وقت
وقت
(قلم کلامی:قاسم علی شاہ)
’’کسی کے پاس بھی سب کچھ کرنے کا وقت نہیں ہوتا، مگر اہم ترین کام کرنے کا وقت ہر ایک کے پاس ہوتا ہے!‘‘
(برائن ٹریسی)
▪️وقت کی تنظیم
وقت کی تنظیم کا مطلب ہے کہ قدرت نے آپ کو جو وقت دیا ہے، ایک دن میں 1440 منٹ، اسے بہتر طور پر استعمال میں لایا جائے۔ اگر ہم وقت کو بہتر طور پر استعمال میں لا رہے ہیں تو زیادہ کامیابی ملے گی۔ اگر نہیں لا رہے تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قدرت ہماری جیب میں ساٹھ ستر سال ڈال کر ہمیں زمین پر بھیجتی ہے اور ہمیں اس وقت کی تنظیم کرنی ہوتی ہے۔ صرف ایک اختیار ہے، وقت کی تنظیم یعنی ٹائم مینجمنٹ۔ وقت کی تنظیم کا مطلب ہے، وقت کے ساتھ زندگی گزارنا۔
دنیا میں پہلی قسم کے لوگ وہ ہوتے جو وقت کی تنظیم کرنا نہیں جانتے۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کے غیر سنجیدہ ہونے کی وجہ سے ان سے وقت کی تنظیم نہیں ہوتی۔ تیسری قسم کے لوگ بے مقصد ہوتے ہیں۔جس کے پاس مقصد نہیں ہے وہ کبھی وقت کی تنظیم نہیں کر سکتا۔ جوآدمی اپنے مقصد کو سامنے رکھتا ہے، وہ وقت کی تنظیم کر سکتا ہے۔ چوتھی قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس وقت ضائع کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں۔ وقت کی تنظیم وہ شخص کر سکتا ہے جو وقت ضائع کرنے والے ذرائع کو ختم کر دیتا ہے۔
بہترین وقت کا بہترین استعمال
ایک تحقیق کے مطابق، پورے دن میں کچھ گھنٹے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان سب سے بہتر کام کر تا ہے۔ یہ وقت انسان کی توانائی کے جوبن کا ہوتا ہے۔ فرض کیجیے، آپ پورا دن کوئی کام نہیں کرتے، لیکن اپنی ساری توانائی جمع کرکے شام کے وقت اپنی توانائی کسی ایک کام پر لگا کراس کام کو بہترین بنا تے ہیں۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں وہ وقت نکالیں جس میں سب سے اچھا کام پوری توانائی سے کر سکتے ہیں۔ وہ وقت کام کے لحاظ سے بھی ہو سکتا ہے، توانائی کے لحاظ سے بھی ہو سکتا ہے۔
کئی لوگوں کا مزاج ہوتا ہے کہ وہ صبح کے وقت بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ کچھ لوگ رات کے وقت بہت اچھا کام کر سکتے ہیں۔ انھیں عادت ہوتی ہے کہ دنیا سو جائے اور ہم اپنا کام شروع کریں۔ ایسے لوگ جاگنے والے ہوتے ہیں۔ کئی لوگ شام کے وقت بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شام کی چائے کے بعد ہم بہت اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں۔ ممکن ہے، روز ایسا نہ ہوسکے۔ واقعات، حالات، خوشی، غمی۔۔۔ وقت بدلتا ہے۔ لیکن جب آپ کو اس طریقے کا پتا ہو گا تو پھر آپ کو استعمال کرنا بھی آ ئے گا۔ وہ وقت آپ کیلئے انتہائی مؤثر ہونا چاہیے اور آپ کہہ سکیں کہ یہ میرے پورے دن کا نچوڑ ہے۔ اپنے اچھے وقت کواچھے طور پر استعمال کیجیے۔ اگر کوئی اس وقت کوخراب کرنے کی کوشش کرے تو آپ اس سے معذرت کرلیں۔ اپنے وقت کو کاموں کی نوعیت کے لحاظ سے تقسیم کیجیے۔بہترین وقت بہترین کاموں اور افراد کیلئے مختص کیجیے۔ یہ نہ ہو کہ سب سے اچھا وقت آپ نے کسی فارغ آدمی کو دے دیا اور جب کام کرنے کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی توانائی ضائع ہوچکی تھی۔
