مسلمان جائیں تو کہاں جائیں
مسلمان‘جائیں تو جائیں کہاں؟ معصوم مرادآبادی بہار اوربنگال کے مسلم حلقوں میں اپنی حاضری درج کرانے کے بعد اب بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں قدم رکھ دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان تمام اندیشوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے جو مسلمانوں کی علیحدہ سیاست سے وابستہ ہیں اور جن کی تان بی جے پی کو فائدہ پہنچانے طعنہ پر جاکر ٹوٹتی ہے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اترپردیش کی تقریباً 22 کروڑ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 18 فیصد ہے اوروہ 400 اسمبلی نشستوں میں100سے زیادہ حلقوں پرفیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیکولر سیاست کے ٹھیکیدار ہر الیکشن میں مسلمانوں کی حاشیہ برداری کرتے ہیں مگر ان کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یوپی میں مسلمانوں کی پسماندگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ سیاسی طور پر یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔2012کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دینے کا خوش کن وعدہ کیا تھا ۔ اس کے فریب میں آکر مسلمانوں نے سارے ووٹ سماجوادی پارٹی کو منتقل کردیئے۔ پارٹی سربراہ ملائم سنگ...