ یہ وقت کا چلن ہے اور ہمیں اسے اپنانا چاہیے،...

مومنوں کی تہجد گزاری قرآن کے آئینے میں

 مومنوں کی تہجُّد گزاری قرآن کے آئینے میں                                             محمد اکمل فلاحی (پہلی قسط) «قرآن ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنی زندگی کی ہر تصویر دیکھ سکتا ہے، اس نے مومنوں کے ایمان و یقین، عبادت و اطاعت اور اخلاص وللّٰہیت کی جو تصویر پیش کی ہے وہ انتہائی دل کش اور ایمان آفریں ہے» قرآن نے مومنوں کی تہجد گزاری کی بڑی دل کش تصویر پیش کی ہے اور ان کی نمایاں صفات کو نمایاں کیا ہے۔ کیا آپ ایسے مومنوں کی تصویر دیکھنا پسند نہیں کریں گے؟ کیا آپ ایسے مومنوں کی صفات تلاش کرنا نہیں چاہیں گے؟ آپ کہیں گے:  کیوں نہیں؟ ضرور چاہیں گے۔ ضرور پنسد کریں گے۔ *** آپ کی پسند میری پسند،، آئیے! ان کی تصویر ڈھونڈتے ہیں۔ ان کا تذکرہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتے ہیں۔ خدا ان کا تذکرہ کرتا ہے: {کَانُوا قَلِیلًا مِّنَ الَّیلِ مَا یَھجَعُونَ} (ذاریات:17) "وہ رات کے تھوڑے حصے میں سوتے ہیں۔" ہاں! وہ رات کے تھوڑے حصے میں سوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو رات میں کم سوتے ...

ڈاکٹر محمد رفعت-وحید اللدین خان عمری مدنی

 آہ! ڈاکٹر محمد رفعت صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ پر اللہ کی بیکراں رحمتیں نازل ہوں.*  فکر اسلامی کے افق کا ایک اور روشن ستارہ غروب ہوگیا اللہ اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے   جناب ڈاکٹر محمد رفعت صاحب   کا شمار تحریک اسلامی کے بلند پایہ مفکرین, مصنفین اور بیدار مغز قائدین میں ہوتا ہے, آپ عبقری شخصیت کے مالک تھے,  کتاب وسنت میں گہری بصیرت رکھتے تھے, فکر اسلامی میں نمایاں مقام اور مرجع کی حیثیت رکھتے تھے. مرکزی شوری کے ممبر تھے سابق میں تصنیفی اکیڈمی کے ممبر بھی رہے, تبحر علمی,  بلند فکری, وسعت نظری, تواضع, حلم, سنجیدگی, متانت, سادگی, بے تکلفی, کریمانہ اخلاق, اعلی ظرفی, بے لوثی,  قلندرانہ مزاج, معتدل ومتوازن سوچ, اصابت رائے, قوت فیصلہ آپکی نمایاں خوبیاں اور خصوصیات تھیں, 2010 میں مجلس العلماء کرناٹک کی جانب سے منعقد علمی سیمینار میں سیاست پر اپنا وقیع مقالہ پیش کیا, مختلف مناسبتوں میں اہل کرناٹک نے آپ سے خوب علمی وفکری استفادہ کیا سال گزشتہ حلقہ کرناٹک کے ذمہ داروں کے سہ روزہ تربیت گاہ میں کئی ایک اہم حساس اور علمی سلگتے موضوعات پر مدلل ومسحور کن خطا...

ڈاکٹر محمد رفعت - عمیر انس

 میرے شہر اناو کے بزرگوں نے ہمیں بتایا تھا کہ کانپور آئی آئی ٹی میں پڑھنے والے طلبہ یہاں درس قران دینے آیا کرتے تھے، ان میں سے سب زیادہ قابل ذکر نام ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کا تھا، یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ وہ جامعہ ملیہ میں فزکس کے پروفسر ہیں، پہلی بار دہلی گیا تو ایک تقریر میں انکو دیکھا، کہیں سے بھی پروفیسر والے ہاؤ بھاؤ نہیں، بغیر پریس کیے ہوئی پینٹ اور بغیر میچنگ کی شرٹ، اور وہ بھی بغیر ان ان کی ہوئی، حیرت ہوئی کہ ایسے پروفیسر بھی کہیں ہوتے ہیں، میرا تو خیال ہیکہ جوتے بھی وہ شائد صرف بہت سردی میں یا دہلی سے باہر کا سفر کے موقعے پر پہنے ہونگے، میری یادداشت کی دس بارہ سال کی ملاقاتوں میں شائد ہی کبھی انکو جوتے پہنے دیکھا ہوگا میں نے، انکو تلاش کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ تھا کہ آپ خود وقت پر پہلی صف میں نماز ادا کرنے پہنچ جائیں، ان سے گفتگو کریئے تو نہ وہ اپنے استاذ اور پروفیسر ہونے کا ادنی بھی اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی گفتگو اور اپنی رایے پر مکمل اعتماد سے آپ کو متاثر کر لیتے تھے، انکے ساتھ کیرلا کے ایک ساحل پر ایک شام صرف ہم اور وہ ساتھ تھے، باتیں بہت ہوئیں لیکن اس دن اس انس...

ڈاکٹر محمد رفعت -ڈاکٹر شاہد بدر

 آہ ڈاکٹر محمد رفعتؒ صاحب۔ انا للہ ونا الیہ راجعون میں یوپی اعظم گڑھ کے ایک دور افتادہ گاؤں منچوبھا میں رہتا ہوں۔۔۔ صبح سویرے مجھے یہ غم گین کردینے والی خبر ملی۔۔ ڈاکٹر محمد رفعت صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ۔ میں نے تو ڈاکٹر صاحب کے علیل ہونے کی بھی خبر نہیں سنی تھی۔۔۔ اچانک انتقال کی خبر سن کر میں زار زار ہو گیا۔۔گھنٹوں بعد طبیعت سنبھلی ۔۔لیکن ابھی بھی دل قابو میں نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے میری اپنی وابستگی۔۔ ان سے ناقابل شمار ملاقاتیں۔۔ یادوں کے پہاڑ تلے دبا ہوا ہوں۔۔۔ وہ ہندوستان میں اسلامی انقلاب کی نقیب مسلم طلبہ و نوجوانوں کی پہلی کل ہند طلبہ تنظیم students islamic movement of india کے پہلے باضابطہ کل ہند صدر تھے۔ اس طلبہ تحریک کے وہ گویا فکری و اخلاقی سرپرست تھے اور اسی انقلابی فکر کے تاحیات علم بردار تھے۔محترم ڈاکٹر صاحب۔ انتہائی پیچیدہ فکری و تحریکی مسائل کی گتھیوں کو بڑی آسانی سے حل کر دیتے تھے۔۔ جب حالات کی تیرگی ذہن ودماغ کو گھیر لیتی تھی تب ڈاکٹر صاحب سے ملنے کی شدید خواہش پیدا ہو جاتی تھی۔۔ محترم ڈاکٹر صاحب اسلامی انقلابی سوچ و فکر کی آبیاری سے کب...