قدرت صبح کے وقت ہماری جیب میں اشرفیاں ڈالتی ہے جن میں کچھ سونے کی، کچھ چاندی کی اور کچھ پیتل کی ہوتی ہیں۔ اس میں جو سونے کی ہیں، وہ ہمارا بہترین وقت ہوتا ہے۔ اس لیے بہترین وقت کو بہترین کاموں، بہترین لوگوں، بہترین واقعات کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔ جو وقت بچ جائے، اس میں جو کام اہم نہ ہوں، انھیں کیا جا سکتا ہے۔
▪️وقت کا ضیاع
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ نے کسی کے مستقبل کے بارے میں جاننا ہے تو یہ دیکھیں کہ وہ کتنا فارغ رہتا ہے۔ آپ جوروزانہ کام کرتے ہیں، اس کا شیڈول بنائیے تو اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کا کتنا وقت ضائع جاتا ہے:
-1 اخبار پڑھ کر اس پرتبصرہ کرنا (ایک گھنٹہ)
-2 گپیں (ایک گھنٹہ )
-3 سستی (ایک گھنٹہ)
-4 ٹی وی (ایک گھنٹہ)
-5 سوشل میڈیا (ایک گھنٹہ)
یہ کل پانچ گھنٹے بنتے ہیں۔ اگر ہم اس کو سات سے ضرب دیں تو یہ 35 گھنٹے ہوئے۔ یہ مہینے کے 140 گھنٹے بنیں گے اور سال کے 1680 گھنٹے بنتے ہیں۔ اس کو اگر 24 پر تقسیم کیا جائے تو یہ 70 دن بنتے ہیں۔ غور کیجیے کہ ہم اپنی زندگی کے ایک سال میں 70 دن ضائع کرتے ہیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اور اس میں کتنا وقت ضائع جاتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت زندگی ہے۔ وقت اصل وہ ہے جو شعور کا وقت ہے۔ جب تک وقت کی قدر نہیں ہو گی، وقت کی تنظیم نہیں ہوگی۔ خوش قسمت انسان وہ ہے جو نعمت کے چھننے سے پہلے اس کی قدر کر لے۔ آپ کے پاس وقت کی نعمت ہے۔ بیماری اور فقر سے پہلے اس نعمت کی قدر دانی یہ ہے کہ اسے اپنی زندگی کے اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول پر صرف کیجیے۔
▪️وقت کو ضائع ہونے سے کیسے بچائیں
جب آدمی وقت کی تنظیم کرتا ہے تو اس کی زندگی میں برکت آ جاتی ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے تحفے کو عزت د یتا ہے اور یہیں سے اس کی ترقی شروع ہوتی ہے۔ آپ ایک فہرست بنائیں کہ کن کن کاموں میں آپ کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ پھر، لکھئے کہ اس وقت میں آپ کیا کیا مفید کام کرسکتے ہیں:
-1 اللہ تعالیٰ کا ذکر
-2 اچھی کتابوں کا مطالعہ، خاص کر اگر آپ اپنی نوکری میں ترقی کیلئے پڑھ رہے ہیں تو وہ کتابیں ضرور پڑھیں
-3 کوئی ایسا کام جس میں معاوضہ نہ ہو (رضاکارانہ)
-4 اگر اسمارٹ موبائل ہے تو اس میں ڈکشنری ڈاؤن لوڈ کرکے الفاظ کے معانی سیکھنا
-5 غوروفکر کرنا کہ میں کون ہوں، میں کدھر سے آیا ہوں، میرا مالک سے کیا تعلق ہے ، یہ نظام کیسے چل رہا ہے ، میں نہیں بھی ہوں تو یہ نظام تب بھی چلتا رہے گا۔۔۔ غوروفکر عبادت کے برابر ہے۔
وقت کو بہتر طور پر گزارنے کیلئے دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اول، ویژن۔ دوم، مقصد۔ ویژن کا مطلب ہے کہ آج کے وقت کو سامنے رکھتے ہوئے کل کو دیکھنا، آنے والے وقت کے خواب، آنے والے وقت کو سامنے رکھ کر قدم اٹھانا۔
مقصد۔۔۔ مقصد کا مطلب ہے کہ ذمے داریوں کا شعور۔ مقاصد کئی اقسام کے ہوتے ہیں جس میں گھر، گاڑی، روپیہ پیسہ، اپنی بہتری،اپنے کام میں بہتر انسان بننا، خاندان کو کامیاب بنانا، اپنے آپ میں مذہبی بہتری لانا۔ جب مقصد سامنے ہو اور کَل کے خواب سامنے ہوں تو پھر وقت کی تنظیم ہوتی ہے۔ وقت ضائع کرنا ایک عادت ہے۔ عادت اگر اپنائی ہو تو اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ وقت کو استعمال میں لانا بھی عادت ہے۔ بھارت کے سابق صدر ابو الکلام کہتے ہیں، ’’دنیا کا کوئی انسان اپنے مستقبل کو نہیں بدل سکتا، لیکن اپنی عادتوں کو بدل سکتا ہے اور عادتیں اس کے مستقبل کو خود بدل دیتی ہیں۔‘‘ درج ذیل پانچ عادتیں آپ کو وقت کے بہتر استعمال میں معاون ثابت ہوں گی:
-1 آنے والے دن کی پہلے سے تیاری کیجیے
-2 آنے والے دن کے کاموں کو ایک کاغذ پر لکھ لیجیے۔ اگر آپ یہ کرلیتے ہیں تو آپ کو کام کم لگے گا۔ اس سے آپ کو تھکاوٹ بھی کم ہوگی۔
-3 اپنی زندگی کے اور روزانہ کے مقاصد کی فہرست بنا ئیے جو ہر وقت آپ کے سامنے ہو
-4 کسی بھی کام کو نہ لٹکائیے
-5 اپنی زندگی میں وقت کی قدر اور وقت کے حوالے سے گاہے بہ گاہے سوچا کیجیے۔
کما ل یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے کوئی نہ کوئی تبدیلی ضرور آئے، تاکہ آپ کے جانے کے بعد آپ کی نسلیں آپ کی مثالیں دیں۔
وقت ضائع کرنے والے عناصر
سب سے بڑادشمن وہ ہوتا ہے جو آ پ کا وقت ضائع کرتا ہے۔ ان تمام عناصر کی فہرست بنائیے جنھوں نے آپ کا وقت ضائع کیا۔ اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ آپ کے اندر احساسِ ضیاع پیدا ہوگا اور دوسرا اس مشق سے آپ کو اپنے مزاج کا پتا لگ جائے گا۔ ان عناصر کو پڑھیں اور غور کریں کہ آپ میں ان میں سے کون کون سے عناصر پائے جاتے ہیں:
-1 سوشل میڈیا کا استعمال
-2 بری عادات
-3 زندگی میں فارغ لوگ
-4 غیرضروری ایونٹ
-5 حادثہ
-6 واقعہ
-7 تعلقات
-8 انہونی
-9 ملکی نظام کا سست ہونا
-10 ناسمجھی
-11 جذبات
-12 مزاج
-13 دوستوں کا حلقہ
-14 بد انتظامی
(مس مینجمنٹ)
-15 انتظار
-16 گمان
اس فہرست یعنی لسٹ کو دیکھییٔ اور غور کیجیے کہ اس میں کون سی ایسی چیزیں تھیں جوقدرتی تھیں، ان پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں تھا، اور کونسی چیزیں ایسی تھیں جن کو آپ کنٹرول کرسکتے تھے۔ فرض کیجیے، ایک شخص کے مزاج میں گلہ کرنا ہے۔ وہ روزانہ دن کے 10 منٹ گلہ کرتا ہے۔ ایک مہینے میں 5 گھنٹے بنتے ہیں اور سا ل کے 60 گھنٹے بنتے ہیں، یعنی ایک سال میں اس نے تین دن گلہ کرنے میں گزار دیئے۔ آپ جتنا وقت گلہ کرنے میں گزارتے ہیں، وہ ضائع ہی ہوتا ہے، کیوں کہ گلہ کرنے سے کبھی بہتری نہیں آتی۔
زندگی وہ ہے جو باقی ہے۔ جو گزر گئی، وہ زندگی نہیں ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ نے کسی سے پوچھا، تمہاری عمر کتنی ہے؟ اس نے جواب میں بتایا کہ اتنے سال۔ آپؒ نے کہا، وہ تو گزر گئی، جو ہے اس کا بتاؤ۔اس نے کہا، اس کی خبر نہیں ہے۔ آپؒ فرمانے لگے، عمر کا کسی کو بھی پتا نہیں ہوتا کہ کتنی ہے۔ اس لیے اپنے ماضی کی وجہ سے آنے والے وقت کو خراب نہ کیجیے۔ کسی کو نہیں پتا کہ ہمیں اور کتنا یہاں رہنا ہے۔ اس لیے معلوم ہونا چاہیے کہ فلاں کام کریں گے تو ٹھیک ہے، اس حد سے آگے جائیں گے تو وقت ضائع ہوگا۔ آپ اپنی زندگی میں لائن لگالیں کہ یہ میری گھریلو زندگی ہے، یہ میری پروفیشنل زندگی ہے،اور پھر انھیں کبھی آپس میں خلط ملط نہ کیجیے۔
اگلے سال کیلئے
جب کوئی کام رہ جائے اور بعد میں آپ سوچیں کہ یہ بھی ہو سکتا تھا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کام میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر کا انسان اس پہ کام کر رہا ہے۔ جب آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو دراصل آپ وقت کی منصوبہ بندی کی طرف جاتے ہیں۔ وقت کی منصوبہ بندی کا دوسرا مطلب ہے، آپ زندگی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ چیز جو واپس نہیں آسکتی، وقت ہے۔ جب آپ وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ اس سال سے زیادہ سے زیاد ہ فائدہ حاصل ہو۔ زندگی میں کوئی موڑ آئے تو میں فائدہ مند بنوں۔ میں انسانیت کیلئے مؤثر بنوں اور آپ یہ کہہ سکیں کہ اگر یہ دن نہ ہوتا، یہ سال نہ ہوتا تو اتنا کچھ نہ ہوپاتا۔
اس سال سب سے اہم چیز یہ ہونی چاہیے کہ آپ کا سیکھنا مزید آگے بڑھنا جاری رہے۔ بلکہ یہ آپ کا مزاج بن جائے۔ سب سے اہم مشق یہ ہے کہ فقط ایک دن کی منصوبہ بندی کریں۔ آپ ایک دن میں کیا کیا کام کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دن شاندار بن جائے۔ جتنا اچھا ایک دن پلان ہوگا، اتنا ہی اچھا سال پلان ہو سکتا ہے۔ جب بھی کبھی زندگی میں کسی کو ٹائم مینجمنٹ یا منصوبہ بندی سکھانے لگیں تو اسے فقط ایک دن کی منصوبہ بندی کرائیں۔ اگر ہمارے وعدے ایک دن کے وفا نہ ہو سکے تو سال بھر کے کیا ہوں گے؟ اگر ہم اپنے ایک دن کے جملے پر پورے نہ اترے تو سال بھر کے دعوے تو بہت دور کی بات ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں، ’’جو کہتا ہے، میں کل کروں گا اس کا کل کبھی نہیں آتا۔‘‘ اگر آپ نے اپنے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ مجھے اس سال سیکھنا ہے تو پھر دیکھیں کہ ایک دن میں کیا اور کتنا سیکھیں گے۔
Comments
Post a Comment